27/05/2026
عید الاضحیٰ (قربانی کی عید) کی گہرائی، اس کی برکات اور ثواب کو اگر محض ایک ظاہری رسم سے ہٹ کر دیکھا جائے، تو اس کے پیچھے انتہائی گہرے روحانی، نفسیاتی اور اجتماعی اسرار و رموز چھپے ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث میں جس برکت اور ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ صرف آخرت کے مادی اجر تک محدود نہیں، بلکہ وہ انسان کے دل اور پورے معاشرے کو بدلنے کا ایک نظام ہے۔
ذیل میں عید الاضحیٰ کے ان گہرے پہلوؤں کی تفصیل پیش ہے:
1. فلسفۂ قربانی: "اسلام" کا عملی مظاہرہ
لفظ "اسلام" کے معنی ہیں اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دینا (سرِ تسلیم خم کرنا)۔ عید الاضحیٰ اسی کامل سپردگی کا سالانہ درس ہے۔
ابراہیمی آزمائش کی گہرائی:
قرآن مجید (سورہ الصافات) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا جو واقعہ بیان ہوا ہے، وہ صرف ایک باپ بیٹے کا قصہ نہیں ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کے بڑھاپے کی اکلوتی تمنا تھے۔ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی جان مانگ کر دراصل یہ امتحان لیا کہ "اے ابراہیم! تمہیں مجھ سے زیادہ محبت ہے یا میری دی ہوئی نعمت سے؟"
آج کے دور میں اس کا سبق:
جب ہم عید کے دن جانور پر چھری چلاتے ہیں، تو وہ جانور محض ایک علامت (Symbol) ہوتا ہے۔ اصل سوال جو اللہ ہر مومن سے پوچھتا ہے وہ یہ ہے: "تمہاری زندگی کا وہ 'اسماعیل' کون سا ہے جو تمہیں میری راہ میں آگے بڑھنے سے روک رہا ہے؟" وہ آپ کی انا، دولت کی محبت، کوئی بری عادت، یا جائز و ناجائز کا فرق بھول جانا ہو سکتا ہے۔ قربانی کا مطلب اپنے اندر کی ان سب منفی چیزوں کو اللہ کے لیے ذبح کر دینا ہے۔
2. گہرے روحانی ثواب (Sawab) کی حقیقت
احادیث میں جو ثواب بیان ہوا ہے، اس کے پیچھے گہری روحانی حکمتیں موجود ہیں:
* "خون کے پہلے قطرے" کی روحانیت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خون کا پہلا قطرہ گرنے سے پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں اللہ کے نام پر خون بہانا اس بات کا اعتراف ہے کہ "زندگی کا اصل مالک صرف اللہ ہے"۔ جب انسان اللہ کی دی ہوئی جان کو اللہ ہی کے حکم (بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ) سے قربان کرتا ہے، تو یہ اخلاص اس کے پچھلے تمام گناہوں کے داغ دھو دیتا ہے۔
* سینگوں، کھروں اور بالوں کے ثواب کا راز
حدیث میں خاص طور پر ذکر ہے کہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، کھروں اور بالوں سمیت آئے گا۔
گہری حکمت: یہ جانور کے وہ حصے ہیں جن کی دنیا میں کوئی تجارتی یا غذائی قیمت نہیں ہوتی (یعنی کوئی سینگ یا کھر نہیں کھاتا)۔ اللہ تعالیٰ یہ بتا رہا ہے کہ جب تم میرے لیے کوئی عمل خالص نیت سے کرتے ہو، تو میں تمہارے اس عمل کے اس حصے کو بھی رائیگاں نہیں جانے دیتا جو دنیا کی نظر میں "بے کار" ہوتا ہے۔ آپ کی ہر چھوٹی سے چھوٹی کوشش بھی اللہ کے ہاں محفوظ ہو جاتی ہے۔
3. تقویٰ کی نفسیات (Substance over Appearance)
قرآن پاک کی یہ آیت کہ "اللہ کو نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے" (22:37)، انسان کی نفسیات کو بدلتی ہے۔