01/05/2026
پاکستان میں غربت اور جہالت کا گہرا سایہ محنت کش طبقے کی زندگیوں کو نگل رہا ہے۔ جوش ملیح آبادی نے برسوں پہلے جس 'خاموش ماتم' اور 'سنگدل سرمایہ داری' کا ذکر کیا تھا، وہ آج بھی ہمارے دہقانوں اور مزدوروں کا مقدر ہے۔ جہالت نے ہمیں شعور سے دور کر دیا ہے، لیکن اسی نظم کے آخری اشعار میں ایک امید بھی ہے— کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو تبدیلی کا طوفان دستک دیتا ہے۔ بہتری کی امید ابھی باقی ہے، کیونکہ پسینہ بہانے والے ہاتھ ہی اس دھرتی کی اصل تقدیر ہیں
۔نظم:
خون ہے جس کی جوانی کا بہارِ روزگارجس کے اشکوں پر فراغت کے تبسم کا مدارجس کی محنت کا عرق تیار کرتا ہے شراب
اڑ کے جس کا رنگ بن جاتا ہے جاں پرور گلاب
قلبِ آہن جس کے نقشِ پا سے ہوتا ہے رقیق
شعلہ خو جھونکوں کا ہمدم تیز کرنوں کا رفیق
خون جس کا بجلیوں کی انجمن میں باریاب
جس کے سر پر جگمگاتی ہے کلاہِ آفتاب
ہر کھاتا ہے رگِ خاشاک میں جس کا لہو
جس کے دل کی آنچ بن جاتی ہے سیلِ رنگ و بو
دوڑتی ہے رات کو جس کی نظر افلاک پر
دن کو جس کی انگلیاں رہتی ہیں نبضِ خاک پر
جس کا مس خاشاک میں بنتا ہے اک چادرِ مہین
جس کا لوہا مان کر سونا اگلتی ہے زمین
ہل پہ دہقاں کے چمکتی ہیں شفق کی سرخیاں
اور دہقاں سر جھکائے گھر کی جانب نوحہ خواں
اپنی دولت کو جگر پر تیرِ غم کھاتے ہوئے
دیکھتا ہے ملک دشمن کی طرف جاتے ہوئے
قطع ہوتی ہی نہیں تاریکیٔ حرماں سے راہ
فاقہ کش بچوں کے دھندلے آنسوؤں پر ہے نگاہ
سوچتا جاتا ہے
کن آنکھوں سے دیکھا جائے گا
بے ردا بیوی کا سر بچوں کا منہ اترا ہوا
سیم و زر نان و نمک آب و غذا کچھ بھی نہیں
گھر میں اک خاموش ماتم کے سوا کچھ بھی نہیں
ایک دل اور یہ ہجومِ سوگواری ہائے ہائے
ستم اے سنگ دل سرمایہ داری ہائے ہائے
بیکسوں کے خون میں ڈوبے ہوئے ہیں تیرے ہات
کیا چبا ڈالے گی او کمبخت ساری کائنات
اور اتنا کوئی حد بھی ہے اس طوفان کی
بوٹیاں ہیں تیرے جبڑوں میں غریب انسان کی
دیکھ کر تیرے ستم اے حامیِ امن و اماں
گرگ رہ جاتے ہیں دانتوں میں دبا کر انگلیاں
ادعائے پیرویِ دین و ایماں اور
تودیکھ اپنی کہنیاں
جن سے ٹپکتا ہے لہو
ہاں سنبھل جا اب کہ زہرے اہل دل کے آب ہیں
کتنے طوفان تیری کشتی کے لیے بے تاب ہیں
#مزدور #پاکستان #امید #انصاف