05/06/2026
کتنا مشکل ہے مگر خوش رہنا
اُس نے جاتے ہوئے بس اتنا کہا تھا: خوش رہنا
اور پھر عمر بھر آیا نہ مجھے بھی خوش رہنا
ایک بچھڑے ہوئے انسان سے کہنا: خوش رہنا
جیسے صحرا سے کوئی کہہ دے ہمیشہ خوش رہنا
سب نے سمجھا کہ دعا دے کے گیا ہے مجھ کو
کوئی سمجھے تو ذرا، یہ بھی ہے کیسا خوش رہنا
وہ بچھڑ کر بھی مرے ساتھ چلا آتا ہے
کس قدر مشکل ہے اک شخص کو کھو کر خوش رہنا
ایک مدت سے یہی بات کھٹکتی ہے مجھے
دُکھ تو اپنا تھا، مگر کیوں تھا ضروری خوش رہنا
وہ دعا دے کے گیا تھا کہ ہمیشہ خوش رہو
اور مرے دل کو لگا جیسے سزا ہو خوش رہنا
تکمیلؔ اُس کی دعا آج بھی تعاقب میں ہے
ایک عمر بیت گئی، پھر بھی نہ آیا خوش رہنا