20/02/2026
ظلم اور جرم کا تعلیم یا جہالت سے کوئی تعلق نہیں : ساندہ کے علاقہ شبلی ٹاؤن میں 2 بچوں کی ماں کے ق۔ت۔ل کا ڈراپ سین ۔۔۔۔۔۔ 2شریف پڑھے لکھے اور کاروباری خاندان تباہ ہو گئے ۔۔۔کچھ روز پہلے کا واقعہ ہے شبلی ٹاؤن میں پولیس کو ایک ردا نامی خاتون کو بے دردی سے ق۔ت۔ل کیے جانے کی اطلاع ملی ، پولیس موقع پر پہنچی تو خاتون کی شہ رگ کٹی ہوئی تھی جبکہ کمرے کا سارا سامان الٹ پلٹ اور بکھرا ہوا تھا ، واقعہ کو ڈ۔کیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی ، پولیس نے ابتدائی شواہد لے کر لا۔ش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوائی جبکہ گھر سے ہی تفتیش کا آغاز ہوا ، سب سے پہلے شمشاد نامی مق۔تولہ کے شوہر سے پوچھ گچھ ہوئی تو وہ بار بار بیان بدلنے لگا ، اس دوران پولیس نے کال ریکارڈ نکلوا لیے ملزم کا مق۔تولہ کی چھوٹی بہن سے بار بار رابطہ سامنے آرہا تھا ، شک پڑنے پر پولیس مشکوک شخص یعنی شمشاد کو تھانے لے گئی تو اس نے 10 منٹ میں بتا دیا کہ اسکا اپنی سالی یعنی مق۔تولہ کی چھوٹی بہن کے ساتھ تعلق ہے وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا اور بہن کے ق۔ت۔ل کی پلاننگ میں وہ شامل ہے اس پر پولیس نے مق۔تولہ کے میکے والے گھر سے جا کر اسکی چھوٹی بہن کو بھی تحویل میں لے لیا جو بہن کی لا۔ش پر بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔ اس نے بھی چند منٹ میں اعتراف کر لیا کہ بہن کی زندگی میں تو ہماری شادی ہو نہیں سکتی تھی اس وجہ سے شمشاد کو کہا کہ بہن کو ٹھکانے لگا دے ، یہ پتہ نہیں تھا کہ اتنی آسانی سے پکڑے جائیں گے ۔۔۔۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مق۔تولہ ، ملزم ، ملزمہ تینوں اعلیٰ تعلیمافتہ اچھے خاصے کاروبار کے مالک ہیں ، مق۔تولہ کا سسرال اور میکہ بھی ایک ہی محلے یعنی شبلی ٹاؤن کا تھا مگر ہوس نے دونوں گھروں کو برباد کردیا ، مق۔تولہ اور ملزمہ کے والدین اور بھائیوں کے مطابق ملزم اور ملزمہ ہمارے سامنے ایک دوسرے کو بہن بھائی کہہ کر پکارتے تھے ، ہمیں کبھی شک نہیں ہوا کہ انکے آپس میں تعلقات چل رہے ہیں اور یہ ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں ، اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ اس انتہا کو جائیں گے تو ہم اپنی بہن کو طلاق دلوا دیتے مگر اسکی جان بچا لیتے ۔۔۔۔۔