موالی گروپ

موالی گروپ Pakistan

14/03/2026
09/07/2025

شیر,  کسان اور چالاک بیوی ایک دن ایک کسان اپنے دو بیلوں کے ساتھ کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔ پیچھے سے کسی نے زور دار آواز می...
25/06/2025

شیر, کسان اور چالاک بیوی
ایک دن ایک کسان اپنے دو بیلوں کے ساتھ
کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔ پیچھے سے کسی
نے زور دار آواز میں پوچھا کیا حال ہے۔
کسان نے پلٹ کر دیکھا تو ایک شیر کھڑا
تھا۔ کسان بابا آپ کے بیل کھانے آیا ہوں،
جلدی سے اپنے دونوں بیل ہل سے الگ کر
کے میرے حوالے کر دیجیے یہ کہہ کر شیر
اپنے ناخن اور دانت تیز کرنے لگا۔ کسان
پہلے تو بہت ڈرا، مگر پھر ہمت کر کے بولا۔
جناب میں ان بیلوں سے کھیت میں ہل
چلانے کا کام لے رہا ہوں۔ شیر میں آپ کے
لئے یہ کرسکتا ہوں کہ گھر جا کر اپنی بیوی
کی گائے آپ کے لئے لادوں۔ گائے کے بدلے
میرے بیلوں کی جان بخش دیجیے۔ شیر
کسان کی بات مان گیا، اِدھر کسان نے گھر
جا کر اپنی بیوی کو سارا ماجرا سنایا۔
کسان کی بیوی بہت غصہ سے بولی گائے
نہ ہو گی تو دودھ کہاں سے ملے گا، وہ
چلائی تم تو بیوقوف ہو اچھا خیر تم جاؤ
اور شیر سے کہو کہ گائے میرے ساتھ نہیں
آئی۔ میری بیوی اسے لے کر آئے گی۔ بے
چارہ کسان ڈرتے ڈرتے شیر کے پاس پہنچا
اور اپنی بیوی کی بتائی ہوئی بات اس سے
کہی، اس دوران کسان کی بیوی نے جلدی
سے اپنے میاں کے کپڑے پہنے اور سر پر
پگڑی خوب اونچی کر کے باندھی، تاکہ لمبی
نظر آسکے اس حلیے میں وہ گھوڑے پر
سوار ہوئی اور کھیت کی طرف چل پڑی،
جہاں شیر بے چینی سے اس کا انتظار کر
رہاتھا، جب اسے دور کھڑا شیر دکھائی دیا
تو کسان کی بیوی زور زور سے بولنے لگی۔
یااللہ! مجھے ایک موٹا تازہ شیر بھیج دے
کل ناشتے پر جو دو شیرکھائے تھے،اس کے
بعد میں نے اب تک شیر کا گوشت نہیں
دیکھا۔ جب یہ الفاظ شیر کے کان میں پڑے
اور اس نے ایک گھوڑا سوار کو اپنی طرف
تیزی سے بڑھتے دیکھا تو شیر کی ساری
آکڑ ہوا ہوگئی اور وہ الٹے پاؤں جنگل کی
طرف بھاگا۔ راستے میں اسے گیدڑ ملا جو
ہر شکار میں شیر کے ساتھ ساتھ رہتا تھا،
تاکہ بچاکھچا شکار اسے مل جائے۔ گیدڑ نے
شیر کو یوں بد حواسی سے بھاگتے دیکھا
تو پوچھا بادشاہ سلامت آپ کہاں بھاگے
جا رہے ہیں۔ شیر نے جواب دیا گھوڑے پر
سوار ایک دیو میرا تعاقب کر رہا ہے۔ اسے
شیرکا گوشت کھانے کی عادت ہے۔ گیدڑ جو
اب شیر کے ساتھ ساتھ دوڑ رہا تھا۔ یہ سن
کر چپکے چپکے خوب ہنسا اور شیر سے بولا
جناب وہ دیو نہیں بلکہ کسان کی چالاک
بیوی ہے، جس نے آپ کے بھولے پن کا فائدہ
اٹھایا ہے۔ آپ نے گھبراہٹ میں اس کی
چوٹی نہیں دیکھی جو پگڑی میں سے نکلی

نظر آتی تھی۔ چلیے چل کر اس کا کام تمام
کر دیں۔ تم مجھے پھنسوا کر خود بھاگ جاؤ
گے۔ شیر نے کہا اصل میں شیر کو گیدڑ پر
بالکل بھروسہ نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ
گیدڑ بہت مطلبی ہے۔ اپنے سب سے اچھے
دوست کو بھی پھنسوا سکتا تھا۔ مگر اس
دفعہ تو گیدڑ سچ بول رہا تھا۔ وہ شیر سے
بولا اچھا چلیے ہم اپنی دْم ایک دوسرے کے
ساتھ باندھ لیتے ہیں۔ پھر تو میں بھاگ نہیں
سکوں گا۔ ہم اکٹھے اس چالاک عورت سے
چل کر بات کریں گے۔
شیر کو مشکل سے راضی کر کے گیدڑ نے
اپنی دْم کے ساتھ باندھ لی اور دونوں کھیت
کی طرف چلے کھیت میں کسان کی بیوی
شیر کا مذاق اڑا رہی تھی اور دونوں میاں
بیوی شیر کی بزدلی پر خوب ہنس رہے تھے۔
اچانک شیر اور گیدڑ نظر آئے شیر کو دوبارہ
آتے دیکھ کر کسان کے چھکے چھوٹ گئے۔
ارے بھاگو اب تو یہ ہمیں ضرور مار ڈالے گا
وہ چلایا، چپ رہو کسان کی بیوی نے کہا
بولی شور مچا کر تم سارا کھیل بگاڑ دو گے
جب شیر اور گیدڑ ذرا قریب آئے تو کسان
کی بیوی بہت خوش ہو کر گیدڑ سے بولی
گیدڑ میاں جیتے رہو تم میرے کھانے کے
لئے ایک شیر لے ہی آئے، جب میں اسے کھا
چکوں تو جو بچ جائے تم کھا لینا یہی
تمہاری عادت ہے۔ یہ الفاظ شیر کے لئے بم کا
گولہ تھے، وہ تو بھاگا جیسے زندگی میں
کبھی نہیں بھاگا تھا۔ اس کی دم سے بندھا
ہوا گیدڑ اتنا تیز نہیں بھاگ سکتا تھا وہ
زمین پر پڑے ہوئے نوک دار پتھروں پر اور
کانٹے دار جھاڑیوں میں گھسٹتا چلا گیا
اس نے دم توڑ دیا وہ دن اور آج کا دن شیر
نے کبھی کسان کے کھیت کا رخ نہیں کیا ۔

یوں تو وہ تینوں کمبائن اسٹڈی کے لیے سارہ کے گھر جمع ہوئی تھیں مگر کمبائن اسٹڈی بھی آن لائن ہو رہی تھی اور آن لائن کی تو ...
22/05/2025

یوں تو وہ تینوں کمبائن اسٹڈی کے لیے سارہ کے گھر جمع ہوئی تھیں مگر کمبائن اسٹڈی بھی آن لائن ہو رہی تھی اور آن لائن کی تو یہی مشکل ہوتی ہے کہ غلطی سے کہیں اور کلک ہو جائے تو کچھ اور بھی کھل جاتا ہے۔ ابھی بھی وہ زور و شور سے گوگل پر سرچ کر رہی تھیں کہ عاشی کی اچانک انگلی کہیں ٹچ ہوئی ۔ اور پہلی محبت کے عنوان سے ایک نامعلوم پیچ کھل گیا۔ اور وہ سب بھول بھال کر پہلی محبّت کی تشریح میں کھو گئیں ۔ اب باتوں کا رخ متوقع منگنیوں اور شادیوں وغیرہ کی جانب ہو گیا تھا۔ اتنے میں سارہ کا بھتیجا بھاگتا ہوا آیا۔ عاشی خالہ ! آپ کو باہر مبین بھائی لینے آئے ہیں۔ وہ جی بھر کر بدمزہ ہوئی۔ اس کا ابھی کچھ دیر مزید رکنے کا ارادہ تھا مگر اماں کو گھر میں چین کہاں تھا۔

وہ چادر اوڑھ کر ان سب کو خدا حافظ کہہ کر باہر آئی تو سامنے سر جھکائے مبین کھڑا تھا۔ وہ اندر ہی اندر کلس کر رہ گئی۔محترم کا حلیہ ہی قابل دید تھا۔ ہلکے گلابی رنگ کے قمیض شلوار کے ساتھ واش ایبل جوتے پہن رکھے تھے۔ بالوں کی عین سر کے درمیان سے مانگ نکلی ہوئی تھی۔ اور انہیں خوب جما جما کر کنگی کر رکھی تھی۔ میں خود ہی آجاتی ۔ اس نے تیز لہجے میں کہا اور جلدی سے قدم آگے بڑھا دیے۔ اب تھی تو یہ بدتمیزی مگر وہ چپ چاپ اس کے پیچھے چلنے لگا۔ یونہی گھر کا دروازہ نظر آیا۔ تو وہ ذرا سارک کر بولا ۔ چچی جان سے کہیے گا کہ میرے لیے دو پہر کا کھانا نہ بنائیں، میں چچا جان کے پاس دکان پر جا رہا ہوں۔ وہ پوری بات سنے بغیر اندر گھس گئی۔ سامنے امان کیریاں کاٹ رہی تھیں۔ او ہوا ماں ! آپ روز اس عجوبے کو بھیج دیتی ہیں یہ تیسری گلی میں تو گھر ہے سارہ کا۔ میں خود ہی آ جایا کروں گی ، اول جلول سے حلیے میں آجاتا ہے اٹھ کر۔ اب اگر ان میں سے کوئی باہر جھانک نے تو کیا سوچے۔

اس نے ساری بھراس ماں پر نکالی۔ خاموش ہو جاؤ۔ پٹر پٹر بولے جا رہی ہو۔ آج کل حالات ہیں اکیلے آنے جانے کے۔ اتنے اسٹریٹ کرائم ہو رہے ہیں۔ اور ہاں بے چارے کے حلیے کو کیا ہوا۔ اچھا بھلا صاف ستھرا تو رہتا ہے۔ ہاں آج کل کے لڑکوں کی طرح بے ہودہ فیشن نہیں کرتا ۔ صاف ستھرا تو رہتا ہے مگر روز گلابی رنگ کا جوڑا پہننا ضروری ہے کیا۔ آپ اسے کم از کم کسی اور رنگ کے چار جوڑے ہی سلوادیں ۔ابھی بقر عید پر تو سلوا کر دیے تھے۔ بچہ اتنا سیدھا ہے کہ ایک ہی رنگ کے تھان سے چار سوٹ کٹو الایا۔ خیر مردوں کے کپڑوں کے رنگ کون دیکھتا ہے۔ تو چھوڑ یہ باتیں۔ میں مربہ بنارہی ہوں چینی سے چاشنی تیار کر کے دو۔ ہیں چینی کی چاشنی مجھ سے کہاں ٹھیک بنے گی۔ وہ بے زاری سے بولی ۔ میں سکھاتی ہوں تو چل کچن میں۔ خانہ داری کے ڈھنگ بھی سیکھنے ضروری ہیں۔ اماں آج کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں تھیں۔
☆☆☆
انگلی شام وہ پھر سارہ کے گھر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی جب اماں نے منع کر دیا۔ آج رہنے دو۔ ماسی رشیدہ کا ابھی فون آیا ہے۔ تمہارے رشتے کے لیے کچھ مہمان لارہی آف اماں میں تنگ آچکی ہوں۔ اس رشتہ پریڈ سے ۔ اس میں تنگ آنے والی کیا بات ہے۔ لڑکیوں کے رشتے آتے جاتے رہتے ہیں۔ چلو شاباش ڈرائنگ روم صاف کر کے تیار ہو جاؤ۔ بادل نخواستہ اس نے صفائی کی۔ تیار ہونے کے لیے کمرے میں آئی۔ الماری کھولی تو فقط دو جوڑے استری شدہ لٹک رہے تھے۔ ایک تو کالا تھا جس کی قمیص بہت چھوٹی تھی۔ وہ تو اماں پہننے نہ دیتیں۔

اس نے دوسر ا والا نکالا اور غسل خانے میں گھس گئی۔ تیار ہو کر کچن میں برتن وغیرہ سیٹ کر رہی تھی۔ تو مبین بیکری سے سامان لیے چلا آیا۔سامان لیتے ہوئے اس نے سرسری سا دیکھا۔ وہ گلابی جوڑا ہی پہنے ہوئے تھا۔ پھر اس نے خود کو دیکھا۔ اتفاق سے اس نے بھی کڑھائی والا گہرا گلابی کرتا ہی زیب تن کر رکھا تھا۔ اس میچنگ پر وہ دل ہی دل میں فقط مسکرا کر رہ گئی۔ مقررہ وقت سے کچھ پہلے ہی مہمان تشریف لے آئے ۔ فقط دو میاں بیوی ہی تھے۔ ماسی رشیدہ نے بتا رکھا تھا کہ خاتون کسی اسکول میں ہیڈ مسٹریس کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس وقت بھی وہ تیکھی نظروں سے اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے اچھی خاصی تیز و طرار دکھ رہی تھیں جبکہ شوہر بے چارے جھینپے جھینپے سے ان کے پہلو میں دبکے بیٹھے تھے۔ وہ شربت لیے اندر داخل ہوئی اور دھیرے سے سلام کر کے سامنے صوفے پر ٹک گئی۔ بیٹا آپ کا نام اور تعلیم انٹرویو کا آغاز ہوا۔

خاتون کی نظریں آر پار دیکھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ جی عرشیہ سلیم میں ایم اے انگلش کر رہی ہوں ۔ اس نے بھی بلا جھجھکے اعتماد سے جواب دیا۔ آخر اتنی تو پریکٹس ہو ہی چکی تھی۔ کیا شادی کے بعد جاب کا ارادہ ہے۔ خاتون کی آنکھیں چمکیں۔ ہرگز نہیں آنٹی اس نے ان کے ارمانوں پر پانی پھیرا مجھے گھر میں رہنا ہی پسند ہے۔ مگر کیوں؟ آج کل کے حالات میں شوہر کی ایک نوکری سے کیا بنتا ہے؟؟ وہ اپنی بات پر زور دے کر بولیں۔ ہاں تو وہ دو نوکریاں کرلے ۔ پھر عورت کی تعلیم کا فائدہ؟ خاتون اپنی بات پر بضد تھیں۔تعلیم بچوں کی تربیت میں کام آجائے گی ۔ وہ بھی ہار ماننے پر تیار نہیں تھی۔اماں منہ کھولے دونوں کی باتوں بلکہ ایک طرح کی بحث سن رہی تھیں۔ ایسے موقعوں پر وہ ان کی طرف دیکھنے سے احتراز ہی کرتی تھی۔ آخر عورت کے نوکری کرنے میں کیا ہرج ہے۔ خاتون زچ ہو چکی تھیں۔اس سے گھر ڈسٹرب ہوتا ہے۔ نہیں ہوتا۔ میں نے ساری عمر نوکری کی ہے اور ساتھ ساتھ اپنے اہل خانہ کا بھی خوب خیال رکھا ہے ۔

آئی ! یہ تو آپ خود کہہ رہی ہیں۔ اصل صورت حال تو آپ کے اہل خانہ ہی بتا سکتے ہیں کہ آپ گھر کیسے چلا رہی ہیں۔ اب دیکھیں ناکہ آپ خود تو نیا سوٹ پہن کر خوب نک سک سے تیار ہیں۔ مگر انکل بے چارے ملگجے سے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔اب کے خاتون کا ضبط جواب دے گیا ہے وہ اماں کو خوب باتیں سنا کر میاں کے ہمراہ پاؤں پٹختی چلی گئیں پھر اماں کے ہاتھوں اس کی خوب درگت بنی مگر وہ ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی۔ مبین بے چارہ اندر داخل ہوا تو سامنے میز پر کھانے پینے کے سامان کو جوں کا توں پڑا دیکھ کر حیرت سے کبھی اماں کے لال بھبھو کا چہرے کو دیکھتا اور کبھی مجرم بنی عاشی کو جو قطعی شرمندہ نظر نہیں آرہی تھی۔ (آگے پڑھنے کے لیے لنک اوپن کریں شکریہ)

https://sublimegate.blogspot.com/2024/10/pheli-mohabbat-urdu-short-story.html


21/05/2025

ایک بہت خوبصورت واقعہ کسی صاحب سے سنا آپ کی نظر کرتا ہوں
وہ گرمیوں کی ایک تپتی دوپہر تھی۔ دفتر سے میں نے چھٹی لی ہوئی تھی کیونکہ گھر کے کچھ ضروری کام نمٹانے تھے۔ میں بچوں کو کمپیوٹر پر گیم کھیلنا سکھا رہا تھا کہ باہر بیل بجی۔ کافی دیر کے بعد دوسری بیل ہوئی تو میں نے جا کر دورازہ کھولا۔ سامنے میری ہی عمر کے ایک صاحب کھڑے تھے۔
"...السلام علیکم ۔۔۔۔!"
انہوں نے نہایت مہذب انداز میں سلام کیا۔ پہلے تو میرے ذہن میں خیال گزرا یہ کوئی چندہ وغیرہ لینے والے ہیں۔ ان کے چہرے پر داڑھی خوب سج رہی تھی، اور لباس سے وہ چندہ مانگنے والے ہر گز نہیں لگ رہے تھے۔
"جی فرمایئے" ، میں نے پوچھا۔
"آپ طاہر صاحب ہیں؟"
’’جی‘‘ میں نے مختصر جواب دیا۔
"وہ مجھے رفیق صاحب نے بھیجا ہے۔ غالباً آپ کو کرائے دار کی ضرورت ہے۔"
ہاں ہاں۔۔۔!
"مجھے اچانک یاد آیا کہ میں نے دفتر کے ایک ساتھی کو بتایا تھا کہ میں نے اپنے گھر کا اوپر والا پورشن کرائے پر دینا ہے اگر کوئی نیک اور چھوٹی سی فیملی اس کی نظر میں ہو تو بتائے۔ کیونکہ دفتر کی تنخواہ سے خرچے پورے نہیں ہوتے۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے اتنی دھوپ میں کافی دیر اسے باہر کھڑا رکھا۔"

اسے چھ ماہ کے لیے مکان کرائے پر چاہیے تھا۔ کیونکہ اپنا مکان وہ گرا کر دوبارہ تعمیر کروا رہے تھے۔ میں نے تین ہزار کرایہ بتایا۔ لیکن بات دو ہزار پر پکی ہو گئی۔
وہ چلا گیا تو مجھے افسوس ہونے لگا کہ کرایہ کچھ کم ہے۔ گو اوپر صرف ایک چھوٹا سا کمرہ، کچن اور باتھ روم تھا۔
مجھے اپنی بیوی کا دھڑکا لگا ہوا تھا کہ اسے معلوم ہو گا تو کتنا جھگڑا ہوگا۔ اور وہی ہوا۔ بقول اس کے دو ہزار تو صرف بچوں کی فیس ہے۔ مجھے اس نے کافی برا بھلا کہا اور میں چپ چاپ سنتا رہا، اور اپنی قسمت کو کوستا رہا ۔
میں نے ایم ایس سی بہت اچھے نمبروں سے کیا تھا۔ اس لیے فوراً نوکری مل گئی، نوکری ملی تو شادی بھی فوراً ہو گئی۔
میری بیوی بھی بہت پڑھی لکھی تھی۔ وہ بھی ایک انگریزی اسکول میں پڑھاتی تھی، ہمارے تین بچے تھے۔ مگر گزارا مشکل سے ہوتا تھا۔

اگلے ہی دن وہ صاحب اور ان کے بیوی بچے ہمارے گھر شفٹ ہوگئے۔ ان کی بیوی نے مکمل شرعی پردہ کیا ہوا تھا۔ دونوں بڑے بچے بہت ہی مہذب اور خوبصورت تھے۔ چھوٹا گود میں تھا۔
کچھ دنوں بعد ایک دن میں دفتر سے آیا تو میری بیوی نے بتایا کہ میں نے بچوں کو کرائے دار خاتون سے قرآن مجید پڑھنے کے لیے بھیج دیا ہے۔ اچھا پڑھاتی ہیں، ان کے اپنے بچے اتنی خوبصورت تلاوت کرتے ہیں۔

مزید کچھ دن بعد جب میں نے ان کے ایک بیٹے سے تلاوت سنی تو پہلی مرتبہ میرے دل میں خواہش ابھری کہ کاش ہمارے بچے بھی اتنا اچھا قرآن مجید پڑھیں۔
ایک دن میں باہر جانے لگا تو اپنی بیوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ پارلر جائے گی تو لیتا چلوں۔ کیونکہ پہلے تو دو مہینے میں تین چار مرتبہ پارلر جاتی تھی اور اس مہینے میں ایک بار بھی نہیں گئی تھی۔
اس نے جواب دیا کہ پارلر فضول خرچی ہے۔ جتنی خوبصورتی چہرے پر پانچ بار وضو کرنے،نماز اور تلاوت سے آتی ہے کسی چیز سے نہیں آتی۔ اگر زیادہ ضرورت ہو تو گھریلو استعمال کی چیزوں سے ہی چہرے پر نکھار رہتا ہے۔
ایک روز میں کیبل پر ڈرامہ دیکھ رہا تھا تو میرے چھوٹے بیٹے نے مجھے بغیر پوچھے ٹی وی بند کر دیا اور میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
"بابا یہ بیکار مشغلہ ہے۔ میں آپ کو اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ سناؤں۔"
مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے بیٹے کی زبانی جب واقعہ سنا تو میرا دل بھر آیا۔
"یہ تمہیں کس نے بتایا"، میں نے پوچھا۔
"ہماری استانی محترمہ نے۔۔۔ وہ قرآن مجید پڑھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے متعلق بتاتی ہیں۔"
اپنے گھر کی اور بیوی بچوں کی تیزی سے بدلتی حالت دیکھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ ایک روز بیوی نے کہا کہ کیبل کٹوادیں۔ کوئی نہیں دیکھتا اور ویسے بھی فضول خرچی اور اوپر سے گناہ ہے۔
چند روز بعد بیوی نے شاپنگ پر جانے کو کہا تو میں بخوشی تیار ہو گیا، اس نے کافی دنوں بعد شاپنگ کا کہا تھا ورنہ پہلے تو آئے دن بازار جانا رہتا تھا۔
"کیا خریدنا ہے؟"، میں نے پوچھا۔
’’برقعہ۔۔۔۔۔!!‘‘
کیا؟؟
میں ہنسا تو وہ بولی،
’’پہلے میں کتنے ہی غیر شرعی کام کرتی تھی، آپ نے کبھی مذاق نہیں اڑایا تھا، اب اچھا کام کرنا چاہتی ہوں تو آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے۔‘‘
میں کچھ نہ بولا۔
پھر چند دن بعد اس نے مجھے کافی سارے پیسے دیئے اور کہا فریج کی باقی قیمت ادا کر دیں۔ تاکہ مزید قسطیں نہ دینی پڑیں۔
"اتنے روپوں کی بچت کیسے ہوگئی؟"
"بس ہو گئی"، وہ مسکرائی
"جب انسان اللہ کے بتائے ہوئے احکام پر چلنے لگے تو برکت خود بخود ہو جاتی ہے۔یہ بھی وہ کرائے دار خاتون نےبتایا ہے‘‘

سکون میرے اندر تک پھیل گیا۔میری بیوی اب نہ مجھ سے کبھی لڑی، نہ شکایت کی۔ بچوں کو وہ گھر میں پڑھا دیتی ہے۔ خود بچوں کے ساتھ قرآن مجید تجوید سے پڑھنا سیکھ رہی تھی، وہ خود نماز پڑھنے لگی تھی، اور بچوں کو سختی سے نماز پڑھنے بھیجتی۔
مجھے احساس ہونے لگا کہ نجات کا راستہ یہی تو ہے۔ پیسہ اور آرائش سکون نہیں دیتا۔ اطمینان تو بس اللہ کی یاد میں ہے۔
مجھے اس دن دو ہزار کرایہ تھوڑا لگ رہا تھا، آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ تو اتنا زیادہ تھا کہ آج میرا گھر سکون سے بھر گیا ہے۔
جزاک اللہ









Pakistan

21/05/2025

انا غرور اور لالچ سے بھری ہوئی ایک عورت کی کہانی

میں ایک جاب ہولڈر لڑکی ہوں الحمدللہ گریڈ 18 کی ملازمہ ہوں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں۔

اور بدقسمتی سے دو بچوں کی ماں اور خلع یافتہ ہوں ۔

عورت ہمیشہ جذباتی ہوتی ہے جذبات میں آ کر فیصلہ کر لیتی ہے جو کہ نہیں کرنا چاہیے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا چاہیے۔

37 سال میری عمر ہے 28 سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی میری شادی اپنی فیملی میں ہوئی تھی میرے ہسبینڈ بھی ایک گورنمنٹ جاب ہولڈر تھے ۔

ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں وہ جاب کرتے تھے گریڈ 15 میں۔ میری پہلی اولاد بیٹا تھا بیٹے کی پیدائش تک ہم جوائنٹ فیملی میں رہے اور اچھا وقت گزرا اب میں ویسے جھوٹ کیوں بولوں کے جوائنٹ فیملی میں مجھے کوئی مسلہ نہیں تھا یا کبھی نہیں ہوا بہت اچھے تھے وہ مگر مجھے جوائنٹ فیملی میں رہنے کا دل نہیں کرتا تھا

میں نے اپنے ہسبینڈ سے کہا ہم اپنا گھر بناتے ہیں اور الگ ہو جاتے ہیں ہم دونوں کی سیلری اتنی تو ہے کہ ہم ایک سال میں اپنا گھر بنا ہی لیں گے اور گاڑی بیچنی پڑے تو بیچ کر پہلے گھر بناتے ہیں پھر گاڑی لے لیں گے وہ اس بات پر تیار ہو گے

میرے پاس جو پیسے تھے میں نے پلاٹ لے لیا اور ایسے ہی ہم نے ایک سال کے اندر دونوں نے مل کر اپنا گھر بنا لیا۔

میری سیلری میرے ہسبینڈ سے ذیادہ تھی ۔گھر بن گیا ہم الگ ہو گے۔الگ ہونے کے بعد گھر میں چھوٹے موٹے مسلے تو ہوتے ہیں ہر گھر میں ہوتے ہیں مگر سچ بولوں تو مجھے اپنی نوکری پر بڑا غرور تھا اور میں اپنی نوکری کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھی تھی جو کہ میری لائف کی سب سے بڑی بیوقوفی تھی جو آج مجھے سمجھ آ رہی ہے

پھر میری بیٹی کی پیدائش ہوئی ۔اور یہاں ایک بات یاد رکھنا عورت کی اصل دشمن ایک عورت ہی ہوتی ہے مرد اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنی ایک عورت عورت کو پہنچاتی ہے۔

گھر جو ہم نے بنانا تھا اسمیں ذیادہ پیسے میرے لگے تھے اور وہی غرور وتکبر گھر میں کوئی بھی بات ہوتی تو میں بات بات پر یہی طعنہ دے دیتی کہ گھر میں میرے پیسے ذیادہ ہیں تمہارا کیا ہے ؟

بس پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہی میری کزن جسکا آنا جانا ذیادہ تھا اسنے مجھے ورعلانہ شروع کر دیا کہ تم اس سے ذیادہ سیلری لیتی ہو وہ کم لیتا ہے ایسے ہی کہانیاں اسنے شروع کر دیں میرے دل میں انکے لئے نفرت پیدا کرتی رہی اس قدر اسنے زہر گھولا کہ میں اپنے بچوں تک کو بھول گئی یہ بھی بھول گئی کہ میرے تو دو بچے بھی ہیں ۔

لڑائی جھگڑے بڑھتے گے ہم نے گاڑی لی تھی اسمیں بھی میرے پیسے ذیادہ تھے ۔بدقسمتی میری کہ میں نے اپنے خاوند کو ایک دن کہہ دیا کہ یا تو آپ مجھے گاڑی کے پیسے واپس کریں یا پھر آج کے بعد آپ گاڑی استعمال نہیں کرینگے۔

یہ بات میرے لئے تو معمولی تھی مگر انکے لئے تو نہیں ہو گی کیونکہ میرے اندر زہر ہی اتنے گھول دیا گیا تھا ۔انہوں نے گاڑی بیچ دی اور میرے پیسے مجھے دے دیئے میرے جو خاوند تھے انکے بڑے بھائی کینیڈا میں ہوتے ہیں ۔وہ گھر آئے تین ماں رہے اور واپسی جاتے انہوں نے گاڑی اپنی بھائی کو دے دی

وہ کافی مہنگی گاڑی تھی مجھ سے نہ برداشت ہوئی تو میں نے ایک دن مطالبہ کر دیا کہ گھر میں میرے جو پیسے لگے ہیں مجھے واپس کرو ( اور یہاں پر ایک اٹل حقیقت) وہ یہ کہ یہ سب کچھ میں اس لئے واپس لے رہی تھی کہ میں اپنی اس کزن کی باتوں میں آ کر خلع کا فیصلہ کر چکی تھی اللہ اسکو بھی ہدایت دے مگر جو ایسے کسی کا گھر برباد کرتا ہے خدا اسے بھی کبھی خوش رہنے نہیں دیتا خوش وہ بھی آج نہیں

انہوں نے وہ گاڑی بیچی اور مجھے میرے پیسے واپس کر دیئے باقی جو پیسے بچے تھے انہوں نے نوکری چھوڑ دی اور ان پیسوں سے اپنا بزنس شروع کر دیا ۔ ایک ہوٹل اوپن کیا تھا آج انکے پاس اپنے ذاتی تین ہوٹل ہیں اور میں غرور وتکبر میں ڈوبی ہوئی عورت نفسیاتی مریض بن چکی ہوں ۔

جب وہ پیسے مجھے مل گئے میں نے طلاق کا مطالبہ کر دیا انہوں نے اور میرے گھر والوں نے مجھے تب بہت سمجھایا مگر میری عقل پر پردہ پڑ چکا تھا نہیں سمجھی ۔کیونکہ میری جو کزن ہے اب یہاں اگر مزید سچ لکھوں تو مجھ سے ہونے والی غلطیاں مجھے خود ایک عورت ذات کی توہیں لگتی ہیں ۔

بہرحال میں اپنی کزن کی باتوں میں آ گئ اسکا جو دیور تھا اسکی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی اسکی ایک بیٹی بھی تھی اور وہ آرمی میں میجر تھا میں بھی ذیادہ کی لالچ میں اور بڑے عہدوں کی لالچ میں اسکی باتوں میں آ گئی اور طلاق لے لی ۔

اور میری زندگی کی دوسری سب سے بڑی غلطی طلاق مجھے انہوں نے ایک شرط رکھ کر دی تھی کہ میں بچے تمہیں نہیں دوں گا میں نے اس شرط کو قبول کیا اور طلاق لے لی ۔

عدت پوری ہونے کے بعد میری کزن نے اپنے دیور کے ساتھ شادی کروا دی چار ماہ وہاں رہی

نوکری بھی کرتی پیسے وہ سارے لے لیتے گھر انکا بہت بڑا تھا مگر کوئی سکون نہیں ہر وقت ٹارچر ہی کرتے اپنے بچوں کو چھوڑ کر اسکی بچی کو سنبھالتی صبح سکول جاتی تو بچی کو ساتھ لے کر جاتی ۔انکے گھر میں بڑی بڑی گاڑیاں ڈرائیور سب کچھ مگر میں رکشے پر آتی جاتی ۔

اور وہ میری کزن جسکی میں نے ہر بات مانی وہاں میرے ساتھ اسکا رویہ ایسے ہو گیا تھا جیسے میں کوئی اسکی دشمن ہوں ۔ وقت گزرتا گیا میں جس نوکری کو اپنا سہارا سمجھتی تھی 11 ماہ وہاں رہی اپنی سیلری سے مجھے دس ہزار مہینے کا ملتا تھا کہ یہی تمہارا جیب خرچ ہے ۔ 11 ماہ کے بعد پتہ چلا کہ اسنے اسلام آباد شادی کر رکھی ہے پہلے سے ہی

وہاں میں نے بہت نبھانے کی کوشش کی اور یہ تہیہ کر لیا تھا کہ اب کچھ بھی ہو یہاں سے نہیں جانا مگر وہ بار بار کہتا جاؤ میری طرف سے تم آذاد ہو بار بار ٹارچر کرتا کہ کسی طرح میں طلاق کا مطالبہ کروں

باپ تو ماں پاب ہوتے ہیں ایک دن ابو نے مجھے کہا کہ کوئی بات نہیں تم واپس آ جاو گھر وہاں ایسے اذیت بھری زندگی نہ گزارو وہاں سے بھی طلاق ہو گئی واپس آ گئی امی ابو کے پاس ۔ابھی دو ماہ پہلے میرے ابو کی وفات ہو گئی وہی میرا سہارا تھے بھائی چار ہیں سب شادی شدہ انکی اپنی زندگی ہے اپنے بچے ۔ اب میری حالت یہ ہے سیلری تو میں لیتی ہوں وہ جاب جس پر مجھے بڑا غرور تھا

وہ مجھے کوئی سہارا نظر نہیں آتی پیسے تو آتے ہیں لگاؤں کہاں ؟ آج میں نے یہ تحریر لکھی بہت دکھی تھی آج امی کے اسرار پر مجھے میرے بچوں سے ملوایا گیا میں نے انکو گاڑیاں اور کچھ کھولنے لے کر دئے انکے باپ نے ابھی کچھ دیر پہلے اپنے چھوٹے کے ہاتھ واپس لوٹا دئے ۔

اور میرے بچے اپنی دوسری ماں کے ساتھ خوش ہیں ۔ اب میری ایک ہی زندگی کی خواہش ہے جو میں کوشش بھی کر رہی ہوں اگر وہ مجھے بچے ہی دے دیں تو میں جو دن بدن نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہوں شاہد میں ٹھیک ہو جاؤں مگر لگتا نہیں کہ مجھے وہ دیں گے آپ لوگوں سے گزارش ہے دعا کریں کے دے دیں

جو غلطیاں میں نے کی اس قابل تو نہیں مگر اللہ کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ۔
میری آپ تمام بہنوں سے گزارش ہے جو جاب ہولڈر ہیں چائے وہ پرائیوٹ سیکٹر میں ہیں یا گورنمنٹ سیلری خاوند سے زیادہ ہے یا کم کبھی جاب کو اپنا غرور وتکبر مت بنانا پیسہ تو ہے جاب ہے مگر پیسہ انسان کا سہارا نہیں بنتا آپ پیسوں سے اور نوکریوں سے خوشیاں نہیں خرید سکتے۔ میری چھوٹی بہن ڈاکٹر ہے گورنمنٹ جاب ہولڈر ہے اسکے ہسبینڈ ایک پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کرتے ہیں میں جب ان دونوں کو سب کچھ مل جل کر بناتے دیکھتی ہوں تو مجھے اپنی ذندگی سے اور نفرت ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔

میں نے کیوں کیا اپنے ساتھ ایسا ؟کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا ؟ عموماً پوسٹ دیکھنے کو ملتی ہیں مرد یہ ہے وہ ہے کوئی شک نہیں ہوتے ہیں مرد بھی ایسے مگر عورتیں بھی بہت ذیادہ ایسی ہوتی ہیں جو غرور وتکبر میں اپنا خود برباد کر دیتی ہیں پھر پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے ۔

اور میری بہنوں کبھی بھی کسی عورت کی بات میں آ کر اپنا گھر برباد مت کرنا عورت ہی عورت کی دشمن ہے یہ کبھی مت بھولنا۔ مجھے اتنی ٹھوکریں کھا کر سمجھ آئی کہ بیشک آپکے پاس جاب ہو بہت بڑی نوکری ہو بہت بڑی انکم ہو مگر ایک مرد کے بغیر عورت نامکمل ہے اور ایک مرد عورت کے بغیر نامکمل ہے ۔ یہی فیملی ہوتی ہے میاں بیوی بچے اسکے علاؤہ کوئی چیز آپکو کبھی خوشی نہیں دے سکتی اور یہ معاشرہ ایسا ہے یہاں ایک طلاق یافتہ عورت کتنی ہی پاک صاف کیوں نہ ہو اسکو ہر کوئی غلط نظر سے ہی دیکھتا ہے ۔

اپنے ہوں یا غیر ہر کوئی غلط ہی سمجھتا ہے ۔
اللہ ہر کسی کی بہن بیٹی کے نصیب اچھے کرے غرور وتکبر سے اللہ ہر ایک کو بچائے ۔ میرے لئے دعا کرنا اللہ کوئی بہتری والا معاملہ کرے ورنہ جس قدر میں نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہوں میرے پاس یہ نوکری بھی نہیں رہے گی ۔

میری اس تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے جو غلطیاں غرور وتکبر میں مجھ سے ہوئی ہیں وہ آپ نہ کریں۔

اور یہ کوئی کہانی نہیں ایک ایک بات سچ پر مبنی ہے
(ایک خاتون کی آپ بیتی)










Pakistan

21/05/2025

میں_تمہیں_طلاق_دینا_چاہتا_ہوں

میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی
"میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا
وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔
ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔
"میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔" میری آنکھیں جھک گئیں
میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا
"کیوں۔۔۔۔۔؟"
میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ
"تم مرد نہیں ہو۔۔۔"
رات بھر ہم دونوں نے ایکدوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔
طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔
اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اس کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔
بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔
اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔
اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔
اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس بولی
"وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے"
میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔
شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی
"پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔
اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔
"پلیز۔۔۔ ! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی
میں نے جواباً سر ہلایا
اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔
اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔
چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔
لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔
اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
"پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔
میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔
آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اس نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی
"شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی"
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی
"مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی
"شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو"
"نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا"
نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا
"میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے"
میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔
کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔
وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن گئی.....

#نوٹ

یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔
خوش رہیئے آباد رہیئے........










21/05/2025

بہت ہی عمدہ اور دلکش آواز والے مؤذن نے نماز مغرب کی اذان شروع کی تھی کہ جب کالے جادو کا بادشاہ عرف عام میں مشہور کمان والے بابا جی جس کو آج کی مسلمان خواتین نے مرشد مان رکھا تھا اس کی ہر جائز نا جائز بات فقط اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئیے پوری کرتی تھیں وہ اذان کے دوران بھی خاموش نہیں ہوا تھا اور اپنی مریدنی نفیسہ سرمد کو نفسانی خواہش پوری کرنے کے لئے راضی کر رہا تھا اور ایمان سے خالی نام کی مسلمان عورت اس کے لئیے محض کھلونا ثابت ہوئی تھی لہذا وہ بھی کمان والے بابا جی کی بات مان گئی تھی۔ ۔۔۔۔

اذان کے دوران بنا آداب کا خیال رکھے اس طرح کی غلیظ گفتگو کرنے کی وجہ سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کمان والے بابا جی درحقیقت شیطان کے پیروکار بن کر راہ ہدایت سے بھٹک چکے ہیں اور کمزور ایمان والی عورتوں کے لئیے بھی راہ ہدایت سے بھٹکنے کی وجہ بن رہے نفیسہ سرمد بھی ان کمزور ایمان والوں میں سے ایک ثابت ہوئی تھی لہذا اس نے اپنی دیورانی کا گھر تباہ کرنے والے غیر شرعی کام لئیے اپنا جسم ایمان سے عاری شیطان کے پیروکار بابا جی کمان والے کو سونپ دیا تھا جب شیطان کے پیروکار بابا جی کمان والے نے اپنی ہوس مٹا لی تھی تو اس نے نفیسہ سرمد کو تین جمعرات لگاتار آنے کا کہا تھا تا کہ وہ اور اس کے چیلے جی بھر کر ہوس مٹا سکیں جب تین جمعرات گزر گئیں تو اپنی اور نفیسہ سرمد کی غلاظت کو ملا کر ایک تعویذ لکھا اور اسے دیتا ہوئے کہا یہ اپنی دیورانی کے کھانے پینے والی برتنوں کے سٹینڈ میں چھپا دینا دو ہفتے میں تمہارا کام ہو جائے گا آدھے پیسے اب دے جاؤ اور باقی کے آدھے کام ہونے کے بعد دے جانا لہذا نفیسہ سرمد نے طے شدہ آدھی رقم شیطان کے اس پیروکار کے ہاتھ پر رکھی اور گھر چلی آئی۔ ۔۔۔۔

اس نے کمان والے بابا جی کے حکم کے مطابق تعویذ برتنوں والے سٹینڈ میں رکھ دیا اور شدت سے اپنی دیورانی کا گھر برباد ہونے کا انتظار کرنے لگی مگر اس کا انتظار طویل ہوتا گیا یہاں تک کہ دو ہفتے پورے ہو گئیے اور اس کی دیورانی کے گھر پر کوئی اثر نہ ہوا البتہ ایک تبدیلی آئی کہ اس کی دیورانی اب پہلے کی نسبت زیادہ عبادت گزار ہو گئی تھی اور سسرال میں اس کی عزت پہلے ہی تھی مگر چند دنوں میں وہ سسرال والوں کے عزیز و اقارب کے دلوں میں بھی اپنا مقام پیدا کر چکی تھی یعنی بہت حد تک تعویذ نے الٹ کام دکھا دیا نفیسہ سرمد اپنی دیورانی کو خوش دیکھ کر جلتے انگاروں پر لوٹنے لگی تھی اور اسی حالت میں ایک بار پھر بابا کمان والے شیطان کے پیروکار کے پاس جا پہنچی تھی اور اس کو اپنی دیورانی کے حالات بتائے تھے
یہ پہلا موقع تھا جب بابا جی کمان والے کو شکایت ملی تھی اور اس کے جادو نے کوئی اثر نہیں دکھایا لہذا بابا کمان والا بھی سمجھ گیا تھا کہ جس ہستی پر جادو کروایا جا رہا ہے وہ بھی کوئی عام نہیں ہے اس لئیے اب کی بار کمان والے بابا جی نے نفیسہ سرمد کو مردہ حاملہ عورت کا خون لانے کا کہا تھا یہ عمل انتہائی خاص اور برگزیدہ لوگوں پر کیا جاتا تھا اور بابا کمان والا اپنی زندگی میں پہلی بار یہ عمل کرنے جا رہا تھا ۔۔۔۔

لاکھ کوششوں کے باوجود بھی جب نفیسہ سرمد مردہ حاملہ عورت کا خون حاصل نہ کر سکی تو ایک بار پھر بابا جی کمان والے کے پاس پہنچی تھی اور شیطان کا پجاری بابا تو جانتا تھا یہ کام نفیسہ سرمد کے بس کی بات نہیں لہذا اس نے حاملہ مردہ عورت کے خون کے عوض تگڑا معاوضہ اور نفیسہ سرمد کا جسم طلب کیا حسد کی آگ میں آندھی اس عورت نے اب کی بار بھی جادوگر بابا کی بات مان لی تھی اور ایک بار پھر بابے اور اس چیلوں کی ہوس کا نشانہ بننے کے بعد اسے تگڑا معاوضہ بھی دے دیا تھا بابا جی نے خون منگوا کر عمل شروع کر دیا تھا اور دس دن بعد تعویذ نفیسہ سرمد کے حوالے کرتے ہوئے کہا تھا تعویذ اپنی دیورانی کے کپڑوں میں رکھنا یا سوتے جاگتے میں کسی وقت موقع ملنے پر اس کے جسم سے لگاتی رہنا تین دن میں تمہاری خواہش پوری ہو جائے گی تمہاری دیورانی کو طلاق ہو جائے گی اور اس کا گھر ٹوٹ جائے گا تعویذ لے کر ایک بار پھر تگڑی قیمت ادا کرنے کے بعد نفیسہ سرمد گھر پہنچی اور کچن میں کھڑی دیورانی کو ہاتھ سے چھوتے ہوئے تعویذ اس کے جسم کے ساتھ مس کیا اور بہانے بہانے سے ایسا کرتی رہی یہاں تک دوسرے شام کو اس کی دیورانی کی طبعیت بگڑ گئی وہ خون کی الٹیاں کرنے لگی ڈاکٹروں نے چیک کیا تو کہا اس نے زہر کھا لیا ہے اس کا معدہ واش کیا گیا مگر اس کی طبعیت پر کچھ فرق نہ پڑا یوں اس کی موت اٹل سمجھ لی گئی اور اس کے قریب بیٹھ کر قرآن پاک کی پڑھائی شروع کر دی گئی ۔۔۔۔۔۔

قرآن پاک کی تلاوت شروع ہونے کی دیر تھی کہ نفیسہ سرمد کی دیورانی کی حالت بہتر ہونا شروع ہو گئی یہاں تک ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ خود بیٹھ کر تلاوت قرآن کر رہی تھی اس کے سامنے اس کا ماضی چل رہا تھا اور وہ حیران ہو رہی تھی کہ آج اس کی تین نمازیں قضا ہو چکی تھیں رات گیارہ بجے تک وہ مکمل صحت یاب تھی بنا کسی سہارے کے اٹھ کر واش روم گئی وضو کیا اور ہسپتال میں ہی نماز عشاء ادا کی اور سر سجدے میں رکھ کر رونے لگی جب دل کو سکوں مل گیا تو اٹھی جائے نماز تہہ کر کے نرس کے حوالے کی رات کی ڈیوٹی پر معمور ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیا اسے مکمل صحت یاب دیکھ کر اس واقعہ کو معجزہ قرار دیا اور اسے گھر جانے کی اجازت دے دی ۔۔۔۔۔۔

اگلا سارا دن تقریباً نفیسہ سرمد کی دیورانی نے مصلے پر گزارا اور خیر خیریت سے گزر گیا چوتھے روز صبح ہی صبح نفیسہ سرمد بابا کمان والے کے پاس پہنچ چکی تھی اسے سارے حالات سے آگاہ کیا تو بابا جی کمان والے کی انا کو ٹھیس پہنچی وہ حیران تھا ایک عورت اتنے مضبوط ایمان کی کیسے ہو سکتی ہے کہ اس پر جادو اثر نہ کرے لہذا اب کی بار بابا جی نے خود چلہ کر کے عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور نفیسہ سرمد کو ساتھ لے کر ہندوؤں کے شمشان گھاٹ جا پہنچے اس کو اپنا ٹھکانہ دکھایا جو گارے مٹی اور لکڑی کی چھت والا ایک کمرہ تھا ساتھ یہ بھی بتایا کہ میں چودہ دن تک یہاں چلہ کروں گا چودہ دن بعد یا تو تمہارا دیور دیورانی دونوں مر جائیں گے یا پھر میں مر جاؤں گا اور اگر وہ مر گئیے تو تمہیں عمر بھر میرا غلام بن کر رہنا ہو گا نفیسہ سرمد بابا جی کے قدم چھوتے ہوئے بولی مجھے آپ کی شرط منظور ہے اور اس کے ساتھ ہی واپس پلٹ آئی اسے یقین ہو چلا تھا کہ اب کی بار کچھ نہ کچھ ہو جائے گا مگر کہتے ہیں نا جسے رب رکھے اسے کون چکھے۔۔۔۔۔۔

یہ چودہ دن بھی خیر خیریت سے گزر گئیے تو نفیسہ سرمد بابا جی کمان والے کی حالت دیکھنے کے لیے اپنی ایک رازدار سہیلی کے ہمراہ شمشان گھاٹ پہنچی اور جوں ہی بابا جی کی چلہ گاہ میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ دو اژدھے بابا کمان والے کا جسم کھا رہے ہیں جیسے ہی ان کی نظر نفیسہ سرمد پر پڑھی وہ اس کی طرف لپکے اور نفیسہ سرمد جان بچانے کے لیے باہر کو بھاگی بابا جی کی چلہ گاہ سے کچھ دور پہنچ کر وہ منہ کے بل گر گئی اس کے گرتے ہی بابا جی کی چلہ گاہ بھی زمین بوس ہو گئی اور اس میں آگ بھڑک اٹھی نفیسہ کی سہیلی دوڑ کر اس کے پاس پہنچی تو نفیسہ نے اسے اندر کے حالات کا بتایا نفیسہ سرمد کے باقی سارے اعمال سے وہ پہلے ہی بخوبی واقف تھی اسی دوران نفیسہ کی جان بھی نکل گئی اور جسم وہیں پڑا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔

نفیسہ سرمد کی سہیلی کو معلوم تھا کہ نفیسہ سرمد گھر والوں کو بتائے بغیر مجھے ساتھ لے کر یہاں آئی ہے لہذا کسی کو معلوم نہیں کہ میں نفیسہ کے ساتھ یوں اس لئیے اس نے نفیسہ کی لاش وہیں چھوڑی اور گھر کو چل دی جبکہ بابا جی کے آدھے جلے ہوئے ڈھانچے اور نفیسہ کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے اسی شمشان گھاٹ میں جلا کر راکھ دریا برد کر دی گئی اور یوں مخلوق خدا کے دشمن جب ایمان کے مضبوط لوگوں سے ٹکرائے اپنی موت کو دعوت دے بیٹھے یہاں تک موت کے بعد قبر بھی نصیب نہ ہوئی بلکہ غیر مسلم سمجھتے ہوئے ان کو جلا دیا گیا۔۔۔۔۔

اسی وجہ سے اس برے عمل کے کرنے اور کروانے والے کو اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں جادوگر مرد و عورت کا سر قلم کرنے کا حکم دیا گیا تھا تا کہ اسلام ایسے فتنوں سے پاک رہے

اختتام









Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when موالی گروپ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category