02/03/2026
مُلـکِ شـام کے متعلق نبی پاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَسَلَّم كی پیـشن گـوئیاں
اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے قیـامت کے نشـانات بتـلاتے ہوئے فرمایا کہ :
" اُونٹـوں اور بَکـریوں کے چَـروَاہے جو بـرہنہ بـدن اور ننـگے پـاؤں ہونگے وہ ایک دوسرے سے مـقابلہ کرتے ہوئے لمبی لمبی عمـارتیں بنوائیں گے اور فخـر کریں گے ... "
(صحیح مسلم
ریـاض شـہر میں عمـارتوں کا یہ مـقابلہ آج اپنے عُـروج پر پہنچ گیا، دبـئی میں ’’بـرج خلیـفہ‘‘ کی عمـارت دنیـا کی سب سے اُونچی عمـارت بن گئی تو ساتھ ہی شـہزادہ ولـید بـن طـلال نے جـدَّہ میں اس سے بھی بـڑی عمـارت بنـانے کا اعـلان کر دیا ہے جو دھـڑا دھـڑ بنتی چـلی جا رہی ہے، عـرب کی عـمارتیں سـارے جـہان سے اونچـی ہو چکی ہیں ...!
عـرض کرنے کا مقـصد صرف یہ کہ میرے پـیارے رسـول حضرت مُحمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے جو فرمـایا وہ پُـورا ہو چکا ہے اور پیشـگوئی پُـوری ہو کر اپـنے نُکـتۂ کـمال کو پہنـچ چکی ہے ...!
عـرب کا سب سے زیادہ تیـل خـریـداری کرنے والے امـریکہ نے صـدام کو خـتم کر کے تیـل کی دولـت سے سَیـراب مُـلک عِـراق کے کنـوؤں پر قبضہ جما لیا ہے اور لاکھـوں بیـرل مُفـت وصول کر رہا ہے تو پھر تیـل کی گِـرتی مانـگ نے تیـل کی قیـمتوں کو نـچلی سطح پر پہنچا دیا جس سے عـرب ممـالک کا سُـنہرا دَور خاتـمے کے قریـب ہے ...!
■ سـوال پیـدا ہوتا ہے اس زوال کے بعـد کیا ہے ...؟
اللّٰه کے رَسُول صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور حدیـث ہے کہ :
" قیـامـت سے پہـلے سَرزَمیـنِ عـرب دوبارہ سَرسَـبز ہو جائیـگی"
(صحیح مسلم)
سعـودی عـرب اور امـارات میں بارشـیں شـروع ہو چـکی ہیں، مَـکَّہ اور جَـدَّہ میں سَیـلاب آ چـکے ہیں۔
عـرب سـرزمـین جسـے پہـلے ہی جدیـد ٹیـکنالـوجی کو کام میں لا کر سرسـبز بنانے کی کوشـش کی گئی ہے وہ قـدرتی موسـم کی وجہ سے بھی سرسـبز بنـنے جا رہی ہے۔ سعـودی عـرب گنـدم میں پہلے ہی خـودکفیـل ہو چکا ہے، اب وہاں خشـک پہـاڑوں پر بارـشوں کی وجہ سے سبـزہ اُگنـا شـروع ہو چکا ہے، پہـاڑ سـرسبـز ہونا شـروع ہو گئے ہیں۔ بارشـوں کی وجہ سے آخـرکار حـکومـت کو ڈیـم بنانا ہوں گے جس سے پانی کی نہـریں نکلیں گی، ہریـالی ہو گی، سبـزہ مزید ہو گا، فصـلیں لہلہـائیں گی، یُوں یہ پیشـگوئی بھی اپنے تکمیـلی مَرَاحِـل سے گزرنے جا رہی ہے اور جو میرے حضـور صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا اسے ہم اپنی آنکھـوں سے دیکھتے جا رہے ہیں ...!
اگر احـادیث پر غـور کریں تو مَشـرقِ وُسطـیٰ کے زوال کا آغاز مُـلکِ شـام سے شـروع ہوا لیکن شایـد عـرب حُـکمـران یا تو یہــود و نصـاریٰ کی چـال سمجھ نہ سکے یا بے رخی اختیـار کی لیکن وجہ جو بھی ہو یا نہ ہو، سـرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی بتائی ہوئی علامـات کو تو ظاہـر ہونا ہی تھا حـدیث کے مطابـق ...!
چُنانچـہ حدیـث پـاک میں ارشـاد ہے
ﺭﺳﻮﻝ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم ﻧﮯ ﻓﺮﻣـﺎﯾﺎ :
" ﺟﺐ ﺍﮨـﻞِ ﺷـﺎﻡ ﺗﺒـﺎﮨﯽ ﻭ ﺑﺮﺑـﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺷـﮑﺎﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺗـﻢ ﻣﯿﮟ ﮐـﻮﺋﯽ ﺧﯿـﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ "
(ﺳﻨﻦ ﺍﻟﺘﺮﻣﺬﯼ 2192: ﺑﺎﺏ ﻣﺎﺟﺎﺀ ﻓﯽ ﺍﻟﺸـﺎﻡ، ﺣﺪﯾﺚ ﺻﺤﯿﺢ)
میرے محتـرم و مکـرم قارئـین کـرام یاد ﺭﮐﮭﯿﮟ ...!
ﺍَﺣﺎﺩﯾـﺚِ ﻣُﺒَـﺎﺭﮐﮧ ﮐﯽ ﺭُﻭ ﺳﮯ ﺷـﺎﻡ ﻭ ﺍﮨـﻞِ ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺍُﻣَّــﺖِ ﻣُﺴﻠﻤﮧ ﮐﺎ ﻣُﺴـﺘﻘﺒﻞ ﻭَﺍﺑﺴـﺘﮧ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ مُلـکِ شـام ایسے ہی ﺑﺮﺑـﺎﺩ ﮨﻮتے رہا ﺗﻮ
ﭘُـﻮﺭﯼ ﺍُﻣَّـﺖِ ﻣُﺴـﻠﻤﮧ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺧﯿـﺮ ﻧﮩﯿﮟ، ویسے تو 90 فیصد بربـاد ہو چـکا .........!
اب جبکہ پانـچ سـالہ خـونریزی میں 8 لاکھـ بےگنـاه بَـچّے، بُـوڑھے، عَـورتیں شہیـد اور لاتعـداد دُوسرے مُـلک کی سرحـدوں پر زنـدگی کی بھیـک مانگـتے ہوئے شہیـد ہو رہے ہیں اور اتـنے ہی تعـداد میں زخـمی یـا معـذور ہو چکے، لہٰذا شـام مُکمَّل تبـاہی کے بعد اب نـزع کی حالـت میں ہے ...!
اس حدیـث کے حسـاب سے عـرب ممالـک کے سُنـہرے دَور کے خاتمـہ کی اہـم وجہ مُلـکِ شـام کے مَوجُـودَہ حـالات ہيں، گویـا نبی صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم کی ایک اور پیـشگوئی کی عَلامَـت ظـاہر ہو رہی ہے یا ہو چـکی ........!
یاد رکھیں ...!
کہ مُلـکِ شـام کے مُتعـلّق اِسـرائیـل، رُوس، ایـران و امـریـکہ جو بھی جھـوٹے بہـانے بنـائے، لیکن ان سب کا اَصل ہَـدَف جَزیـرَة ُالعَـرَب ہے کیونکہ کُفَّـار کا عقیـدہ ہے کہ دَجَّـال مَسِیـحَا ہے اس وجـہ سے یہ لوگ دَجَّـال کے اِنتظـامات مُکمَّل کر رہے ہیں جس کے لیے عـرب ممـالک میں عَـدمِ اِستـحکام پیـدا کرنا ہے کیـونکہ مُلـکِ شـام پر یہـود و نصـاریٰ قبـضہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ ہو کر رہیگا حضرت مہـدی عَلیهِ السَّلام کے ظہـور سے قبـل .....!
چُنانچہ کتـابِ فِـتَن میں ہے کہ :
" آخـری زمـانے میں جب مُسـلمان ہر طرف سے مَغـلوب ہوجائیں گے، مُسـلسل جَنـگیں ہوں گی، شـام میں بھی عیسـائیوں کی حکومـت قائم ہو جائے گی، عُلمـاء کرام سے سُنا کہ سَعُـودی، مِصـر، تـرکی بهى باقى نہ رہیگا ہر جگہ کُفَّـار کے مظالـم بڑھ جائیں گے، اُمَّـت آپسـی خَانـہ جَنـگی کا شِکـار رہےگی. عـرب (خلیـجی ممالـک سعـودی عـرب وغیرہ) میں بھی مسلمانوں کی باقاعـدہ پُرشـوکت حکـومـت نہیـں رہےگی، خَیبَر (سعـودی عـرب کا چھـوٹا شہـر مَدینـةُ المُـنَوَّره سے 170 کم فاصلے پر ہے) کے قریـب تک یہـود و نصـاریٰ پہنـچ جائیں گے، اور اس جـگہ تک ان کی حکــومت قائـم ہوجائے گی، بچـے کھـچے مسلمان مَـدِینة ُالمُنَـوَّرَه پہنچ جائیں گے، اس وقت حضـرت امـام مہـدی عَليهِ السَّلام مدیـنہ منـورہ میں ہوں گے "
دُوسری طرف دریـائے طبرـیہ بھی تیـزی سے خُشک ہو رہا ہے جو کہ مہـدی عَلیہِ السَّلام کے ظہـور سے قبل خُشـک ہو گا ...!
اسلئے جب مَشـرقِ وُسطـیٰ کے حـالات کو خُصُـوصاً مُسَلمانوں اور ساری دُنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دُنیا ہولنـاکیوں کی جـانب بـڑھ رہی ہے، فرانـس میں حَمـلوں کے بعـد فرانـس اور پـوپ بھی عالمـی جنـگ کی بات کر چکے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے اس عالمـی جنـگ کا مرکـز کون سا خـطہ ہو گا ...؟
وَاضِح نظر آ رہا ہے، مَشـرقِ وُسـطیٰ ہی مُتَـوَقّع ہے ....!
یہاں بھی ہنـد و پـاک کی رَنجِشـیں اور کشمـکش کے بڑھـتے حـالات سے بھی لگتا ہے کہ غَـزوۂ ہنـد کی طرف رُخ کر رہے ہیں کیونکہ حضـرت ابـو ہریـرہ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالىٰ عَنه سے روایـت ہے کہ رَسُولُ اللّٰه صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے ارشـاد فرمایا :
" میری قـوم کا ایک لشـکر وَقـتِ آخِـر کے نزدیک ہنـد پر چَڑھـائی کرے گا اور اللّٰه اس لشـکر کو فتـح نصیـب کرے گا، یہاں تک کہ وہ ہند کے حُکـمـرانوں کو بیڑیـوں میں جَـکڑ کر لائیں گے۔ اللّٰه اس لشـکر کے تمـام گنـاہ معاف کر دے گا۔ پھر وہ لشـکر وَاپـس رُخ کرے گا اور شـام میں موجود عیـسیٰ ابنِ مَـریم عَليهِ السَّلام کے ساتھ جا کر مِل جائے گا "
حضـرت ابوہریـرہ رَضِىَ اللّٰه تعالىٰ عَنه نے فـرمایا :
" اگر میں اُس وقـت تک زندہ رہا تو میں اپنا سب کچھ بیـچ کر بھی اُس لشـکر کا حِصَّہ بَنُـوں گا، اور پھر جب اللّٰه ہمیں فتح نصـیب کرے گا تو میں ابوـہریرہ (جہنـم کی آگ سے) آزاد کہلاؤں گا۔ پھر جب میں شـام پہنچوں گا تو عیـسیٰ ابنِ مَـریم عَليهِ السَّلام کو تـلاش کر کے انہیں بتاؤں گا کہ میں مُحَمَّد صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم كا ساتھـی رہا ہوں "
رسول پـاک صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے تَبَـسُّم فرمایا اور کہا :
"بہت مشـکل، بہت مشـکل"
(کتاب الفتن۔ صفحہ ۴۰۹)
(واللہ تعالٰی اعلم)
آنے والے اَدوَار بڑے پُرفِـتن نظر آتے ہیں اور اس کے مُتعلّق بھی سَرکار صَلَّى اللّٰه عَليهِ وَ سَلَّم نے فرمایا تـھا کہ میری اُمَّت پر ایک دَور ایسے آئیگا جـس میں فِتنے ایـسے تیزی سے آئیں گے جیسے تسبـیح ٹوٹ جانے سے تسبـیح کے دانے تیزی سے زمـین کی طرف آتے ہیں، لہٰذا اپنی نَسـلوں کی ابھی سے تربیـت اور ایمـان کی فِـکر فرمـایئے، موبـائل كے بےجا استعـمال سے، دیـر رات تک جاگـنے، فیشـن اور یہـودی انداز اپنانے سے، نـمازوں کو تَـرک کرنے سے روكئـے ...
ورنہ آزمائـش کا مقابلہ دُشـوار ہو گا .....!
دوستـو چلتـے، چلتـے ایک آخـری بات عـرض کرتا چـلوں کے اگر کوئی ایسـی نایاب ویـڈیو، قـول، واقـعہ، کہـانی یا تحـریر وغیرہ اچھی لگے، تو مطالـعہ کے بعد مزید تھـوڑی سے زحمـت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجـئے کہ اس میں آپ کا بمـشکل ایک لمحہ صـرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمـحہ کی اٹھـائی ہوئی تکـلیف سے آپ کی شـیئر کردا تحریر ہـزاروں لوگـوں کے لیے سبـق آمـوز ثابت ہو ....!
جزاک اللہ خیرا کثیرا ..