05/02/2024
حنین اب اپنی بات ختم کر چکی تھی ۔اس سے پہلے کہ وہ نیچے اترتی ‘ جج صاحب نے اسے روک کے پوچھا۔’’آپ وکیل ہیں؟‘‘ اس نے سادگی سے ان کا چہرہ دیکھا۔ ’’نہیں یور آنر!‘‘
’’لا ء اسٹوڈنٹ ہیں؟‘‘
’’نہیں یور آنر !‘‘
’’پھر کیا ہیں؟‘‘
’’میں حنین ہوں۔ اور میں ایک عام لڑکی ہوں۔‘‘ وہ اداسی سے مسکرا کے نیچے اتری ایسے کہ اس کی گردن اٹھی ہوئی تھی اور سعدی اسے مسکرا کے دیکھ رہا تھا۔اکڑی ہوئی مٹھی میں پکڑا قلم وہ کب کا چھوڑ چکا تھا۔
باہر نکلتے ہوئے حنہ ہاشم کے قریب ٹھہری جس کا چہرہ اہانت سے ابھی تک تمتمایا ہوا تھا اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کے بولی۔
’’میں نا ڈرامے بہت دیکھتی ہوں۔ ہاں اب میں اتنے ڈرامے دیکھنے کو اچھا نہیں سمجھتی مگر جو دیکھ رکھے ہیں ان میں ایک دفعہ ایک قصہ سنا تھا۔ کہ ایک آدمی کے پاس ایک بدروح آئی اور اسے ڈرانے لگی۔ جب وہ نہیں ڈرا تو وہ بولی۔ جانتے نہیں ہو ‘ میں تمہاری جان لے سکتی ہوں۔ وہ آدمی بولا‘ سارا غم اسی جان کا ہی تو ہے ‘ جس دن یہ نہ رہی ‘ اس دن میں تم سے بڑی بد روح بن جاؤ ں گا۔ آپ جیسے بلیک میلرز کو یہ جان لینا چاہیے ‘ہاشم کاردار‘کہ سارا غم اسی عزت کا ہی تو ہے ‘ کیونکہ جس دن ہم لڑکیوں کی عزت چلی گئی نا ‘ اس دن آپ سے بڑی بلا بن جائیں گی ہم !‘‘