31/07/2026
محمد بزیک — وہ مسلمان جس نے مرتے ہوئے بچوں کو تنہا نہیں مرنے دیا
دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو انسانیت کی تعریف بدل دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک عظیم مسلمان کا نام محمد بزیک (Mohamed Bzeek) ہے، جو اصل میں لیبیا سے تعلق رکھتے ہیں اور کئی دہائیوں سے امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں مقیم ہیں۔
1989ء سے انہوں نے اپنی زندگی ایک ایسے مشن کے لیے وقف کر دی، جسے سن کر ہر دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہ ایسے یتیم اور شدید بیمار بچوں کو اپنے گھر لے آتے ہیں جنہیں ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا ہوتا ہے اور جن کی زندگی صرف چند دنوں یا چند مہینوں کی مہمان ہوتی ہے۔ ان بچوں کو اکثر کوئی گود لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ان کی جدائی بہت جلد ہو جائے گی۔
مگر محمد بزیک کا کہنا ہے:
"اگر کوئی بچہ مرنے والا ہے تو اسے اکیلے نہیں مرنا چاہیے۔ اسے محبت، شفقت اور ایک خاندان کا احساس ملنا چاہیے۔"
وہ ہر بچے کو اپنے حقیقی بیٹے یا بیٹی کی طرح سینے سے لگاتے ہیں، اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اسے محبت دیتے ہیں اور آخری سانس تک اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ جب وہ بچے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو اکثر ان کے آخری لمحات محمد بزیک کی بانہوں میں گزرتے ہیں، نہ کہ کسی ہسپتال کے سرد اور خاموش کمرے میں۔
محمد بزیک نے اپنی زندگی میں درجنوں ایسے بچوں کی کفالت کی ہے جنہیں دنیا نے امید چھوڑ دی تھی۔ ان کی اپنی زندگی بھی آسان نہیں رہی۔ ان کی اہلیہ، جو اس مشن میں ان کی ساتھی تھیں، انتقال کر گئیں، مگر انہوں نے انسانیت کی خدمت کا یہ سفر جاری رکھا۔
یہی وہ کردار ہے جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے:
"اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔"
(سورۃ الإنسان: 8)
محمد بزیک کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی عظمت دولت یا شہرت میں نہیں، بلکہ اس محبت میں ہے جو وہ بے سہارا انسانوں کو دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ محمد بزیک کو صحت، عافیت اور اپنی بے شمار رحمتوں سے نوازے، اور ہمیں بھی ایسی بے لوث خدمت کا جذبہ عطا فرمائے۔ آمین۔
اگر اس عظیم مسلمان کی داستان نے آپ کے دل کو چھو لیا ہے تو "ماشاء اللہ" یا "جزاک اللہ خیراً" لکھ کر انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، اور اس پیغام کو ضرور شیئر کریں تاکہ دنیا دیکھے کہ اسلام رحمت، محبت اور انسانیت کا دین ہے۔
#انسانیت #اسلام #یتیم #رحمت :::**