31/08/2026
میں ایک ہولناک واقعہ کی نشان دہی کر رہی ہوں ۔۔۔اس پہ مائیں غور کریں اور والدین ہر ریپ اور بچوں کی غفلت کی ذمہ داری سے بری بالکل نہیں ہوتے یہ یاد رکھیے ۔۔
میرا گاؤں 7 چک سرگودھاروڈ پہ ہے ۔۔میری ایک ملازمہ سداں 6 چک کی تھی ۔۔بزرگ تھی میں اسے ڈراپ کرنے کئی بار چلی جاتی ۔۔ ایک دن فون آیا کہ باجی جلدی آئیے دس بجے تھے ۔۔ میں مجبور” چلی گئی ۔۔بہت لوگ گھر کے سامنے جمع تھے ۔۔اس کا ایک بیٹا ۔۔دو بہویں تین عدد پوتیاں بھی تھیں تماشا گیر تھے ایک نوجوان کوباندھا ہواتھا ۔۔ایک 9 سال کے بچے کے بھی پاؤں ھاتھ باندھ رکھے تھے ۔۔پتہ چلا کہ سداں دو روز سےگھر پہ تھی میں نے چھٹی دی تھی ۔۔9 سالہ بچہ ہر گھنٹے بعد اس کی 2۔۔3 اوردس ماہ کی پوتی کو بلانے آئےکہ ٹافی لے لو جوس پی لو ۔۔سداں نے بہو سے کہایہ لڑکا کون ہے ؟ اور کیا مفت جوس دے رھا ہے ۔۔جواب میں لڑکے نے کہا ۔۔او مائی تو کیوں دخل دے رہی ہے ہمارا 15 دن سے معاملہ ہے مفت دال گھی اور جوس کے بدلے بچیاں دکان پہ جاتی ہیں ۔۔دکان والا بہت بدمعاش تھا اور چھ سات بدمعاش اور بھی ساتھ ہوتے ۔۔سب سے بڑی 3 سالہ بچی نے دادی کو بتایا کہ ابھی جوس اور چیزیں دے کے میرے کپڑے اتارتے ہیں ۔بہن کے بھی اور چند مزید گھروں کی بچیوں کے بھی ۔۔پھر کل پرسوں کار پہ تین بچوں جن میں ایک 3 سالہ لڑکا بھی تھا ان کوسیر کے لیے لے جائیں گے ۔۔سداں مجھ سے قصے سن چکی تھی اس نے جوتا اتارا اور بہو کو مارا۔۔بیٹے کو بلایا آدھا چک اکٹھا کر لیا دکان دار مان گیا کہ سچ ہے اور یہ بچہ گوجرے سے لے کے بچے گھیرنے کے لیے ملازم رکھا ہے بچہ 18 سالہ کسی بندے سے بھی چالاک تھا ۔۔گالیاں دے ۔۔بکواس کرے ۔۔پولیس بلوائی اگرچہ پکا پتہ تھا کہ سب نے چھوٹ جانا ہے انصاف پیسوں پہ بکتاہے ۔۔البتہ مسجد سے اسپیکر منگا کے والدین کے سامنے رو رو کے درخواست کی پیدا کیے بچے سنبھال کے رکھو ۔۔۔ساتھ باندھ کے رکھو ورنہ زینب کی طرح لاش آئے گی ۔۔
اب آپ سمجھ گئےکہ آیت نور کے ساتھ کیا ہوا ۔۔ماں نے بچے کے ساتھ جانے دیا جو سہولت کار تھااور پھر!
ماں باپ بچوں کی سائے کی طرف حفاظت کریں یا دادا نانی کسی کی ڈیوٹی لگائیے ۔۔۔ورنہ روتے رھنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔
اپنی مدد آپ کے تحت گلی محلوں میں گروپ بنائیے اورجو بن پڑ کیجے ۔۔پر پیدا شدہ بچے بچا لیں پلیز ۔۔۔