02/10/2024
کبھی کبھی جب ہمیں سب کچھ مل جاتا ہے تو مادی اشیا کے انبار تلے ہماری اپنی ذات کھو جاتی ہے۔ہم میں سے زیادہ تر لوگ لگے بندھے معاشرتی اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ۔بہت کم لوگ ہیں جو بغاوت کرتے ہیں اور زندگی کو مادی اشیا کے حصول سے ہٹ کر دیکھتے ہیں ۔جن کے لیے ذات کی تلاش اہم ہے۔ایسے لوگوں کی زندگی کیا اور کیوں کے گرد گھومتی ہے جس کی وجہ سے دنیاوی کامیابیاں ان کے لیے راحت کا باعث نہیں بنتی۔ان کے لیے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا زیادہ اہم ہے جو ان کے اندر شور مچاتے ہیں۔
ویسے تو آگہی ،ذات کا سفر ،خود کو جاننا ایسے شبدھ ہیں جو عورت ذات پہ جچتے نہیں کیونکہ عورت کا مقصد یہ سمجھا جاتا ہے کہ شادی کرے اور گھر بسائے۔سوچنے سمجھنے کا حق یہ معاشرہ اس مخلوق کو دینا نہیں چاہتا بلکہ یہ تسلیم کرنا بھی باعث ہتک سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنی الگ شناخت رکھتی ہے اور زندگی سے اس کی بھی کچھ امیدیں ہیں.
یہ مووی بھی ایک ایسی ہی عورت Liz Gilbert کی کہانی ہے جو زندگی میں سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود زندگی کی یکسانیت سے اکتا جاتی ہے۔جسے اپنی زندگی ناممکل لگتی ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی کو وہ دوسروں کے لیے جیتی ہے نہ کہ اپنے لیے۔اپنے اندر کی گھٹن سے تنگ آ کر وہ اپنے شوہر سے طلاق لینے کا فیصلہ کرتی ہے اور ایک سال کے لیے سفر پہ نکل کھڑی ہوتی ہے تا کہ گھر اور گھر داری سے ذرا دور ہو کر وہ خود کو جان سکے۔اپنے آپ کے ساتھ وقت بتا سکے ۔ذات کا سفر کر سکے۔
مووی بنیادی طور پہ جولیا رابرٹ (مرکزی کردار)کے سفر پہ مبنی ہے جس کے تین حصے ہیں۔اٹلی ،انڈیا اور بالی۔اٹلی میں وہ لذت کام دہن سے ایک پھر آشنا ہوتی ہے اور اٹالین فوڈ سے لطف اندوز ہوتی ہے۔اٹالین زبان سکھتی ہے ۔یہاں رہنے کے دوران وہ خوش رہنے کا فن(art of happiness ) سیکھتی ہے۔
انڈیا میں وہ نروان کی تلاش میں پہنچتی ہے .4ماہ ایک آشرم میں قیام کے دوران وہ دھیان گیان حاصل کرتی ہے اور دینداری کا فن (art of devotion)سیکھتی ہے۔
اس سفر کے آخری حصے میں وہ بالی پہنچتی ہے جہاں رہ کر وہ دنیاوی لذتوں اور روحانی خوشی میں توازن کا فن(art of balance) سیکھتی ہے .
اس مووی کی لوکیشنز اچھی ہیں۔کہانی عام محبت کی کہانیوں سے ذرا ہٹ کر ہے اور موضوع اچھوتا ہے تو دیکھنے میں اکٹاہٹ نہیں ہوتی ہے۔
یہ مووی آپ کو کیسی لگی دیکھ کر بتائیے گا۔انتظار رہے گا آپ کی قیمتی رائے کا۔