21/06/2026
لاقانونیت کے آگے ایک اور کاروباری خواب بجھ گیا
چترال جیسے دور افتادہ اور بنیادی سہولیات سے محروم علاقے میں دو نوجوانوں نے اپنی محنت، لگن اور عزم سے "لنک دربار کیفے" کے نام سے ایک کاروبار شروع کیا۔ ان کا مقصد صرف روزگار کمانا نہیں تھا بلکہ علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک مثبت مثال اور امید کی کرن بننا بھی تھا۔
مگر افسوس کہ ہمارے نظام کی بے حسی اور لاقانونیت نے ان کے خوابوں کو چند لمحوں میں خاک میں ملا دیا۔ بغیر کسی مناسب نوٹس، وارننگ یا قانونی طریقۂ کار کے ان کی برسوں کی محنت کو صرف چند منٹوں میں گرا دیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ اگر نوجوانوں کے ساتھ یہی سلوک ہونا ہے تو پھر کون کاروبار کرنے، سرمایہ لگانے اور اپنے علاقے کی ترقی میں کردار ادا کرنے کا حوصلہ کرے گا؟ ایک طرف نوجوانوں کو خود روزگار اور کاروبار کی ترغیب دی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف ان کی محنت اور سرمایہ کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسے روند دیا جاتا ہے۔
یہ صرف ایک کیفے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے خواب کی داستان ہے جو نوجوانوں کے بہتر مستقبل، ترقی اور خود انحصاری کی امید لیے پروان چڑھ رہا تھا۔ مگر لاقانونیت اور انتظامی ناانصافی کے آگے ایک بار پھر ایک کاروباری سوچ دم توڑ گئی۔
آج لنک دربار کیفے گرا ہے، کل کسی اور نوجوان کا خواب بکھر سکتا ہے۔
اگر نوجوانوں کی محنت اور سرمایہ محفوظ نہیں، تو ترقی کے دعوے محض الفاظ رہ جائیں گے۔