World Updates

World Updates informative & updates

آپ میں سے بیشتر لوگ بابا انور کو نہیں جانتے ہوں گے۔ اس کالج میں آنے سے قبل خود میں بھی انھیں نہیں جانتی تھی، اور پھر ہما...
13/12/2025

آپ میں سے بیشتر لوگ بابا انور کو نہیں جانتے ہوں گے۔ اس
کالج میں آنے سے قبل خود میں بھی انھیں نہیں جانتی تھی، اور پھر ہماری پہلی ملاقات کونسا اتنی خوشگوار تھی کہ اسے جان پہچان کا نام دیا جائے۔

گورنمنٹ کالج ساہیوال کے سائیکل اسٹینڈ پر کسی سخت گیر تھانیدار کی مانند ہمہ وقت چاق چوبند کھڑے رہنے والے بابا انور کو میں نے تیری چودہ سال قبل پہلی بار پارکنگ میں تب دیکھا تھا جب میں نے وہاں اپنی گاڑی پارک کی تھی، وہ خدا جانے کہاں سے اچانک آ دھمکے تھے اور آتے ہی ٹھیٹھ پنجابی زبان میں مجھے ہدایات دینے لگے کہ گاڑی کہاں اور کیسے پارک کرنی ہے۔

میں نے حیرانی سے گردن موڑ کر اس دھان پان سے آدمی کو دیکھا جس کے جھریوں زدہ کرخت چہرے پر نام کو نرمی نہ تھی۔ "مجھے پتا ہے بابا جی۔" میں نے ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ مگر بابا جی کو شاید آگے سے جواب سننے کی عادت نہ تھی۔ جواب میں وہ تڑک کر بولے "پتا ہے تبھی تم عورتیں کہیں بھی گاڑی مار دیتی ہو۔" اس انکشاف نما نسائی تعصب پر میں نے حیرت، صدمے اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے باباجی کے سخت چہرے کو دیکھا اور کسی بھی قسم کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے، آگے بڑھ گئی۔

اس کے بعد میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میرا بابا جی سے سامنا نہ ہو۔ میں جب انھیں کالج کے دیگر گارڈز کے ہمراہ غل مچاتے طلباء کو ڈانٹتے، یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرتے کسی طالب علم سے الجھتا دیکھتی تو خاموشی سے دبے پاؤں اپنی گاڑی کی طرف بڑھ جاتی، مگر بابا جی! خدا جانے وہ اچانک کہاں سے کسی جن کی مانند نمودار ہو جاتے اور یوں ہدایات دینی شروع کر دیتے جیسے گاڑی کسی نو آموز کے ہاتھ میں ہو اور میں خود کو پرسکون رکھنے کی مصنوعی کوشش کرتی وہاں سے نکل آتی اور دیر تک زود رنج رہتے ہوئے بابا جی کے رویے پر کڑھتی رہتی۔

رفتہ رفتہ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے۔ مگر بابا جی کے رویے میں کہیں فرق نہ آیا۔ میں نے دیکھا ان دنوں وہ صرف مجھے لے کر ہی ایسے سخت گیر نہ تھے بلکہ کالج کے ہر پروفیسر پر یونہی افسری جھاڑتے اور کالج کے ہر معاملے، ہر کام کو کو ذاتی سمجھ کر کرتے۔

اس کی وجہ ان کا کالج سے قریباً چھ سات دہائیوں پر مشتمل قلبی تعلق تھا۔ ہم نے سنا تھا ان کے والد انگریز کے زمانے میں ریماونٹ ملازم تھے۔ آٹھویں جماعت میں ان کی وفات اور گھریلو حالات بدترین ہونے کے بعد، انھوں نے تعلیم کو خیر باد کہا اور وہاں کے افسر سے اپنے والد کی جگہ ملازمت کی درخواست کی۔ جس پر انھوں نے ملازمت تو نہ دی البتہ ایک سفارشی رقعہ ضرور لکھ دیا، جسے لے کر وہ گورنمنٹ کالج ساہیوال کے تب کے پرنسپل میاں اصغر علی کے پاس چلے آئے۔ جنھوں نے یا تو اس رقعے کی وجہ سے یا شاید ترس کھا کر انھیں کالج میں نجی سطح پر ملازمت دے دی اور وہ تب سے اب تک اس ملازمت کا ہی نہیں کالج کا بھی دل و جان سے دم بھر رہے تھے۔

کالج میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ منع ہونے پر وہ ہر شخص کو روک کر کھڑے ہو جاتے اور جب تک کسی تھانیدار کی مانند پوری تفتیش نہ کر لیتے اسے آگے نہ بڑھنے دیتے۔ ہم نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ ایک بار ڈی پی آئی کالجز جب بغیر بتائے وزٹ پر تشریف لائے تو بابا جی نے انھیں بھی روک لیا۔ تب تک انھوں نے بھی اپنی شناخت ظاہر نہ کی تھی۔ بعد میں جب یہ بات اس وقت کے پرنسپل تک پہنچی تو وہ بابا جی سے ناراض ہوئے، مگر جب ڈی پی آئی صاحب نے بابا جی کی فرض شناسی اور احکامات کی اس تندہی سے بجاآوری پر تعریف کی اور کچھ رقم انھیں بطور انعام دی تو بابا جی کے ساتھ پرنسپل بھی خوش ہو گئے۔

باباجی کی فرض شناسی کے یہ سب قصے سننے کے باوجود بھی میرا دل ان کی جانب سے کبھی نرم نہیں ہوا تھا۔ ارے بھئی ایسی بھی کیا فرض شناسی جب آپ کسی سے نرمی سے بات نہ کر سکیں، ہر وقت کی تھانیداری ضروری ہے کیا؟ میں خود سے الجھتی رہتی۔

دن اور موسم دونوں بدلتے گئے۔ دسمبر کی تند ہوائیں چلنے لگیں۔ ایک دن میں نے ان کی ہدایت پر گاڑی پارک کی اور جب باہر نکلی تو سرد ہوا کی ایک یخ بستہ لہر نے مجھے اندر تک ٹھٹھرا دیا۔ میں تب چونکی جب میں نے بابا انور کے دبلے پتلے جسم پر ہمیشہ کی مانند جھولتی جھلنگا سی ملگجی قمیص دیکھی۔ "آپ کو ٹھنڈ نہیں لگتی کیا؟" میں بادل نخواستہ پوچھ بیٹھی تھی۔ یہ سوچے بغیر کہ جانے اب کیا جواب دیں گے۔

کوئی نہیں گزر جائے گی یہ سردی بھی". انھیں نے آدھا ادھورا سا جواب خلاء میں کچھ سوچتے ہوئے دیا اور واپس مڑ گئے۔ اگلے دن گاڑی پارک کرتے ہوئے میں خود ان کی منتظر تھی۔ جونہی وہ آئے میں نے جھٹ اپنے ہاتھ میں پکڑا شاپر کھولا اور گھر سے لائی ایک جیکٹ انھیں تھما دی۔ اسے ابھی پہن لیں ورنہ بیمار ہو جائیں گے۔"

انھوں نے ہچکچاتے ہوئے مجھے دیکھا اور پھر جیکٹ میرے ہاتھوں سے یوں اچک لی کہ جیسے اگر کسی نے دیکھ لیا تو ان کی عزت خاک ہو جائے گی۔ واپسی پر انھیں اس جیکٹ میں ملبوس دیکھ کر مجھے اچھا لگا تھا، مگر افسوس کہ یہ خوشی صرف اسی لمحے تک محدود تھی۔ اگلے دن وہ پھر اسی جھلنگا سی لمبی قمیص میں موجود تھے۔ ارے آپ نے وہ جیکٹ کیوں نہیں پہنی؟ میں نے ملتے ہی پہلا سوال پوچھا۔ وہ۔۔ وہ گھر والوں کو زیادہ ضرورت تھی۔ بابا جی نے پہلی بار مجھ سے نظریں چرائیں۔ جواب میرے پاس بھی نہیں تھا۔ سو مجھے جاتے ہی بنی۔

دو چار دن گزرے تو دسمبر کی بارشیں شروع ہو گئیں۔ سٹاف میں کئی لوگوں کے ہاتھ میں چھاتے تھے۔ لیکن بابا جی وہ پیچھے ہاتھ باندھے سکون سے بارش کی کن من میں کھڑے ہر آنے جانے والے پر اپنا حکم چلا رہے تھے۔ جسم پر وہی پتلی سی قمیص اوپر ہلکا سا سویٹر۔ تیز ہوتی بارش میں ان کے تر ہوتے کپڑے دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا۔ "بابا جی آپ کو ذرا بھی احساس ہے، اس بارش میں بھیگ کر آپ بیمار ہو جائیں گے۔ یہ لیں اور اسے روز ساتھ لے کر آئیں، کچھ دن یونہی بارش رہے گی۔" میں نے اپنی چھتری انھیں زبردستی تھماتے ہوئے کہا۔ انھوں نے سپاٹ نظروں سے مجھے دیکھا اور چھتری پکڑ لی۔

مجھے اچھا لگا جب واپسی پر وہ چھتری ان کے ہاتھ میں ہی نظر آئی۔ مگر اگلے دن کی کن من میں وہ پھر یونہی کھڑے اپنے کپڑے بھگو رہے تھے۔ ہاں آج انھوں نے مجھ سے نہ نظر ملائی تھی نہ کوئی ہدایت دی تھیں۔ میں جانتی تھی آج بھی گھر والوں کو زیادہ ضرورت ہوگی۔

دن گزرتے رہے سردی، گرمی، بہار، خزاں، آندھی، بارش اتنے سالوں میں سب گزرے مگر بابا جی بدستور اپنی جگہ، اسی مخصوص حلیے میں روز موجود رہے۔ وہی رعب داب مگر مجھ پر اب ہدایات کا سلسلہ کم ہو چلا تھا۔ وہ وہاں اب بھی موجود ہوتے تھے مگر مجھ پر پہلے جیسی سختی نہ رہی تھی۔ کبھی کبھار گھر کا کوئی دکھ بھی زبان پر لے آتے، مگر پھر فوراً ہی یوں پی جاتے جیسے نہ کچھ کہا، نہ سنا۔

پھر ایک دن وہ بھی آیا جب سب پر تھانیداری کرنے والے بابا انور کو ایک پڑھے لکھے شخص نے کالج میں بلا اجازت اندر جانے سے روکنے پر ہوئی بحث بازی میں ایک زور دار مکا چہرے پر جڑ دیا۔ وہ تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھے۔ گال ایک جانب سے زخمی ہو کر سوج گیا۔ وہ تو بھلا ہو پرنسپل صاحب اور سیکورٹی کے اراکین کا جنھوں نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن لیا اور متعلقہ شخص کو پولیس کے حوالے کر دیا جس پر موصوف کو باباجی سے معافی تلافی کرتے بنی مگر اس تکلیف، تذلیل اور زخم کا ازالہ کیا تھا جو اس بوڑھے شخص نے اپنے جسم اور روح پر جھیلا تھا؟

دن پھر تسبیح کے دانوں کی مانند پھرنے لگے۔ درس و تدریس کے ایک سلسلے میں ایک دن میں نے اپنے طلباء کو بابا انور کے پاس ان کا انٹرویو لینے بھیجا۔ بابا انور پہلے تو حیران ہوئے، پھر اس شرط پر انٹرویو دینے پر رضامند ہوئے کہ ان کی ڈیوٹی کا ذرا ہرج نہ ہوگا۔ پھر چلتے پھرتے ان بچوں کے سب سوالوں کا جواب یوں دیا کہ ڈیوٹی کا رتی بھر ہرج نہ ہوا۔ یہ انٹرویو بعد میں کالج میگزین میں بھی شائع کیا گیا۔

دبئی سے واپسی پر جہاں کچھ اچھی بری خبریں ملیں، وہیں سائیکل اسٹینڈ پر چھائی خاموش سی کمی نے مجھے بار بار بابا انور کی غیر موجودگی کا احساس دلایا۔ کسی نے کہا وہ بیمار ہیں، کسی نے کہا چھوڑ گئے ہیں، ایک آواز آئی: "تو کیا اب اسی سال کی عمر میں بھی ریٹائر نہ ہوتے؟" تبھی دوسری آواز آئی: "ہاں نہ ہوتے اگر اب بھی ایکسیڈنٹ نہ ہوا ہوتا۔" مجھے یکا یک ان کی فکر ہونے لگی۔ اسی دن شام میں ان کا اتا پتا پوچھتے ہم ان کے گھر روانہ ہو گئے۔

غربت کی کہانی سناتے ایک خستہ حال سے مکان کے بوسیدہ سے دروازے کے پٹ تھام کر کھڑے نحیف و نزار سے باباجی اس شخص سے قطعی مختلف تھے جو سائیکل اسٹینڈ پر بڑے سخت گیر چہرے کے ساتھ موجود رہتا تھا۔ دسمبر کی ٹھنڈ میں اب بھی وہی جھلنگا سی قمیص تھی، جو کافی میلی ہو چکی تھی، سویٹر بھی ٹھیک سے نہ پہنا ہوا تھا۔ وہ آنکھیں جن سے فقط خفگی اور سختی ٹپکتی تھی اب آنسوؤں سے پر تھیں۔ ایک ہاتھ کی پشت اور دوسرے کی آستین سے اپنی آنکھوں کو رگڑتے بابا جی انور بے بسی و بے چارگی کی مجسم تصویر بنے کھڑے تھے۔

شاید مجھے دیکھ کر آپ خوش ہو جائیں اسی لیے خود آپ سے ملنے آئی ہوں۔" میں نے زبردستی مسکراتے ہوئے قدرے تاریک سے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ انھیں خوش دیکھنے کی میری تمنا آج بھی تشنہ ہی رہی تھی۔ اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھتے ہوئے انھوں نے اپنی ٹانگ پکڑ کر پنجابی میں بمشکل اٹک اٹک کر کہا: "اس روز میں سڑک پر جانے کیسے گرا اور ایکسیڈنٹ نے میری یہ ٹانگ بے کار کر دی۔

تبھی پاس کھڑی بہو نے ان کی بات کاٹتے ہوئے پنجابی میں کہا: "بابا جی پہلے بھی ایسے اچانک گر جاتے ہیں، آپ پریشان نہ ہوں ان کا کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا۔" مگر بابا جی مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنی بات پر بدستور قائم تھے۔ وہ پھر بولی: "ہم تو پہلے بھی بہت کہتے ہیں کچھ نہ کرو گھر بیٹھو۔ پر یہ باز نہیں آتے تھے۔ اب بھی تو بیٹھنا پڑے گا۔" بابا جی کے چہرے پر بے بسی عود آئی۔

محلے میں کئی بوڑھے لوگ ہیں، ہم کہتے ہیں اب ان کے ساتھ دل بہلاؤ۔" وہ مسلسل بول رہی تھی۔ اور میں بابا جی کا مرجھایا چہرہ دیکھ رہی تھی، جس پہ ہمہ وقت گھر والوں کی پریشانیاں رقم ہوا کرتی تھیں اور جہاں اب فقط مایوسی کی دبیز ہوتی سیاہ دھند تھی۔ مجھے بخوبی علم تھا کہ وقت کے ساتھ بھاری ہوتے بڑھاپے کو سنبھالنا سہل نہیں ہوتا۔ نجی ملازمت کا در بند ہو جائے تو زندگی مزید بوجھل ہو جاتی ہے، اور پھر بابا جی کا دل بہلنے کی واحد جگہ وہ سائیکل اسٹینڈ ہی تھا، جو ان کی زندگی کی سات دہائیوں کا مرکز رہا تھا اور جہاں اب وہ کبھی واپس نہ جا پائیں گے۔

کبھی کسی سے نہ دبنے والے اور ہمیشہ اپنی بات سنانے والے بابا انور اب سر جھکائے گھر والوں کی باتیں خاموشی سے سن رہے تھے۔ ایسی بے بسی و مایوسی میں نے پہلے کبھی ان کے چہرے پر نہ دیکھی تھی۔ دفعتاً مجھے محسوس ہوا جیسے ان کے ہونٹ کناروں سے بھنچ گئے ہوں، جھریوں زدہ چہرے پر اندر کو دھنسی ویران آنکھیں، جو لمحہ قبل کسی خلائی نقطے پر مرکوز تھیں، آن کی آن میں جانے کہاں سے موٹے موٹے موٹے آنسوؤں کی بہتی ندی بن گئیں اور کبھی نہ مسکرانے والے سخت گیر بابا انور اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ مجھے لگا جیسے میرے اندر کہیں کچھ ٹوٹ سا
(Copied)گیا ہے۔
(Jb bap bhura ho jye olad bus yhi chati k ghr pr rehn ,AP ko kia zarorat bahir Jane ki , but yh ni sochti k Jo hath Dena wala rha ho wo roz roz ki zarorat k lye hath phela ni sakta olad k agy)

17/11/2025
16/08/2025

Celebrating my 11th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

16/07/2025

‏منقول۔۔۔
میری بیٹی سورہ الاحقاف حفظ کر رہی تھی،اور پھر ایک دن میں متحیر رہ گیا جب اس نے مجھ سے پوچھا:"میرے بابا جان! آپ کی کیا عمر ہے۔۔؟؟؟
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:"یقینا آپ کے اس سوال کا کوئی پس منظر ہے"
اس نے کہا:میرے بابا! مجھے بتائیں کہ آپ کتنے سال کے ہیں۔۔؟؟؟
میں نے کہا:میری بیٹی میری عمر چوالیس سال ( 44 سال) ہے۔
اس نے کہا: "گویا آپ چار سال قبل چالیس سال کے ہو گئے تھے،تو کیا آپ نے چالیس سال کا ہونے کی دعا پڑھی تھی؟"
میں نے استفسار لیا: "کیا چالیس سال کی عمر کے لیے کوئی مخصوص دعا ہے؟"
اس نے ایک استاد کی طرح کہا:سورہ الاحقاف میں اللہ تعالی فرما تے ہیں:
وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً ۙ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚ ؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۵﴾اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ نَتَقَبَّلُ عَنۡہُمۡ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ نَتَجَاوَزُ عَنۡ سَیِّاٰتِہِمۡ فِیۡۤ اَصۡحٰبِ الۡجَنَّۃِ ؕ وَعۡدَ الصِّدۡقِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۶﴾
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا ۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤ ں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بد اعمال سے درگزر کر لیتے ہیں ( یہ ) جنتی لوگوں میں ہیں ۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا ہے ۔ (الاحقاف:15،16)

میری استاذہ نے مجھے بتایا کہ ان کے والد نے بیس برس قبل یہ دعا پڑھی تھی اور اب ان کی عمر ساٹھ سال ہے۔میری استاذہ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ جو بھی اپنے والدین سے محبت کرتا ہے اسے انہیں اس خوبصورت دعا کے بارے میں بتانا چاہئیے۔بابا!میں آپ کو اس لیے بتا رہی ہوں کیوں کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔
میں اپنی بیٹی کے ان زبردست الفاظ اور قیمتی نصیحت پر از حد شکرگزار ہوا۔
میں نے اس کے سر کا بوسہ لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے مجھے ایک ایسی بیٹی سے نوازا جو مجھے سکھا سکتی ہے۔
میری بیٹی بہت خوش تھی،وہ جلدی سے ایک کاغذ اور قلم لائی اور دعا تحریر کی۔
اس نے کہا:"اس کاغذ کو اپنے بٹوہ میں رکھ لیں،اس طرح آپ ہر روز یہ دعا پڑھ سکتے ہیں جب بھی آپ اپنے بٹوہ سے رقم نکالیں گے"
سبحان اللہ،کچھ دن بعد مجھ سے میری بیٹی نے دعا کے بارے میں پوچھا۔میں نے اسے بتایا :مجھے یہ دعا یاد ہو گئی ہے۔
کیا ہم نے اپنے چالیس سال سے بڑے والدین،چاچا،ماموں،خالہ،پھوپھو ،بھائیوں اور بہنوں کو اس دعا کے بارے میں بتایا ہے اگر ہاں "بارک اللہ فیک" اور اگر نہیں تو بتانے میں جلدی کریں۔اللہ تعالی ہم سب کو حسن خاتمہ سے نوازیں۔آمین
دعا کے الفاظ صرف یہ ہیں:
رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَ اَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ ۚ ؕ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ

اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤ ں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں
Copied

07/07/2025

💔 "دل کمزور ہو رہا ہے، اور ہم مذاق سمجھ رہے ہیں..."

پہلے ہارٹ اٹیک 60 سال کے بعد کی بیماری سمجھی جاتی تھی،
آج 20، 25 سال کے نوجوان بھی
دل تھامے گر رہے ہیں...
اور ہم صرف حیران ہو رہے ہیں!

❓ آخر کیوں؟

🔻 نیند پوری نہیں
🔻 غذا زہریلی
🔻 ذہن الجھا ہوا
🔻 اسکرینز بند ہونے کا نام نہیں لیتیں
🔻 جسمانی محنت صفر
🔻 اور سب سے بڑھ کر… دل اللہ سے خالی!

📱 موبائل چارج ہو تو دل خوش،
نماز قضا ہو جائے تو پرواہ نہیں...

🍔 فاسٹ فوڈ جسم کو کھا رہا ہے
🚬 سگریٹ، ویپ، نشہ روح کو جلا رہا ہے
😔 اور اسٹریس… دل کو دبا رہا ہے

💔 پھر بھی ہم کہتے ہیں: "پتہ نہیں دل کمزور کیوں ہو گیا!"

---

🕋 یاد رکھو:

> "ألا بذكر الله تطمئن القلوب"
"دلوں کو سکون صرف اللہ کے ذکر سے ملتا ہے"

07/07/2025
04/07/2025

شیطان کہاں ہے ؟ لا بوبو Labubu میں ؟

**************************************************
عقیدۂ توحید کی روشنی میں:

اسلام میں توحید (اللہ کی یکتائی) کی بنیاد یہ ہے کہ صرف اللہ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد:

> "الطِّیَرَةُ شِرْكٌ"
(بدشگونی لینا شرک ہے)
[ابو داؤد، ترمذی]
************************************************

ایک ڈچ چائنیز ڈیزائنر کیزنگ لنگ کی تخیلاتی پرواز نے ایک کردار بنایا جس کا نام لا بوبو رکھا۔ یہ دو ہزار چودہ میں پہلی بار متعارف ہوا۔

بچپن میں گڑیوں سے تو اکثر افراد کھیلتے آ ئے ہیں ۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ مائیں کپڑے میں روئی بھر کر گڑیا بنا دیتی تھیں۔ سوئی دھاگے سے آ نکھیں ناک اور ہونٹ کاڑھ دیتی تھیں۔ سیاہ اون سے بال بنا دئے اور کترنوں سے گڑیا کے کپڑے سی دئے۔
سچ پوچھیں تو کئی بار وہ گڑیا بھی اچھی خاصی بد شکل ہی ہوتی تھی۔ لیکن بچے اس گڑیا کو پا کر خوش باش گھومتے ۔ بچے ان گڑیوں کی شادیاں بھی کرتے تھے۔

پھر اگلی جنریشن میں باربی جیسی خوبصورت اور طرح دار گڑیاں آ گئیں۔

اور اب لابوبو آ گئی جو روایتی طور پر خوبصورت نہیں ہے۔

اب چونکہ خوبصورت نہیں ہے تو کسی کو اس میں شیطان نظر آ رہا ہے کسی کو اس میں نیگیٹو انرجی نظر آ رہی ہے کسی کو یہ شیطانی قوتوں کی نمائندہ لگ رہی ہے۔

یعنی جب تک خوبصورت گڑیائیں یا کردار بچوں کے کھیل کا حصہ تھے تب تک اعتراض نہیں تھا اب اس کی شکل پسند نہیں آ ئی تو اسے منفیت کا نشان بنا دیا۔ واہ کیا کہنے

اگر گڑیا گھر میں لانا برا ہے تو وہ ہر گڑیا کے لئے ہے یہ نہیں کہ خوبصورت کے لئے تو چشم روشن دل ما شاد اور بد صورت کے لئے اتنی نیگیٹوٹی

گڑیا تو بے جان ہے وہ کیا کسی کی زندگی میں نیگیٹوٹی لائے گی۔ ہم انسان اتنی قوت رکھتے ہیں کہ جس چیز کے بارے میں جیسا گمان رکھیں اس سے وہی رزلٹ پائیں گے۔
اسے پلاسیبو افیکٹ کہہ سکتے ہیں۔

آ پکو لگتا ہے کہ لابوبو آ پکے گھر میں منفی قوتیں لے کر آ ئی ہے تو آ پکا یقین منفی قوتیں لے آ ئے گا۔ آ پکو لگتا ہے کہ ایک کھلونا ہے جیسا کہ دوسرے کھلونے ہیں اور اس کی اتنی ہی اوقات ہے تو کچھ نہیں ہو گا۔

اور یہ بھی سوچیں

آ پکو لگتا ہے کہ ایک انسان کا بنایا ہوا پتلا اتنی قوت رکھتا ہے کہ آ پکی زندگی میں کچھ بدل سکتا ہے تو معاف کیجئے آ پکا عقیدہ انتہائی کمزور ہے۔ وہی بات ہے کہ وہ پتلا تو جہاں پڑا ہے وہاں پڑا ہے خود پر سے مکھی نہیں اڑا سکتا تو آ پ جو اشرف المخلوقات ہیں کہ زندگی پر کیسے اثر انداز ہو سکتا یے۔

کچھ لوگ اس کو شیطان کی شکل قرار دے رہے ہیں۔
شیطان کی شکل نہیں ہوتی۔ شیطانی کردار ہوتے ہیں۔

شیطان بدی کا نام ہے کسی بد صورت شکل کا نام نہیں ہے۔ کوئی تصویر یا پتلا شیطان نہیں ہے۔ برائی ، دھوکہ دہی، خیانت، کسی کا حق مارنا قسم کی اخلاقی کجیاں شیطان کی موجودگی کی نشانی ہیں ۔

لا بوبو کے ہونے نہ ہونے سے منفیت یا شیطانیت میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔

انسان کے خون میں جو بدی اور نیکی گردش کرتی ہے وہ اصل چیز ہے۔

میں کوئی لابوبو کی وکالت نہیں کر رہی نہ میرے پاس لابوبو کے ڈسٹری بیوشن رائٹس ہیں کہ بکے گی تو فائدہ ملے گا۔
میں لابوبو کے حریف کھلونوں کی ڈسٹری بیوٹر بھی نہیں ہوں کہ لابوبو کی مارکیٹ خراب کرنے سے مجھے فائدہ ہو گا۔
نہ میرے گھر میں کوئی گڑیا یا کھلونے ہیں ۔

میرا پوائنٹ صرف یہ ہے کہ جو لوگ اس لابوبو کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ گھر میں منفی قوتیں لے کر آ تی ہے وہ اپنے عقیدے پر غور کریں۔

ایک بے جان پتلے کو آ پ نے کیسے اس قابل سمجھ لیا کہ وہ
آ پکی زندگی پر کوئی بھی اچھا یا برا اثر ڈالنے کی اوقات رکھتا یے۔

ذرا نہیں بہت سا سوچئے۔

Copied

02/07/2025

" ماما جلدی کریں فورا ہسپتال چلیں۔میرا جسم ٹھنڈا ہورہا ہے اور دل ڈوب رہا ہے۔"
یہ تھے میری جان نکال دینے والے وہ الفاظ جو آج رات ڈیڑھ بجے میں نے اپنے اکلوتے جوان بیٹے سے سنے اور نیند کے جھٹکے سے ایکدم حواس بیدار ہوگئے۔
بیٹا رات 8 بجے گھر آیا ۔میں نے کھانے کا پوچھا تو کہتا آج باہر بریانی کھالی تھی۔اب بھوک نہیں مگر وہ شاید سپائسی تھی جو تیزابیت محسوس ہورہی ہے۔میں نے اسے تیزابیت کا کیسپول دیا۔ذرا بہتر ہوا تو میں بےفکر ہوکر سوگئ۔رات ڈیڑھ بجے اس نے مجھے ان الفاظ کے ساتھ بیدار کیا۔میں نے ہڑبڑا کے اسکا ماتھا چھوا تو یخ ٹھنڈا اور جسم بھی۔مجھے اور کچھ نہ سوجھا ایک چٹکی
نمک اسے چٹا دیا ۔وہ بار بار کہے پاپا اٹھیں فورا ہسپتال چلیں ۔مجھے سنگینی کا اندازہ ہوگیا کیونکہ یہ بچہ تو 104 بخار پہ مزے سے پھر رہا ہوتا ہے کبھی بیماری میں اتنا پریشان نہیں ہوا۔۔افتخار صاحب نے بھی فورا گاڑی نکالی اور قریبی ہسپتال کی طرف بھگا دی۔راستہ میں یہی کہتا رہے جلدی چلیں میرا دل ڈوب رہا ہے۔میں اسکا سر گود میں رکھے حواس باختہ کبھی درود پاک کبھی یاسلام یاحفیظ کا ورد کرکے پھونکیں مارتی جارہی تھی۔چندمنٹس کا سفر لمبا لگ رہا تھا۔ہسپتال ایمر جنسی ڈاکٹرز کو بتایا۔انہوں نے فورا انجکشن ڈرپ لگائ۔ای سی جی کی۔
تب تک میرا سانس حلق میں اٹکا رہا۔۔دل دماغ میں ان دنوں سوشل میڈیا پہ دیکھی جانے والی اچانک ہارٹ اٹیکس کی وڈیوز آنے لگیں۔۔ اللہ کریم کا بے حد بےحساب شکر کہ ای سی جی سمیت سب ٹھیک تھا۔مانیٹرنگ میشن پہ بھی سب سائنز اوکے آرہے تھے۔میرا ورد اور اللہ سے آنسوؤں بھری التجائیں جاری تھیں۔دس پندرہ منٹس بعد طبیعت سنبھلنا شروع ہوئ۔ڈرپ ختم ہونے تک مکمل ٹھیک ۔۔جسم کی حرارت بھی واپس آگئ اور دل ڈوبنا بھی ٹھیک ہوگیا۔
دو گھنٹوں بعد گھر ائے۔صدقہ دیا ۔اللہ کریم کا شکر ادا کیا۔
حالانکہ اسے نہ جنک فوڈ کی عادت ہے نہ چائے زیادہ پیتاہے۔بلکہ میں نے بچپن سے اسے چائے کی عادت نہیں ڈالی تھی اب آفس میں سب کے ساتھ ایک دو کپ چائے پینے لگے گیا ہے۔اب اسے سختی سے منع کیا کہ چائے چھوڑ دے اور خاص کر ڈبے کے دودھ کی۔کیونکہ وہ مضر صحت ہے اور ہمیں عادت بھی نہیں کہ ہمارے گھر اپنی بھینس کا خالص دودھ استعمال ہوتا ہے۔
بہرحال وجہ نکلی معدے کی تیزابیت جس کی علامات ہارٹ اٹیک جیسی ہوتی ہیں مگر ہارٹ اٹیک ہوتا نہیں۔۔لیکن کبھی ایسی کیفیات ہوں تو خود فیصلہ کرنے کی بجائے فورا قریبی ہسپتال کی طرف بھاگیں ۔ڈاکٹرز ہی بتائیں گے کہ تیزابیت ہے یا ہارٹ اٹیک۔
اس بارے کچھ معلومات درج ہیں
معدہ کی تیزابیت (ایسڈ)

معدہ کےایسڈ کی زیادتی کی وجہ سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، لیکن یہ براہ راست ہارٹ اٹیک کا سبب نہیں بنتا۔ ایسڈ کی زیادتی سے مراد عام طور پر معدے میں تیزابیت کی زیادتی (Acid Reflux یا GERD) ہوتی ہے، جو کہ سینے میں جلن اور تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ کیفیت دل کے درد (Angina) سے مشابہت رکھتی ہے، لیکن یہ دل کے مسائل سے مختلف ہوتی ہے۔

تاہم، اگر معدے کی تیزابیت کا مسئلہ طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ دیگر طبی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، جو بالواسطہ طور پر دل کی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر:

1. **سوزش اور تناؤ**: معدے کی تیزابیت کی وجہ سے جسم میں سوزش اور تناؤ بڑھ سکتا ہے، جو دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

2. **نیند کی خرابی**: GERD کی وجہ سے رات کو نیند میں خلل پڑ سکتا ہے، جو دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

3. **غذائی عادات**: تیزابیت کی وجہ سے لوگ اکثر غیر صحت مند غذائی عادات اپنا لیتے ہیں، جو کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو بڑھا سکتا ہے۔(copied)

دن 11سے 4 بجے تک گاڑی میں موبائل، لائٹر، پرفیوم ، کاربونیٹڈ ڈرنکس نہ رکھیں، موٹروے پولیس
18/06/2025

دن 11سے 4 بجے تک گاڑی میں موبائل، لائٹر، پرفیوم ، کاربونیٹڈ
ڈرنکس نہ رکھیں، موٹروے پولیس

18/06/2025

افسوس تو تب ہوتا ہے جب آپ کو پتہ چلے کہ آپ کے قرض دار ناران کاغان گھومنے گئے ہوں، عیاشیوں میں گم ہوں، بےشرموں کی طرح دوسرے کو نصیحتیں کرتے پڑتے ہیں قرضے واپس کر دو 🥹😒وغیرہ وغیرہ

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when World Updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share