13/12/2025
آپ میں سے بیشتر لوگ بابا انور کو نہیں جانتے ہوں گے۔ اس
کالج میں آنے سے قبل خود میں بھی انھیں نہیں جانتی تھی، اور پھر ہماری پہلی ملاقات کونسا اتنی خوشگوار تھی کہ اسے جان پہچان کا نام دیا جائے۔
گورنمنٹ کالج ساہیوال کے سائیکل اسٹینڈ پر کسی سخت گیر تھانیدار کی مانند ہمہ وقت چاق چوبند کھڑے رہنے والے بابا انور کو میں نے تیری چودہ سال قبل پہلی بار پارکنگ میں تب دیکھا تھا جب میں نے وہاں اپنی گاڑی پارک کی تھی، وہ خدا جانے کہاں سے اچانک آ دھمکے تھے اور آتے ہی ٹھیٹھ پنجابی زبان میں مجھے ہدایات دینے لگے کہ گاڑی کہاں اور کیسے پارک کرنی ہے۔
میں نے حیرانی سے گردن موڑ کر اس دھان پان سے آدمی کو دیکھا جس کے جھریوں زدہ کرخت چہرے پر نام کو نرمی نہ تھی۔ "مجھے پتا ہے بابا جی۔" میں نے ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ مگر بابا جی کو شاید آگے سے جواب سننے کی عادت نہ تھی۔ جواب میں وہ تڑک کر بولے "پتا ہے تبھی تم عورتیں کہیں بھی گاڑی مار دیتی ہو۔" اس انکشاف نما نسائی تعصب پر میں نے حیرت، صدمے اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے باباجی کے سخت چہرے کو دیکھا اور کسی بھی قسم کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے، آگے بڑھ گئی۔
اس کے بعد میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میرا بابا جی سے سامنا نہ ہو۔ میں جب انھیں کالج کے دیگر گارڈز کے ہمراہ غل مچاتے طلباء کو ڈانٹتے، یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرتے کسی طالب علم سے الجھتا دیکھتی تو خاموشی سے دبے پاؤں اپنی گاڑی کی طرف بڑھ جاتی، مگر بابا جی! خدا جانے وہ اچانک کہاں سے کسی جن کی مانند نمودار ہو جاتے اور یوں ہدایات دینی شروع کر دیتے جیسے گاڑی کسی نو آموز کے ہاتھ میں ہو اور میں خود کو پرسکون رکھنے کی مصنوعی کوشش کرتی وہاں سے نکل آتی اور دیر تک زود رنج رہتے ہوئے بابا جی کے رویے پر کڑھتی رہتی۔
رفتہ رفتہ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے۔ مگر بابا جی کے رویے میں کہیں فرق نہ آیا۔ میں نے دیکھا ان دنوں وہ صرف مجھے لے کر ہی ایسے سخت گیر نہ تھے بلکہ کالج کے ہر پروفیسر پر یونہی افسری جھاڑتے اور کالج کے ہر معاملے، ہر کام کو کو ذاتی سمجھ کر کرتے۔
اس کی وجہ ان کا کالج سے قریباً چھ سات دہائیوں پر مشتمل قلبی تعلق تھا۔ ہم نے سنا تھا ان کے والد انگریز کے زمانے میں ریماونٹ ملازم تھے۔ آٹھویں جماعت میں ان کی وفات اور گھریلو حالات بدترین ہونے کے بعد، انھوں نے تعلیم کو خیر باد کہا اور وہاں کے افسر سے اپنے والد کی جگہ ملازمت کی درخواست کی۔ جس پر انھوں نے ملازمت تو نہ دی البتہ ایک سفارشی رقعہ ضرور لکھ دیا، جسے لے کر وہ گورنمنٹ کالج ساہیوال کے تب کے پرنسپل میاں اصغر علی کے پاس چلے آئے۔ جنھوں نے یا تو اس رقعے کی وجہ سے یا شاید ترس کھا کر انھیں کالج میں نجی سطح پر ملازمت دے دی اور وہ تب سے اب تک اس ملازمت کا ہی نہیں کالج کا بھی دل و جان سے دم بھر رہے تھے۔
کالج میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ منع ہونے پر وہ ہر شخص کو روک کر کھڑے ہو جاتے اور جب تک کسی تھانیدار کی مانند پوری تفتیش نہ کر لیتے اسے آگے نہ بڑھنے دیتے۔ ہم نے یہ بھی سن رکھا تھا کہ ایک بار ڈی پی آئی کالجز جب بغیر بتائے وزٹ پر تشریف لائے تو بابا جی نے انھیں بھی روک لیا۔ تب تک انھوں نے بھی اپنی شناخت ظاہر نہ کی تھی۔ بعد میں جب یہ بات اس وقت کے پرنسپل تک پہنچی تو وہ بابا جی سے ناراض ہوئے، مگر جب ڈی پی آئی صاحب نے بابا جی کی فرض شناسی اور احکامات کی اس تندہی سے بجاآوری پر تعریف کی اور کچھ رقم انھیں بطور انعام دی تو بابا جی کے ساتھ پرنسپل بھی خوش ہو گئے۔
باباجی کی فرض شناسی کے یہ سب قصے سننے کے باوجود بھی میرا دل ان کی جانب سے کبھی نرم نہیں ہوا تھا۔ ارے بھئی ایسی بھی کیا فرض شناسی جب آپ کسی سے نرمی سے بات نہ کر سکیں، ہر وقت کی تھانیداری ضروری ہے کیا؟ میں خود سے الجھتی رہتی۔
دن اور موسم دونوں بدلتے گئے۔ دسمبر کی تند ہوائیں چلنے لگیں۔ ایک دن میں نے ان کی ہدایت پر گاڑی پارک کی اور جب باہر نکلی تو سرد ہوا کی ایک یخ بستہ لہر نے مجھے اندر تک ٹھٹھرا دیا۔ میں تب چونکی جب میں نے بابا انور کے دبلے پتلے جسم پر ہمیشہ کی مانند جھولتی جھلنگا سی ملگجی قمیص دیکھی۔ "آپ کو ٹھنڈ نہیں لگتی کیا؟" میں بادل نخواستہ پوچھ بیٹھی تھی۔ یہ سوچے بغیر کہ جانے اب کیا جواب دیں گے۔
کوئی نہیں گزر جائے گی یہ سردی بھی". انھیں نے آدھا ادھورا سا جواب خلاء میں کچھ سوچتے ہوئے دیا اور واپس مڑ گئے۔ اگلے دن گاڑی پارک کرتے ہوئے میں خود ان کی منتظر تھی۔ جونہی وہ آئے میں نے جھٹ اپنے ہاتھ میں پکڑا شاپر کھولا اور گھر سے لائی ایک جیکٹ انھیں تھما دی۔ اسے ابھی پہن لیں ورنہ بیمار ہو جائیں گے۔"
انھوں نے ہچکچاتے ہوئے مجھے دیکھا اور پھر جیکٹ میرے ہاتھوں سے یوں اچک لی کہ جیسے اگر کسی نے دیکھ لیا تو ان کی عزت خاک ہو جائے گی۔ واپسی پر انھیں اس جیکٹ میں ملبوس دیکھ کر مجھے اچھا لگا تھا، مگر افسوس کہ یہ خوشی صرف اسی لمحے تک محدود تھی۔ اگلے دن وہ پھر اسی جھلنگا سی لمبی قمیص میں موجود تھے۔ ارے آپ نے وہ جیکٹ کیوں نہیں پہنی؟ میں نے ملتے ہی پہلا سوال پوچھا۔ وہ۔۔ وہ گھر والوں کو زیادہ ضرورت تھی۔ بابا جی نے پہلی بار مجھ سے نظریں چرائیں۔ جواب میرے پاس بھی نہیں تھا۔ سو مجھے جاتے ہی بنی۔
دو چار دن گزرے تو دسمبر کی بارشیں شروع ہو گئیں۔ سٹاف میں کئی لوگوں کے ہاتھ میں چھاتے تھے۔ لیکن بابا جی وہ پیچھے ہاتھ باندھے سکون سے بارش کی کن من میں کھڑے ہر آنے جانے والے پر اپنا حکم چلا رہے تھے۔ جسم پر وہی پتلی سی قمیص اوپر ہلکا سا سویٹر۔ تیز ہوتی بارش میں ان کے تر ہوتے کپڑے دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا۔ "بابا جی آپ کو ذرا بھی احساس ہے، اس بارش میں بھیگ کر آپ بیمار ہو جائیں گے۔ یہ لیں اور اسے روز ساتھ لے کر آئیں، کچھ دن یونہی بارش رہے گی۔" میں نے اپنی چھتری انھیں زبردستی تھماتے ہوئے کہا۔ انھوں نے سپاٹ نظروں سے مجھے دیکھا اور چھتری پکڑ لی۔
مجھے اچھا لگا جب واپسی پر وہ چھتری ان کے ہاتھ میں ہی نظر آئی۔ مگر اگلے دن کی کن من میں وہ پھر یونہی کھڑے اپنے کپڑے بھگو رہے تھے۔ ہاں آج انھوں نے مجھ سے نہ نظر ملائی تھی نہ کوئی ہدایت دی تھیں۔ میں جانتی تھی آج بھی گھر والوں کو زیادہ ضرورت ہوگی۔
دن گزرتے رہے سردی، گرمی، بہار، خزاں، آندھی، بارش اتنے سالوں میں سب گزرے مگر بابا جی بدستور اپنی جگہ، اسی مخصوص حلیے میں روز موجود رہے۔ وہی رعب داب مگر مجھ پر اب ہدایات کا سلسلہ کم ہو چلا تھا۔ وہ وہاں اب بھی موجود ہوتے تھے مگر مجھ پر پہلے جیسی سختی نہ رہی تھی۔ کبھی کبھار گھر کا کوئی دکھ بھی زبان پر لے آتے، مگر پھر فوراً ہی یوں پی جاتے جیسے نہ کچھ کہا، نہ سنا۔
پھر ایک دن وہ بھی آیا جب سب پر تھانیداری کرنے والے بابا انور کو ایک پڑھے لکھے شخص نے کالج میں بلا اجازت اندر جانے سے روکنے پر ہوئی بحث بازی میں ایک زور دار مکا چہرے پر جڑ دیا۔ وہ تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھے۔ گال ایک جانب سے زخمی ہو کر سوج گیا۔ وہ تو بھلا ہو پرنسپل صاحب اور سیکورٹی کے اراکین کا جنھوں نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن لیا اور متعلقہ شخص کو پولیس کے حوالے کر دیا جس پر موصوف کو باباجی سے معافی تلافی کرتے بنی مگر اس تکلیف، تذلیل اور زخم کا ازالہ کیا تھا جو اس بوڑھے شخص نے اپنے جسم اور روح پر جھیلا تھا؟
دن پھر تسبیح کے دانوں کی مانند پھرنے لگے۔ درس و تدریس کے ایک سلسلے میں ایک دن میں نے اپنے طلباء کو بابا انور کے پاس ان کا انٹرویو لینے بھیجا۔ بابا انور پہلے تو حیران ہوئے، پھر اس شرط پر انٹرویو دینے پر رضامند ہوئے کہ ان کی ڈیوٹی کا ذرا ہرج نہ ہوگا۔ پھر چلتے پھرتے ان بچوں کے سب سوالوں کا جواب یوں دیا کہ ڈیوٹی کا رتی بھر ہرج نہ ہوا۔ یہ انٹرویو بعد میں کالج میگزین میں بھی شائع کیا گیا۔
دبئی سے واپسی پر جہاں کچھ اچھی بری خبریں ملیں، وہیں سائیکل اسٹینڈ پر چھائی خاموش سی کمی نے مجھے بار بار بابا انور کی غیر موجودگی کا احساس دلایا۔ کسی نے کہا وہ بیمار ہیں، کسی نے کہا چھوڑ گئے ہیں، ایک آواز آئی: "تو کیا اب اسی سال کی عمر میں بھی ریٹائر نہ ہوتے؟" تبھی دوسری آواز آئی: "ہاں نہ ہوتے اگر اب بھی ایکسیڈنٹ نہ ہوا ہوتا۔" مجھے یکا یک ان کی فکر ہونے لگی۔ اسی دن شام میں ان کا اتا پتا پوچھتے ہم ان کے گھر روانہ ہو گئے۔
غربت کی کہانی سناتے ایک خستہ حال سے مکان کے بوسیدہ سے دروازے کے پٹ تھام کر کھڑے نحیف و نزار سے باباجی اس شخص سے قطعی مختلف تھے جو سائیکل اسٹینڈ پر بڑے سخت گیر چہرے کے ساتھ موجود رہتا تھا۔ دسمبر کی ٹھنڈ میں اب بھی وہی جھلنگا سی قمیص تھی، جو کافی میلی ہو چکی تھی، سویٹر بھی ٹھیک سے نہ پہنا ہوا تھا۔ وہ آنکھیں جن سے فقط خفگی اور سختی ٹپکتی تھی اب آنسوؤں سے پر تھیں۔ ایک ہاتھ کی پشت اور دوسرے کی آستین سے اپنی آنکھوں کو رگڑتے بابا جی انور بے بسی و بے چارگی کی مجسم تصویر بنے کھڑے تھے۔
شاید مجھے دیکھ کر آپ خوش ہو جائیں اسی لیے خود آپ سے ملنے آئی ہوں۔" میں نے زبردستی مسکراتے ہوئے قدرے تاریک سے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ انھیں خوش دیکھنے کی میری تمنا آج بھی تشنہ ہی رہی تھی۔ اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھتے ہوئے انھوں نے اپنی ٹانگ پکڑ کر پنجابی میں بمشکل اٹک اٹک کر کہا: "اس روز میں سڑک پر جانے کیسے گرا اور ایکسیڈنٹ نے میری یہ ٹانگ بے کار کر دی۔
تبھی پاس کھڑی بہو نے ان کی بات کاٹتے ہوئے پنجابی میں کہا: "بابا جی پہلے بھی ایسے اچانک گر جاتے ہیں، آپ پریشان نہ ہوں ان کا کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا۔" مگر بابا جی مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنی بات پر بدستور قائم تھے۔ وہ پھر بولی: "ہم تو پہلے بھی بہت کہتے ہیں کچھ نہ کرو گھر بیٹھو۔ پر یہ باز نہیں آتے تھے۔ اب بھی تو بیٹھنا پڑے گا۔" بابا جی کے چہرے پر بے بسی عود آئی۔
محلے میں کئی بوڑھے لوگ ہیں، ہم کہتے ہیں اب ان کے ساتھ دل بہلاؤ۔" وہ مسلسل بول رہی تھی۔ اور میں بابا جی کا مرجھایا چہرہ دیکھ رہی تھی، جس پہ ہمہ وقت گھر والوں کی پریشانیاں رقم ہوا کرتی تھیں اور جہاں اب فقط مایوسی کی دبیز ہوتی سیاہ دھند تھی۔ مجھے بخوبی علم تھا کہ وقت کے ساتھ بھاری ہوتے بڑھاپے کو سنبھالنا سہل نہیں ہوتا۔ نجی ملازمت کا در بند ہو جائے تو زندگی مزید بوجھل ہو جاتی ہے، اور پھر بابا جی کا دل بہلنے کی واحد جگہ وہ سائیکل اسٹینڈ ہی تھا، جو ان کی زندگی کی سات دہائیوں کا مرکز رہا تھا اور جہاں اب وہ کبھی واپس نہ جا پائیں گے۔
کبھی کسی سے نہ دبنے والے اور ہمیشہ اپنی بات سنانے والے بابا انور اب سر جھکائے گھر والوں کی باتیں خاموشی سے سن رہے تھے۔ ایسی بے بسی و مایوسی میں نے پہلے کبھی ان کے چہرے پر نہ دیکھی تھی۔ دفعتاً مجھے محسوس ہوا جیسے ان کے ہونٹ کناروں سے بھنچ گئے ہوں، جھریوں زدہ چہرے پر اندر کو دھنسی ویران آنکھیں، جو لمحہ قبل کسی خلائی نقطے پر مرکوز تھیں، آن کی آن میں جانے کہاں سے موٹے موٹے موٹے آنسوؤں کی بہتی ندی بن گئیں اور کبھی نہ مسکرانے والے سخت گیر بابا انور اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ مجھے لگا جیسے میرے اندر کہیں کچھ ٹوٹ سا
(Copied)گیا ہے۔
(Jb bap bhura ho jye olad bus yhi chati k ghr pr rehn ,AP ko kia zarorat bahir Jane ki , but yh ni sochti k Jo hath Dena wala rha ho wo roz roz ki zarorat k lye hath phela ni sakta olad k agy)