14/07/2026
🌙 چاند کی آخری کرن
باب چوتھا: تصویر کا راز
ماہم کافی دیر تک سفید قبر کے سامنے کھڑی رہی۔
"ماہ نور..."
یہ نام اس کے دل میں عجیب سا درد جگا رہا تھا۔
حالانکہ وہ اس نام سے کبھی واقف نہیں تھی۔
اچانک...
پیچھے سے آذر کی آواز آئی۔
"میں نے تمہیں منع کیا تھا یہاں آنے سے۔"
ماہم فوراً مڑی۔
"تم ہر جگہ میرے پیچھے کیوں آ جاتے ہو؟"
آذر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،
"میں تمہارے پیچھے نہیں..."
"تمہاری حفاظت کر رہا ہوں۔"
"کس سے؟"
آذر خاموش ہو گیا۔
"ابھی تمہیں یہ جاننے کی ضرورت نہیں۔"
---
ماہم غصے میں بولی،
"تم ہر سوال کا یہی جواب دیتے ہو!"
"آخر تم ہو کون؟"
آذر نے ایک لمحہ اس کی طرف دیکھا۔
پھر دھیرے سے بولا،
"اگر میں نے سب کچھ بتا دیا..."
"تو شاید تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے نفرت کرنے لگو۔"
یہ کہہ کر وہ قبرستان سے باہر نکل گیا۔
---
اس رات...
ماہم کو نیند نہیں آ رہی تھی۔
اس نے جیب سے وہ پرانی چابی نکالی۔
اس پرچی پر پھر نظر ڈالی۔
"اگر سچ جاننا ہے... تو مغربی کمرہ کھولو۔"
اس نے فیصلہ کر لیا۔
آج ہی وہ دوبارہ حویلی جائے گی۔
---
آدھی رات...
پورا گاؤں گہری نیند میں تھا۔
ماہم خاموشی سے حویلی میں داخل ہوئی۔
اس کے قدم سیدھے مغربی حصے کی طرف بڑھ رہے تھے۔
کافی تلاش کے بعد...
ایک پرانا لکڑی کا دروازہ نظر آیا۔
تالہ بالکل اسی چابی جیسا تھا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے چابی تالے میں ڈالی۔
کلک...
دروازہ کھل گیا۔
کمرے میں ہر طرف گرد جمی ہوئی تھی۔
دیواروں پر سفید کپڑے پڑے تھے۔
اور درمیان میں...
ایک بڑی سی تصویر رکھی تھی۔
ماہم نے کپڑا ہٹایا۔
اس کی سانس رک گئی۔
تصویر میں ایک خوبصورت لڑکی سرخ لباس میں کھڑی تھی۔
اس کا چہرہ...
بالکل ماہم جیسا تھا۔
صرف فرق اتنا تھا کہ اس کی پیشانی پر چاند کی شکل کا ایک ننھا سا نشان تھا۔
تصویر کے نیچے سنہری حروف میں لکھا تھا:
"ماہ نور — 1926"
ماہم کے ہاتھ کانپنے لگے۔
"یہ... کیسے ممکن ہے؟"
اسی لمحے...
کمرے کے باہر کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔
ٹھک...
ٹھک...
ٹھک...
ماہم نے گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھا۔
دروازہ آہستہ آہستہ خود بخود بند ہونے لگا۔
اور اندھیرے میں ایک آواز گونجی...
"اس بار تم بچ کر نہیں جا سکو گی..."
🌙 اختتامِ باب چوتھا
دروازہ کس نے بند کیا؟
ماہ نور اور ماہم ایک جیسی کیوں دکھتی ہیں؟
اور وہ دھمکی دینے والی آواز کس کی تھی؟
جاری ہے... ❤️