Novel Station

Novel Station 📚Original Urdu Novels

❤️ Romance
😱 Horror
🔍 Mystery
✨ Fantasy
😢 Emotional
📖 New Episodes Regularly

🌙 چاند کی آخری کرنباب چوتھا: تصویر کا رازماہم کافی دیر تک سفید قبر کے سامنے کھڑی رہی۔"ماہ نور..."یہ نام اس کے دل میں عجی...
14/07/2026

🌙 چاند کی آخری کرن

باب چوتھا: تصویر کا راز

ماہم کافی دیر تک سفید قبر کے سامنے کھڑی رہی۔

"ماہ نور..."

یہ نام اس کے دل میں عجیب سا درد جگا رہا تھا۔

حالانکہ وہ اس نام سے کبھی واقف نہیں تھی۔

اچانک...

پیچھے سے آذر کی آواز آئی۔

"میں نے تمہیں منع کیا تھا یہاں آنے سے۔"

ماہم فوراً مڑی۔

"تم ہر جگہ میرے پیچھے کیوں آ جاتے ہو؟"

آذر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا،

"میں تمہارے پیچھے نہیں..."

"تمہاری حفاظت کر رہا ہوں۔"

"کس سے؟"

آذر خاموش ہو گیا۔

"ابھی تمہیں یہ جاننے کی ضرورت نہیں۔"

---

ماہم غصے میں بولی،

"تم ہر سوال کا یہی جواب دیتے ہو!"

"آخر تم ہو کون؟"

آذر نے ایک لمحہ اس کی طرف دیکھا۔

پھر دھیرے سے بولا،

"اگر میں نے سب کچھ بتا دیا..."

"تو شاید تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے نفرت کرنے لگو۔"

یہ کہہ کر وہ قبرستان سے باہر نکل گیا۔

---

اس رات...

ماہم کو نیند نہیں آ رہی تھی۔

اس نے جیب سے وہ پرانی چابی نکالی۔

اس پرچی پر پھر نظر ڈالی۔

"اگر سچ جاننا ہے... تو مغربی کمرہ کھولو۔"

اس نے فیصلہ کر لیا۔

آج ہی وہ دوبارہ حویلی جائے گی۔

---

آدھی رات...

پورا گاؤں گہری نیند میں تھا۔

ماہم خاموشی سے حویلی میں داخل ہوئی۔

اس کے قدم سیدھے مغربی حصے کی طرف بڑھ رہے تھے۔

کافی تلاش کے بعد...

ایک پرانا لکڑی کا دروازہ نظر آیا۔

تالہ بالکل اسی چابی جیسا تھا۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے چابی تالے میں ڈالی۔

کلک...

دروازہ کھل گیا۔

کمرے میں ہر طرف گرد جمی ہوئی تھی۔

دیواروں پر سفید کپڑے پڑے تھے۔

اور درمیان میں...

ایک بڑی سی تصویر رکھی تھی۔

ماہم نے کپڑا ہٹایا۔

اس کی سانس رک گئی۔

تصویر میں ایک خوبصورت لڑکی سرخ لباس میں کھڑی تھی۔

اس کا چہرہ...

بالکل ماہم جیسا تھا۔

صرف فرق اتنا تھا کہ اس کی پیشانی پر چاند کی شکل کا ایک ننھا سا نشان تھا۔

تصویر کے نیچے سنہری حروف میں لکھا تھا:

"ماہ نور — 1926"

ماہم کے ہاتھ کانپنے لگے۔

"یہ... کیسے ممکن ہے؟"

اسی لمحے...

کمرے کے باہر کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔

ٹھک...

ٹھک...

ٹھک...

ماہم نے گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھا۔

دروازہ آہستہ آہستہ خود بخود بند ہونے لگا۔

اور اندھیرے میں ایک آواز گونجی...

"اس بار تم بچ کر نہیں جا سکو گی..."

🌙 اختتامِ باب چوتھا

دروازہ کس نے بند کیا؟

ماہ نور اور ماہم ایک جیسی کیوں دکھتی ہیں؟

اور وہ دھمکی دینے والی آواز کس کی تھی؟

جاری ہے... ❤️

🌙 چاند کی آخری کرنباب سوم: بند دروازہماہم کی نظریں دوسری منزل پر جمی تھیں۔وہ دو سرخ آنکھیں...ایک لمحے میں غائب ہو چکی تھ...
11/07/2026

🌙 چاند کی آخری کرن

باب سوم: بند دروازہ

ماہم کی نظریں دوسری منزل پر جمی تھیں۔

وہ دو سرخ آنکھیں...

ایک لمحے میں غائب ہو چکی تھیں۔

"وہ... وہ کیا تھا؟"

اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

آذر نے اس کا ہاتھ پکڑا۔

"یہاں سے چلو۔"

"پہلے مجھے سچ بتاؤ!"

ماہم نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔

"تم ہو کون؟"

آذر چند لمحے خاموش رہا۔

پھر دھیرے سے بولا،

"میں وہ شخص ہوں جو تمہیں اس حویلی سے دور رکھنا چاہتا ہے۔"

"کیوں؟"

"کیونکہ یہ جگہ تمہارے لیے محفوظ نہیں۔"

---

اسی لمحے اوپر سے دوبارہ قدموں کی آواز آئی۔

ٹھک...

ٹھک...

ٹھک...

اس بار آواز پہلے سے زیادہ قریب تھی۔

آذر کا چہرہ سخت ہو گیا۔

"ابھی!"

"فوراً میرے ساتھ چلو!"

اس نے ماہم کا ہاتھ پکڑا اور دونوں حویلی سے باہر نکل آئے۔

جیسے ہی وہ دروازے سے باہر آئے...

حویلی کا بڑا دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔

دھڑام!

ماہم خوف سے پیچھے ہٹ گئی۔

"یہ... یہ کیسے ہوا؟"

آذر نے کوئی جواب نہیں دیا۔

وہ صرف حویلی کو خاموش نظروں سے دیکھتا رہا۔

جیسے اسے پہلے سے معلوم ہو کہ یہ ہونے والا ہے۔

---

"کیا ہم پہلے کبھی ملے ہیں؟"

ماہم نے اچانک پوچھا۔

آذر کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے نمی آ گئی۔

"شاید..."

"تمہیں یاد نہیں۔"

"مگر مجھے سب یاد ہے۔"

یہ کہہ کر وہ مڑ گیا۔

"رکو!"

ماہم نے آواز دی۔

مگر اگلے ہی لمحے...

وہ اندھیرے میں کہیں گم ہو چکا تھا۔

---

اگلی صبح...

ماہم دوبارہ حویلی کے سامنے کھڑی تھی۔

رات والی ہر بات اس کے ذہن میں گھوم رہی تھی۔

اسی دوران اس کی نظر زمین پر پڑی۔

گرد میں ایک پرانی، سیاہ رنگ کی چابی دبی ہوئی تھی۔

اس نے جھک کر چابی اٹھا لی۔

چابی کے ساتھ ایک چھوٹی سی پرچی بندھی تھی۔

اس پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔

"اگر سچ جاننا ہے... تو مغربی کمرہ کھولو۔"

ماہم کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔

"یہ چابی یہاں کس نے رکھی؟"

اسی وقت اسے احساس ہوا...

کوئی دور کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔

وہ فوراً پلٹی۔

درخت کے پیچھے ایک سیاہ لباس میں ملبوس شخص کھڑا تھا۔

اس کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

صرف ایک ہلکی سی مسکراہٹ...

اور پھر وہ جنگل کی طرف چل دیا۔

ماہم نے ایک لمحہ سوچا...

اور اس کے پیچھے دوڑ پڑی۔

چند منٹ بعد...

وہ شخص تو غائب ہو چکا تھا۔

لیکن ماہم ایک ایسی جگہ پہنچ چکی تھی...

جس کے بارے میں گاؤں کے لوگ کہتے تھے کہ وہاں برسوں سے کوئی نہیں گیا۔

اس کے سامنے ایک چھوٹا سا قبرستان تھا۔

اور درمیان میں ایک سفید قبر...

جس پر صرف ایک نام لکھا تھا۔

"ماہ نور"

ماہم کے ہاتھ سے چابی زمین پر گر گئی۔

"یہ... نام تو میں نے پہلے کبھی نہیں سنا..."

لیکن نجانے کیوں...

اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔

🌙 اختتامِ باب سوم

ماہ نور کون تھی؟

ماہم اس کا نام دیکھ کر کیوں رو پڑی؟

اور مغربی کمرے میں آخر ایسا کیا چھپا ہے؟

جاری ہے... ❤️

🌙 چاند کی آخری کرنباب دوم: راز کی دہلیزماہم کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔وہ آہستہ آہستہ مڑی۔مگر اس کے پیچھے...کوئی نہیں تھا۔...
10/07/2026

🌙 چاند کی آخری کرن

باب دوم: راز کی دہلیز

ماہم کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔

وہ آہستہ آہستہ مڑی۔

مگر اس کے پیچھے...

کوئی نہیں تھا۔

چھت پر صرف ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

دور کہیں الو کی آواز گونجی اور درختوں کے پتے سرسرانے لگے۔

"میں نے... واقعی آواز سنی تھی۔"

اس نے خود سے کہا۔

کانپتے ہوئے دوبارہ حویلی کی طرف دیکھا۔

مگر اب وہاں بھی کوئی موجود نہیں تھا۔

چھت خالی تھی۔

جیسے چند لمحے پہلے وہاں کبھی کوئی کھڑا ہی نہ ہو۔

---

اگلی صبح...

ماہم کی آنکھ دیر سے کھلی۔

رات بھر وہ بےچینی سے کروٹیں بدلتی رہی تھی۔

ناشتے کی میز پر دادی خاموش بیٹھی تھیں۔

"دادی..."

ماہم نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

"وہ سامنے والی حویلی میں کوئی رہتا ہے؟"

دادی کے ہاتھ میں موجود چائے کا کپ ہلکا سا کانپ گیا۔

"میں نے کہا تھا نا..."

"اس حویلی کے بارے میں دوبارہ سوال مت کرنا۔"

"لیکن میں نے کل رات وہاں کسی کو دیکھا تھا۔"

دادی نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔

"اگر واقعی دیکھا تھا..."

"تو دوبارہ کبھی اس طرف مت دیکھنا۔"

یہ کہہ کر وہ اٹھیں اور اندر چلی گئیں۔

ماہم ان کی باتوں سے پہلے سے بھی زیادہ الجھ گئی۔

---

دوپہر کو حور اس سے ملنے آئی۔

وہ بچپن کی طرح ہی شوخ اور باتونی تھی۔

"شہر والی لڑکی!"

حور نے ہنستے ہوئے ماہم کو گلے لگا لیا۔

کافی دیر دونوں پرانی باتیں کرتی رہیں۔

پھر ماہم نے آہستہ سے پوچھا،

"حور... سامنے والی حویلی میں کون رہتا ہے؟"

حور کی مسکراہٹ ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔

"تم نے بھی اس کے بارے میں سن لیا؟"

"سن نہیں لیا..."

"دیکھ لیا ہے۔"

حور چند لمحے خاموش رہی۔

پھر دھیمی آواز میں بولی،

"لوگ کہتے ہیں... وہ حویلی ویران نہیں ہے۔"

ماہم کا دل زور سے دھڑکا۔

"پھر؟"

"ہر آخری چاند کی رات وہاں ایک اجنبی نظر آتا ہے۔"

"کسی سے بات نہیں کرتا..."

"بس کسی کا انتظار کرتا رہتا ہے۔"

---

شام ڈھلنے لگی۔

ماہم کے ذہن میں بار بار وہی بات گونج رہی تھی۔

"کسی کا انتظار کرتا رہتا ہے..."

نجانے کیوں اسے محسوس ہو رہا تھا...

وہ انتظار اسی کا تھا۔

رات ہونے سے پہلے وہ اکیلے ہی حویلی کی طرف چل پڑی۔

پرانا لوہے کا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا۔

ہوا کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ چرچرا رہا تھا۔

ماہم نے ہمت کر کے دروازہ دھکیلا۔

چررر...

حویلی کے اندر عجیب خاموشی تھی۔

ہر طرف گرد جمی ہوئی تھی۔

ایسا لگتا تھا جیسے برسوں سے یہاں کوئی نہ آیا ہو۔

اچانک...

اسے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔

ٹھک...

ٹھک...

ٹھک...

ماہم نے گھبرا کر پیچھے دیکھا۔

کوئی نہیں تھا۔

جیسے ہی وہ واپس مڑی...

اس کے سامنے ایک لمبا سایہ کھڑا تھا۔

وہی گہری آنکھیں۔

وہی پرسکون چہرہ۔

وہی شخص...

جو برسوں سے اس کے خوابوں میں آتا رہا تھا۔

ماہم کے ہونٹ خشک ہو گئے۔

"تم..."

اجنبی نے پہلی بار صاف آواز میں کہا،

"تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا، ماہم۔"

"تم... میرا نام کیسے جانتے ہو؟"

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر دھیمی آواز میں بولا،

"کیونکہ میں نے تمہارا انتظار..."

"...بہت لمبے عرصے سے کیا ہے۔"

ماہم ایک قدم اس کی طرف بڑھی۔

"تم ہو کون؟"

اجنبی نے جواب دینے کے بجائے اپنی نظریں اس کے پیچھے جما دیں۔

اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

"ماہم..."

"فوراً یہاں سے چلی جاؤ!"

"کیوں؟"

"کیونکہ..."

اس نے گھبرا کر سرگوشی کی۔

"وہ جاگ چکا ہے۔"

اسی لمحے حویلی کی اوپری منزل سے کسی بھاری چیز کے گرنے کی آواز آئی۔

دھڑام!

پورا ہال لرز اٹھا۔

ماہم نے خوف سے اوپر دیکھا...

اور اسے ایسا محسوس ہوا جیسے دوسری منزل کی تاریکی میں...

دو سرخ آنکھیں اسے گھور رہی ہوں۔

🌙 اختتامِ باب دوم

"وہ" کون جاگ گیا؟

آذر آخر کس چیز سے ڈر رہا ہے؟

اور حویلی کی دوسری منزل پر کون موجود ہے؟

جاری ہے... ❤️

🌙 چاند کی آخری کرنباب اول: وہ جو خواب نہیں تھا"کچھ لوگ زندگی میں دیر سے آتے ہیں...اور کچھ لوگ صدیوں سے انتظار کر رہے ہوت...
09/07/2026

🌙 چاند کی آخری کرن

باب اول: وہ جو خواب نہیں تھا

"کچھ لوگ زندگی میں دیر سے آتے ہیں...

اور کچھ لوگ صدیوں سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔"

ماہم کو بچپن سے چاند سے محبت تھی۔

مگر چاند اسے ہمیشہ ڈراتا بھی تھا۔

ہر مہینے کی آخری رات اسے ایک ہی خواب آتا۔

ایک ویران راستہ۔

چاندنی میں ڈوبی ہوئی خاموش فضا۔

اور اس راستے کے آخری سرے پر کھڑا ایک اجنبی لڑکا۔

وہ کبھی اس کا چہرہ پوری طرح نہیں دیکھ پاتی تھی۔

لیکن اس کی آنکھیں...

ان آنکھوں میں اتنا درد ہوتا تھا کہ ماہم کئی بار نیند سے اٹھ کر رو پڑی تھی۔

آج بھی اس نے وہی خواب دیکھا۔

مگر اس بار کچھ مختلف تھا۔

پہلی بار اس اجنبی نے اس کا نام لیا۔

"ماہم..."

اس کی آواز اتنی مدھم تھی جیسے ہوا نے اسے جنم دیا ہو۔

ماہم نے خواب میں اس کی طرف قدم بڑھایا۔

"تم کون ہو؟"

لڑکے نے مسکرانے کے بجائے اپنی نظریں جھکا لیں۔

"میں وہ ہوں... جسے تم بھول چکی ہو۔"

ماہم کا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔

"کیا مطلب؟"

اس نے آہستگی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔

"اس بار مت جانا..."

اور اسی لمحے ماہم کی آنکھ کھل گئی۔

صبح کے پانچ بج رہے تھے۔

اس کا دل اب بھی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

"یہ خواب میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتا؟" اس نے خود سے کہا۔

پچھلے دس سالوں سے وہ یہی خواب دیکھ رہی تھی۔

کبھی کم۔

کبھی زیادہ۔

مگر ہر بار اسی اجنبی کے ساتھ۔

اس نے کبھی کسی کو اس خواب کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔

نہ اپنی ماں کو۔

نہ اپنی سب سے اچھی دوست حور کو۔

کیونکہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ یہ سب کیا ہے۔

دو دن بعد گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ اپنی دادی کے گاؤں آ گئی۔

گاؤں شہر سے بالکل مختلف تھا۔

پرسکون۔

خاموش۔

اور عجیب حد تک اداس۔

جب گاڑی پرانی گلیوں سے گزر رہی تھی تو ماہم کی نظر ایک ویران حویلی پر پڑی۔

نجانے کیوں...

اس کا دل بےچین ہو گیا۔

"دادی، یہ حویلی کس کی ہے؟"

دادی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

"کچھ سوال نہ پوچھا کرو، ماہم۔"

"مگر کیوں؟"

"کیونکہ ہر راز جان لینا ضروری نہیں ہوتا۔"

ماہم نے پہلی بار دادی کی آنکھوں میں خوف دیکھا۔

اس رات چاند پورے آسمان پر راج کر رہا تھا۔

ہوا میں عجیب سی ٹھنڈک تھی۔

ماہم کو نیند نہیں آ رہی تھی، اس لیے وہ چھت پر چلی گئی۔

جیسے ہی اس نے سامنے دیکھا، اس کی نظریں اسی ویران حویلی پر جا ٹھہریں۔

اور پھر...

اس کی سانسیں رک گئیں۔

حویلی کی چھت پر کوئی کھڑا تھا۔

ایک لمبا سا وجود۔

وہی قد۔

وہی انداز۔

وہی چہرہ...

جو وہ برسوں سے اپنے خوابوں میں دیکھتی آ رہی تھی۔

ماہم کا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔

"نہیں..."

اس کے لبوں سے سرگوشی نکلی۔

"یہ ممکن نہیں۔"

وہ سایہ آہستہ آہستہ اس کی طرف مڑا۔

اس فاصلے سے بھی ماہم کو محسوس ہوا کہ اس کی نظریں سیدھی اسی پر جمی ہوئی ہیں۔

پھر اس اجنبی نے ہلکا سا سر جھکایا...

جیسے وہ اسے پہچانتا ہو۔

جیسے وہ برسوں سے اس کا انتظار کر رہا ہو۔

اور پھر...

ہوا کے ساتھ ایک آواز ماہم کے کانوں تک پہنچی۔

ایک ایسی آواز جو اس نے صرف خوابوں میں سنی تھی۔

"آخر تم آ ہی گئیں..."

ماہم کا چہرہ زرد پڑ گیا۔

کیونکہ یہ آواز سامنے کھڑے اجنبی کی نہیں تھی۔

یہ آواز...

اس کے بالکل پیچھے سے آئی تھی۔

اختتامِ باب اول

ماہم کے پیچھے کون کھڑا تھا؟

اور وہ اجنبی اس کا انتظار صدیوں سے کیوں کر رہا تھا؟

جاننے کے لیے پڑھیے اگلا باب: "راز کی دہلیز" 🌙✨

Address

Lahore
65400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novel Station posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share