Aims

Aims A very Happy Eid Mubarak to all my group members may Allah bless you in this eid with Him

29/10/2025
11/10/2025

زندگی کیوں نہ تجھے وجد میں لاؤں واپس

چاک پر کوزہ رکھوں، خاک بناؤں واپس

دل میں اک غیر مناسب سی تمنا جاگی

تجھ کو ناراض کروں ، روز مناؤں واپس

وہ مرا نام نہ لے صرف پکارے تو سہی

کچھ بہانہ تو ملے دوڑ کے آؤں واپس

وقت کا ہاتھ پکڑنے کی شرارت کر کے

اپنے ماضی کی طرف بھاگتا جاؤں واپس

دیکھ میں گردشِ ایام اٹھا لایا ہوں

اب بتا، کون سے لمحے کو بلاؤں واپس؟

یہ زمیں گھومتی رہتی ہے فقط ایک ہی سمت

تُو جو کہہ دے تو اسے آج گھماؤں واپس

تھا ترا حکم سو جنت سے زمیں پر آیا

ہو چکا تیرا تماشا، تو میں جاؤں واپس

10/10/2025

میرا لفظ لفظ تراش کر
مجھے حرف حرف تلاش کر✨
میں"الف" ہوا تو الم ہوا
ہوا "ب" تو باعث غم ہوا
جہاں پ" نے پاؤں جکڑ لئیے
وہیں ت" نے تلوے پکڑ لئیے
کہیں "ٹ" جو مجھ کو ٹکر گیا
وہیں "ث" نے مجھ کو ثمر دیا
کبھی "ج" مجھ کو جلا گیا
کبھی "چ" نے چکر چلا دیا
مگر " ح" نے حال بدل دیا
اور "خ " نے خال بدل دیا
تبھی "د" سے دل لگا لیا
اور " ڈ " سے ڈنکا بجا دیا
پھر " ذ" سے ذات کو پا لیا
اک " ر " سے رستہ بنا لیا
اک۔ " ڑ " سے بات بگڑ گئی 🥀
تب۔ " ز" سے زینت سنور گئی
اور " ژ" سے ژاژ کا دم گیا
ارے " س " سے میں سنبھل گیا
کسی "ش " نے مجھے دی شعاع
تو "ص" نے مجھے دی صبا
اور "ض " نے دیا ضابطہ
سرِشام "ط" کے طنز سے
سرِ بزم " ظ " کے ظرف نے
میرے "ع" کو دیا عزمِ نو
میرے " غ" کو کیا غرض گو
یہیں "ف" سے مل گیا فاصلہ
یہیں "ق" سے ملا قافلہ
یہیں "ک" نے کہا کچھ نہیں 💔
یہیں " گ " نے گِنا کچھ نہیں
ملا " ل " تو اس نے لڑا دیا
میرے" م" نے مجھے آ کہا
تیرا "ن " تجھ سے نراش ہے
تیرا "و " وقت کی آس ہے
کہا " ہ " نے ہاتھ کو تھام بس
کہا "ء" نے میں ہوں ءام مس
میری" ی" نے آ کے یقیں دیا
بڑی "ے" ، یہاں کی ہے سربراہ
ابھی وقت ہے تو تلاش کر
مجھے لفظ لفظ تراش کر🖤✨

28/09/2025
23/08/2025

"شعور کا پہلا درجہ"
خاموش رہنے کی عادت اپنانا۔۔۔
شعور کا دوسـرا درجہ۔۔
بدتمیزی پر جواب نا دینا۔۔۔
اور شعور کا تیسرا درجہ۔۔۔
بداخلاقی کا جواب اخلاق سے دینا ہوتا ہے...
جو لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں.۔۔
سمجھیئے کہ ان کی مثال تنگ جوتے کی مانند ہے جو آپ کے سائز کے نہیں ہیں
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں کہ زندگی بہت خوبصورت ہے

17/08/2025

اے ترک تعلق پہ تُلے شخص خبردار
تیری تو کسی اور سے بنتی بھی نہیں ہے
مت بانٹ محبت کہ ترے پاس تو جتنی
مجھ ایک کو درکار ہے اُتنی بھی نہیں ہے

13/08/2025

زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے،

2000 کے بعد پیدا ہونے والی جنریشن بدقسمتی سے اس لذت، سکون اور محبت سے محروم رہی جو نوے کی دہائی کی جنریشن کو ملی، ہم نے زندگی کے اصل رنگ اپنی آخری ہچکیاں لیتے ہوۓ دیکھے اور انہیں الوداع کیا، ہم نے مٹی کے چولہوں پر کڑتی ہوی چاے کا بہترین ذائقہ لیا اور مٹی کے برتنوں میں بنتے سالنوں کی مہک سے خود کو لطف اندوز کیا،
ہم نے سکول ڈیسک یا بنچ پر بیٹھ کر ساتھ والے بنچ پر اپنا بستا رکھ کر کہا کے یہ جگہ میرے دوست کی ہے یہاں وہ بیٹھے گا، ہم نے نانی اور دادی سے وہ کہانیاں بھی سنی جن کے حصار میں جوانی تک مبتلا رہے، ہم نے دو دو روپے جمع کر کے گیندیں خریدی شام دیر تک کرکٹ کھیلا اور گھر لیٹ آنے پر مار کھائی، آج محسوس ہوتا ہے کے کرکٹ میچ کے دوران کوی ایک بڑا آکر ضرور کہتا تھا کے مجھے صرف دو گیندیں کھیلنی ہیں چلا جاؤں گا بہت چڑھ آتی تھی اس وقت مگر آج سمجھ آتی ہے کے وہ دو گیندیں کھیلنے والا کیوں ضد کیا کرتا تھا،
ہم نے مہمانوں کی آمد پر جشن کا ماحول دیکھا گھر میں اور ان کے الوداع ہونے پر ان کی طرف سے محبت کے طور پر ملے دس روپیوں کو قارون کے خزانے کے برابر سمجھا، پھر مہمانوں کی پلیٹ میں بچے ہوے بسکٹوں پر ہاتھ صاف کیا جس کا بعض اوقات ازالہ بھی کرنا پڑا😄
کلاس روم سے ٹیچر کے ساتھ کاپیاں اٹھا کر سٹاف روم تک لے جانا اپنے لیے اعزاز سمجھا، ٹیسٹ کے دوران ایک خالی پیج کے لیے کلاس میں بھیک مانگی😝 کبھی کبھار کسی کی کاپی ہاتھ لگی تو تین چار دن کی ٹیسٹوں کے لیے پیج نکال کر جیب میں ڈال دیے،
ہم نے پڑوس کے گھروں میں سالن دیتے اور لیتے دیکھا، ہم نے پڑوسیوں کے آے ہوے مہمانوں کو اپنے گھر لے آنے کو اپنا اعزاز سمجھا،
جمعے والے دن بیگ میں آدھی کتابوں کو رکھتے وقت کی خوشی محسوس کی اور ہم نے آخری پیریڈ کے دوران چھٹی کے لیے بجتی ہوی گھنٹی کے لیے وہ بیتابی کا مزہ لیا،
نوے فیصد لوگ ہو ہی نہیں سکتا کے کسی نے کلاس روم سے چاک چوری نہ کیا ہو یا گھر جاتے راستے میں آے کسی پھلدار پودے پر پتھر مار کر پھل نہ کھاے ہوں یہ الگ بات تھی کے اکثر اوقات پھلوں کے ساتھ مالکان کی طرف سے بہت کچھ سننے کو ملا مگر ہم نے پرواہ نہیں کی اور درگزر فرمایا اور دوسرے دن پھر روایت جاری رکھی😝

ہمارے سکول دور میں امیر وہی سمجھا جاتا تھا جس کے پاس جومیٹری بکس ہوتا تھا، پانی کے لیے ایک بوتل جو اکثر کاندھوں پر لٹکای جاتی تھی اور جو ٹفن میں گھر سے کھانا لے آتا تھا، ہاں یہ الگ بات تھی کے ہمارے ہوتے ہوے وہ کھانا اسے کبھی کبھار ہی نصیب ہوتا تھا😝

گلاب لمحوں کے مخمل پر کھیلتے بچپن،
پلٹ کے آ ، میں تجھ سے شرارتیں مانگوں،

ٹیچر کی غیر حاضری کے لیے مانگی ہوی دعا بہت کم ہی قبول ہوتی تھی، اکثر راہ سے واپس آجاتی تھی، فارغ پریڈ میں ہم اکثر اپنے اجداد کی بڑھای بیان کرتے ہوے خود سے بناے قصے سنایا کرتے تھے، آج بھی میرے ایک دوست شاہ صاحب کا سنایا ہوا قصہ ہمیں اسی طرح یاد ہے کچھ سمندر کے حوالے سے تھا😝 بہت سارے دوست سمجھ گئے ہوں گے،😀😀
کبھی ہاتھوں کے ناخنوں کی وجہ سے اسمبلی میں مار نہیں کھای جیسے ہی چیکینگ شروع ہوتی دانتوں سے فوراً صفایا کر دیتے تھے😝
ہماری امیدیں بہت ٹوٹی ہیں اکثر رات کو ہوتی بارش میں سکون سے سوتے تھے کے کل صبح بارش ہونے کی وجہ سے سکول نہیں جایں گے مگر صبح اٹھتے ہی نکلی ہوی ایسی دھوپ دیکھتے تھے اور ایسے دیکھتے جیسے کوی معجزہ ہو گیا ہو😭😭 اس ٹوٹتی امید کا دکھ کسی ماتم کے دکھ سے کم نہیں ہوتا تھا،
ہم راستے میں بیٹھتے تو بیگ جھولی میں رکھتے تھے نیچے نہیں ڈرتے تھے کے اس میں اسلامیات کی کتاب ہوتی ہے، ہم بازار میں کہی اگر جاتے اور وہاں کسی ٹیچر پر نظر پڑھ جاتی تو واپس بھاگتے ہوے یہ بھی بھول جاتے تھے کے بازار آے کس لیے تھے، ہم نے گرمیوں کی دوپہر میں نیند نہ آنے کے باوجود بھی مجبوراً سونے کی اکٹینگ کی جو کسی بڑی ازیت سے کم نہ ہوتی تھی،
ہم نے احترام دیکھا، خلوص محبت بھائی چارہ اور ہمدردی دیکھی، ہم نے لوگوں کے لوگوں کے ساتھ دعوے اور رشتوں کی اصل مٹھاس دیکھی، ہم نے کچے گھروں پر گرتی ہوی بارش کے پہلے قطروں سے مٹی سے اٹھتی ہوئی خوشبو کو محسوس کیا، ہم نے انسان کو انسان کے روپ میں دیکھا، ہم نے عشاء کے بعد فوراً سونے پر نیند کا مزہ چکھا اور فجر کے بعد پھوٹتی روشنی کا نور دیکھا، سچ پوچھو تو ہم نے عام سے پتھر کو بھی کوہِ نور دیکھا ....

11/08/2025

یہ جاپان ہے جناب
جاپان میں کوّوں کو ناپسندیدہ پرندوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کچرے کے تھیلے پھاڑ کر سڑکوں پر گندگی پھیلا دیتے ہیں، کھیتوں اور سبزی و پھل کی فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کی چیخ پکار بھی بہت شور مچاتی ہے۔
چونکہ جاپانی قانون جانوروں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے حل نکالنا ضروری تھا۔ حل یہ نکلا کہ کوّوں کی زبان سیکھی جائے اور ساؤنڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے۔

یہ کام محقق "ناوکی تسوکاہارا" کو سونپا گیا جو کوّوں کے رویے کا ماہر ہے۔ اس نے نہایت حساس آلات سے کوّوں کی آوازیں ریکارڈ کیں، بالکل ویسے جیسے فوجداری تحقیقات میں کیے جاتے ہیں، اور ساتھ ہی ہر آواز کے بعد کوّے کیا عمل کرتے ہیں، یہ بھی نوٹ کیا۔

ڈیٹا کے تجزیے سے تقریباً 40 الفاظ کا پتہ چلا، جیسے "مجھے کھانا مل گیا"، "آؤ یہاں محفوظ ہے" اور "خطرہ ہے، یہاں سے بھاگ جاؤ"۔
تحقیق درست ثابت ہونے کے بعد یاماجاتا کے حکام نے کوڑا جمع کرنے کے مقامات کے پاس اسپیکر لگائے جو کوّؤں کی زبان میں پیغام "خطرہ ہے، یہاں سے بھاگ جاؤ" بجاتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر کوّے فوراً وہاں سے اڑ جاتے اور تب تک واپس نہ آتے جب تک صفائی کی گاڑیاں آکر کچرا اٹھا نہ لیتیں۔

پھر حکام نے ایک اور جگہ کوّؤں کے لیے کھانا رکھا اور وہاں اسپیکر سے "مجھے کھانا مل گیا" کا پیغام کوّؤں کی زبان میں چلایا۔ کوّے فوراً وہاں پہنچے اور وہیں کھانے لگے۔

اب جانوروں کے سائنس کے محکمے نے اس تجربے کو مزید آگے بڑھایا ہے اور پرندوں و جانوروں کی مختلف زبانیں سمجھنے کی ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے۔

واقعی جاپان ہمیں حیران کرنے سے باز نہیں آتا۔

﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا طَائِرٖ يَطِيرُ بِجَنَاحَيۡهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمۡثَالُكُمۚ﴾
ترجمہ: اور زمین میں چلنے والا کوئی جاندار اور اپنے دونوں پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں مگر وہ بھی تمہاری ہی طرح ایک امت ہے۔

یہ آیت سورۃ الانعام (آیت 38) سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو ایک منظم نظام اور اندازِ زندگی عطا کیا ہے، جیسے انسانوں کی اپنی معاشرت اور اصول ہیں۔۔۔

Address

203 Iqbal Town Sikandar Block
Lahore
54200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+923224013047

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aims posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share