09/09/2026
نوشہرہ روڈ N 45 مردان سونے کی چڑیا بن چکی ہے۔
گزشتہ دس سالوں میں نوشہرہ روڈ N-45 پر بیوٹیفکیشن کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔ 2019 میں تقریباً ایک ارب روپے کے بیوٹیفکیشن منصوبے میں کروڑوں روپے کی لاگت سے سنٹرل میڈین پر گملے نصب کیے گئے، لیکن چند ماہ بعد ہی ان میں سے کئی گملے ٹوٹ پھوٹ گئے۔
اس کے بعد تقریباً 4 کروڑ روپے کی لاگت سے روڈ لائٹس لگائی گئیں، جبکہ اب تقریباً 2 کروڑ روپے کی لاگت سے انہی روڈ لائٹس کی کیبل تبدیل کی جا رہی ہے۔ پھر خیبر پختونخوا سٹیز امپرومنٹ پروجیکٹ مردان کے گرین اسپیس انیشی ایٹو کے تحت صرف ڈرائنگ اور ڈیزائن پر تقریباً 2 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، لیکن بعد میں پورا منصوبہ ہی منسوخ کر دیا گیا۔
اب مردان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اربن پلانٹیشن ڈرائیو کے نام پر سنٹرل میڈین میں پودے لگانے کے لیے بڑے بڑے گملے نصب کر رہی ہے۔ دوسری جانب لوکل گورنمنٹ نے ایک ایم پی اے کے فنڈ سے بیوٹیفکیشن کے نام پر روڈ کراسنگ کے لیے واکنگ کراس فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ بھی بنایا ہے، حالانکہ MMC کے قریب پہلے سے ایسا فلائی اوور موجود ہے، جسے عوام زیادہ استعمال بھی نہیں کرتے۔
سوال یہ ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں نوشہرہ روڈ کی بیوٹیفکیشن کے نام پر مجموعی طور پر کتنے کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں، اور اس کے بدلے عوام کو حقیقی فائدہ کیا ملا؟