28/09/2023
کراچی میں روزانہ دو تین معصوم بندے جو اپنے بچوں کا روزگار کمانے نکلے ہوتے ہیں صرف فون اور بٹوہ چھیننے کے دوران مزاحمت پر قتل کردئے جاتے ہیں لیکن نہ آج تک کوئ پکڑا گیا نہ سزا ہوئ۔یہ لٹیرے کاچی کی گلیوں سڑکوں پر بلاخوف و خطر دندناتے پھرتے ہیں۔کوئ ان کو روکنے پکڑنے والا نہیں۔
اے کاش! اے کاش! اے کاش کہ پاکستان میں بھی یہی نظام ہوتا اور قاتلوں کو سر عام چوک میں لٹکایا جاتا۔ چند سو یا چند ہزار نے 3 کروڑ لوگوں کا چین اور سکون برباد کررکھا ہے ۔ یہاں اگر جسم کا کوئ عضو جسم کو نقصان پہنچانے لگے تو اس کو بھی قطع کرکے جسم سے علیحدہ کردیا جاتا ہے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ حکومتوں کو یہ چند سو لوگ کروڑوں سے زیادہ عزیز ہیں جو نہ ان کے لئے قانون سازی ہوتی ہے اور نہ سر عام سزائیں دی جاتی ہیں۔ آخر کب تک؟ (منقول)
https://fb.watch/nl6ajxTmCI/?mibextid=Nif5oz