27/01/2024
چند ماہ پہلے کی بات ہے شہر والوں نے زیورات بیچ کر لائنوں میں لگ کر بجلی کے بل ادا کئیے اور گاؤں والے ایک ایک بوری یوریا کھاد کے لئے کئی کئی دن خوار ہوئے جبکہ پچھلے پانچ سالوں میں تمام پارٹیوں نے حکومت کی اسکے باوجود سوشل میڈیا پر ہر بندہ اپنے پسندیدہ علاقائی سیاست دان کا فرنٹ مین بننے کو تیار ہے .
اگر نہیں یقین تو کسی بھی سیاستدان کے سیکرٹری سے پوچھ لیں لوگ خود ڈیروں پر آ آ کر جلسے کا وقت مانگ رہے ہیں،
غلاظت سے بھرے شہروں اور پسماندہ دیہاتوں میں سیاستدانوں کی بڑی بڑی گاڑیوں کے آگے دھمال ڈالنے والی قوم کا مقدر صرف لائنوں میں لگ کر آٹے کا حصول ، روزگار کے لیے در بدر کی ٹھوکریں ، کھاد کے حصول کے لیے ذلت ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور نا انصافی پر مبنی نظام ہے