inza collection

inza collection Clothes seller

01/05/2026

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے صحافی احمد وڑائچ لکھتے ہیں کہ ‏وہ (شہباز شریف) چاہتا تو قیمت 400 روپے لیٹر بھی کر سکتا تھا، لیکن اس نے 399 روپے لیٹر کر کے عوام کو ریلیف دینا مناسب سمجھا۔
خیال رہے گزشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ حکومت کی جانب امریکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کو قرار دیا جاتا ہے۔

01/05/2026

پٹواریوں سمجھ آئی 😄

01/05/2026
27/04/2026

معیشت "چڑھ گئی" ہے؟ کہاں چڑھی ہے؟

حقائق پڑھیں اور خود فیصلہ کریں:

40 صنعتیں تباہ ہو گئیں۔ یہ خود سابق نگران وزیر نے کہا جو شہباز شریف حکومت کے دور میں بیٹھا تھا۔

100 ارب ڈالر ملک سے باہر چلے گئے۔ یہ اعداد خود وزیر داخلہ نے قوم کو بتائے۔

5300 ارب روپے کی کرپشن۔ یہ اندازہ IMF نے 2025 میں لگایا، کسی سیاسی مخالف نے نہیں۔

پنجاب کی سالانہ رپورٹ میں 400 ارب کے جھوٹے اعداد و شمار۔ IMF نے 2024 میں اس کو باقاعدہ ریکارڈ پر لیا۔

25 بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ چکی ہیں۔ سٹیٹ بنک اور ادارہ شماریات 2025 کے اعداد ہیں۔

ہر سال 2900 ارب بجلی اور 180 ارب LPG کی کیپیسٹی پیمنٹ ادا ہوتی ہے، وہ بجلی اور گیس جو ہم لیتے ہی نہیں۔ یہ وزیر پٹرولیم نے 2026 میں خود بتایا۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ سب کیوں ہوا؟

کیونکہ جو فیصلے کرتے ہیں وہ جوابدہ نہیں ہیں۔ جو جوابدہ ہیں وہ فیصلے نہیں کرتے۔ اور جو عوام کا پیسہ لٹاتے ہیں وہ ٹی وی پر معیشت کی تعریفیں کرتے ہیں۔

LNG معاہدہ قطر نے نہیں تھوپا، ہمارے اپنے لوگوں نے کیا۔ بجلی کے منصوبے دشمنوں نے نہیں بنائے، ہمارے اپنوں نے بنائے۔ اور نقصان کا بوجھ اس غریب عوام پر ڈالا جو مہینے کے آخر میں بجلی اور گیس کا بل دیکھ کر رو دیتی ہے۔

جو صرف یہ کہے کہ معیشت بہتر ہے اور یہ اعداد و شمار نہ دکھائے، وہ آپ کو سچ نہیں بتا رہا۔

حقائق ریکارڈ پر ہیں۔ انکار کی گنجائش نہیں۔قوم کا مطالبہ: احتساب کب ہوگا؟

یہ غلطی نہیں، یہ لوٹ مار ہے۔

5300 ارب کی کرپشن، 100 ارب ڈالر باہر، 25 کمپنیاں فرار، 40 صنعتیں تباہ۔ اور کوئی جیل میں نہیں۔

ہمارا مطالبہ صاف اور سیدھا ہے:

جس نے قوم کا پیسہ لوٹا، وہ جیل جائے۔ جس نے جھوٹے اعداد و شمار پارلیمنٹ اور IMF کو دیے، وہ کٹہرے میں آئے۔ جس نے بجلی اور گیس کے قاتل معاہدے کیے، وہ جواب دے۔ جس نے 100 ارب ڈالر باہر جانے دیے، وہ بتائے کہ کہاں گئے۔ جس نے 25 کمپنیاں بھگائیں، وہ ہرجانہ بھرے۔

عوام سے مزید کٹوتی بند کرو۔ کیپیسٹی پیمنٹ کے وہ معاہدے فوری منسوخ کرو جو عوام کے خون سے بھرے جا رہے ہیں۔

یہ سیاست نہیں، یہ بقا کا سوال ہے۔

جب تک احتساب نہیں، کوئی نظام نہیں بدلے گا۔ نہ بجلی سستی ہوگی، نہ روزگار آئے گا، نہ کمپنیاں واپس آئیں گی۔

اس پوسٹ کو شیئر کرو۔ خاموشی ان کی طاقت ہے، آواز ہماری طاقت ہے۔

Address

Peshawar
Peshawar
2500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when inza collection posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share