Tourist Saif Balochistani

Tourist Saif Balochistani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tourist Saif Balochistani, dubai tower, Quetta.

​🏔️ Hiker & Tour Guide | Content Creator
📍 Exploring the hidden gems of Balochistan
🌿 Environmentalist & Tree Planter
🎥 Watch my 4K Adventures on YouTube
📩 Contact for Guided Treks

09/08/2026

360 view of Mount chiltan which is one of famous mountain range of Balochistan Quetta.

09/08/2026

"The sound of nature heals and brings us peace. Feel it for yourself—believe me, there is nothing better than this. It’s an addiction that, once you fall into, you’ll never want to go anywhere else. This sound captivates us in the deserts and mountains just like true love, making you wish you could stay captive in its embrace forever."
NatureHealing




08/08/2026

Half day hike with great hiker Habib Khan in karkhasa top area chiltan mountain. Nowadays Very breezy and nice weather on mountains. Enjoyable trip with great companion.

08/08/2026

Some where in chiltan.

"بامِ فلک کے مسافر اور موت کو شکست دینے والے جری: دنیا اور پاکستان کے کوہ پیماروں کی لازوال داستانیں"دنیا بھر میں 8,000 ...
06/08/2026

"بامِ فلک کے مسافر اور موت کو شکست دینے والے جری: دنیا اور پاکستان کے کوہ پیماروں کی لازوال داستانیں"
دنیا بھر میں 8,000 میٹر (26,247 فٹ) سے زیادہ بلند کل 14 پہاڑ ہیں، جنہیں "ایٹ تھاؤزنڈرز" (Eight-thousanders) کہا جاتا ہے۔ یہ تمام پہاڑ "ڈیتھ زون" (Death Zone) میں واقع ہیں جہاں آکسیجن کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ انسانی جسم بتدریج کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
ان پہاڑوں پر اموات کی شرح (Death-to-Summit Ratio) کی تاریخی تفصیل اردو میں درج ذیل ہے:
14 آٹھ ہزار میٹر بلند پہاڑوں کی اموات کی شرح
| نمبر شمار | پہاڑ کا نام | اونچائی | اموات کی شرح (فیصد) |
|---|---|---|---|
| 1 | انپورنا اول (Annapurna I) | 8,091 میٹر | ~27% سے 32% (یہ دنیا کا سب سے خطرناک پہاڑ ہے، جہاں ہر 3 یا 4 میں سے 1 کوہ پیمار جان کی بازی ہار جاتا ہے) |
| 2 | کے ٹو (K2) | 8,611 میٹر | ~20% سے 25% (پاکستان میں واقع یہ دنیا کا دوسرا بلند ترین لیکن انتہائی کٹھن پہاڑ ہے) |
| 3 | نانگا پربت (Nanga Parbat) | 8,126 میٹر | ~21% (پاکستان میں واقع، جسے "قاتل پہاড়" بھی کہا جاتا ہے) |
| 4 | کنگ چین جن گا (Kangchenjunga) | 8,586 میٹر | ~20% (نیپال اور بھارت کی سرحد پر واقع) |
| 5 | دهاولاگری اول (Dhaulagiri I) | 8,167 میٹر | ~15% (نیپال) |
| 6 | ماناسلو (Manaslu) | 8,163 میٹر | ~10% (نیپال) |
| 7 | مکالو (Makalu) | 8,485 میٹر | ~4% سے 8% (نیپال اور چین کی سرحد) |
| 8 | گیشربرم اول (Gasherbrum I) | 8,080 میٹر | ~8% (پاکستان/چین) |
| 9 | شیشاپانگما (Shishapangma) | 8,027 میٹر | ~8% (تبت/چین) |
| 10 | براڈ پیک (Broad Peak) | 8,051 میٹر | ~5% (پاکستان/چین) |
| 11 | لوٹسے (Lhotse) | 8,516 میٹر | ~3% سے 4% (نیپال/چین) |
| 12 | گیشربرم دوم (Gasherbrum II) | 8,035 میٹر | ~2% (پاکستان/چین) |
| 13 | ماؤنٹ ایورسٹ (Mount Everest) | 8,849 میٹر | ~1% سے 4% (جدید دور میں بہتر سہولتوں کی وجہ سے فی صد کم ہوا ہے، تاہم کل اموات کی تعداد سب سے زیادہ یہیں ہے) |
| 14 | چو یو (Cho Oyu) | 8,188 میٹر | ~1.4% (یہ تمام آٹھ ہزار میٹر بلند پہاڑوں میں نسبتاً سب سے محفوظ مانا جاتا ہے) |
نوٹ: یہ اعداد و شمار تاریخی ریکارڈ اور کوہ پیمائی کے ڈیٹا (جیسے دی ہمالیہ ڈیٹا بیس) پر مبنی ہیں، جو وقت اور کامیاب مہمات کی تعداد کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
دنیا بھر کے تمام 14 آٹھ ہزار میٹر (8,000m+) بلند پہاڑوں پر اب تک ہونے والی کل اموات (Total Deaths) اور ان کی فی صد شرح (Fatality Rate) کی تفصیلی فہرست درج ذیل ہے۔
یہ اعداد و شمار بین الاقوامی کوہ پیمائی کے ریکارڈز (جیسے دی ہمالیہ ڈیٹا بیس اور ہسٹوریکل سمٹ ریکارڈز) کے مطابق ہیں:
| شمار | پہاڑ کا نام | بلندی | کل اموات (تخمینہ/ریکارڈ کے مطابق) | اموات کی شرح (Death-to-Summit Ratio) |
|---|---|---|---|---|
| 1 | ماؤنٹ ایورست (Mount Everest) | 8,849 میٹر | 340 سے زائد | ~1% سے 4% (زیادہ رش اور کل تعداد کی وجہ سے اموات سب سے زیادہ ہیں مگر تناسب کم ہے) |
| 2 | کے ٹو (K2) | 8,611 میٹر | 95 سے 100 کے قریب | ~22% سے 25% (ہر چوتھا کوہ پیمار یہاں جان ہار جاتا ہے) |
| 3 | کنگ چین جن گا (Kangchenjunga) | 8,586 میٹر | 50 سے 55 کے قریب | ~20% (انتہائی خطرناک اور تکنیکی چڑھائی) |
| 4 | مکالو (Makalu) | 8,485 میٹر | 35 سے 45 کے قریب | ~8% سے 9% |
| 5 | چو یو (Cho Oyu) | 8,188 میٹر | 50 کے قریب | ~1.4% (تمام آٹھ ہزار میں سب سے محفوظ مانا جاتا ہے) |
| 6 | دهاولاگری اول (Dhaulagiri I) | 8,167 میٹر | 70 سے 90 کے قریب | ~15% |
| 7 | ماناسلو (Manaslu) | 8,163 میٹر | 85 سے 90 کے قریب | ~10% (برفانی تودوں کی وجہ سے خطرناک) |
| 8 | نانگا پربت (Nanga Parbat) | 8,126 میٹر | 70 سے زائد | ~21% ("قاتل پہاড়"، انتہائی عمودی اور کٹھن) |
| 9 | انپورنا اول (Annapurna I) | 8,091 میٹر | 75 کے قریب | ~27% سے 32% (دنیا کا سب سے خطرناک پہاڑ، ہر 3 میں سے 1 شخص جان سے جاتا ہے) |
| 10 | گیشربرم اول (Gasherbrum I) | 8,080 میٹر | 30 کے قریب | ~8% سے 9% |
| 11 | براڈ پیک (Broad Peak) | 8,051 میٹر | 25 سے 30 کے قریب | ~5% |
| 12 | گیشربرم دوم (Gasherbrum II) | 8,035 میٹر | 25 کے قریب | ~2% (نسبتاً کم خطرہ) |
| 13 | شیشاپانگما (Shishapangma) | 8,027 میٹر | 25 سے 30 کے قریب | ~8% |
| 14 | لوٹسے (Lhotse) | 8,516 میٹر | 25 سے 30 کے قریب | ~3% سے 4% |
اہم نکات:
* سب سے زیادہ اموات (تعداد کے لحاظ سے): ماؤنٹ ایورست پر ہوئی ہیں کیونکہ یہاں دنیا بھر سے سب سے زیادہ کوہ پیمار آتے ہیں۔
* سب سے زیادہ خطرناک (فی صد کے لحاظ سے): انپورنا اول اور کے ٹو ہیں، جہاں کامیاب مہمات کے مقابلے میں جاں بحق ہونے والوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔
ان آٹھ ہزار میٹر بلند پہاڑوں کی تاریخ میں کئی ایسے اہم اور دلچسپ حقائق پائے جاتے ہیں جو کوہ پیمائی کی دنیا کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ ان کے حوالے سے مزید تفصیل درج ذیل ہے:
1. پاکستان کے 5 آٹھ ہزار میٹر بلند پہاڑ (The 5 Eight-Thousanders of Pakistan)
دنیا کے 14 میں سے 5 بلند ترین پہاڑ پاکستان (گلگت بلتستان) میں واقع ہیں، جو اپنی مشکل ترین اور خطرناک چٹانی ساخت کی وجہ سے دنیا بھر کے کوہ پیماروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھے جاتے ہیں:
* کے ٹو (K2): دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ، لیکن تکنیکی لحاظ سے اسے تمام آٹھ ہزاریوں میں سب سے زیادہ مشکل اور بے رحم مانا جاتا ہے۔
* نانگا پربت (Nanga Parbat): دنیا کا نواں بلند ترین پہاڑ جس کا "روپل فیس" (Rupal Face) دنیا کا سب سے اونچا عمودی چٹانی دیوار (Vertical Cliff) ہے، جو کہ تقریباً 4,600 میٹر سیدھا اوپر کی طرف جاتا ہے۔
* گیشربرم اول (Gasherbrum I) اور گیشربرم دوم (Gasherbrum II)
* براڈ پیک (Broad Peak)
2. نیپال کا غلبہ
دنیا کے 14 میں سے 8 پہاڑ نیپال میں (یا نیپال اور چین کی سرحد پر) واقع ہیں:
* ماؤنٹ ایورسٹ، کنگ چین جن گا، مکالو، چو یو، دھاولاگری اول، ماناسلو، انپورنا اول، اور لوٹسے (جبکہ شیشاپانگما مکمل طور پر تبت/چین میں واقع ہے)۔
3. "پہلا" اور "آخری" آٹھ ہزار میٹر پہاڑ سر کرنے کی تاریخ
* پہلا فتح ہونے والا آٹھ ہزار میٹر پہاڑ: فرانسیسی ٹیم نے 3 جون 1950 کو مورِس ہرزوگ (Maurice Herzog) اور لوئی لاکینل (Louis Lachenal) کی قیادت میں انپورنا اول پر پہلی بار قدم رکھا تھا۔
* آخری فتح ہونے والا آٹھ ہزار میٹر پہاڑ: شیشاپانگما وہ آخری آٹھ ہزار میٹر پہاڑ تھا جسے 2 مئی 1964 کو ایک چینی مہم جو ٹیم نے کامیابی سے سر کیا۔
4. آکسیجن کے بغیر چڑھائی (Without Supplemental Oxygen)
* رائن ہولڈ میسنر (Reinhold Messner) اور پیٹر ہابلر (Peter Habeler) وہ پہلے کوہ پیمار تھے جنہوں نے 1978ء میں بغیر آکسیجن سلنڈر کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کیا۔
* اس کے بعد 1980ء میں رائن ہولڈ میسنر نے دنیا میں پہلی بار کے ٹو اور نانگا پربت پر بھی بغیر آکسیجن کے اکیلے (Solo Climb) چڑھائی کرکے تاریخ رقم کی۔
5. سرمائی کوہ پیمائی (Winter Ascents)
آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو سردیوں کے موسم میں (-50 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت اور طوفانی ہواؤں میں) سر کرنا کوہ پیمائی کا سب سے مشکل ترین باب مانا جاتا ہے۔
* تاریخی سنگ میل: زیادہ تر آٹھ ہزار میٹر پہاڑ سردیوں میں پولش اور دیگر بین الاقوامی کوہ پیماروں نے 1980ء کی دہائی میں سر کر لیے تھے۔
* کے ٹو ونٹر (K2 Winter): ان تمام میں سے آخری اور سب سے بڑا اعزاز 16 جنوری 2021 کو حاصل ہوا، جب دس صحت مند نیپالی شیرپا کوہ پیماروں کی ٹیم نے مل کر تاریخ میں پہلی بار سردیوں کے موسم میں کے ٹو کی چوٹی پر قدم رکھا اور ساتھ مل کر قومی ترانہ گاتے ہوئے چوٹی پر پہنچے۔

کوہ پیمائی اور آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کی دنیا حیرت انگیز، سنسنی خیز اور بعض اوقات انتہائی پراسرار کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ یہاں کچھ مزید انتہائی دلچسپ اور کم معروف حقائق درج ہیں:
1. کے ٹو (K2) پر موسم گرما کا "پراسرار جمود" (The 1986 Black Summer)
سال 1986 کا موسم گرما کے ٹو کی تاریخ کا سب سے سیاہ اور پراسرار ترین سیزن مانا جاتا ہے۔ صرف ڈھائی ماہ کے اندر اس ایک پہاڑ پر مختلف حادثات، برفانی طوفانوں اور پھسلن کی وجہ سے دنیا کے 13 نامور مہم جو اور کوہ پیمار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سیزن کے بعد سے کے ٹو کے خطرناک ترین ہونے کی شہرت کو دنیا بھر میں دوام ملا۔
2. دنیا کا سب سے تنہا ترین اور مشکل ترین روٹ: نانگا پربت کا "میاز ٹریف" (Mazeno Ridge)
نانگا پربت کا "میزینو رج" دنیا کا سب سے طویل برفانی اور چٹانی راستہ ہے، جو تقریباً 10 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی اوسط بلندی 7,000 میٹر سے زیادہ ہے۔ اس طویل اور خطرناک راستے پر چلتے ہوئے کوہ پیماروں کو مسلسل کئی دن تک انتہائی جان لیوا ماحول میں رہنا پڑتا ہے۔
3. ایورسٹ کا "سب سے بڑا بوجھ": گرین بوٹس (Green Boots)
ماؤنٹ ایورسٹ پر ایک خاص جگہ پر ایک کوہ پیمار کی لاش کئی دہائیوں سے موجود ہے جو نیلے رنگ کے کوٹ اور سبز رنگ کے جوتوں کی وجہ سے "گرین بوٹس" کے نام سے مشہور ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب یہ لاش ایورسٹ پر چڑھنے والے ہر کوہ پیمار کے لیے راستے کا ایک اشارہ یا سنگِ میل بن چکی ہے، جہاں سے گزر کر لوگ آگے بڑھتے ہیں۔
4. دنیا کا تیز ترین "اسپیڈ کلائمب" (Speed Climbing)
جہاں عام طور پر ان پہاڑوں کو سر کرنے میں مہینے بھر کی تھکا دینے والی مہمات درکار ہوتی ہیں، وہیں جدید دور کے کچھ کوہ پیماروں نے ناقابل یقین کارنامے انجام دیے ہیں۔
* شیرپا جینز (Sherpa JiNji) اور دیگر نامور کوہ پیماروں نے محض چند گھنٹوں میں ایورسٹ یا دوسرے پہاڑوں کے بیس کیمپ سے چوٹی تک کا سفر طے کرکے دنیا کو دنگ کر دیا ہے۔
5. "بغیر آکسیجن اور اکیلے" چڑھنے کا ناقابلِ یقین ریکارڈ
مشہور اطالوی کوہ پیمار رائن ہولڈ میسنر کو جدید کوہ پیمائی کا باپ مانا جاتا ہے۔ انہوں نے 1980 میں مانسون کے موسم میں نانگا پربت پر اکیلے (Solo) چڑھائی کی تھی۔ اس مہم کے دوران انہوں نے نہ صرف کوئی اضافی آکسیجن استعمال کی بلکہ وہ بغیر کسی ریڈیو رابطے یا ٹیم کے تنِ تنہا پہاڑ کی گہرائیوں میں اترے اور چڑھے، جسے آج بھی کوہ پیمائی کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔
پاکستانی کوہ پیماروں نے دنیا کے بلند ترین اور خطرناک ترین پہاڑوں (بالخصوص اپنے ہی ملک کے پانچ آٹھ ہزاریوں) کو سر کرنے میں شاندار اور تاریخ ساز کارنامے انجام دیے ہیں۔ پاکستانی کوہ پیمائی کی تاریخ کے چند اہم ترین ریکارڈز اور نمایاں نام درج ذیل ہیں:
1. محمد علی سدپارہ (Muhammad Ali Sadpara) - لیجنڈری کوہ پیمار
محمد علی سدپارہ پاکستان کے سب سے مایہ ناز اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کوہ پیمار تھے:
* سردیوں میں نانگا پربت کی پہلی فتح (2016): وہ دنیا کے پہلے انسان بنے جنہوں نے 26 فروری 2016 کو اٹلی کے سیمون مورو اور اسپین کے الیکس ٹیسکن کے ہمراہ سردیوں کے موسم میں نانگا پربت کی چوٹی پر کامیابی سے قدم رکھا۔ یہ پاکستانی کوہ پیمائی کی تاریخ کا سب سے بڑا سنگ میل تھا۔
* 8 میں سے 8 آٹھ ہزاریے: علی سدپارہ نے دنیا کے 14 میں سے 8 بلند ترین پہاڑ کامیابی سے سر کیے۔ فروری 2021 میں کے ٹو کی سرمائی مہم کے دوران وہ اپنے بیٹے ساجد سدپارہ اور ٹیم کے ساتھ لاپتہ ہو گئے اور کوہ پیمائی کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
2. ساجد سدپارہ (Sajid Sadpara) - کم عمر ترین ریکارڈز
محمد علی سدپارہ کے فرزند ساجد سدپارہ نے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھایا اور کم عمر میں بڑے اعزازات حاصل کیے:
* انہوں نے کم عمر ترین پاکستانی کی حیثیت سے بغیر آکسیجن کے کے ٹو اور کئی دیگر بلند ترین پہاڑ سر کیے۔
* وہ اپنے والد کی یاد میں کوہ پیمائی کے شعبے میں جدید ترین حفاظتی اصولوں اور کلین ماؤنٹیننگ (صفائی مہم) کے حوالے سے بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
3. نائلہ کیانی (Naila Kiani) - پاکستان کی صف اول کی خاتون کوہ پیمار
* نائلہ کیانی نے انتہائی قلیل عرصے میں پاکستان کی طرف سے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ وہ تمام 14 آٹھ ہزار میٹر بلند پہاڑ سر کرنے کا ہدف کامیابی سے مکمل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن چکی ہیں۔
* انہوں نے ایورسٹ، کے ٹو، گیشربرم اور انپورنا سمیت دنیا کی خطرناک ترین چوٹیوں پر قومی پرچم لہرایا۔
4. شہروز کاشف (Shehroze Kashif) - "براڈ بوائے" (Broad Boy)
* شہروز کاشف نے کم عمر ترین کوہ پیمار ہونے کا عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ انہوں نے محض 19 سال کی عمر میں دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ کے ٹو سر کیا، جس پر انہیں "براڈ بوائے" کا لقب ملا۔
* وہ دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیمار ہیں جنہوں نے کم ترین عرصے میں دنیا کے بیشتر آٹھ ہزار میٹر بلند پہاڑ کامیابی سے سر کیے ہیں۔
5. سمینہ بیگ (Samina Baig)
* سمینہ بیگ وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں جنہوں نے ماؤنٹ ایورسٹ (2013) اور بعد ازاں کے ٹو (2022) کو کامیابی سے سر کیا۔ انہوں نے پاکستانی خواتین کے لیے کوہ پیمائی کے دروازے کھولے اور ثابت کیا کہ پاکستانی بیٹیاں بھی بلند ترین چوٹیوں کو فتح کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ایک نظر میں اہم پاکستانی ریکارڈز:
* پہلا پاکستانی جو تمام 14 آٹھ ہزاریے مکمل کر چکا ہو: پاکستان کے چند نامور کوہ پیمار (جیسے نائلہ کیانی اور دیگر پروفیشنلز) اب تک دنیا کے تمام 14 آٹھ ہزار میٹر بلند پہاڑ سر کرنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
* کے ٹو کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی: پاکستان کے مقامی اور تجربہ کار ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز اور کوہ پیماروں (جیسے اشراف سدپارہ اور دیگر) نے دہائیوں پہلے غیر ملکی مہمات کے ساتھ کے ٹو پر یہ سفر شروع کیا تھا، جن کی محنت کے بغیر دنیا کا کوئی بھی کوہ پیمار کے ٹو یا دوسرے پاکستانی پہاڑ سر نہیں کر سکتا تھا۔

06/08/2026

Deosai National Park sits at an average elevation of 4,114 meters (13,497 feet) above sea level, making it the second-highest plateau in the world. Within the park, specific points like Sheosar Lake reach about 4,142 meters (13,589 feet), while the surrounding ridge peaks and mountains rising above the plateau climb past 5,500 meters (18,000+ feet).

05/08/2026

Sleeping Beauty trail Quetta is a scenic, rugged route near Zarghun Ghar. Famous for its ridge resembling a sleeping woman, it offers challenging terrain, rich juniper forests, and breathtaking panoramic views for seasoned hikers.
😍

Address

Dubai Tower
Quetta
87300

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tourist Saif Balochistani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share