14/12/2023
پاکستان کے آئین کی طرح " الف ، ب " میں ترمیم کی اشد ضرورت ہے " د" کے بعد " چ" آنی چاہیے کیونکہ دال کے بعد چاول آتے ہیں اور اس کے لیے " چ" مظبوط ترین امیدوار ہے۔۔۔۔" ڈ" تو تب ہو جب دونوں اکٹھے ہوں لیکن پھر بھی چ بولنے کی بجائے چاول بولا جائے کیونکہ چ مونث ہونے کیوجہ سے پردے میں رہے گی ۔۔۔۔۔لہذا " د" ( دال) کے بعد "چ " کا آنا لازمی ٹھہرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ بچے کو اردو کے حروف تہجی یاد کرنے میں چنداں دشواری نہ ہو گی اگر ہماری یہ تجویز مان لی جائے۔ حکومتی پیسے اور وقت کی بچت کی خاطر د کے بعد چ لگائی جائے تاکہ بچے کو پہلے والدین کی طرف سے دیے گئے کنسپٹ میں مظبوطی ملے ۔۔۔۔ ویسے بھی "ڈ" لگا کے اب تک "ڈاکے" ہی ڈالے ہیں. اور "ڈ" سے کوئی اتنے بھی مہزب الفاظ بھی نہیں بنتے کہ اسے ہٹانے سے ہماری اشرافیہ کو کوئی خاص نقصان ہو گا ۔ ہاں "ڈاکٹر" ضرور بنتا ہے لیکن یہ نام تو "چ" سے بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے مثلاً " چیکر" ۔۔۔کام تو ایک ہی ہےنا جیسے "و" سے وکیل بنا کر کام تو "ب" سے بدمعاشی والا اور "پ" سے پولیس بنا کر کام "د" والا دہشت لیا جاتا ہے اس لیے ڈاکٹر یا چیکر کا کوئی خاص فرق نہیں بلکہ چیکر میں وسیع معانی ہیں کہ مرض کے ساتھ ساتھ جیب بھی کی بھی چیکنگ کرتا ہے۔۔۔۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ " چ" نے ہمیشہ رومینک نام دیے ہیں جیسے چمپا،چنبیلی،چاشنی،چمکیلی، چائے اور چمی لیکن اس " ڈ" نے ایسا کوئی لفظ ایجاد نہیں کیا۔۔۔ تو یہ دال د کے بعد "چ" کو لایا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔ دلائل اور بھی بہت سے ہیں اگر عدالت میں کیس گیا تو پیشی پر پیش ہونگے۔
منقول۔۔۔ بقلم خود🤣