D' 'Famina'

D' 'Famina' Fashion also alludes to the way in which things are made; to fashion something is to make it in a pa

Fashion designers design garments for men, women and children, including casual, semi-casual, formal and business attire. If you enter this profession, you might be designing everyday clothing or one-of-a-kind, impractical, haute couture outfits for fashion shows.

07/09/2025
24/03/2025
20/10/2024

‏تحریک انصاف پر مشکل ترین وقت اس وقت آیا تھا جب عدم اعتماد ہوئی ۔ ۔ ۔ اس وقت لگ رہا تھا کہ جیسے عمران خان اب ماضی کا قصہ بننے جارہا ہے کیونکہ آج تک فوج کے خلاف کوئی جماعت کھڑی نہیں ہوسکی۔
پھر پتہ لگا کہ یہ مشکل تو محض وقتی تھی، اللہ نے عوام کو جگایا اور فوج کے خلاف عوامی لہر شروع ہوئی۔
پھر جب 25 مئی ہوا تو لگا شاید آج سب سے مشکل وقت ہوگا ۔ ۔ جب عورتوں کی عزت محفوظ نہ رہی، چاردیواری پامال کی گئی ۔ ۔ عوام لیکن پھر مجتمع ہوئے اور اگلے کئی مہینوں تک خان کے گھر کے باہر ایجنسیوں اور پولیس کو ناکوں چنے چباتے رہے۔ اس دوران پنجاب اسمبلی کے ضمنی الیکشن بھی جیتے، اور وزارت اعلی بھی واپس لی۔
پھر جب نو مئی ہوا اور اس کے بعد کریک ڈاؤن ہوا تو لگا کہ اب شاید سب سے مشکل وقت آیا ہے ۔ ۔ ۔کارکن چھپ گئے، ڈر گئے، چپ ہوگئے ۔ ۔ ۔ لیکن پھر دوبار جمع ہوئے، پھر سے کھڑے ہوئے ۔ ۔ ۔
پھر عمران خان گرفتار ہوا اور قید تنہائی میں ڈالا، جعلی مقدمات میں سزا دی گئی، بلے کا نشان چھینا گیا، پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی گئی تو لگا کہ یہ ہے سب سے مشکل وقت۔
لیکن پھر 8 فروری ہوا اور عوام نے 77 سالہ بت ووٹوں کی مہر سے جوتے مار کر توڑ ڈالا۔
یار لوگ کہہ رہے ہیں کہ آج کا دن مشکل ہے ۔ ۔ ایک آئینی ترمیم ہمارا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ کیا یہ نو مئی سے زیادہ مشکل ہوگی؟ کیا یہ 8 فروری قبل ہونے والی زیادتیوں سے زیادہ مشکلات لائے گی؟
کیا یہ 25 مئی سے زیادہ بے رحم ہوگی؟
اگر ہوئی بھی تو جیسے ہم پہلے سب مراحل سے کامیابی سے گزرتے آئے، اس سے بھی انشا اللہ گزر جائیں گے۔
یہ ہمارا ورک آؤٹ ہورہا ہے۔ اب ہم ویٹ لفٹنگ کے بلند ترین مرحلے پر ورک آؤٹ کررہے ہیں۔ ہم یہ وزن بھی اٹھا لیں گے اور اپنے مسلز مزید بڑے کرتے جائیں گے۔
مسئلہ تو فوج کا ہے، وہ اتنے مضبوط مسلز والوں کا کیسے مقابلہ کرپائے گی!!!

18/10/2024

‏تم ستر فیصد کمزور لاچار مجبور ذلیل و رسوا پاکستانی

تم ستر فیصد پاکستان ہو۔ تیسرا حصہ دائیوں کے ہاتھ میں پیدا ہوتا ہے۔ صفر حفظان صحت۔ ایک اور تیسرا حصہ کسی گندے سرکاری ہسپتال یا تیسرے درجے کے پرائیویٹ ہسپتال میں پیدا ہوتا ہے۔ وہاں تمہاری ماں کی چیر پھاڑ ڈاکٹر نہیں ڈاکٹر کی مسٹنڈی نرسز کرتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ پیسے گنتی ہیں۔ تمہاری پیدائش کا اندراج پانچ سات سو ہزار رشوت دیکر ہوتا ہے۔ تمہیں ملنے والی ویکسین اور ٹیکے یو این اور بل گیٹس بھیک میں دیتے ہیں۔

تمہارے گھر کے باہر سیوریج نہیں ہوتی بجٹ آئے تو کونسلر چئیرمین کھا جاتا ہے ۔ تمہارے لیے کھیل کا میدان نہیں ہوتا۔ تمہیں پوری خوراک نہیں ملتی۔ تم ستر فیصد پاکستان ہو۔ تمہارے کھانے والی چیزوں میں ملاوٹ روکنے والا ادارہ رشوت لیکر سرٹیفکیٹ بنا دیتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں تم غربت کے مارے ہوئے جاتے ہو۔ کچھ والدین اپنا پیٹ کاٹ کر تمہیں مرغیوں کے ڈربوں جیسے پرائیویٹ سکولوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ وہاں تمہیں وہ تعلیم دی جاتی ہے جو آج سے دو ہزار سال پہلے دی جاتی تھی۔ گنتی گننا۔ کوئی زبان لکھ لینا اور پڑھ لینا۔ اس سے زیادہ تمہیں تعلیم نہیں ملتی۔ تم ستر فیصد پاکستان ہو۔

تمہیں روزگار کے نام پر غلام بنایا جاتا ہے۔ تمہارا مالک تمہاری ہڈیاں نچوڑ نچوڑ کر اپنا نفع کماتا ہے۔ تم تیس سے پچاس ہزار کے درمیان کمانے کے لیے پورا مہینہ مرتے ہو۔تم ستر فیصد پاکستان ہو۔ تم اپنے سے ہر طاقتور کی خوشامد کرتے ہو کہ وہ تمہاری تذلیل نہ کرے۔ تم اپنے سے ہر کمزور کی تذلیل کرتے ہو کہ وہ تمہارے برابر آنے کا نہ سوچے۔

تمہاری پولیس ، عدالتیں ، انتظامیہ ، فوج ، واپڈا ایک ایک فرد حرام کھا رہا ہے۔ حرام کما رہا ہے۔ تمہارے آگے پیچھے تمہارے دوست یار بھائی رشتہ دار حرام کماتے ہیں تم ان سے نفرت نہیں کرتے کیونکہ تم میں سے خود کچھ حرام کماتے ہو۔ تمہاری جیب میں پیسے بتاتے ہیں کہ تم کیا خرید سکتے ہو۔ اگر تمہاری جیب میں آرمی چیف کی بہو کو گفٹ دینے کے لیے دو چار ارب کا پلاٹ ہے تو تم اس سے پنجاب کی وزارت اعلی کی لابنگ کروا سکتے ہو۔

تم جنسی مریض ہو۔ تم غلاظت سے لتھڑے ہوئے ہو۔ تمہارے دماغوں میں خناس بھرا ہے۔ نہ تمہارے مدرسے محفوظ ہیں نہ مسجدیں نہ سکول نہ دفاتر نہ تمہارے گھر۔ تم ستر فیصد پاکستانی ہو۔ تمہیں تمہاری ریاست روٹی کپڑا مکان تعلیم کچھ نہیں دیتی۔ لیکن جو “ریاست” ہیں ان کا اور تمہارا فرق سو سال کا فرق ہے۔ انکے ایک جوتے کی قیمت تمہاری چھ مہینے کی تنخواہ ہے۔ پھر وہی جوتا وہ تمہارے سر پر مارتے ہیں۔ تم انہی جوتے مارنے والے کسی ایک دھڑے کے جوتے کو تبرک سمجھ کر کھاتے ہو۔

تمہارا آرمی چیف ساز باز کرکے لگا ہے چیف جسٹس توسیع کے لیے مرا جارہا ہے وزیراعظم جعلی ہے وزیراعلی جعلی ہے تمہارا میڈیا سیٹھ کے پیسے بنانے کی مشین ہے تمہارے معاشرے میں ایک بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں ہے۔

تم کوئی معاشرہ نہیں ہو۔ جانوروں کی رفتار سے بچے پیدا کرنے والی دنیا کی سب سے تیز رفتار مشین ہو۔ تم میں سے جو بھاگ سکتے تھے وہ بھاگ گئے۔ کچھ تیاری میں ہیں۔ جن کے پاس وسائل نہیں وہ اسی جہنم میں گلتے سڑتے رہیں گے۔ اس امید پر کہ شاید انکی اگلی نسل کے فرار کے وسائل بن جائیں۔

جب تک تم طاقتور کا گریبان نہیں پکڑتے تم بدل نہیں سکتے۔ طاقت ور کا گریبان پکڑنے کے لیے معاشرتی غیرت درکار ہوتی ہے۔ تمہارے معاشرے کی ایک چیز کوئی ایک چیز اپنی جگہ ہر درست نہیں ہے تو تمہارے معاشرے میں غیرت کہاں سے پوری ہوگی ؟ ہنہہ !

تم ایک جہنم میں زندہ بھی نہیں مردہ لاشوں کی طرح پڑے ہو۔ تمہارے جسموں سے پیپ بہہ رہی ہے۔ تم ببول کے کانٹے کھاتے ہو۔ تمام عمر یہیں پڑے رہو گے۔ تمہاری آنے والی نسلیں بھی اسی ذلت و رسوائی میں دھنستی رہیں گی۔ دنیا اسی طرح تمہیں ایک سماجی غلاظت کےبہت بڑے ڈھیر کی طرح دیکھتی رہے گی۔ تم اس جہنم کو اسلام کا قلعہ قرار دے دے کر خوش ہوتے رہنا۔

Address


Opening Hours

09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when D' 'Famina' posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to D' 'Famina':

  • Want your business to be the top-listed Clothing Store?

Share