13/01/2026
مدینے کی گلیاں
مدینے کی گلیاں، مدینے کی باتیں
دلوں کو مہکا دیں وہ پاک سی راتیں
وہ مٹی بھی خوشبو میں ڈوبی ہوئی ہے
جہاں مصطفیٰؐ نے رکھی تھیں وہ سانسیں
ہر ایک موڑ پر نور برستا ہوا ہے
یہاں پتھروں نے بھی سیکھیں صلواتیں
درِ مصطفیٰؐ پر جھکیں جب یہ آنکھیں
ختم ہو گئیں سب دلوں کی شکایتیں
یہی ہیں وہ گلیاں جہاں چل کے آئے
فرشتے بھی لے کر ادب کی روایاتیں
یہاں آ کے ٹوٹا ہوا دل سنبھل جائے
یہیں ملتی ہیں بے قراری کو راحتیں
مجھے بھی بلا لے، اے ربِ مدینہ
نصیبوں میں لکھ دے وہ پاک زیارتیں
نہ دولت کی خواہش، نہ شہرت کی چاہت
بس اک بار دیکھوں مدینے کی گلیاں