03/12/2025
کیا آپ نے کبھی رات کے اس پہر کا تصور کیا ہے جب کائنات اپنی سانسیں روک لیتی ہے؟ جب زمین اور آسمان کے درمیان رابطہ بحال ہونے والا ہوتا ہے؟ تاریخِ انسانی میں ہزاروں راتیں آئیں اور گزر گئیں، مگر مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان واقع "وادیِ نخلہ" کی وہ ایک رات۔۔۔ وہ کوئی عام رات نہیں تھی۔ یہ وہ لمحہ نہیں تھا جب سورج اپنی کرنوں سے زمین کو روشن کر رہا ہو، بلکہ یہ گھپ اندھیرے کا وقت تھا۔ آسمان پر ستارے ساکت تھے، صحرا کی ہوائیں تھم چکی تھیں، اور خاموشی اتنی گہری تھی کہ اگر ریت کا ذرہ بھی سرکتا تو آواز گونج اٹھتی۔
لیکن، اس خاموشی کے پیچھے ایک بہت بڑا طوفان چھپا تھا۔ زمین پر کچھ ایسا ہونے والا تھا جس کی خبر نہ انسانوں کو تھی، نہ فرشتوں کو معلوم تھا کہ اس لمحے کیا مقدر لکھا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے "تنہا مسافر" کا ہے جو بظاہر اکیلا تھا، مگر جس کے ارد گرد کائنات کی غیر مرئی مخلوق کا ہجوم جمع ہونے والا تھا۔ یہ قرآن کے ایک ایسے حصے کے نزول کی داستان ہے جس کا مخاطب انسان نہیں۔۔۔ بلکہ وہ مخلوق ہے جو آگ سے بنی ہے، جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے، یعنی جنات۔ آج ہم تاریخ کا پہیہ الٹا گھمائیں گے اور اس رات کی گہرائی میں اتریں گے تاکہ جان سکیں کہ آخر وہ کون سے حالات تھے جب اللہ نے انسانوں سے مایوس ہو کر جنات کو ہدایت کے لیے چن لیا؟
اس واقعے کی روح تک پہنچنے کے لیے ہمیں اس وقت کے حالات کو سمجھنا ہوگا جب یہ پیش آیا۔ یہ نبوت کا دسواں سال (10th Year of Prophethood) تھا۔ اس سال کو اسلامی تاریخ میں "عام الحزن" یعنی "غم کا سال" کہا جاتا ہے۔ ذرا تصور کریں! ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی عمر مبارک اس وقت 50 برس کے قریب تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب مکہ کی زمین آپ ﷺ پر تنگ کر دی گئی تھی۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے آپ ﷺ کی سب سے بڑی ڈھال، آپ کے چچا ابو طالب دنیا سے رخصت ہو گئے تھے، جنہوں نے مکہ کے سرداروں کے سامنے ہمیشہ سینہ تانا۔ اور ابھی یہ زخم تازہ تھا کہ آپ ﷺ کی شریکِ حیات، دکھ سکھ کی ساتھی، اور سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون، حضرت خدیجہ الکبریٰ (رضی اللہ عنہا) بھی انتقال کر گئیں۔
گھر ویران ہو گیا تھا اور باہر دشمنوں کے وار تیز ہو گئے تھے۔ جب مکہ والوں کی اذیتیں حد سے بڑھ گئیں اور امید کی کوئی کرن نظر نہ آئی، تو نبی کریم ﷺ نے ایک انتہائی مشکل فیصلہ کیا۔ آپ ﷺ نے سوچا کہ شاید "طائف" کے لوگ میری بات سن لیں۔ شاید وہاں اللہ کا دین پناہ پا لے۔ آپ ﷺ امید لے کر طائف گئے، مگر وہاں جو ہوا، وہ تاریخ کا سب سے دردناک باب ہے۔ طائف کے سرداروں نے نہ صرف بات سننے سے انکار کیا بلکہ شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ ہستی جس کے لیے یہ کائنات سجائی گئی، ان پر پتھر برسائے گئے۔ جسم اطہر لہولہان ہو گیا، نعلین مبارک (جوتے) خون سے جم گئے۔ زید بن حارثہ (رضی اللہ عنہ) ڈھال بنتے رہے مگر پتھر اتنے تھے کہ بچانا مشکل ہو گیا۔انتہائی دل شکستہ، تھکے ہوئے اور زخموں سے چور، آپ ﷺ مکہ واپسی کے لیے نکلے۔ راستے میں "وادیِ نخلہ" آئی۔ رات کا وقت ہو چکا تھا۔ یہاں آپ ﷺ نے قیام فرمایا۔ اس وقت آپ ﷺ کی کیفیت کیا تھی؟ تنہائی، غم، اپنوں کا بچھڑنا، اور قوم کا دھتکارنا۔ بظاہر زمین کا ہر دروازہ بند ہو چکا تھا۔ اس اندھیری رات میں، اس ویران وادی میں، نبی کریم ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے رب کے حضور کھڑے ہو گئے۔ یہاں آپ ﷺ نے وہ مشہور اور رلا دینے والی دعا مانگی تھی: "اے اللہ! میں اپنی کمزوری، تدبیر کی کمی اور لوگوں کی نظر میں اپنی بے بسی کی شکایت صرف تجھ سے کرتا ہوں۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! تو ہی کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا رب ہے۔"
اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺ کو ایسے غمگین کیسے دیکھ سکتا تھا؟ جب انسانوں نے اپنے کان بند کر لیے، جب مٹی کے پتلے (انسان) پتھر دل ہو گئے، تو اللہ نے فیصلہ کیا کہ اب اس قرآن کی گواہی وہ مخلوق دے گی جو آگ سے بنی ہے۔ اللہ نے اپنی تدبیر فرمائی۔ نبی ﷺ نے نماز (فجر یا تہجد) شروع کی۔ وادی میں سناٹا تھا۔ آپ ﷺ کے لب ہلے اور تلاوت شروع ہوئی۔ یہ الفاظ نہیں تھے، یہ مرہم تھا جو زخمی دل پر رکھا جا رہا تھا۔
اب ذرا منظر کا دوسرا ر دیکھیں۔ یہ سورت اور یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ اس دوران جنات کی دنیا میں ایک کہرام مچا ہوا تھا۔ صدیوں سے جنات کی عادت تھی کہ وہ آسمانوں کی طرف پرواز کرتے، وہاں فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سنتے اور آ کر زمین پر کاہنوں اور نجومیوں کو بتاتے۔ لیکن جیسے ہی نبی کریم ﷺ کو نبوت ملی، آسمانی نظام سخت کر دیا گیا۔ اب جو جن اوپر جاتا، ایک دہکتا ہوا شعلہ (شہابِ ثاقب) اس کا پیچھا کرتا۔ جنات حیران تھے۔ ابلیس اور بڑے شیاطین پریشان تھے کہ آخر آسمان ہم پر ممنوع کیوں ہو گیا؟ کیا زمین والوں پر کوئی عذاب آنے والا ہے؟ یا اللہ نے ان کی ہدایت کا کوئی نیا انتظام کیا ہے؟
اس حقیقت کو جاننے کے لیے جنات کی ٹولیاں پوری دنیا میں پھیل گئیں۔ ان میں سے "نصیبین" کے جنات کا ایک قافلہ وادیِ نخلہ سے گزر رہا تھا۔ اچانک۔۔۔ ایک آواز نے ان کے قدم روک لیے۔ یہ آواز محمد ﷺ کی تلاوت کی تھی۔ وہ فضا میں ہی تھم گئے۔ وہ جو بڑے سرکش تھے، جو خود کو بہت طاقتور سمجھتے تھے، اس کلام کی مقناطیسی کشش نے انہیں جکڑ لیا۔ قرآن فرماتا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر گرنے لگے (ہجوم بن گئے) اور بولے: "اَنْصِتُوْا" (خاموش ہو جاؤ! سنو یہ کیا ہے)۔
جب انہوں نے غور سے سنا تو حقیقت کھل گئی۔ وہ سمجھ گئے کہ آسمان پر پہرے کیوں بٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ زمین پر "وحی" کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ پرانی کتابیں منسوخ ہو چکی ہیں اور اب یہ "قرآن" ہی حق ہے۔ وہ پکار اٹھے:
اِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا، یَّهْدِیْۤ اِلَی الرُّشْدِ "ہم نے بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے، جو ہدایت اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہے۔"
نبی کریم ﷺ کو اس وقت علم نہیں تھا کہ جنات سن رہے ہیں۔ اللہ نے یہ انتظام اس لیے کیا تاکہ اپنے نبی کو بتا سکے کہ: "اے میرے محبوب! اگر مکہ اور طائف کے انسانوں نے آپ کو ٹھکرا دیا تو غم نہ کریں، دیکھیں! ہم نے ایک دوسری مخلوق کو آپ کا غلام بنا دیا ہے۔
جب تلاوت مکمل ہوئی، تو وہ جنات خاموش نہیں بیٹھے۔ ایمان ان کے سینوں میں سما نہیں رہا تھا۔ وہ واپس اپنی قوم کی طرف لوٹے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ واقعہ نبی ﷺ کی دلجوئی کے لیے تھا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الجن نازل فرمائی اور اپنے نبی ﷺ کو خبر دی کہ: (اے نبی!) آپ کہہ دیجیے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور کہا کہ ہم ایمان لے آئے۔
یہ سورت اس لیے نازل ہوئی تاکہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ یہ قرآن صرف عربوں یا انسانوں کے لیے نہیں، بلکہ "رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ" کا کلام جن و انس دونوں کے لیے ہے۔ جنات نے جا کر اپنی قوم کو جھنجھوڑا (جیسا کہ سورۃ الاحقاف میں ہے): "اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کی بات مان لو اور اس پر ایمان لے آؤ، تم عذاب سے بچ جاؤ گے۔"
سوچیے! ایک ہی نشست میں، صرف چند آیات سن کر، جنات کی صدیوں پرانی فطرت بدل گئی۔ شرک، کفر، تکبر۔۔۔ سب خاک ہو گیا۔ وہ جان گئے کہ اللہ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں، یہ معجزہ ہے۔
میرے دوستو! وادیِ نخلہ کی وہ رات گزر گئی، نبوت کا وہ دسویں سال کا غم بھی اللہ نے بعد میں خوشیوں میں بدل دیا (معراج کا سفر اسی کے بعد ہوا)۔ لیکن آج یہ واقعہ ہم سے سوال کرتا ہے۔ ہم انسان ہیں، اشرف المخلوقات ہیں۔ ہمارے گھروں میں قرآن موجود ہے، موبائل فونز میں ایپس ہیں، ہم روزانہ اذان سنتے ہیں۔ لیکن ہمارا دل کیوں نہیں پگھلتا؟ جنات آگ سے بنے تھے، آگ جلاتی ہے، سرکش ہوتی ہے۔ ہم مٹی سے بنے ہیں، مٹی نرم ہوتی ہے۔ لیکن آج معاملہ الٹ ہے۔ آگ (جنات) تو قرآن سن کر موم ہو گئی، مگر ہماری مٹی (دل) پتھروں سے بھی سخت ہو چکی ہے۔
جنات نے ایک بار سنا اور ولی بن گئے۔ ہم پوری زندگی سنتے ہیں کہ "سود مت کھاؤ، جھوٹ مت بولو، کسی کا دل نہ دکھاؤ"۔۔۔ مگر ہم کیوں نہیں بدلتے؟ شاید ہم سنتے ہیں مگر "کان نہیں دھرتے"۔ جنات نے کہا تھا "اَنْصِتُوْا" (خاموش ہو جاؤ)۔ ہمیں بھی اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنا ہوگا۔ دنیا کی خواہشات کے شور میں قرآن کی آواز دب گئی ہے۔
اگر آج آپ کی زندگی پریشان ہے، اگر دل اداس ہے، تو یاد رکھیں! وہی قرآن جو طائف کے غم کا علاج تھا، وہی قرآن آج بھی آپ کے غم کا علاج ہے۔ آئیے! آج وعدہ کریں کہ ہم قرآن کو ویسے سنیں گے جیسے اس رات وادیِ نخلہ میں جنات نے سنا تھا۔ پہلی بار کی طرح، سمجھنے کے لیے، ہدایت کے لیے۔
اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ویسے ہی ایمان لائیں اور اپنی زندگیوں کو بدلیں جیسے اس رات اس بھٹکی ہوئی مخلوق نے بدلی تھی۔ یاد رکھیے! جو قرآن سے جڑ گیا، وہ نہ کبھی تنہا رہتا ہے، نہ کبھی ناکام ہوتا ہے۔ (آمین یا رب العالمین)