18/09/2026
آخری امید
علی ہر صبح اپنی ماں کو مسکرا کر کہتا،
“امی! ایک دن میں آپ کے سارے خواب پورے کروں گا۔”
مگر حقیقت یہ تھی کہ گھر کے حالات بہت خراب تھے۔ والد کا انتقال ہو چکا تھا اور علی چھوٹی سی دکان پر کام کرکے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔
ایک دن اسے راستے میں ایک بٹوا ملا۔ اس میں کافی رقم اور کچھ ضروری کاغذات تھے۔ علی کے دل میں خیال آیا،
“اگر یہ پیسے گھر لے جاؤں تو کئی مہینوں کی مشکل آسان ہو جائے گی۔”
پھر اسے ماں کی بات یاد آئی:
“بیٹا! رزق کم ہو تو صبر کرنا، مگر حرام راستہ اختیار نہ کرنا۔”
علی نے بٹوے میں موجود شناختی کارڈ کی مدد سے مالک کو تلاش کیا اور بٹوا واپس کر دیا۔
وہ شخص بہت حیران ہوا۔ اس نے کہا،
“بیٹا! تم چاہتے تو یہ رقم رکھ سکتے تھے۔”
علی مسکرا کر بولا،
“مجھے پیسوں سے زیادہ اپنی ماں کی تربیت عزیز ہے۔”
کچھ دن بعد اسی شخص نے علی کو اپنے کاروبار میں ملازمت دے دی۔ علی نے محنت کی، تعلیم دوبارہ شروع کی اور چند سالوں میں ایک کامیاب انسان بن گیا۔
ایک رات علی اپنی ماں کے پاس بیٹھا اور بولا،
“امی! آپ نے اُس دن مجھے صرف بٹوا واپس کرنا نہیں سکھایا تھا، آپ نے مجھے میری زندگی کا راستہ دکھایا تھا۔”
ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
سبق:
کبھی کبھی انسان کے پاس دولت نہیں ہوتی، مگر اس کے پاس کردار، صبر اور سچائی ہوتی ہے۔ یہی چیزیں ایک دن اس کی سب سے بڑی دولت بن جاتی ہیں۔
۔