18/11/2025
محلہ کے کونے پر واقع پرانا سا گھر آج بھی لوگوں کے لیے ایک معمہ تھا۔ لوگ روز اس کے سامنے سے گزرتے، کھڑکیوں پر ٹنگے گرد بھرے پردے دیکھتے، دروازے کے زنگ آلود ہینڈل پر نظر ڈالتے اور آگے بڑھ جاتے۔ سب جانتے تھے کہ اس گھر میں کبھی زندگی ہوا کرتی تھی۔ ہنسی، خوشی، بچوں کی آوازیں، پاؤں کی چاپ۔ مگر اب… اب وہاں ویرانی کا بسیرا تھا۔
اس گھر میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی— اماں زہرہ۔
عمر نے کمر توڑ دی تھی، مگر دل اب بھی ویسا ہی زندہ تھا جیسے کبھی بیس سال پہلے ہوا کرتا تھا۔
اماں زہرہ کا بیٹا ایان ان کی زندگی کی واحد امید تھا۔ بہترین، فرمانبردار، ہنستا کھیلتا، شوخ مگر محبت سے بھرا ہوا۔ محلے والے آج بھی یاد کرتے تھے کہ جوان ایان صبح امی کے لیے چائے بناتا، ان کے پاؤں دباتا، ان کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتا اور کہتا:
“امی، فکر نہ کرنا… ایک دن آپ کو فخر محسوس ہوگا کہ آپ کا بیٹا کیا بنا۔”
لیکن زندگی ہمیشہ ویسی نہیں رہتی جیسی ہم سوچتے ہیں۔
ایان کو باہر ملک میں نوکری مل گئی۔ دستاویزات مکمل ہوئیں، سامان بندھا، اور رخصتی کا دن آ گیا۔ اماں زہرہ نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے اسے گلے لگایا۔
“بیٹا… وہاں رہ کر اپنا خیال رکھنا۔ کھانا وقت پر کھا لینا۔ تھک جاؤ تو مجھے یاد کر لینا۔”
ایان ہنسا، مگر اس کے چہرے پر بھی نمی تھی۔
“امی، میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جا رہا۔ میں آپ کے لیے جا رہا ہوں… تاکہ آپ کی زندگی آسان ہو جائے۔”
یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گیا۔
---
دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے۔
شروع میں تو ہر دوسرے دن ایان کا فون آتا۔ میسجز، تصویریں، ویڈیوز… اماں زہرہ فون سینے سے لگا کر رکھ دیتیں، ہنستیں، روتیں، دعائیں دیتیں۔
پھر آہستہ آہستہ فون کم ہوتے گئے۔
پیغامات کم ہوتے گئے۔
اور ایک وقت ایسا آیا کہ پورا مہینہ بھی گزر جاتا، مگر ایان کی طرف سے کوئی خبر نہ آتی۔
اماں زہرہ ہر اذان کے بعد دعا کرتیں:
“یا اللہ، میرا بچہ جہاں بھی ہو خیر سے ہو… اور مجھے اس کی آواز پھر سے سنوا دے۔”
محلے والے دلاسہ دیتے:
“بیٹا مصروف ہوگا زہرہ باجی، آپ فکر نہ کریں۔”
مگر ماں کا دل تو ماں کا دل ہوتا ہے۔
وہ خاموش ہو کر بھی اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔
---
پھر ایک دن ڈاکیہ دروازے پر آیا۔
“زہرہ باجی، آپ کے نام کا خط آیا ہے!”
اماں زہرہ نے کانپتے ہاتھوں سے خط لیا۔ کئی سال بعد انہیں اپنے بیٹے کی ہتھیلیوں کی خوشبو محسوس ہوئی۔ انہوں نے کپکپاتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔
خط میں لکھا تھا:
---
“امی،
اگر یہ آخری خط ہو… تو مجھے معاف کر دینا۔
زندگی نے مجھے اتنا مصروف کر دیا کہ میں آپ کی محبت کو وقت نہ دے پایا۔
میں ہر رات آپ کو یاد کرتا ہوں… لیکن پھر بھی کال نہیں کرتا، شاید اس لیے کہ میں ڈرتا ہوں…
ڈرتا ہوں کہ آپ کی بے بسی بھری آواز سن کر میرا دل بیٹھ نہ جائے۔
امی، آپ میرے لیے سب کچھ ہیں… مگر میں آپ کے لیے کچھ نہ کر سکا۔
اگر کبھی واپس آیا تو سب ٹھیک کر دوں گا۔
آپ دعا کیجیے… کہ میں واپس آ سکوں۔
– ایان”
---
خط پر آنسوؤں کے دھبے تھے، مگر یہ واضح نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایان کے تھے یا لکھتے لکھتے اماں زہرہ کے تصور میں بہنے والے آنسو۔
اماں نے خط کو سینے سے لگایا، چوم لیا، اور پھر اسے تکیے کے نیچے رکھ لیا۔
“میرا بچہ ضرور آئے گا… ضرور آئے گا…”
وہ روز یہی کہتیں۔
---
لیکن تقدیر وہ کہانی لکھتی ہے… جسے انسان چاہ کر بھی بدل نہیں سکتا۔
چند ماہ بعد محلے میں ایک خبر پھیل گئی:
“زہرہ باجی کے بیٹے ایان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے… وہ ہسپتال میں ہے… حالت نازک ہے!”
اماں زہرہ کو یہ خبر پہنچی تو ان کی ٹانگوں سے زمین نکل گئی۔
“مجھے میرے بیٹے کے پاس لے چلو!”
وہ چیختی رہیں مگر جانے کا کوئی ذرائع نہیں تھا۔
محلے والوں نے چندہ اکٹھا کیا، ٹکٹ خریدا، اور گاؤں کے دو نوجوان انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔
---
ہسپتال کے بستر پر ایان بے ہوش پڑا تھا۔
اماں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئیں، ان کے قدم رک گئے۔
بیٹے کے چہرے پر زخم… ہاتھوں پر پٹیاں… مشینوں کی آواز… سب کچھ جیسے اماں کے دل پر ہتھوڑے برسا رہا تھا۔
“ایان… میرے بچے…”
وہ اس کے پاس بیٹھ گئیں، اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ایان نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔
کمزور سی مسکراہٹ لبوں پر آئی۔
“امی… آپ آ ہی گئیں…”
اماں نے اس کی پیشانی چومی۔
“بیٹا، میں تمہیں چھوڑ کر کیسے رہ سکتی ہوں؟”
ایان نے لرزتی آواز میں کہا:
“امی… میں نے جو آخری خط لکھا تھا… وہ آپ کو ملا؟”
اماں کی آنکھیں بھر گئیں۔
“ہاں بیٹا… ملا…”
ایان نے آہستہ سے اپنا ہاتھ ان کے چہرے پر رکھا۔
“امی… میں واپس آنا چاہتا تھا… مگر شاید… زندگی نے مجھے وقت نہ دیا…”
یہ کہتے ہی اس کی سانس اکھڑنے لگی۔
مشینوں کی آواز تیز ہونے لگی۔
ڈاکٹر دوڑتے ہوئے آئے، مگر ایان زندگی کی جنگ ہار چکا تھا۔
اماں چیخ پڑیں:
“میرے بچے! ایک بار تو آنکھیں کھول کر دیکھ لو… میں آ گئی ہوں… دیکھ لو!”
مگر ایان نہیں جاگا۔
---
سال گزر گئے…
اماں واپس اپنے پرانے گھر آگئیں۔
ایان کا کمرہ ویسا ہی رکھا جیسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
اس کی کتابیں، اس کا بیگ، اس کے کپڑے، اس کی خوشبو… سب کچھ وہیں کا وہیں۔
ہر رات اماں زہرہ اپنے تکیے کے نیچے رکھا وہ خط نکالتیں اور پڑھتیں۔
آنکھوں سے آنسو بہہ جاتے مگر دل کو عجیب سی ٹھنڈک ملتی۔
ایک دن مسجد میں اعلان ہوا کہ زہرہ باجی کا انتقال ہو گیا ہے۔
لوگ جمع ہوئے، جنازہ پڑھا گیا، اور سب نے اماں زہرہ کو ایان کے پہلو میں دفنا دیا۔
محلے والوں کا کہنا تھا کہ اماں نے اپنی آخری سانس لیتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا:
“میں اپنے بیٹے کے پاس جا رہی ہوں… اب مجھے کوئی کمی محسوس نہیں ہوگی…”
---
ایک سال بعد…
اس خستہ حال گھر کے دروازے پر ایک شخص آیا۔
وہ ایان کا پرانا دوست تھا۔
اس نے پورا گھر دیکھا، پھر اماں زہرہ اور ایان کی قبر پر پھول رکھے اور دیر تک روتا رہا۔
پھر وہ فیس بک پر آیا، اور لکھا:
---
**"جو اپنی ماؤں کی قدر وقت پر نہیں کرتے…
وہ آخرکار قبرستان میں جا کر اپنی غلطیوں پر روتے ہیں۔
وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔
ماں… دنیا کی وہ نعمت ہے جسے کھو کر انسان ساری زندگی پچھتاتا ہے۔"**
---
💔 سبق
اگر آپ کی ماں زندہ ہے…
اس سے بات کیجیے۔
اسے وقت دیجیے۔
اس کے آنسو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
کیونکہ کچھ لوگ ایک بار چلے جائیں… تو صرف یادوں میں واپس آتے ہیں، گھر میں نہیں۔