19/10/2025
سبزی فروش کا محبوبہ کے نام خط
آداب کے بعد عرض ھے کہ تم تو ایسے خفا ھو گئی ھو جس طرح سردیوں میں کریلے ناراض ھو جاتے ھیں۔ تم جانتی ھو کہ تمہاری جدائی میں میرا چہرہ بے موسمی سبزیوں کی طرح بے رونق ھو جاتا ھے۔
اور تمہیں یہ بھی معلوم ھے کہ جب تک تمہاری پودینے جیسی سبز آنکھیں نہ دیکھ لوں میری طبعیت ساگ کے ابل کی طرح بے چین رھتی ھے۔
میں نے کب سے دیسی ٹنڈے جیسی انگوٹھی بنوائی ھوئی ھے اور میں اسے تمہاری بھنڈی جیسی انگلی میں پہنانے کے لئے بیقرار ھوں۔ تم کو کیسے سمجھاؤ کہ محبوب اور محبوبہ ھری مرچ اور ادرک کی طرح لازم و ملزوم ھیں۔
مگر ایک تم ھو کہ ھر وقت سبزی منڈی کے بھاؤ کی طرح ناک بھنویں چڑھائے رکھتی ھو۔ کبھی تو پھول گوبھی کی طرح کھلا ھوا چہرہ دکھا دیا کرو۔ یہ کیا ھر وقت بند گوبھی کی طرح منہ بند رکھتی ھو۔
مانا کہ میرا رنگ بینگن کی طرح کچھ کچا پکا ھے مگر میرے دل کے حسین جذبات شلغم کی طرح سفید اور پالک کی طرح ھرے بھرے ھیں۔
دیکھو اپنے پیار کو صرف اور صرف آلو کی طرح بناؤ جو ھر وقت ھر موسم میں دستیاب ھوتا ھے۔ اسی میں ھم دونوں کی بھلائی ھے۔
۔