Monasib.pk

Monasib.pk We are proud to offer really affordable prices of quality products while working hard to be loyal

28/05/2025
28/05/2025

بہت سے لوگ اس میڈیسن کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔
اصل میں یہ دوائی ہربل اجزاء کے ایک خاص تناسب سے بنائی گئی ہے اور ذکر کردہ مسائل کیلئے 2002 سے استعمال کروائی جا رہی ہے۔

یہ جسم کے ان افعال کو درست کرتی ہے جو ان تکالیف کا سبب بنتے ہیں۔
یہ دماغ کے ان خلیات اور نیورو ٹرانسمٹرز کی اصلاح کرتی ہے جن کے بگاڑ کی وجہ سے برے خواب، آوازیں آنا، اردگرد سایہ سا دیکھنا اور دیگر نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
اگرچہ اکثر یہ تکالیف جادو جنات کے مسائل کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں، ان کی وجہ سے جسم میں بگاڑ پیدا ہوتا اور جسمانی و نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں،
علاج کروانے پر ان کے اثرات تو ختم ہو جاتے ہیں لیکن یہ علامات بیماری کی صورت میں قائم رہتی ہیں،
لوگ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ ان سے اثرات ختم نہیں ہوئے۔

عورتوں میں بسا اوقات یہ مسائل رحم اور ہارمونز کی خرابی اور شادی میں تاخیر کے باعث بھی بن جاتے ہیں،
الحمد للہ،
یہ پراڈکٹ ان تمام مسائل کا بہترین اور تسلی بخش علاج ہے۔

The Miracle Medicine, For both male and female, Especially for Females
28/05/2025

The Miracle Medicine, For both male and female, Especially for Females

🌟 "Your journey to natural healing starts here!
🌿 With Miraculum, experience relief, energy, and holistic care—
straight from nature’s wisdom. 🌱

What is Reiki?Reiki is a Japanese technique for stress reduction and relaxation that also promotes healing.Reiki is a si...
24/08/2024

What is Reiki?

Reiki is a Japanese technique for stress reduction and relaxation that also promotes healing.

Reiki is a simple, natural and safe method of spiritual healing and self-improvement.

The word Reiki is made of two Japanese words - Rei which means "God's Wisdom or the Higher Power" and Ki which is "life force energy". So Reiki is actually "spiritually guided life force energy."

A treatment feels like a wonderful glowing radiance that flows through and around you. Reiki treats the whole person including body, emotions, mind and spirit creating many beneficial effects that include relaxation and feelings of peace, security and wellbeing. Many have reported miraculous results.

24/08/2024

Send a message to learn more

Anyone else ever Missing Childhood…?Share your feelings in comments.
06/01/2024

Anyone else ever Missing Childhood…?

Share your feelings in comments.

Want to design a website for yourself....Contact Us Now.
04/08/2023

Want to design a website for yourself....

Contact Us Now.

Don't waste your time in fake proposals of website creation.- Design your online store with us, shopify or other platfor...
03/08/2023

Don't waste your time in fake proposals of website creation.
- Design your online store with us, shopify or other platforms.
- Any other type of (legal) website.
- Domain Registration and Hosting.
- Theme Purchasing and Configuring.
- Rectification of existing online store.
- Theme customization according to brand color.
- After Live, updating and customization available.
- Social Media Management.
- Attaching your store to fb//insta.
and many more services.

01/08/2023

Copied

کھلا خط بنام چئیرمین پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور/وزیرِ اعلیٰ پنجاب /وزیرِ تعلیم پنجاب/وزیرِ اعظم پاکستان/وفاقی وزیرِ تعلیم اسلام آباد/سیکریٹری تعلیم (سکولز) لاہور/وفاقی سیکریٹری تعلیم اسلام آباد/صدرِ اسلامی جمہوریہ پاکستان و دیگر ذمّہ داران

عنوان: پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے یکساں قومی نصاب کے نام پر سکولوں میں مفت بھیجا گیا انگلش میڈیم نصاب اور "یکساں اور انقلابی نظامِ تعلیم کے لیے سفارشات"

السلام علیکم: ہمیں امید ہے کہ آپ ٹھنڈے دل سے ہماری گذارشات سنیں گے اور صوبے کے کروڑوں بچوں پر گدھے کی طرح لادا ہو ا بوجھ ہلکا کرکے ان پر احسانِ عظیم کریں گے۔ عالی جناب کوئی گھرہو، دفترہو ، کارخانہ ہو یا کوئی اور نظام، اس کے لیےطے کردہ اُصولوں اور ضابطوں کے مطابق ہی چل سکتا ہے۔ کوئی شخص گاڑی بغیر طے شدہ ضابطوں کے کسی مصروف شاہراہ پر چلائے گا تو یقیناً موت کے منہ میں چلا جائے گا۔اس ملک کے مختلف نظاموں کو چلانے کے لیے سب سے اہم ضابطہ آئین پاکستان ہے ۔آئینِ پاکستان ہے۔

قرآنِ پاک کی سورہ ابراہیم میں ہے " اللہ نے جتنے بھی پیغمبر بھیجے وہ قوم کی زبان میں بھیجے تاکہ بات کو کھول کے سمجھا سکیں"اس آیت میں سمجھنے اور سمجھانے کی فطرت بیان کی گئی ہے جو فقط قوم کی زبان ہی ہے۔کیا انگریزی ہماری قومی زبان ہے یا مادری؟دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک نے قرآن کے اس آفاقی پیغام کے مطابق اپنی قومی اور مادری زبانوں میں نصاب تیار کرکے اپنی قوم کو پڑھایا ہے ۔اسے قوم بھی بنایا جس ترقی کی منازل بھی طے کیں

قرآن کے اسی آفاقی اُصول کے مطابق ہمارے اکابرین نے آئین پاکستان کی دفعہ 251 تشکیل دی جو ہر سطح پر اردو کو نافذ کرنے کی اب تک دُہائی دے رہی ہے۔اس دفعہ کے مندرجات ملاحظہ فرمائیں۔

251 قومی زبان(1) پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور یومِ آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری اور دیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

(2) شق (1) کے تابع انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لیے استعمال کی جائے گی جب تک اس کے اردو میں تبدیل کیے جانے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔

(3) قومی زبان کی حیثیت متاثر کیے بغیرکوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم و ترقی اور اس کے استعمال کے لیے اقدامات تجویز کر سکے گی۔

آئینِ پاکستان کی مذکورہ تینوں شقوں میں انگریزی کو ہٹا کر اردو کو نافذ کرنے کا حکم ہے۔مگر موجودہ حکومت پوری ڈھٹائی کےساتھ آئین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اردو کو ہٹا کر انگریزی نافذ کر رہی ہے اور ظلم یہ کہ پرائمری سطح سے ہی انگریزی نصاب رائج کر رہی ہے۔بچوں پر پرائمری سطح پر لادا گیا انگریزی کا مضمون ہی اس کی عمر ، نفسیات اور صلاحیتوں سے کہیں بھاری ہے۔اس کے ساتھ ریاضی ،سائنس، تاریخ اور جغرافیہ بھی انگریزی میں جبراً پڑھانا نسلِ نو پر نصابی دہشت گردی کا ارتکاب ہے۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے چھٹی سے آٹھویں جماعت تک سائنس ، ریاضی ، تاریخ اور جغرافیہ کی اردو میں کتابیں سرے سے ہی نہیں چھاپیں اور نہ ہی کسی نجی پبلشر کو چھاپنے کی اجازت دی تاکہ رفتہ رفتہ اردو میڈیم نصاب ناپید ہو جائے۔اس کے علاوہ مقتدرہ قومی زبان اور اردو سائنس بورڈ پر بھی اردو میں نصابی مواد چھاپنے پر 20 سالوں سے سامراجی ایجنٹوں نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ یہ آئینِ پاکستان کی واضح اور صریح خلاف ورزی نہیں تو اور کیا ہے؟۔یہ جنگل کے قانون سے بھی بدتر قانون ہے جو اس ملک کے حکمران چلا رہے۔حکومت کسی بڑے سے بڑے دہشت گرد کو سزا نہیں دے سکتی ہے کیونکہ وہ خود ایک طرح کی نصابی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔دہشت گرد چند سو یا چند ہزار لوگوں کو مارتے ہیں مگر نصابی دہشت گرد کروڑوں بچوں کو سسک سسک کر مرنے اور جہالت کی زندگی گذارنے پر مجبور کر رہے ہیں۔دنیا میں تعلیم کی درجہ بندی میں ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے ؟ کیا یہ ہمارے پالیسی سازوں اور حکمران اشرافیہ کے لیے چلّو بھر پانی میں ڈوب مرنے کے لیے کافی نہیں ہے؟ان ہتھکنڈوں کے ذریعے غریب بچوں کو تعلیم سے دور اور ذہنی مریض بنانے سے بہتر ہے حکومت ان کو ایک جگہ پر جمع کر کے ایٹم بم پھینک دے۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ورنہ ممکن ہے اسے کبھی چلانے کا موقع نہ ملے۔ملک کو اندر سے کمزور اور سامراجی غلام بنا کر اسے لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے سب سے بڑے حربے کے طور پر انگریزی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔قومی کا لفظ جن جن شعار کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ان سب کو کھرچ کھرچ کر نکالا جا رہا ہے۔اس سے قومی یکجہتی پیدا ہوتی ہے یا انتشار؟

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو۔۔۔۔ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر (اقبالؒ)

آئینِ پاکستان کی اس دفعہ کو بغور پڑھیں تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ انگریزی کے نفاذ کے لیے اس میں ایک لفظ بھی موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اور معنی انگریزی کی حمایت میں کشید کیا جا سکتا ہے چاہے سارے نام نہاد ماہرینِ تعلیم سر کے بل کھڑے ہو جائیں۔ اس دفعہ کے مطابق " عدالتِ عظمیٰ کا 8 ستمبر 2015 کا فیصلہ بھی موجود ہے جس میں اردو کے فوری اور ہمہ جہتی نفاذ کا حکم دیا گیا ہے مگر آپ کی حکومت اردو میں پہلے سے نافذ شدہ نصاب کو آئین پاکستان اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو پاؤں تلے روندتے ہوئے پوری ریاستی مشینری کی طاقت سے کھرچ کھرچ کر نکال رہی ہے اور اس کی جگہ پر انگلش میڈیم نصاب رائج کر رہی ہے۔میرے جیسے شخص سے اگر کوئی قانون شکنی ہو جائے تو مجھے یقین ہے مجھے اور میری آنے والی نسلوں کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا مگر اقتدار سے وابستہ افراد کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔حکومتوں کا یہی رویہ معاشرے میں ہونے والے جرائم کی بنیاد ہے ۔ لوگوں کو ان کےآئینی حق سے محروم کریں گے تو لوگ حق حاصل کرنے کے لیے قانون ہاتھ میں لیں گے۔اس کا مطلب یہ ہے اب ہمارے بچوں کو اپنی زبان میں پڑھنے کا حق نہیں ہے۔آئینِ پاکستان نے جو حق دیا ہے اسے چھیننے والوں کی سزا بھی آئین ہی میں لکھی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ۔دفعہ 6سنگین غداری(1)کوئی شخص دستور کی تنسیخ کرے یا معطل کرے یا التوا میں رکھےیا تنسیخ یا تذلیل کرےیا ایسا کرنے کی کوشش کرے یا سازش کرےیا تخریب کاری کرنے کی کوشش کرے یا سازش کرے یا معطل یا التوا میں رکھنے کی سازش بذریعہ طاقت کے استعمال یا طاقت کے دکھاوے سےیا دیگر غیر آئینی ذریعہ سے کرے تو سنگین غداری کا مجرم کہلائے گا

عالی جناب! نصابِ تعلیم کے لیے بحثیتِ مسلمان اوربحثیتِ پاکستانی شہری جب ہم پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی یکساں قومی نصاب کے نام سے مفت سکولوں میں بھیجی ہوئی کتابیں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اب کی بار لاکھوں اساتذہ اور کروڑوں بچوں کو غلامی اور جہالت کی بدترین شکل کا سامنا ہے ۔ پہلی سے آٹھوین جماعت تک انگریزی کی کتابیں اس قدر مشکل اور فطرت گریز ہیں کہ اساتذہ کا انہیں عام بچوں کو پڑھانا اور بچوں کا پڑھنا ناممکن ہے۔ کیونکہ کیمبرج اور آکسفورڈ کی طرز پر بنائی گئی کتابیں ، ان کی عبارتیں، جملے اور بھاری بھرکم گرامر کی مشقیں جن میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات سبق سے اخذ کر کے دینا ایک ایم اے انگریزی کے لیے بھی انتہائی مشکل ہے۔ انہیں بچوں کو سمجھانا تو بالکل ہی ناممکن ہے۔یہ کتابیں ان لوگوں کے بچوں کے لیے ہیں جن کی مادری یا قومی زبان انگریزی ہے ۔ہمارے بچوں کے لیے انگریزی کے اسباق میں ایسے سادہ جملے اور فقرے دیے جا سکتے ہیں جنہیں بچوں کو ترجمے کے ساتھ پڑھایا اور سمجھایا جا سکے۔اس کا مقصد بچوں کو تعلیم سے باغی اور قومی وحدت کی علامت قومی زبان ختم کر کے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے علاوہ کچھ اور معلوم نہیں ہوتا۔

انگریزی کے علاوہ سائنس، ریاضی، تاریخ اور جغرافیہ کی کتابیں بھی انگریزی میں دی گئی ہیں۔قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ہمارے بچے سائنس ، ریاضی ، تاریخ اور جغرافیہ اردو میں پڑھ رہے ہیں۔ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہماری وزارتِ تعلیم کے پاس ہے جو ان بچوں کو گھول کر پلائی جائے اور بچے سب کچھ یکدم انگریزی میں پڑھنا شروع کر دیں۔ عالی جناب ! آپ سے درخواست ہے کہ اس نصاب کو بنانے والے اور اس کی یکساں قومی نصاب کے نام پر بچوں کو انگریزی میں ریاضی ، سائنس، تاریخ اور جغرافیہ کی کتابیں دینے کی سفارش کرنے والے ماہرین کو ہمارے سکول میں یا ہماری طرح کے کسی بھی سکول میں بھیجیں اور ان سے کہیں کہ ہمارے بچوں کو ان کتابوں کا صرف ایک سبق انگریزی میں اس طرح پڑھا کر دکھائیں کہ بچے سمجھ جائیں اور سمجھی ہوئی بات کو بچے اپنے لفظوں میں انگریزی میں بیان کر سکیں۔سبق دس دفعہ پڑھا لیں تب بھی نہیں سمجھا سکیں گے۔ان کے پڑھانے کی ویڈیو پی ٹی وی پر نشر کر دیں اور لوگوں سے رائے لے لیں ۔ان نصاب سازوں اور نام نہاد ماہرینِ تعلیم کی لیاقت و قابلیّت کا پول کھل جائے گا۔اس کے مقابلے میں راقم الحروف کی اردو میں بنائی ہوئی 1000 سے زائد سائنسی نصابی ویڈیوز میں سے چند دکھا دیں جو یوٹیوب پر دستیاب ہیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ناچیز کے تین عدد یو ٹیوب پر چینل ہیں جن کے نام اسی مضمون کے حصہ "سفارشات" میں درج ہیں۔ میرا چیلنج ہے کہ انگلش میڈیم کے چیمپئین چوتھی یا پانچویں جماعت کی سائنس ،ریاضی، تاریخ اور جغرافیہ کا ایک بھی سبق انگریزی میں نہیں پڑھا سکیں گے۔اگر ناظرین و سامعین کے سامنے یہ نہ پڑھائیں تو انہیں سخت سے سخت سزائیں دی جائیں بلکہ آئین توڑنے کی دفعہ 6 میں تحریر سزا کا مستحق قرار دیا جائے۔اگران کے مقابلے میں میرے اردو میں پڑھائے ہوئے اسباق عام سکولوں کے بچے نہ سمجھیں تو مجھے بھی مذکورہ سزا کا مستحق قرار دیا جائے۔آئینِ پاکستان ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق پابندی انگلش میڈیم نصاب کی طباعت پر لگنی چاہیے تاکہ غریب اور امیر سب بچے قومی زبان میں تعلیم حاصل کریں۔یہی سکیم ہے جو دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں رائج ہے اور یہی عوام کو ایک قوم کی لڑی میں پرو سکتی ہے نہ کہ آپ کا نصاب کے نام پر جبراً نافذ کیا ہوا پاگل پن۔

جنابِ عالی! خدا کے لیے نئی نسل پر رحم کیجئے، اسے رٹے کی چکی میں پس پس کر جاہل رٹو طوطے بننے سے بچائیے۔آپ صرف ایک پہلو کو مدِ نظر رکھ کر تجزیہ کریں کہ انگلش میڈیم کی وجہ سے جو طلبا و طالبات کو ٹیوشن پڑھنا پڑتی ہے ، اس کے لیے وقت اور صلاحتیں خرچ ہوتیں ہیں ، ان سب کا پیسوں میں تخمینہ لگایا جائے تو یقین کریں دس سالوں میں اتنی رقم جمع ہوگی جس سے پورے پاکستان کی سڑکیں شیشے کی بن سکیں گی۔ رقم تو ایک طرف جو ہم پر تحقیق، تخلیق اور ایجادات کے دروازے بند ہیں اس کے لامحدود نقصانات کا اندازہ تو ہم کبھی کر ہی نہیں سکیں گے اور ان بند دروازوں کو کھولے بغیر تو ترقی یافتہ قوم بننے کا ہم خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔کیا ہم اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے کہ ہماری غربت کے پیچھے ہمارا غلام انگلش میڈیم نظامِ تعلیم ہے؟۔ پوری دنیا میں کسی ایک ملک کا نام لیں جو ہماری طرح اپنی قومی زبان چھوڑ کر کسی اور ملک کی زبان میں اپنی نسلوں کو پڑھا کر ترقی یافتہ بن گیا ہو۔

بارِ دگر عرض ہے کہ آپ کی انگلش میڈیم کُتب پر جن مصنّفین کے نام لکھے ہیں ان سے کہیں کہ وہ اپنی لکھی ہوئی کتابوں کو انگریزی میں پڑھا کر دکھائیں۔ ان سب کی ویڈیوز بنا کر سرکاری اور نجی ٹی وی چینلوں پر نشر کریں تاکہ ان کا تماشا ہم بھی دیکھیں۔یہ لوگ موت کو قبول کر لیں گے مگر ان کو پڑھا کر دکھانا قبول نہیں کریں گے۔بلکہ میرا چیلنج ہے کہ پورے پاکستان میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ڈھونڈا جا سکتا جو ان انگلش میڈیم کتابوں کو ہمارے عام بچوں کو پڑھا کر دکھائے۔ہمت ہے تو کر کے دکھائیں بقولِ ناصرؔ کاظمی

ہم بُلائیں تو کیا تماشا ہو ۔۔۔وہ نہ آئیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے۔۔۔ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

نوٹ: اس خط کو سفارشات سمیت حسبِ توفیق زیادہ سے زیادہ تعداد میں چھپوا کر یا فوٹو سٹیٹ کروا کر تقسیم کریں

یکساں اور انقلابی نظامِ تعلیم کے لیے سفارشات

انقلابی نظامِ تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ایسا تعلیمی نظام جو انفرادی اور اجتماعی طور پر تمام اساتذہ اور طلبا و طالبات کی تربیت کرے۔ انہیں اچھا مسلمان اور محب، وطن شہری بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ قوم پر تحقیق، تخلیق اور ایجادات کے دروازے کھولے۔قوم کو ہر لحاظ سے خود کفیل بنائے۔آئیے ایسے انقلابی نظامِ تعلیم کے لیے سفارشات کو مرحلہ وار دیکھتے ہیں

یہ نظام پہلی جماعت سے پی ایچ ڈی تک کے مراحل پر مشتمل ہوگا

1: پہلی سے پانچویں جماعت تک صرف دو کتابیں ہوں پہلی اردو اور دوسری ریاضی کی۔سائنس ،معاشرتی علوم،اسلامیات ،جغرافیہ اور دیگر علوم کی بابت مضامین سادہ اور آسان پیرائے میں اردو کی کتا ب میں ہی ہوں ۔اس کے علاوہ ریاضی کی کتاب میں جمع تفریق اور ضرب تقسیم کی بنیادی مہارتیں اور روز مرہ کی پیمائشیں وغیرہ ہوں ۔املا اور ریاضی کی مہارتوں کو پختہ کرنے کے لیے تختی اور سلیٹ کا استعمال لازمی ہو ۔بھاری بھرکم کاپیوں ،دستوں اور پنسلوں کا بوجھ صرف اشرافیہ کے چونچلے ہیں اور مفت تعلیم میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

2: چٹھی سے آٹھویں جماعت تک اردو اور ریاضی کے ساتھ ایک تیسری کتاب سائنس کی ہو ۔سائنس کی یہ کتاب ماحول سے مربوط سائنسی تصورات پر مشتمل ہو ۔انسانیات، حیوانیات ور نباتیات کا علم ماحول اور تہذیب و ثقافت سے مربوط ،سادہ اور آسان اصطلاحات میں ہو۔انگریزٰی یا کوئی دوسری زبان لازمی طور پر نہیں نافذ نہ کی جائے۔

3: نہم و دہم میں اردو اور ریاضی کی لازمی حیثیت کے ساتھ طبیعات ،کیمیا ،حیاتیات اور کمپیوٹر کے آسان فہم کورسز پڑھائے جائیں ۔ان تمام کورسز کا میعار ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہو ۔ان مضا میں کے ساتھ آرٹس کے تمام مضامین شامل ہوں ۔طالب علموں کو مختلف زبانیں پڑھنے کی بھی اجازت ہو گی مگر اختیا ری حیثیت سے ۔پہلی جماعت سے میٹرک تک کے اس نصابی خاکے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہو گی کہ پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا کم از کم ۸۰ سے ۹۰ فی صد حصہ بلا کسی رکاوٹ کے میٹرک پاس کر جائے گا جبکہ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا صرف ۱۰ فی صد حصہ میٹرک کر پاتا ہے ۔باقی ۹۰ فی صد انگریزی میں الجھ کر تعلیم کو خیرباد کہہ دیتا ہے۔ذرا سو چیے کہ یہ ایک عظیم انقلاب نہیں ہو گا ؟

4: گیارہویں اور بارہویں جماعت میں اردو ، اسلامیات ،مطالعہ پاکستان کی لازمی حیثیت کے ساتھ تمام تر سائنسی اور غیر سائنسی مضامین اردو میں ہی پڑھائے جائیں جیسا کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں سندھی اور اردو میں پڑھائے جاتے ہیں اس کے لئے بھارت میں چھپنے والی سائنسی مضامین کی تمام کتابیں ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں جو کہ ncertbooks.comپر دستیاب ہیں ۔انٹرمیڈیٹ میں بھی طالب علموں کو تمام تر مضامین قومی زبان میں ہی پڑھائے جا ئیں یہاں بھی دیگر زبانیں اختیاری طور پر پڑھانے کے انتظامات ہوں ۔

5: بی ایس سی اور ایم ایس سی کے تمام تر کورسز فوری طور پر اردو میں تیار کئے جائیں ۔ زیادہ تر کورسز اردو یو نیورسٹی کراچی اور مولانا ابوالکلام آزاد یونیورسٹی حیدر آباد دکن نے پہلے سے تیار کئے ہوئے ہیں جنہیں ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں رائج ہونے کے لیے قوت نافذہ کا انتظارہے۔جو کورسز بچ گئے ہیں انہیں بھی جلد از جلد ترجموں کے سانچے میں ڈھال لیا جائے۔پہلے پانچ سالوں میں ہر مضمون کا امتحان اردو میں دینے کی اجازت دی جائے ۔ اس سے خود بخود ہر سطح کا نصاب ترجمہ ہونا شروع ہو جائے گا۔قرین قیاس ہے کہ سب سے پہلے ایم بی بی ایس کا نصاب ترجمہ کیاجائے۔

6: ہر یونیورسٹی میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کی طرز کا دارالترجمہ قائم کیا جائے جہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات کے ساتھ ساتھ دیگر کتابوں کی تصنیف و اشاعت کا ہدف مقرر کیا جائے۔10 سالوں میں یونیورسٹیوں کی لائبریریاں ہمارے اپنے لوگوں اور اپنی زبان میں لکھی ہوئی کتابوں سے بھر جائیں گی۔اس طرح خود انحصاری اور تحقیق و تخلیق کی وہ دولت ہاتھ آئے گی جس کے طفیل پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کا ۶۰ سے ۷۰ فی صد حصہ ماسٹر ڈگری کا حامل ہو گا او ر ایجادات کے صدیوں سے بند دروازے کھل جائیں گے۔ذرا موجودہ صورت حال دیکھئے کہ ہمارے بچوں کا 1 فی صد حصہ بھی بی اے ،بی ایس سی نہیں کر پاتا۔ راستے میں تعلیم سے دلبرداشتہ ہو کر جو وسائل ضائع ہوتے ہیں وہ تو کسی حدو حساب میں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایم بی بی ایس اور ایم ایس سی وغیرہ میں ہمارے طلبہ طلباء و طالبات اپنے کورسز کو صرف پانچ سے دس فی صد تک سمجھتے ہیں جبکہ باقی سارا رٹا ہوتاہے۔ان اقدامات کی بدولت رٹا صرف پانچ سے دس فی صد تک رہ جائے گا جبکہ ۹۰ سے ۹۵ فی صد تک نفسِ مضمون کا فہم ہو گا۔یہ ایک بڑے انقلاب کی صورت ہو گی۔

7: جامعات کے علاوہ ہر ضلع میں ایک ترجمہ مرکز قائم ہو جہاں دیگر زبانوں سے علوم وفنون منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اور علاقائی زبانوں کی ترقی کے لیے بھی کام کیا جائے۔ان تمام ترجمہ مراکز کو ایک مرکزی دارالترجمہ سے کنٹرول کیا جائے اور ضروری رہنمائی و تر بیت فراہم کی جائے ۔دنیا میں موجود کسی بھی ملک نے یہ کام کئے بغیر ترقی نہیں کی۔

8: تمام جامعات اور اضلاع کی سطح پر کئے گئے تحقیقی کام کی ہر سال کسی مناسب جگہ پر نمائش کی جائے اور بہترین محققین و مصنفین کو انعام واکرام اور دیگر مراعات سے نوازا جائے۔شہروں کے علاوہ ہر گاؤں میں ایک دارالمطالعہ قائم کیا جائے جہاں مطالعہ کے شوقین نچلی سطح پر کتاب کو اپنی دسترس میں پائیں اور پڑھنے لکھنے کے ذوق کی آبیاری کا دائرہ وسیع ہو ۔

9: پہلی جماعت سے ایم بی بی ایس اور ایم ایس سی تک کے تمام کورسز آسان فہم زبان میں سی ڈیز پر تیار کئے جائیں اور بازار میں عام سی ڈی یا ڈی وی ڈی کی صورت میں دستیاب ہوں ۔یہ تمام مواد مثالی اسباق کی صورت میں ہو جس سے علوم وفنون کا فہم آسان ہو اس سے ٹیوشن کا مذموم کاروبار خود بخود دم توڑ جائے گا۔رٹے کی بیماری ختم ہو جائے گی اور اس کی جگہ فہم و ابلاغ آ جائے گا۔ملاحظہ فرمائیے ناچیز کی تیار کی ہوئی سینکڑوں ویڈیوز ،مثالی اسباق کی صورت میں youtube پر جن کے پتے ishtiaqahmedishاور ishtiaqahmad1000 اورishtiaqahmed786 ہیں جہاں اردو میں پڑھائے گئے ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل اسباق ہیں۔ یہ اسباق ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے لیے کافی ہیں جو کہتے ہیں کہ اردو میں سائنس نہیں پڑھائی جا سکتی۔حقیقت یہ ہے ہمارے بچوں کو انگریزی میں سائنس نہیں پڑھائی جا سکتی ہے۔حتیٰ کہ برٹش کونسل اور ہزاروں سامراجی این جی اوز کے تعاون سے تیار ہونے والے ماسٹر ٹرینر سائنس کا ایک سبق تک انگریزی میں نہیں پڑھا سکتے ہیں۔ اگر ہمت اور صلاحیت ہے تو سامنے آؤ۔

10: ملک میں فرہنگستانِ علم کے نام سے تمام علوم و فنون کی اصطلاحات اپنے ماحول، زبان اور ان کے تاریخی پسِ منظر کے اعتبار سے وضع کی جائیں اور ان کو عملاً نصاب کا حصہ بنایا جائے۔یاد رہے کہ کوئی بھی قوم پہلے الفاظ و اصطلاحات ایجاد کرتی ہے اور اس کے بعد آلات و اشیاء۔یہ ایک زبردست تخلیقی عمل ہے اس سے گزرنے والی قوم پر تخلیقات و ایجادات کے دروازے بند ہو ہی نہیں سکتے۔

11: ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور ایک میڈیکل کالج ہو ۔مذکورہ بالا اصلا حات کے نتیجہ میں بچے اتنی بڑی تعداد میں ماسڑ ڈگری تک پہنچیں گے کہ ضلعی سطح پر قائم کردہ یہ ادارے کم پڑ جائیں گے اور انہیں تحصیل سطح پر لانا پڑے گا۔ضمناً عرض کرتا چلوں کہ ہمارے حکمران دانستہ طور پر اپنی عوام کو اَن پڑھ رکھ کر ان پر جاگیردارانہ اور وڈیرہ شاہی نظام مسلط کر رہے ہیں۔یہ اصلاحات واحد ذریعہ ہیں ان سے پیچھا چھڑوانے کا۔

12: اصولی طور پر معاشرے کو تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ دار ی ہے (آئین پاکستان کی دفعہ 25 میں واضح ہے) ریاست کے وزیر اور مشیر خود ہی اپنے اپنے سکول سسٹم کھول کر بیٹھ جائیں اور سامراجی مداخلت کے ساتھ ایک کمائی کا بڑا ذریعہ بنا لیں تو ظاہر ہے کہ غریبوں کے لئے قائم کردہ سکول اور کالج خود بخود تباہ ہو جائیں گے۔ان تمام سیاسی مگر مچھوں کے تعلیمی اداروں کو بند کر دیا جائے اور ان کے بچوں کو غریبوں کے بچوں کے ساتھ پڑھنے کے لئے بٹھایا جائے تاکہ کبرو نخوت کے ان مجسموں کی گردنوں میں تنا ہوا سریہ نکل جائے اور وہ انسانیت کی سطح پر اُتر کر اپنے اردگِرد دیکھنا شروع کر دیں ۔

13: دینی مدارس کے نظام میں بھی اصلاحات لائی جائیں۔دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی اور معاشرتی علوم بھی پڑھائے جائیں تاکہ وہاں سے فارغ التحصیل افراد عالمِ دین بننے کے ساتھ ساتھ مستند طبیب اور سائنسدان بھی بن سکیں۔ہر بڑے مدرسہ میں ایک دارالترجمہ بھی قائم ہو ۔قرونِ وسطیٰ کے تحقیقی مراکز اسی طرز پرقائم تھے۔

14: مسجدوں کو بھی بچوں کو پڑھانے کے لیے استعمال میں لایا جائے ۔سکولوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے صبحُ و شام کی کلا سیں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔نیت ٹھیک ہو تو بوہڑ،پیپل اور شیشم وغیرہ کے بڑے بڑے درختوں کے سایہ میں بھی بچوں کو بٹھا کر بھی تعلیم دی جا سکتی ہے ۔فر نیچر ضروری نہیں صفوں اور ٹاٹوں پر بیٹھ کر بچے آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ٹاٹ سسٹم ختم کر کے فر نیچر کا شور مچانا ہمارے سیاسی شعبدہ بازوں اور کمیشن مافیا کی لوٹ مارکے ڈھونگ کے علاوہ کچھ اور نہیں ۔جو لوگ روٹی کو ترستے ہیں انہیں ٹاٹوں پر بٹھا کے ہی پڑھانا ممکن ہے۔ہاں ، پڑھ لکھ کر ترقی کرنے کے بعد وسائل کو یکساں تقسیم کر کے بہتری لائی جا سکتی ہے۔

15:تمام تر مقابلے کے امتحانات اردو میں لیے جائیں گے۔ اس سے موچی اور نائی (یہ پیشے بھی باقی پیشوں کی طرح قابل احترام ہیں) کا بیٹا بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو سکے گا۔ان امتحانات کو انگلش میں لینا ملک کے 99فی صد لوگو ں کو آگے آنے سے روکنے کے مترادف ہے۔سپوکن انگلش اور انگریزی ذریعہ تعلیم کے پاگل پن کو ختم کر کے ایسے ماہرین تیار کئے جائیں جو غیر ملکی زبانوں کے ماہر ہوں اور انہیں اپنی مادری و قومی زبان پر بھی اعلیٰ درجے کاعبور حاصل ہو ۔ان افراد کے ذمہ دوسری زبانوں کے علوم وفنون کو اپنی زبان میں منتقل کرنا ہو اور وطنِ عزیز میں سب سے زیادہ تنخواہ تحقیق کاروں کو ہی دی جائے ۔ وطنِ عزیز کا عدالتی نظام قومی اور صوبائی زبانوں میں ہو۔ اس سے انصاف کی فراہمی آسا ن اور سہل ہو گی۔انگریزی میں لکھے ہوئے عدالتی فیصلے کی چٹھی پورے پورے گاؤں پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

16: بازار میں مختلف قسم کے بینر اور اشتہاری بورڈ صرف اردو یا مقامی زبان میں لکھنے کی اجازت ہو تاکہ قومی زبان قومی تفاخر کا ذریعہ بنے۔

17: غیر ملکی امداد پر ہر قیمت پر پابندی لگائی جائے کیونکہ غیر ملکی امداد ایسی پالیسیوں کے ساتھ مشروط ہوتی ہے جو بالآخر قوم کو جاہل ، غلام اور گنوار بنا کر رکھ دیتی ہے جیسا کہ پاکستان میں خصو صاً صوبہ پنجاب میں تمام تر پالیسی ساز اداروں کو جن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ اور ڈائریکٹو ریٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ لاہور جیسے ادارے شامل ہیں ان کو سامراجیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے اڈوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

18: مسلم ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ تعلیمی منصو بے شروع کیے جائیں ۔ایک دوسرے سے جدید ترین علوم و فنون کا تبادلہ کیا جائے ۔تراجم کے کام میں خصو صاً باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے اور اُمتِ مسلمہ کو جو تعلیم و تحقیق کے میدان میں چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کی حکمت عملی وضع کی جائے ۔

19: سب سے اہم بات یہ کہ قوم کوحقیقی اسلامی تہذیب سے روشناس کرانے اور ان میں بہترین اخلاقی اوصاف پیدا کرنے کے لئے چٹھی جماعت سے سو لہویں جماعت تک مکمل قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھایا جائے ۔ اس سے فرقہ واریت کی جڑیں بھی خود بخود کھوکھلی ہو جائیں گی اور قومی یکجہتی اور ایمان کی پختگی جیسی بے شمار لازوال نعمتیں حاصل ہوں گی۔

حرفِ آخر : مذکورہ بالا اقدامات میں یقیناً مختلف زاویوں سے ترمیم و اضافہ اور بہتر تجاویز ممکن ہیں مگر یہ ناچیز پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہے کہ ان پر عمل کرنے سے پاکستان بیس سالوں میں سپر طاقت بن جائے گا ورنہ جو کچھ تعلیمی نظام کے ساتھ ہو رہا ہے اس سے اس کے وجود کو بے شمار خطرات لاحق ہیں۔اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اسے انتہائی حد تک کمزور کرنے کے آثارو شواہد ہر طرف بکھرے پڑے نظر آتے ہیں۔دشمن نے یہ محاذ اس لئے چنا ہے کہ تمام محاذوں کو جانے والے راستے اسی سے گزرتے ہیں۔آئیے ان تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سینہ سپر ہو جائیں اور حتی المقدور وسائل اکٹھے کر کے جدوجہد اور تعلیم و تحقیق کے راستوں پر چل کر اس وطن کو تر قی و خوشحالی کے بامِ عروج تک پہنچا دیں۔

پاکستان کو سپر طاقت بنانے کا خواب دیکھنے اور اس خواب کی تعبیر کے لیے جدو جہد کرنے والا ایک استاد

اشتیاق احمد ریٹائرڈ معلّم خانیوال فون 03017576815

‏---------- Forwarded message ---------
‏From: Ishtiaq Ahmad
‏Date: Fri, 28 Apr 2023, 6:07 am
‏Subject: document
‏To: ghulam mustafa rana

کھلا خط بنام چئیرمین پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور/وزیرِ اعلیٰ پنجاب /وزیرِ تعلیم پنجاب/وزیرِ اعظم پاکستان/وفاقی وزیرِ تعلیم اسلام آباد/سیکریٹری تعلیم (سکولز) لاہور/وفاقی سیکریٹری تعلیم اسلام آباد/صدرِ اسلامی جمہوریہ پاکستان /عمران خان (چئیرمین تحریک انصاف)/ سراج الحق (امیر جماعت اسلامی) و دیگر ذمّہ داران

عنوان: پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے یکساں قومی نصاب کے نام پر سکولوں میں مفت بھیجا گیا انگلش میڈیم نصاب اور "یکساں اور انقلابی نظامِ تعلیم کے لیے سفارشات"

السلام علیکم: ہمیں امید ہے کہ آپ ٹھنڈے دل سے ہماری گذارشات سنیں گے اور صوبے کے کروڑوں بچوں پر گدھے کی طرح لادا ہو ا بوجھ ہلکا کرکے ان پر احسانِ عظیم کریں گے۔ عالی جناب کوئی گھرہو، دفترہو ، کارخانہ ہو یا کوئی اور نظام، اس کے لیےطے کردہ اُصولوں اور ضابطوں کے مطابق ہی چل سکتا ہے۔ کوئی شخص گاڑی بغیر طے شدہ ضابطوں کے کسی مصروف شاہراہ پر چلائے گا تو یقیناً موت کے منہ میں چلا جائے گا۔اس ملک کے مختلف نظاموں کو چلانے کے لیے سب سے اہم ضابطہ آئین پاکستان ہے ۔آئینِ پاکستان ہے۔

قرآنِ پاک کی سورہ ابراہیم میں ہے " اللہ نے جتنے بھی پیغمبر بھیجے وہ قوم کی زبان میں بھیجے تاکہ بات کو کھول کے سمجھا سکیں"اس آیت میں سمجھنے اور سمجھانے کی فطرت بیان کی گئی ہے جو فقط قوم کی زبان ہی ہے۔کیا انگریزی ہماری قومی زبان ہے یا مادری؟دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک نے قرآن کے اس آفاقی پیغام کے مطابق اپنی قومی اور مادری زبانوں میں نصاب تیار کرکے اپنی قوم کو پڑھایا ہے ۔اسے قوم بھی بنایا جس ترقی کی منازل بھی طے کیں

قرآن کے اسی آفاقی اُصول کے مطابق ہمارے اکابرین نے آئین پاکستان کی دفعہ 251 تشکیل دی جو ہر سطح پر اردو کو نافذ کرنے کی اب تک دُہائی دے رہی ہے۔اس دفعہ کے مندرجات ملاحظہ فرمائیں۔

251 قومی زبان(1) پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور یومِ آغاز سے پندرہ برس کے اندر اندر اس کو سرکاری اور دیگر اغراض کے لیے استعمال کرنے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

(2) شق (1) کے تابع انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لیے استعمال کی جائے گی جب تک اس کے اردو میں تبدیل کیے جانے کے انتظامات نہ ہو جائیں۔

(3) قومی زبان کی حیثیت متاثر کیے بغیرکوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم و ترقی اور اس کے استعمال کے لیے اقدامات تجویز کر سکے گی۔

آئینِ پاکستان کی مذکورہ تینوں شقوں میں انگریزی کو ہٹا کر اردو کو نافذ کرنے کا حکم ہے۔مگر موجودہ حکومت پوری ڈھٹائی کےساتھ آئین کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اردو کو ہٹا کر انگریزی نافذ کر رہی ہے اور ظلم یہ کہ پرائمری سطح سے ہی انگریزی نصاب رائج کر رہی ہے۔بچوں پر پرائمری سطح پر لادا گیا انگریزی کا مضمون ہی اس کی عمر ، نفسیات اور صلاحیتوں سے کہیں بھاری ہے۔اس کے ساتھ ریاضی ،سائنس، تاریخ اور جغرافیہ بھی انگریزی میں جبراً پڑھانا نسلِ نو پر نصابی دہشت گردی کا ارتکاب ہے۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے چھٹی سے آٹھویں جماعت تک سائنس ، ریاضی ، تاریخ اور جغرافیہ کی اردو میں کتابیں سرے سے ہی نہیں چھاپیں اور نہ ہی کسی نجی پبلشر کو چھاپنے کی اجازت دی تاکہ رفتہ رفتہ اردو میڈیم نصاب ناپید ہو جائے۔اس کے علاوہ مقتدرہ قومی زبان اور اردو سائنس بورڈ پر بھی اردو میں نصابی مواد چھاپنے پر 20 سالوں سے سامراجی ایجنٹوں نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ یہ آئینِ پاکستان کی واضح اور صریح خلاف ورزی نہیں تو اور کیا ہے؟۔یہ جنگل کے قانون سے بھی بدتر قانون ہے جو اس ملک کے حکمران چلا رہے۔حکومت کسی بڑے سے بڑے دہشت گرد کو سزا نہیں دے سکتی ہے کیونکہ وہ خود ایک طرح کی نصابی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہی ہے۔دہشت گرد چند سو یا چند ہزار لوگوں کو مارتے ہیں مگر نصابی دہشت گرد کروڑوں بچوں کو سسک سسک کر مرنے اور جہالت کی زندگی گذارنے پر مجبور کر رہے ہیں۔دنیا میں تعلیم کی درجہ بندی میں ہمارا ملک کہاں کھڑا ہے ؟ کیا یہ ہمارے پالیسی سازوں اور حکمران اشرافیہ کے لیے چلّو بھر پانی میں ڈوب مرنے کے لیے کافی نہیں ہے؟ان ہتھکنڈوں کے ذریعے غریب بچوں کو تعلیم سے دور اور ذہنی مریض بنانے سے بہتر ہے حکومت ان کو ایک جگہ پر جمع کر کے ایٹم بم پھینک دے۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ورنہ ممکن ہے اسے کبھی چلانے کا موقع نہ ملے۔ملک کو اندر سے کمزور اور سامراجی غلام بنا کر اسے لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے سب سے بڑے حربے کے طور پر انگریزی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔قومی کا لفظ جن جن شعار کے ساتھ استعمال ہوتا ہے ان سب کو کھرچ کھرچ کر نکالا جا رہا ہے۔اس سے قومی یکجہتی پیدا ہوتی ہے یا انتشار؟

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو۔۔۔۔ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر (اقبالؒ)

آئینِ پاکستان کی اس دفعہ کو بغور پڑھیں تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ انگریزی کے نفاذ کے لیے اس میں ایک لفظ بھی موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اور معنی انگریزی کی حمایت میں کشید کیا جا سکتا ہے چاہے سارے نام نہاد ماہرینِ تعلیم سر کے بل کھڑے ہو جائیں۔ اس دفعہ کے مطابق " عدالتِ عظمیٰ کا 8 ستمبر 2015 کا فیصلہ بھی موجود ہے جس میں اردو کے فوری اور ہمہ جہتی نفاذ کا حکم دیا گیا ہے مگر آپ کی حکومت اردو میں پہلے سے نافذ شدہ نصاب کو آئین پاکستان اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو پاؤں تلے روندتے ہوئے پوری ریاستی مشینری کی طاقت سے کھرچ کھرچ کر نکال رہی ہے اور اس کی جگہ پر انگلش میڈیم نصاب رائج کر رہی ہے۔میرے جیسے شخص سے اگر کوئی قانون شکنی ہو جائے تو مجھے یقین ہے مجھے اور میری آنے والی نسلوں کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا مگر اقتدار سے وابستہ افراد کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔حکومتوں کا یہی رویہ معاشرے میں ہونے والے جرائم کی بنیاد ہے ۔ لوگوں کو ان کےآئینی حق سے محروم کریں گے تو لوگ حق حاصل کرنے کے لیے قانون ہاتھ میں لیں گے۔اس کا مطلب یہ ہے اب ہمارے بچوں کو اپنی زبان میں پڑھنے کا حق نہیں ہے۔آئینِ پاکستان نے جو حق دیا ہے اسے چھیننے والوں کی سزا بھی آئین ہی میں لکھی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ۔دفعہ 6سنگین غداری(1)کوئی شخص دستور کی تنسیخ کرے یا معطل کرے یا التوا میں رکھےیا تنسیخ یا تذلیل کرےیا ایسا کرنے کی کوشش کرے یا سازش کرےیا تخریب کاری کرنے کی کوشش کرے یا سازش کرے یا معطل یا التوا میں رکھنے کی سازش بذریعہ طاقت کے استعمال یا طاقت کے دکھاوے سےیا دیگر غیر آئینی ذریعہ سے کرے تو سنگین غداری کا مجرم کہلائے گا

عالی جناب! نصابِ تعلیم کے لیے بحثیتِ مسلمان اوربحثیتِ پاکستانی شہری جب ہم پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی یکساں قومی نصاب کے نام سے مفت سکولوں میں بھیجی ہوئی کتابیں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اب کی بار لاکھوں اساتذہ اور کروڑوں بچوں کو غلامی اور جہالت کی بدترین شکل کا سامنا ہے ۔ پہلی سے آٹھوین جماعت تک انگریزی کی کتابیں اس قدر مشکل اور فطرت گریز ہیں کہ اساتذہ کا انہیں عام بچوں کو پڑھانا اور بچوں کا پڑھنا ناممکن ہے۔ کیونکہ کیمبرج اور آکسفورڈ کی طرز پر بنائی گئی کتابیں ، ان کی عبارتیں، جملے اور بھاری بھرکم گرامر کی مشقیں جن میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات سبق سے اخذ کر کے دینا ایک ایم اے انگریزی کے لیے بھی انتہائی مشکل ہے۔ انہیں بچوں کو سمجھانا تو بالکل ہی ناممکن ہے۔یہ کتابیں ان لوگوں کے بچوں کے لیے ہیں جن کی مادری یا قومی زبان انگریزی ہے ۔ہمارے بچوں کے لیے انگریزی کے اسباق میں ایسے سادہ جملے اور فقرے دیے جا سکتے ہیں جنہیں بچوں کو ترجمے کے ساتھ پڑھایا اور سمجھایا جا سکے۔اس کا مقصد بچوں کو تعلیم سے باغی اور قومی وحدت کی علامت قومی زبان ختم کر کے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے علاوہ کچھ اور معلوم نہیں ہوتا۔

انگریزی کے علاوہ سائنس، ریاضی، تاریخ اور جغرافیہ کی کتابیں بھی انگریزی میں دی گئی ہیں۔قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ہمارے بچے سائنس ، ریاضی ، تاریخ اور جغرافیہ اردو میں پڑھ رہے ہیں۔ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہماری وزارتِ تعلیم کے پاس ہے جو ان بچوں کو گھول کر پلائی جائے اور بچے سب کچھ یکدم انگریزی میں پڑھنا شروع کر دیں۔ عالی جناب ! آپ سے درخواست ہے کہ اس نصاب کو بنانے والے اور اس کی یکساں قومی نصاب کے نام پر بچوں کو انگریزی میں ریاضی ، سائنس، تاریخ اور جغرافیہ کی کتابیں دینے کی سفارش کرنے والے ماہرین کو ہمارے سکول میں یا ہماری طرح کے کسی بھی سکول میں بھیجیں اور ان سے کہیں کہ ہمارے بچوں کو ان کتابوں کا صرف ایک سبق انگریزی میں اس طرح پڑھا کر دکھائیں کہ بچے سمجھ جائیں اور سمجھی ہوئی بات کو بچے اپنے لفظوں میں انگریزی میں بیان کر سکیں۔سبق دس دفعہ پڑھا لیں تب بھی نہیں سمجھا سکیں گے۔ان کے پڑھانے کی ویڈیو پی ٹی وی پر نشر کر دیں اور لوگوں سے رائے لے لیں ۔ان نصاب سازوں اور نام نہاد ماہرینِ تعلیم کی لیاقت و قابلیّت کا پول کھل جائے گا۔اس کے مقابلے میں راقم الحروف کی اردو میں بنائی ہوئی 1000 سے زائد سائنسی نصابی ویڈیوز میں سے چند دکھا دیں جو یوٹیوب پر دستیاب ہیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ناچیز کے تین عدد یو ٹیوب پر چینل ہیں جن کے نام اسی مضمون کے حصہ "سفارشات" میں درج ہیں۔ میرا چیلنج ہے کہ انگلش میڈیم کے چیمپئین چوتھی یا پانچویں جماعت کی سائنس ،ریاضی، تاریخ اور جغرافیہ کا ایک بھی سبق انگریزی میں نہیں پڑھا سکیں گے۔اگر ناظرین و سامعین کے سامنے یہ نہ پڑھائیں تو انہیں سخت سے سخت سزائیں دی جائیں بلکہ آئین توڑنے کی دفعہ 6 میں تحریر سزا کا مستحق قرار دیا جائے۔اگران کے مقابلے میں میرے اردو میں پڑھائے ہوئے اسباق عام سکولوں کے بچے نہ سمجھیں تو مجھے بھی مذکورہ سزا کا مستحق قرار دیا جائے۔آئینِ پاکستان ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق پابندی انگلش میڈیم نصاب کی طباعت پر لگنی چاہیے تاکہ غریب اور امیر سب بچے قومی زبان میں تعلیم حاصل کریں۔یہی سکیم ہے جو دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں رائج ہے اور یہی عوام کو ایک قوم کی لڑی میں پرو سکتی ہے نہ کہ آپ کا نصاب کے نام پر جبراً نافذ کیا ہوا پاگل پن۔

جنابِ عالی! خدا کے لیے نئی نسل پر رحم کیجئے، اسے رٹے کی چکی میں پس پس کر جاہل رٹو طوطے بننے سے بچائیے۔آپ صرف ایک پہلو کو مدِ نظر رکھ کر تجزیہ کریں کہ انگلش میڈیم کی وجہ سے جو طلبا و طالبات کو ٹیوشن پڑھنا پڑتی ہے ، اس کے لیے وقت اور صلاحتیں خرچ ہوتیں ہیں ، ان سب کا پیسوں میں تخمینہ لگایا جائے تو یقین کریں دس سالوں میں اتنی رقم جمع ہوگی جس سے پورے پاکستان کی سڑکیں شیشے کی بن سکیں گی۔ رقم تو ایک طرف جو ہم پر تحقیق، تخلیق اور ایجادات کے دروازے بند ہیں اس کے لامحدود نقصانات کا اندازہ تو ہم کبھی کر ہی نہیں سکیں گے اور ان بند دروازوں کو کھولے بغیر تو ترقی یافتہ قوم بننے کا ہم خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔کیا ہم اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکتے کہ ہماری غربت کے پیچھے ہمارا غلام انگلش میڈیم نظامِ تعلیم ہے؟۔ پوری دنیا میں کسی ایک ملک کا نام لیں جو ہماری طرح اپنی قومی زبان چھوڑ کر کسی اور ملک کی زبان میں اپنی نسلوں کو پڑھا کر ترقی یافتہ بن گیا ہو۔

بارِ دگر عرض ہے کہ آپ کی انگلش میڈیم کُتب پر جن مصنّفین کے نام لکھے ہیں ان سے کہیں کہ وہ اپنی لکھی ہوئی کتابوں کو انگریزی میں پڑھا کر دکھائیں۔ ان سب کی ویڈیوز بنا کر سرکاری اور نجی ٹی وی چینلوں پر نشر کریں تاکہ ان کا تماشا ہم بھی دیکھیں۔یہ لوگ موت کو قبول کر لیں گے مگر ان کو پڑھا کر دکھانا قبول نہیں کریں گے۔بلکہ میرا چیلنج ہے کہ پورے پاکستان میں ایک بھی شخص ایسا نہیں ڈھونڈا جا سکتا جو ان انگلش میڈیم کتابوں کو ہمارے عام بچوں کو پڑھا کر دکھائے۔ہمت ہے تو کر کے دکھائیں بقولِ ناصرؔ کاظمی

ہم بُلائیں تو کیا تماشا ہو ۔۔۔وہ نہ آئیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے۔۔۔ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

نوٹ: اس خط کو سفارشات سمیت حسبِ توفیق زیادہ سے زیادہ تعداد میں چھپوا کر یا فوٹو سٹیٹ کروا کر تقسیم کریں

یکساں اور انقلابی نظامِ تعلیم کے لیے سفارشات

انقلابی نظامِ تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ایسا تعلیمی نظام جو انفرادی اور اجتماعی طور پر تمام اساتذہ اور طلبا و طالبات کی تربیت کرے۔ انہیں اچھا مسلمان اور محب، وطن شہری بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ قوم پر تحقیق، تخلیق اور ایجادات کے دروازے کھولے۔قوم کو ہر لحاظ سے خود کفیل بنائے۔آئیے ایسے انقلابی نظامِ تعلیم کے لیے سفارشات کو مرحلہ وار دیکھتے ہیں

یہ نظام پہلی جماعت سے پی ایچ ڈی تک کے مراحل پر مشتمل ہوگا

1: پہلی سے پانچویں جماعت تک صرف دو کتابیں ہوں پہلی اردو اور دوسری ریاضی کی۔سائنس ،معاشرتی علوم،اسلامیات ،جغرافیہ اور دیگر علوم کی بابت مضامین سادہ اور آسان پیرائے میں اردو کی کتا ب میں ہی ہوں ۔اس کے علاوہ ریاضی کی کتاب میں جمع تفریق اور ضرب تقسیم کی بنیادی مہارتیں اور روز مرہ کی پیمائشیں وغیرہ ہوں ۔املا اور ریاضی کی مہارتوں کو پختہ کرنے کے لیے تختی اور سلیٹ کا استعمال لازمی ہو ۔بھاری بھرکم کاپیوں ،دستوں اور پنسلوں کا بوجھ صرف اشرافیہ کے چونچلے ہیں اور مفت تعلیم میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

2: چٹھی سے آٹھویں جماعت تک اردو اور ریاضی کے ساتھ ایک تیسری کتاب سائنس کی ہو ۔سائنس کی یہ کتاب ماحول سے مربوط سائنسی تصورات پر مشتمل ہو ۔انسانیات، حیوانیات ور نباتیات کا علم ماحول اور تہذیب و ثقافت سے مربوط ،سادہ اور آسان اصطلاحات میں ہو۔انگریزٰی یا کوئی دوسری زبان لازمی طور پر نہیں نافذ نہ کی جائے۔

3: نہم و دہم میں اردو اور ریاضی کی لازمی حیثیت کے ساتھ طبیعات ،کیمیا ،حیاتیات اور کمپیوٹر کے آسان فہم کورسز پڑھائے جائیں ۔ان تمام کورسز کا میعار ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہو ۔ان مضا میں کے ساتھ آرٹس کے تمام مضامین شامل ہوں ۔طالب علموں کو مختلف زبانیں پڑھنے کی بھی اجازت ہو گی مگر اختیا ری حیثیت سے ۔پہلی جماعت سے میٹرک تک کے اس نصابی خاکے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہو گی کہ پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا کم از کم ۸۰ سے ۹۰ فی صد حصہ بلا کسی رکاوٹ کے میٹرک پاس کر جائے گا جبکہ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا صرف ۱۰ فی صد حصہ میٹرک کر پاتا ہے ۔باقی ۹۰ فی صد انگریزی میں الجھ کر تعلیم کو خیرباد کہہ دیتا ہے۔ذرا سو چیے کہ یہ ایک عظیم انقلاب نہیں ہو گا ؟

4: گیارہویں اور بارہویں جماعت میں اردو ، اسلامیات ،مطالعہ پاکستان کی لازمی حیثیت کے ساتھ تمام تر سائنسی اور غیر سائنسی مضامین اردو میں ہی پڑھائے جائیں جیسا کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں سندھی اور اردو میں پڑھائے جاتے ہیں اس کے لئے بھارت میں چھپنے والی سائنسی مضامین کی تمام کتابیں ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں جو کہ ncertbooks.comپر دستیاب ہیں ۔انٹرمیڈیٹ میں بھی طالب علموں کو تمام تر مضامین قومی زبان میں ہی پڑھائے جا ئیں یہاں بھی دیگر زبانیں اختیاری طور پر پڑھانے کے انتظامات ہوں ۔

5: بی ایس سی اور ایم ایس سی کے تمام تر کورسز فوری طور پر اردو میں تیار کئے جائیں ۔ زیادہ تر کورسز اردو یو نیورسٹی کراچی اور مولانا ابوالکلام آزاد یونیورسٹی حیدر آباد دکن نے پہلے سے تیار کئے ہوئے ہیں جنہیں ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں رائج ہونے کے لیے قوت نافذہ کا انتظارہے۔جو کورسز بچ گئے ہیں انہیں بھی جلد از جلد ترجموں کے سانچے میں ڈھال لیا جائے۔پہلے پانچ سالوں میں ہر مضمون کا امتحان اردو میں دینے کی اجازت دی جائے ۔ اس سے خود بخود ہر سطح کا نصاب ترجمہ ہونا شروع ہو جائے گا۔قرین قیاس ہے کہ سب سے پہلے ایم بی بی ایس کا نصاب ترجمہ کیاجائے۔

6: ہر یونیورسٹی میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کی طرز کا دارالترجمہ قائم کیا جائے جہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات کے ساتھ ساتھ دیگر کتابوں کی تصنیف و اشاعت کا ہدف مقرر کیا جائے۔10 سالوں میں یونیورسٹیوں کی لائبریریاں ہمارے اپنے لوگوں اور اپنی زبان میں لکھی ہوئی کتابوں سے بھر جائیں گی۔اس طرح خود انحصاری اور تحقیق و تخلیق کی وہ دولت ہاتھ آئے گی جس کے طفیل پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کا ۶۰ سے ۷۰ فی صد حصہ ماسٹر ڈگری کا حامل ہو گا او ر ایجادات کے صدیوں سے بند دروازے کھل جائیں گے۔ذرا موجودہ صورت حال دیکھئے کہ ہمارے بچوں کا 1 فی صد حصہ بھی بی اے ،بی ایس سی نہیں کر پاتا۔ راستے میں تعلیم سے دلبرداشتہ ہو کر جو وسائل ضائع ہوتے ہیں وہ تو کسی حدو حساب میں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایم بی بی ایس اور ایم ایس سی وغیرہ میں ہمارے طلبہ طلباء و طالبات اپنے کورسز کو صرف پانچ سے دس فی صد تک سمجھتے ہیں جبکہ باقی سارا رٹا ہوتاہے۔ان اقدامات کی بدولت رٹا صرف پانچ سے دس فی صد تک رہ جائے گا جبکہ ۹۰ سے ۹۵ فی صد تک نفسِ مضمون کا فہم ہو گا۔یہ ایک بڑے انقلاب کی صورت ہو گی۔

7: جامعات کے علاوہ ہر ضلع میں ایک ترجمہ مرکز قائم ہو جہاں دیگر زبانوں سے علوم وفنون منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اور علاقائی زبانوں کی ترقی کے لیے بھی کام کیا جائے۔ان تمام ترجمہ مراکز کو ایک مرکزی دارالترجمہ سے کنٹرول کیا جائے اور ضروری رہنمائی و تر بیت فراہم کی جائے ۔دنیا میں موجود کسی بھی ملک نے یہ کام کئے بغیر ترقی نہیں کی۔

8: تمام جامعات اور اضلاع کی سطح پر کئے گئے تحقیقی کام کی ہر سال کسی مناسب جگہ پر نمائش کی جائے اور بہترین محققین و مصنفین کو انعام واکرام اور دیگر مراعات سے نوازا جائے۔شہروں کے علاوہ ہر گاؤں میں ایک دارالمطالعہ قائم کیا جائے جہاں مطالعہ کے شوقین نچلی سطح پر کتاب کو اپنی دسترس میں پائیں اور پڑھنے لکھنے کے ذوق کی آبیاری کا دائرہ وسیع ہو ۔

9: پہلی جماعت سے ایم بی بی ایس اور ایم ایس سی تک کے تمام کورسز آسان فہم زبان میں سی ڈیز پر تیار کئے جائیں اور بازار میں عام سی ڈی یا ڈی وی ڈی کی صورت میں دستیاب ہوں ۔یہ تمام مواد مثالی اسباق کی صورت میں ہو جس سے علوم وفنون کا فہم آسان ہو اس سے ٹیوشن کا مذموم کاروبار خود بخود دم توڑ جائے گا۔رٹے کی بیماری ختم ہو جائے گی اور اس کی جگہ فہم و ابلاغ آ جائے گا۔ملاحظہ فرمائیے ناچیز کی تیار کی ہوئی سینکڑوں ویڈیوز ،مثالی اسباق کی صورت میں youtube پر جن کے پتے ishtiaqahmedishاور ishtiaqahmad1000 اورishtiaqahmed786 ہیں جہاں اردو میں پڑھائے گئے ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل اسباق ہیں۔ یہ اسباق ان لوگوں کا منہ بند کرنے کے لیے کافی ہیں جو کہتے ہیں کہ اردو میں سائنس نہیں پڑھائی جا سکتی۔حقیقت یہ ہے ہمارے بچوں کو انگریزی میں سائنس نہیں پڑھائی جا سکتی ہے۔حتیٰ کہ برٹش کونسل اور ہزاروں سامراجی این جی اوز کے تعاون سے تیار ہونے والے ماسٹر ٹرینر سائنس کا ایک سبق تک انگریزی میں نہیں پڑھا سکتے ہیں۔ اگر ہمت اور صلاحیت ہے تو سامنے آؤ۔

10: ملک میں فرہنگستانِ علم کے نام سے تمام علوم و فنون کی اصطلاحات اپنے ماحول، زبان اور ان کے تاریخی پسِ منظر کے اعتبار سے وضع کی جائیں اور ان کو عملاً نصاب کا حصہ بنایا جائے۔یاد رہے کہ کوئی بھی قوم پہلے الفاظ و اصطلاحات ایجاد کرتی ہے اور اس کے بعد آلات و اشیاء۔یہ ایک زبردست تخلیقی عمل ہے اس سے گزرنے والی قوم پر تخلیقات و ایجادات کے دروازے بند ہو ہی نہیں سکتے۔

11: ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور ایک میڈیکل کالج ہو ۔مذکورہ بالا اصلا حات کے نتیجہ میں بچے اتنی بڑی تعداد میں ماسڑ ڈگری تک پہنچیں گے کہ ضلعی سطح پر قائم کردہ یہ ادارے کم پڑ جائیں گے اور انہیں تحصیل سطح پر لانا پڑے گا۔ضمناً عرض کرتا چلوں کہ ہمارے حکمران دانستہ طور پر اپنی عوام کو اَن پڑھ رکھ کر ان پر جاگیردارانہ اور وڈیرہ شاہی نظام مسلط کر رہے ہیں۔یہ اصلاحات واحد ذریعہ ہیں ان سے پیچھا چھڑوانے کا۔

12: اصولی طور پر معاشرے کو تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ دار ی ہے (آئین پاکستان کی دفعہ 25 میں واضح ہے) ریاست کے وزیر اور مشیر خود ہی اپنے اپنے سکول سسٹم کھول کر بیٹھ جائیں اور سامراجی مداخلت کے ساتھ ایک کمائی کا بڑا ذریعہ بنا لیں تو ظاہر ہے کہ غریبوں کے لئے قائم کردہ سکول اور کالج خود بخود تباہ ہو جائیں گے۔ان تمام سیاسی مگر مچھوں کے تعلیمی اداروں کو بند کر دیا جائے اور ان کے بچوں کو غریبوں کے بچوں کے ساتھ پڑھن

Address

West Canal Road
Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Monasib.pk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Monasib.pk:

Share