Nayab collection

Nayab collection If you’re looking for stylish, affordable, and high-quality clothing, Nayab Collection is definitely worth checking out!

20/06/2026

اس میں عورت کا قصور کہاں تھا؟

نکاح کے فوراً بعد ہی اس نے اپنے شوہر کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا۔ وہ صبح فجر سے بھی پہلے جاگ جاتی کیونکہ اس کا شوہر صبح پانچ بجے ڈیوٹی پر جاتا تھا۔ وہ اس کے اٹھنے سے پہلے تازہ جوس تیار کرتی، انڈے اور پراٹھے بناتی، اچھا سا ناشتہ تیار کرتی، اس کے دفتر کا سامان ترتیب سے رکھتی، اس کی دوائیاں نکال کر پانی کے گلاس کے ساتھ تیار رکھتی۔

جب اس کا شوہر وضو اور نماز کے لیے جاتا تو وہ اس کے لیے جائے نماز بچھاتی۔ نماز کے بعد پانی اور دوائی اس کے ہاتھ میں دیتی، پھر محبت سے اس کا ناشتہ سامنے رکھتی۔ جب وہ دفتر جانے لگتا تو اس کا لیپ ٹاپ اور موبائل سنبھال کر دروازے تک چھوڑنے جاتی۔

اس کے جانے کے بعد چند لمحے بستر پر لیٹ کر سوچتی کہ اس نے ایک اچھی زندگی پانے کی امید میں کیا کچھ کھو دیا ہے، لیکن پھر خود کو سنبھال کر پورے گھر کی صفائی اور ترتیب میں لگ جاتی۔

شام چار بجے جب اس کا شوہر واپس آتا تو وہ دروازے پر اس کا استقبال کرتی، اس کا سامان رکھتی، چائے اور ہلکے اسنیکس تیار کرتی، تازہ جوس لا کر دیتی اور دن بھر کی باتیں کرنا چاہتی۔ مگر وہ اکثر اپنے موبائل میں مصروف رہتا۔

اس کے باوجود وہ روزانہ اسی امید کے ساتھ اس کی خدمت کرتی رہی۔ رات کا کھانا وقت پر تیار کرتی، چائے یا کافی کی ضرورت محسوس ہونے سے پہلے ہی اس کے سامنے رکھ دیتی۔ اسے معلوم تھا کہ چائے کے ساتھ کچھ کھانے کی عادت ہے، اس لیے ہر بار کچھ نہ کچھ ساتھ ضرور پیش کرتی۔

رات گئے تک وہ اس کے ساتھ جاگتی رہتی۔ اس کی ٹانگیں دباتی، پاؤں دباتی، اس سے چند باتیں کرنا چاہتی، اس کی توجہ چاہتی، لیکن وہ نہ جانے کس بات کی سزا اسے دے رہا تھا۔

اس نے اس کے کھانے، پینے، سونے، جاگنے، کپڑوں، گھر کی صفائی اور ہر ضرورت کا خیال رکھا۔ گھر ہمیشہ صاف ستھرا ملتا، کپڑے دھلے ہوئے، استری شدہ اور اپنی جگہ پر رکھے ہوتے۔ وہ بہترین کھانا بناتی، خدمت کرتی، حتیٰ کہ اپنی ذات کو بھی ساتھ ساتھ سنبھالتی تیار ہوکر رہتی کہ شوہر کو کہیں کسی بات کا گلا۔شکوہ نا رہے

مگر اس کے باوجود شوہر کی نظر میں شاید اس کی کوئی قدر نہ تھی۔

کچھ ہی دنوں بعد عید آئی۔ یہ اس کی شادی کے بعد پہلی عید تھی۔ حق تو یہ بنتا تھا کہ اس کا شوہر اس سے پوچھتا کہ اسے کیا پسند ہے، کیا خریدنا ہے، عید کیسے منانی ہے، اس کی خوشی کا کیسے خیال رکھنا ہے۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔

اس نے اپنی بیوی کی خوشیوں کے بارے میں سوچنے کے بجائے اپنے دوست کو فون کیا اور کہا کہ تم اپنی فیملی کے ساتھ عید ہمارے گھر گزارنے آ جاؤ۔

چند دن بعد اس کا دوست اور اس کی بیوی چار دن کے لیے ان کے گھر آ گئے۔ شاید اصل آزمائش اب شروع ہونے والی تھی۔

شوہر نے اپنی بیوی سے صاف کہہ دیا:

"میرے دوست اور اس کی بیوی جو کہیں، جیسے کہیں، ویسے ہی کرنا۔ انہیں کسی قسم کی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔"

وہ عورت پہلے ہی خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی تھی۔ اس نے دل و جان سے ان مہمانوں کی خدمت شروع کر دی۔ ان کی پسند کا کھانا بنایا، وقت پر چائے، جوس اور پھل پیش کیے، ان کے کپڑے دھوئے، استری کیے، ہر وقت ان کی ضرورت کا خیال رکھا۔

وہ اس قدر محتاط تھی کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے، کہیں کوئی بات رہ نہ جائے، کہیں اس کے شوہر کو دوبارہ ناراض ہونے کا موقع نہ مل جائے۔

مگر بعض اوقات کچھ لوگ مہمان بن کر نہیں آتے، بلکہ کسی کے گھر کا سکون چھیننے آتے ہیں۔

چار دن بعد جب وہ دونوں میاں بیوی واپس جانے لگے تو جاتے جاتے ایک جملہ کہہ گئے:

"ہماری تو صحیح خدمت ہی نہیں ہوئی۔"

یہ سن کر وہ عورت حیران رہ گئی۔ وہ تو ان چار دنوں میں اپنی ذات تک بھول چکی تھی۔ وہ ایک انسان نہیں بلکہ ایک مشین بن گئی تھی جو صرف دوسروں کی خدمت کر رہی تھی۔

مگر ان کے جانے کے بعد ایک اور قیامت اس کا انتظار کر رہی تھی۔

اس کے شوہر نے اس پر الزام لگانا شروع کر دیا کہ:

"تم نے میرے دوست اور اس کی بیوی کی صحیح خدمت نہیں کی۔"

وہ بار بار پوچھتی رہی:

"میرا قصور کیا تھا؟ میں نے ان کی پسند کا کھانا بنایا، ان کے کپڑے دھوئے، استری کیے، ان کے ساتھ وقت گزارا، ان کی ہر ضرورت پوری کی۔ آخر مجھ سے کیا کمی رہ گئی؟"

مگر جواب میں صرف ایک ہی الزام ملتا رہا:

"تم نے صحیح خدمت نہیں کی۔"

وہ رات بھر اپنا قصور جاننے کی کوشش کرتی رہی۔ سوال کرتی رہی، وضاحت مانگتی رہی، مگر رات ڈیڑھ بجے تک بات صرف الزاموں تک محدود نہ رہی بلکہ ایک بار پھر تشدد پر ختم ہوئی۔

اس رات بھی وہ ایک کونے میں بیٹھی روتی رہی۔

وہ سوچتی رہی:

"میں نے یہ سب کس لیے کیا تھا؟ میں نے تو اپنے شوہر کی عزت رکھی تھی، اس کے مہمانوں کی عزت رکھی تھی، پھر مجھے یہ صلہ کیوں ملا؟"

وقت گزرتا رہا۔

کچھ عرصے بعد اس کے شوہر نے ایک اور دوست اور اس کی فیملی کو دعوت دینے کا ارادہ کیا۔

اس بار اس عورت نے نہایت ادب اور نرمی سے صرف اتنا کہا:

"اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کے مہمانوں کی صحیح خدمت نہیں کر پاتی تو بہتر ہے آپ انہیں باہر کھانا کھلا دیں، شاید مجھ سے واقعی کوئی کمی رہ جاتی ہو۔"

بس اتنا کہنا تھا کہ شوہر دوبارہ غصے میں آ گیا۔ اس نے پھر اس پر تشدد کیا اور اسے کمرے سے نکال دیا۔

وہ روتی ہوئی دوسرے کمرے میں جا بیٹھی۔

اس کا اپنا کوئی سہارا نہ تھا، نہ کوئی ایسا تھا جو اس کی بات سنتا۔

اس نے سجدے میں جا کر اللہ سے فریاد کی:

"یا اللہ! میں نے اس رشتے کو بچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ اپنی خوشیاں قربان کیں، اپنی خواہشیں چھوڑ دیں، اپنی ذات بھلا دی۔ پھر بھی مجھے عزت کیوں نہ ملی؟"

بالآخر کچھ عرصے بعد وہ اپنے میکے آ گئی۔

مگر اذیت ختم نہ ہوئی۔

رات رات بھر فون پر اسے یہی سننے کو ملتا:

"تم اچھی بیوی نہیں ہو۔ تم خدمت کرنا نہیں جانتیں۔ تم نے نہ میرا حق ادا کیا اور نہ میرے دوستوں کا۔"

وہ مہینوں انتظار کرتی رہی کہ شاید ایک دن وہ اسے لینے آ جائے، شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، شاید وہ رشتہ بچ جائے۔

مگر ایسا نہ ہوا۔

شوہر اپنے دوست اور اس کی بیوی کی باتوں میں آتا گیا۔ وہی لوگ جو اس کے گھر میں رہتے رہے، اس کا کھاتے رہے، اس کی مہمان نوازی سے فائدہ اٹھاتے رہے، آخرکار اسی کے خلاف باتیں کرتے رہے۔

اور ایک دن ایسا آیا کہ شوہر نے دوسروں کی باتوں پر یقین کرتے ہوئے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا۔

اس نے اپنے گھر کو بچانے اور بسانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر آخرکار وہ ایک ایسے معاشرے کے سامنے ہار گئی جہاں مرد کا ایک الزام عورت کے دامن سے برسوں تک نہیں دھلتا۔

اب سوال یہ ہے...

قصور کس کا تھا؟

اس عورت کا، جس نے دن رات خدمت کی؟

ان مہمانوں کا، جنہوں نے احسان کے بدلے الزام دیے؟

یا اس شوہر کا، جس نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھنے کے باوجود دوسروں کی باتوں پر یقین کر لیا؟

فیصلہ آپ خود کیجیے۔
Copied.

20/06/2026

"اگر آپ کو 10 کروڑ روپے مل جائیں لیکن موبائل ہمیشہ کے لیے چھوڑنا پڑے، تو کیا مان جائیں گے؟ 😄"

20/06/2026
رات کے 2 بج رہے تھے۔ چھت کے کنڈے سے موت کا پھندا لٹک رہا تھا۔ 18 سالہ نوجوان نے رسی گلے میں ڈالی، آنکھیں بند کیں اور کرس...
20/06/2026

رات کے 2 بج رہے تھے۔ چھت کے کنڈے سے موت کا پھندا لٹک رہا تھا۔ 18 سالہ نوجوان نے رسی گلے میں ڈالی، آنکھیں بند کیں اور کرسی کو لات مارنے ہی والا تھا کہ... دروازے پر ایک زور دار دستک ہوئی!

یہ نوجوان چیکو سلواکیہ کا تھا، جس نے خواب دیکھا تھا کہ دنیا کا ہر انسان اس کے بنائے ہوئے جوتے پہنے گا۔ اس نے 200 کراؤن اور 10 غریب ملازموں کے ساتھ ایک چھوٹی سی ورکشاپ کھولی۔ لیکن بڑی کمپنیوں کی سازشوں اور قرض نے اسے کچل کر رکھ دیا۔ مشینیں بک گئیں۔ آخری ملازم بھی بھوکے بچوں کی دہائی دے کر چلا گیا۔

وہ نوجوان خود کو ان 10 گھروں کا قاتل سمجھ کر خودکشی کرنے لگا تھا کہ دروازہ بجا۔ اس نے پھندا گلے سے نکالا اور دروازہ کھولا، تو سامنے اس کا آخری اور سب سے غریب ملازم 'جان' کھڑا تھا۔ وہ بخار سے کانپ رہا تھا۔

مالک کو لگا کہ جان اپنی رکی ہوئی تنخواہ مانگنے آیا ہے۔ لیکن جان نے کانپتے ہاتھوں سے ایک میلی سی پوٹلی میز پر رکھی اور کھول دی۔ اس میں تانبے کے چند سکے اور چاندی کی ایک سستی سی انگوٹھی تھی۔

"صاحب... یہ 187 کراؤن ہیں۔ میری بیوی نے اپنی شادی کی اکلوتی انگوٹھی بیچ دی ہے اور کہا ہے کہ صاحب کو ہارنے مت دینا!"

مالک کی چیخ نکل گئی: "پاگل ہو گئے ہو جان؟ تمہاری بیوی بیمار ہے، بچے بھوکے ہیں، اور تم..."

تب اس بیمار ملازم نے اس 18 سالہ لڑکے کے پاؤں پکڑ لیے اور ایسا جملہ کہا جس نے تاریخ بدل دی: "صاحب! جب میں سڑک پر جوتے پالش کرتا تھا، تو لوگ مجھے دھکے دیتے تھے۔ آپ نے مجھے کرسی پر بٹھایا، مجھے موچی نہیں بلکہ 'کاریگر' کہہ کر عزت دی۔ اگر آج آپ مر گئے تو میرے جیسے لاکھوں غریب پھر سڑک پر رل جائیں گے۔ یہ پیسے رکھیں، میں ساری زندگی مفت کام کروں گا، بس وعدہ کریں کہ آپ موت سے ہار نہیں مانیں گے!"

اس رات مالک نے خودکشی کا ارادہ ترک کر دیا۔ اگلی صبح اسی 187 کراؤن سے چمڑا آیا۔ جان بخار میں تپتا ہوا مشین چلاتا، اور مالک رات کو اسے دوائی پلاتا اور جوتے سیتا۔

پھر دنیا نے ایک ایسا معجزہ دیکھا جس کی مثال نہیں ملتی!

کچھ ہی سالوں میں وہ 18 سال کا لڑکا دنیا کا سب سے بڑا جوتا ساز بن گیا۔ اس کی دکانیں 70 ملکوں میں پھیل گئیں اور لاکھوں لوگ اس کے ہاں نوکری کرنے لگے۔

کیا آپ جانتے ہیں وہ 18 سالہ لڑکا کون تھا؟ وہ دنیا کے مشہور ترین برانڈ 'باٹا' (BATA) کا بانی، تھامس باٹا تھا!

1932 میں جب تھامس کا ہوائی جہاز کریش ہوا اور وہ دنیا سے چلا گیا، تب بھی اس کے عالی شان دفتر میں کرسی کے پیچھے، شیشے کے فریم میں پہلا جوتا اور 187 کراؤن رکھے تھے۔ جس کے نیچے لکھا تھا:

"یہ سلطنت پیسے سے نہیں... ایک غریب ملازم کی وفا سے بنی ہے۔"


Copied

20/06/2026

*پردہ... صرف لباس نہیں، عزت، حیا اور تربیت کی پہلی دیوار ہے!*

ایک دیہاتی، باحیا خاتون نے اپنی زندگی کے لیے ایک اصول مقرر کر رکھا تھا:

"میں شادی اسی شخص سے کروں گی جو میرے پردے اور حیا کی حفاظت کرے گا۔"

ایک نیک نوجوان نے یہ شرط قبول کی، نکاح ہوا اور زندگی کا سفر شروع ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹے کی نعمت عطا فرمائی۔

وقت گزرتا گیا۔

ایک دن شوہر نے بیوی سے کہا:

"میں سارا دن کھیتوں میں محنت کرتا ہوں، گھر واپس آتے آتے کھانے میں کافی دیر ہو جاتی ہے۔ اگر تم کھانا کھیت تک لے آیا کرو تو آسانی ہو جائے گی۔"

بیوی نے خاموشی سے ہاں کر دی۔

پھر دوسرا بیٹا پیدا ہوا۔

کچھ عرصے بعد شوہر نے کہا:

"گھر کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں، اب تمہیں بھی میرے ساتھ کھیتوں میں کام کرنا ہوگا۔"

یوں رفتہ رفتہ وہ پردہ، جس کی حفاظت اُس عورت نے اپنی زندگی کی پہلی شرط بنایا تھا، کمزور پڑنے لگا۔

پھر تیسرا بیٹا پیدا ہوا...

اور حالات ایسے بنے کہ وہ مکمل بے پردگی کی طرف دھکیل دی گئی۔

سال گزرتے گئے، بچے جوان ہو گئے۔

ایک دن شوہر پرانی باتیں یاد کر کے ہنسنے لگا اور بولا:

"تم تو کہا کرتی تھیں کہ پردہ میری پہلی شرط ہے۔ اب دیکھ لو، پردہ رہا یا نہ رہا، زندگی تو ویسے ہی گزر گئی۔ آخر فرق ہی کیا پڑا؟"

عورت نے سکون سے جواب دیا:

"اگر واقعی فرق جاننا چاہتے ہو تو ایک بار ساتھ والے کمرے میں جا کر خاموشی سے بیٹھ جاؤ۔"

شوہر اندر چلا گیا۔

عورت نے اپنے بال بکھیر لیے، چہرے پر مٹی مل لی اور زور زور سے رونا شروع کر دیا۔

سب سے پہلے بڑا بیٹا آیا۔

ماں کی حالت دیکھ کر پریشان ہوا اور پوچھا:

"امی! کیا ہوا؟"

ماں نے جواب دیا:

"تمہارے ابا نے مجھے مارا ہے۔"

بیٹا چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:

"امی، ابا آپ سے محبت کرتے ہیں۔ کبھی کبھی انسان سے غلطی ہو جاتی ہے، آپ صبر کریں۔"

یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔

کچھ دیر بعد دوسرا بیٹا آیا۔

اسے بھی وہی بات بتائی گئی۔

وہ ناراض تو ہوا مگر بولا:

"ابا نے ٹھیک نہیں کیا، لیکن مسئلہ حل ہو جائے گا۔ آپ پریشان نہ ہوں۔"

اور وہ بھی چلا گیا۔

پھر تیسرا بیٹا آیا۔

جب اس نے سنا کہ ابا نے ماں کو مارا ہے تو اس کا غصہ قابو سے باہر ہو گیا۔

وہ گالیاں دیتا ہوا ڈنڈا اٹھا کر باپ کو مارنے کے لیے کمرے کی طرف دوڑا۔

اسی لمحے ماں نے اسے روک لیا اور شوہر کو باہر آنے کو کہا۔

پھر شوہر کی طرف دیکھ کر بولی:

"اب فرق سمجھ آیا؟"

پہلا بیٹا اُس ماحول میں پلا جہاں پردہ، حیا اور ادب موجود تھا، اس لیے اس نے میرے ساتھ ساتھ تمہاری عزت کا بھی خیال رکھا۔

دوسرا بیٹا ایسے ماحول میں بڑا ہوا جہاں پردہ کمزور پڑ چکا تھا، اس لیے اس میں کچھ لحاظ باقی رہا۔

لیکن تیسرا بیٹا اُس فضا میں پروان چڑھا جہاں حیا اور پردے کی اہمیت ختم ہو چکی تھی، اس لیے وہ اپنے باپ کی عزت بھی پامال کرنے پر آمادہ ہو گیا۔

🌸 سبق: 🌸

پردہ عورت پر بوجھ نہیں، بلکہ عزت، وقار اور تحفظ کی ایک مضبوط دیوار ہے۔

یہ صرف جسم کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ سوچ، کردار، اخلاق اور آنے والی نسلوں کی تربیت کی بھی حفاظت کرتا ہے۔

اسلام نے پردے کا حکم صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کی پاکیزگی اور بھلائی کے لیے دیا ہے۔

یاد رکھیے!
جب حیا کمزور پڑتی ہے تو صرف لباس نہیں اُترتا، بلکہ آہستہ آہستہ اقدار، احترام اور رشتوں کی حرمت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔

🌿 اللہ تعالیٰ ہمیں حیا، پردے اور اسلامی اقدار کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Copied

20/06/2026

بنگلہ دیشی ہم سے الگ نہ ہوتے تو وہ بھی آج مفت 2 جی بی ڈیٹا اور مفت دو سو منٹ حاصل کرکے انجوائے کر رہے ہوتے😎😎

19/06/2026

اگر کسی کمپنی کا نمائندہ آپ کے دروازے کی گھنٹی بجائے اور آپ سے کہے کہ ہم نے یہاں ٹاور لگانا ہے آپ اپنا گھر فی الفور خالی کریں ، ایک بار تو آپ کا دماغ ہی چکرا جائے گا ، ظاہر ہے آپ انکار کرتے ہوئے یہی کہیں گے کہ جا بھائی اپنا کام کرو، کیوں دماغ خراب کرتے ہو ہمارا ، اگلے دن پولیس آپ کے دروازے پر ہو گی ، ایک نوٹس لے کر، چونکہ آپ نے ٹاور کمپنی کو اپنا گھر دینے سے انکار کیا ہے اس لئے اب گھر بھی خالی کریں اور پانچ کروڑ جرمانہ بھی ادا کریں ،
یہ جو اوپر میں نے کچھ لائنیں لکھی ہیں بظاہر ناقابل یقین لگ رہی ہیں، مجھے بھی پہلے پہل یقین نہیں آیا تھا ، یہ کیسے ممکن ہےکہ ایک جائیداد جو آپ کی ملکیت ہو وہ زبردستی آپ سے چھین لی جائے اور اگر آپ انکار کریں تو آپ کو پانچ کروڑ جرمانہ بھی دینا پڑ جائے ، اس طرح لوگوں کی جائیدادیں تو پورے یورپ پر قبضہ کرنے کے بعد جرمنوں نے بھی نہیں چھینی تھیں ،
پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک بل پاس کیا ہے جس کے مطابق اگر کوئی ٹیلی کمپونیکیشن کمپنی جیسے جاز ، یا کوئی اور کمپنی کہیں ٹاور لگانا چاہتی ہے تو وہ اس جگہ کو اپنے قبضے میں لینے کا قانونی حق رکھتی ہے ، مالک کو فی الفور وہ جگہ کمپنی کے حوالے کرنا ہو گی اگر مالک نے انکار کیا تو حکومت اس کو پانچ کروڑ روپے جرمانہ کر سکتی ہے ، یہ بل انتہائی خاموشی سے قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا ، اب یہ بل آئی ٹی منسٹر شزا فاطمہ نے سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا ہے ۔ بل پیش ہوتے ہی چیئر مین سینیٹ نے بجٹ پر بحث کی اجازت دی ہے ، بل پر فی الحال کوئی بحث نہیں کی گئی ، شائد انتظار ہے کہ تحریک انصاف والے بجٹ پر بحث کے بعد سینیٹ کا بائیکاٹ کریں تو پھر بل منظور کیا جائے ۔
یہ بل کسی بھی شہری کے حق ملکیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے ، پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں ریاست شہری کو ملکیت کا حق دیتی ہے ، اگر کوئی شخص کہیں بھی زرعی زمین ، پلاٹ ، مکان یا کوئی دیگر جائیداد خرید کرتا ہے وہ اسی کی ملکیت سمجھی جاتی ہے ، لیکن یہ بل شہری کے حق ملکیت پر سراسر ڈاکہ ہے ، اس سے زیادہ خطرہ انہی کو ہو سکتا ہے جن کی کہیں کسی اہم مارکیٹ میں جائیداد ہے ، کسی اہم جگہ پر کوئی کاروبار ہے تو اب وہ غیر محفوظ ہو گیا ہے ، اگر یہ بل سینیٹ سے منظور کر قانون کا حصہ بن گیا تو پھر پاکستان میں کسی بھی شہری کی جائیداد محفوظ نہیں ہے ، کسی بھی وقت اس کے دروازے پر دستک ہو سکتی ہے اور وہ سڑک پر آ سکتا ہے ،
چار سالہ رجیم نے پاکستانیوں کو ہر طرح سے خوار کیا سو کیا لیکن یہ بل تو مرے پر سو دُرے مارنے کے مترادف ہے ، اس کو واپس لیا جانا چاہئے

Ejaz Awan

Address

Faisalabad

Telephone

+923475306236

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nayab collection posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nayab collection:

Share