20/06/2026
اس میں عورت کا قصور کہاں تھا؟
نکاح کے فوراً بعد ہی اس نے اپنے شوہر کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا۔ وہ صبح فجر سے بھی پہلے جاگ جاتی کیونکہ اس کا شوہر صبح پانچ بجے ڈیوٹی پر جاتا تھا۔ وہ اس کے اٹھنے سے پہلے تازہ جوس تیار کرتی، انڈے اور پراٹھے بناتی، اچھا سا ناشتہ تیار کرتی، اس کے دفتر کا سامان ترتیب سے رکھتی، اس کی دوائیاں نکال کر پانی کے گلاس کے ساتھ تیار رکھتی۔
جب اس کا شوہر وضو اور نماز کے لیے جاتا تو وہ اس کے لیے جائے نماز بچھاتی۔ نماز کے بعد پانی اور دوائی اس کے ہاتھ میں دیتی، پھر محبت سے اس کا ناشتہ سامنے رکھتی۔ جب وہ دفتر جانے لگتا تو اس کا لیپ ٹاپ اور موبائل سنبھال کر دروازے تک چھوڑنے جاتی۔
اس کے جانے کے بعد چند لمحے بستر پر لیٹ کر سوچتی کہ اس نے ایک اچھی زندگی پانے کی امید میں کیا کچھ کھو دیا ہے، لیکن پھر خود کو سنبھال کر پورے گھر کی صفائی اور ترتیب میں لگ جاتی۔
شام چار بجے جب اس کا شوہر واپس آتا تو وہ دروازے پر اس کا استقبال کرتی، اس کا سامان رکھتی، چائے اور ہلکے اسنیکس تیار کرتی، تازہ جوس لا کر دیتی اور دن بھر کی باتیں کرنا چاہتی۔ مگر وہ اکثر اپنے موبائل میں مصروف رہتا۔
اس کے باوجود وہ روزانہ اسی امید کے ساتھ اس کی خدمت کرتی رہی۔ رات کا کھانا وقت پر تیار کرتی، چائے یا کافی کی ضرورت محسوس ہونے سے پہلے ہی اس کے سامنے رکھ دیتی۔ اسے معلوم تھا کہ چائے کے ساتھ کچھ کھانے کی عادت ہے، اس لیے ہر بار کچھ نہ کچھ ساتھ ضرور پیش کرتی۔
رات گئے تک وہ اس کے ساتھ جاگتی رہتی۔ اس کی ٹانگیں دباتی، پاؤں دباتی، اس سے چند باتیں کرنا چاہتی، اس کی توجہ چاہتی، لیکن وہ نہ جانے کس بات کی سزا اسے دے رہا تھا۔
اس نے اس کے کھانے، پینے، سونے، جاگنے، کپڑوں، گھر کی صفائی اور ہر ضرورت کا خیال رکھا۔ گھر ہمیشہ صاف ستھرا ملتا، کپڑے دھلے ہوئے، استری شدہ اور اپنی جگہ پر رکھے ہوتے۔ وہ بہترین کھانا بناتی، خدمت کرتی، حتیٰ کہ اپنی ذات کو بھی ساتھ ساتھ سنبھالتی تیار ہوکر رہتی کہ شوہر کو کہیں کسی بات کا گلا۔شکوہ نا رہے
مگر اس کے باوجود شوہر کی نظر میں شاید اس کی کوئی قدر نہ تھی۔
کچھ ہی دنوں بعد عید آئی۔ یہ اس کی شادی کے بعد پہلی عید تھی۔ حق تو یہ بنتا تھا کہ اس کا شوہر اس سے پوچھتا کہ اسے کیا پسند ہے، کیا خریدنا ہے، عید کیسے منانی ہے، اس کی خوشی کا کیسے خیال رکھنا ہے۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔
اس نے اپنی بیوی کی خوشیوں کے بارے میں سوچنے کے بجائے اپنے دوست کو فون کیا اور کہا کہ تم اپنی فیملی کے ساتھ عید ہمارے گھر گزارنے آ جاؤ۔
چند دن بعد اس کا دوست اور اس کی بیوی چار دن کے لیے ان کے گھر آ گئے۔ شاید اصل آزمائش اب شروع ہونے والی تھی۔
شوہر نے اپنی بیوی سے صاف کہہ دیا:
"میرے دوست اور اس کی بیوی جو کہیں، جیسے کہیں، ویسے ہی کرنا۔ انہیں کسی قسم کی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔"
وہ عورت پہلے ہی خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی تھی۔ اس نے دل و جان سے ان مہمانوں کی خدمت شروع کر دی۔ ان کی پسند کا کھانا بنایا، وقت پر چائے، جوس اور پھل پیش کیے، ان کے کپڑے دھوئے، استری کیے، ہر وقت ان کی ضرورت کا خیال رکھا۔
وہ اس قدر محتاط تھی کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے، کہیں کوئی بات رہ نہ جائے، کہیں اس کے شوہر کو دوبارہ ناراض ہونے کا موقع نہ مل جائے۔
مگر بعض اوقات کچھ لوگ مہمان بن کر نہیں آتے، بلکہ کسی کے گھر کا سکون چھیننے آتے ہیں۔
چار دن بعد جب وہ دونوں میاں بیوی واپس جانے لگے تو جاتے جاتے ایک جملہ کہہ گئے:
"ہماری تو صحیح خدمت ہی نہیں ہوئی۔"
یہ سن کر وہ عورت حیران رہ گئی۔ وہ تو ان چار دنوں میں اپنی ذات تک بھول چکی تھی۔ وہ ایک انسان نہیں بلکہ ایک مشین بن گئی تھی جو صرف دوسروں کی خدمت کر رہی تھی۔
مگر ان کے جانے کے بعد ایک اور قیامت اس کا انتظار کر رہی تھی۔
اس کے شوہر نے اس پر الزام لگانا شروع کر دیا کہ:
"تم نے میرے دوست اور اس کی بیوی کی صحیح خدمت نہیں کی۔"
وہ بار بار پوچھتی رہی:
"میرا قصور کیا تھا؟ میں نے ان کی پسند کا کھانا بنایا، ان کے کپڑے دھوئے، استری کیے، ان کے ساتھ وقت گزارا، ان کی ہر ضرورت پوری کی۔ آخر مجھ سے کیا کمی رہ گئی؟"
مگر جواب میں صرف ایک ہی الزام ملتا رہا:
"تم نے صحیح خدمت نہیں کی۔"
وہ رات بھر اپنا قصور جاننے کی کوشش کرتی رہی۔ سوال کرتی رہی، وضاحت مانگتی رہی، مگر رات ڈیڑھ بجے تک بات صرف الزاموں تک محدود نہ رہی بلکہ ایک بار پھر تشدد پر ختم ہوئی۔
اس رات بھی وہ ایک کونے میں بیٹھی روتی رہی۔
وہ سوچتی رہی:
"میں نے یہ سب کس لیے کیا تھا؟ میں نے تو اپنے شوہر کی عزت رکھی تھی، اس کے مہمانوں کی عزت رکھی تھی، پھر مجھے یہ صلہ کیوں ملا؟"
وقت گزرتا رہا۔
کچھ عرصے بعد اس کے شوہر نے ایک اور دوست اور اس کی فیملی کو دعوت دینے کا ارادہ کیا۔
اس بار اس عورت نے نہایت ادب اور نرمی سے صرف اتنا کہا:
"اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کے مہمانوں کی صحیح خدمت نہیں کر پاتی تو بہتر ہے آپ انہیں باہر کھانا کھلا دیں، شاید مجھ سے واقعی کوئی کمی رہ جاتی ہو۔"
بس اتنا کہنا تھا کہ شوہر دوبارہ غصے میں آ گیا۔ اس نے پھر اس پر تشدد کیا اور اسے کمرے سے نکال دیا۔
وہ روتی ہوئی دوسرے کمرے میں جا بیٹھی۔
اس کا اپنا کوئی سہارا نہ تھا، نہ کوئی ایسا تھا جو اس کی بات سنتا۔
اس نے سجدے میں جا کر اللہ سے فریاد کی:
"یا اللہ! میں نے اس رشتے کو بچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ اپنی خوشیاں قربان کیں، اپنی خواہشیں چھوڑ دیں، اپنی ذات بھلا دی۔ پھر بھی مجھے عزت کیوں نہ ملی؟"
بالآخر کچھ عرصے بعد وہ اپنے میکے آ گئی۔
مگر اذیت ختم نہ ہوئی۔
رات رات بھر فون پر اسے یہی سننے کو ملتا:
"تم اچھی بیوی نہیں ہو۔ تم خدمت کرنا نہیں جانتیں۔ تم نے نہ میرا حق ادا کیا اور نہ میرے دوستوں کا۔"
وہ مہینوں انتظار کرتی رہی کہ شاید ایک دن وہ اسے لینے آ جائے، شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے، شاید وہ رشتہ بچ جائے۔
مگر ایسا نہ ہوا۔
شوہر اپنے دوست اور اس کی بیوی کی باتوں میں آتا گیا۔ وہی لوگ جو اس کے گھر میں رہتے رہے، اس کا کھاتے رہے، اس کی مہمان نوازی سے فائدہ اٹھاتے رہے، آخرکار اسی کے خلاف باتیں کرتے رہے۔
اور ایک دن ایسا آیا کہ شوہر نے دوسروں کی باتوں پر یقین کرتے ہوئے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا۔
اس نے اپنے گھر کو بچانے اور بسانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر آخرکار وہ ایک ایسے معاشرے کے سامنے ہار گئی جہاں مرد کا ایک الزام عورت کے دامن سے برسوں تک نہیں دھلتا۔
اب سوال یہ ہے...
قصور کس کا تھا؟
اس عورت کا، جس نے دن رات خدمت کی؟
ان مہمانوں کا، جنہوں نے احسان کے بدلے الزام دیے؟
یا اس شوہر کا، جس نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھنے کے باوجود دوسروں کی باتوں پر یقین کر لیا؟
فیصلہ آپ خود کیجیے۔
Copied.