31/10/2024
فیصل آباد کی جس لوکل کوریئر سروس کے ذریعہ ہمارے پارسل فیصل آباد میں ڈلیور ہوتے ہیں انکے رائڈر نے مجھ سے کہا بھائی آپکے گھر کے ساتھ ہی ایک پارسل ڈیلیور کرنا ہے اگر میں آپکو دے دوں تو آپ ڈلیور کر دیں گے میں نے کہا ہاں جی آپ دے دیں ۔
پارسل Cod تھا 1500 روپے رقم بنتی تھی ۔ شام کو میں نے دیے گئے نمبر پر کال کی خاتون نے فون اٹھایا
میں نے کہا آپکا پارسل تھا اور میں آپکی دی گئی لوکیشن پر موجود ہوں۔ خاتون نے فون پر ہی گھر میں موجود اپنے ہسبنڈ کو آواز دیتے ہوئے کہا
"سوہنیو پارسل آ گیا وا ، جا کے پھڑ لے آؤ " اور مزید باتیں بھی ہوئی تھی ۔۔۔
باتوں سے اندازہ ہوا کہ شوہر پارسل لینے کیلئے گھر سے باہر نہیں آنا چاہتا تھا ۔
آخر خاتون کال پر متوجہ ہوئی اور کہا بھائی آپ آرڈر کینسل کر دیں ۔
میں نے کہا آپی میں کمپنی کو کال کر کے ایک مرتبہ پوچھ لیتا ہوں کہ کیا کرنا ہے ۔
خاتون کہنے لگی اسکی ضرورت نہیں ہے آپ ان سے کہہ دینا کہ کسٹمر نے پارسل کھول کر چیک کرنے کا کہا تھا اور میں نے پارسل کھولنے کی اجازت نہیں دی جس وجہ سے کسٹمر نے آرڈر کینسل کر دیا ۔ میں یہ سن کر حیران ہوا کیونکہ عام طور پر ایسا ہو جاتا ہے لیکن بغیر کھولے اور چیک کیے باہر ہی سے ٹرخا دینا میرے لیے ایک نئی بات تھی خیر میں واپس آگیا ۔۔آپ اندازہ کر لیں یعنی بھیجنے والے کو صرف کسٹمر کی سہل پسندی یا سستی کی وجہ سے تقریبا 400 روپے بغیر کسی وجہ کے نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ اسی طرح کتنی عوام ایسے ہی پارسل واپس بھجواتے ہوں گے ۔
ان مسائل کی وجہ سے ہم Non Cod یعنی ایڈوانس پیمنٹ کو فوقیت دیتے ہیں جس میں کسٹمر کو پتہ ہوتا ہے کہ میں نے پیمنٹ کی ہوئی ہے اور اب مجھے ہر صورت پارسل وصول کرنا ہے چاہے وہ آؤٹ آف سٹیشن ہو یا کسی دوسرے کو وصولنے کی ذمہ داری سونپے بہرحال یہ ترتیب تو کسٹمر نے ہی بنانی ہے ۔
✍🏼عبدالرحمن
Send a message to learn more