UET Advocacy

UET Advocacy ہماری یونیورسٹی ہمارا وقار!

یوای ٹی کا تعلیمی وقار اور طلبہ سیاست کی زہریلی روایت محمد بوٹایو ای ٹی (UET)  لاہورجیسی عظیم اور تاریخی درس گاہ کا ماضی...
04/07/2026

یوای ٹی کا تعلیمی وقار اور طلبہ سیاست کی زہریلی روایت
محمد بوٹا
یو ای ٹی (UET) لاہورجیسی عظیم اور تاریخی درس گاہ کا ماضی اس تلخ حقیقت کا گواہ ہے کہ جب بھی طلبہ تحریکیں اپنے علمی و تعلیمی مقصد سے بھٹک کر سیاسی آلہ کار بنیں، تو اس کا خمیازہ صرف اور صرف ادارے اور عام طالب علم کو بھگتنا پڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جمعیت ، پی ایس ایف، کیو ایس ایف اور آئی ایس او کے انتہا پسند عناصر کی جانب سے کی گئی توڑ پھوڑ، تشدد اور غنڈہ گردی نے نہ صرف یونیورسٹی کے پرسکون تعلیمی ماحول کو برباد کیا، بلکہ طلبہ کی ڈگریوں میں تاخیر اور ادارے کے وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
تاہم، اس تباہی کی داستان صرف ان تنظیموں تک محدود نہیں؛ بلکہ یو ای ٹی کے تعلیمی ماحول پر سب سے کاری ضرب "اسلامی جمعیت طلبہ" نے لگائی ہے۔ دینِ اسلام کے مقدس نام کی آڑ میں اس تنظیم نے جس منافقت کا راج قائم کر رکھا تھا، وہ دراصل تعلیمی اداروں میں فکری آمریت کی بدترین مثال ہے۔ دین کے نام پر اخلاقی برتری کا دعویٰ کرنے والوں نے عملی طور پر تعلیمی اداروں کو "جگہ گیری" اور "طاقت کے مظاہرے" کا اکھاڑا بنا دیا تھا۔ اس گروہ نے دین کی آڑ میں طلبہ کی ذہن سازی کے بجائے انہیں ایک ایسی تنگ نظر سوچ میں مقید رکھا جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے گروہی مفادات اور تسلط کا تحفظ تھا۔
آج اگر یہ تحریکیں یا ان کے بکھرے ہوئے عناصر کسی نئے روپ میں دوبارہ ابھرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو یہ خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ایک باشعور طالب علم کے لیے ماضی کے ان تمام "ٹھیکیداروں" کا چہرہ بے نقاب ہونا چاہیے۔ چاہے وہ سیاسی نعروں کے پیچھے چھپے تشدد پسند ہوں یا دین کے نام پر منافقت کا کاروبار کرنے والے، ان سب نے یو ای ٹی کے تعلیمی وقار کو گروہی تعصب کی بھینٹ چڑھایا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج یو ای ٹی کا وجود ان تمام منفی اثرات اور گروہی سیاست سے الحمدللہ پاک ہے، لیکن یہ اطمینان ہمیں غفلت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی بھی گروہ یا عناصر کی جانب سے ایسی کسی منفی سوچ یا ادارے کے تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کا ارادہ موجود ہے، تو انہیں خبردار رہنا چاہیے۔ یونیورسٹی کسی سیاسی یا مذہبی گروہ کی جاگیر نہیں، بلکہ یہ ایک خالص علمی مرکز ہے۔ جو تنظیمیں یا گروہ آج بھی طاقت، تشدد یا منافقت کی بنیاد پر طلبہ کو اپنے پیچھے چلانا چاہتے ہیں، وہ درحقیقت یو ای ٹی کے روشن مستقبل کے دشمن ہیں۔
ایک باشعور اور پڑھا لکھا طالب علم ہی اس یونیورسٹی کا اصل سرمایہ ہے، نہ کہ وہ گروہ جو تعلیمی اداروں کو اپنی فکری اور سیاسی غلامی کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ اب اس ادارے کو مزید کسی تجربے یا کسی بھی قسم کی گروہی سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچانا ہر طالب علم کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس کا عزم ہی ہمیں کامیابی کی راہ پر گامزن رکھ سکتا ہے۔








04/07/2026

توجہ طلب گفتگو

04/07/2026

اسلامی جمعیت طلبہ کی بنیاد ہی جھوٹ فریب اور منافقت پر رکھی گئی ہے.
UET Students Right Movement

04/07/2026

اسلامی جمعیت طلبہ کا المیہ: تضادات، دوہرے معیارات اور 'کارپوریٹ اسلام' کا عروج
تحریر : محمدبوٹا
"زندہ ہے جمعیت، زندہ ہے!" کا روایتی نعرہ اب تعلیمی حلقوں میں کوئی انقلابی صدا نہیں، بلکہ ایک ایسا فکری لطیفہ اور گہرا طنز بن چکا ہے جس پر شعور رکھنے والا ہر طالب علم مسکرانے پر مجبور ہے۔ تحریکوں کی زندگی نعروں کے غبارے پھلانے سے نہیں، بلکہ بلا تفریقِ طبقات مظلوم کے حق میں کھڑے ہونے سے ثابت ہوتی ہے، لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ یہ تحریر اسی فکری دیوالیہ پن کا ایک بے باک محاکمہ ہے۔
۱۔ سرکاری جامعات کی 'جاگیر' اور نجی اداروں سے مجرمانہ چشم پوشی
اسلامی جمعیت طلبہ کی تمام تر توانائیاں، تنظیمی غنڈہ گردی اور 'حقِ شفعہ' تاریخی طور پر پنجاب یونیورسٹی، یو ای ٹی (UET) اور جی سی یو (GCU) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان جیسے چند مخصوص سرکاری اداروں کے گرد ہی کیوں گھومتی ہیں؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پنجاب کے آدھے سے زیادہ سرکاری اسکول نجکاری کی بھینٹ چڑھائے جا رہے ہوں اور غریب کا بچہ تعلیم کے حق سے محروم ہو کر سڑک پر آ رہا ہو، تو اس وقت جمعیت کا یہ "انقلابی جذبہ" کن بلوں میں جا چھپتا ہے؟ تب یہ سڑکوں پر کیوں نظر نہیں آتی؟
حقیقت یہ ہے کہ جب یو سی پی (UCP)، یونیورسٹی آف لاہور (UOL)، اور ورچوئل یونیورسٹی جیسے کارپوریٹ نجی اداروں میں طلبہ بھاری فیسوں کے چنگل میں پس رہے ہوں، انتظامیہ کے ذہنی تلازموں کا شکار ہو کر خودکشیاں کر رہے ہوں، تو وہاں جمعیت کی زبان کو تالا لگ جاتا ہے۔ کیا نجی جامعات کے طلبہ انسان نہیں یا ان کے حقوق کی کوئی "سیاسی قیمت" وصول نہیں ہوتی؟ یہ تفریق اس تلخ حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے کہ ترجیح طلبہ کے مسائل کا حل ہرگز نہیں، بلکہ صرف اپنے روایتی چند 'اڈوں' اور 'سیاسی دکان داری' کو بچانا ہے۔
۲۔ فکری دیوالیہ پن اور 'سلیکٹو اسلام' کا تماشا
جس تنظیم کا بنیادی منشور "اسلامی اقدار کا تحفظ" اور "معاشرتی اصلاح" ہو، اس کا نظریاتی دوغلا پن اور منافقت وہاں ننگا ہو جاتا ہے جہاں نجی تعلیمی اداروں اور اشرافیہ کی سلطنت شروع ہوتی ہے۔ ان کے پارسا اسلام کو شدید خطرہ صرف تب لاحق ہوتا ہے جب پنجاب یونیورسٹی یا یو ای ٹی جیسے سرکاری اداروں میں کوئی بے پردہ طالبہ نظر آ جائے یا کوئی مخلوط تقریب ہو جائے؛ وہاں تو اخلاقیات کے یہ ٹھیکیدار فوراً ڈنڈے لہراتے باہر نکل آتے ہیں، جیسے کائنات کی ساری فحاشی صرف انہی سرکاری اداروں میں دبی بیٹھی ہو۔
لیکن جیسے ہی رخ نجی جامعات کی طرف ہو، تو ان کا وہ غیور اسلام اچانک مصلحت کی چادر اوڑھ کر سو جاتا ہے—اور سوئے کیوں نہ، جب ان نجی اداروں کے مالکان ہی ان کے اپنے قبیلے کے لوگ ہوں؟
یو ایم ٹی (UMT) ان کے اپنے عظیم مفکرخرم جاہ مراد کی ہے، جس نے پوری جماعت اور جمعیت کو فکری لٹریچر فراہم کیا۔
یو سی پی (UCP) کے مالک ان کے اپنے سابق نامور طالب علم رہنما میاں عامر محمودہیں۔
سپیریئر یونیورسٹی کا 'بھالو' بھی ان کا ہی پرانا روایتی جماعتیا ہے۔
اب بھلا اپنے ہی گھر کے ان رئیسوں اور ارب پتیوں پر ان کا ڈنڈا کیسے چل سکتا ہے؟ جہاں اپنے بڑوں کے کاروباری مفادات وابستہ ہوں، وہاں جمعیت کی غیرت کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔
۳۔ اشرافیہ کی جامعات اور ٹک ٹاک کلچر
ان نجی جامعات کے کیمپسزخواہ وہ لمز (LUMS) ہو، بی این یو (BNU) ہو، یا ان کے اپنے اکابرین کے یو ایم ٹی، یو سی پی اور یونیورسٹی آف لاہور جیسے ادارے ہوں—جہاں سرعام ٹک ٹاک پوائنٹس (TikTok Points) بنے ہوئے ہیں، جہاں مغربی کلچر اور لبرل مائنڈ سیٹ کے تحت ایسی سرگرمیاں ہوتی ہیں جو روایتی اخلاقی و اسلامی معیارات کا سرعام جنازہ نکالتی ہیں، وہاں جمعیت کا "امر بالمعروف" کا غبارہ یکسر پھس ہو جاتا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ جب بی این یو (BNU)جیسے اداروں میں طالبات حیاتیاتی پیڈز دیواروں پر چسپاں کر کے اپنے "اسلامی بھائیوں" کی غیرت کو سرعام للکارتی ہیں، تو جمعیت کے غیرت مند مجاہدین دائیں بائیں دیکھنے لگتے ہیں۔ لمز اور اپنے جماعتیوں کے ان نجی اداروں کے مادرِ پدر آزاد ماحول پر زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ عوامی اور فکری حلقوں میں یہ سوال اٹھنا بالکل فطری ہے کہ: کیا ان طاقتور نجی کارپوریٹ اداروں اور ان کے ٹک ٹاک کلچر کے خلاف بولنے میں کوئی تزویراتی مصلحت آڑے آتی ہے، یا پھر اپنے ہی سابقہ رہنماؤں کی "اعانت اور فنڈنگ" کے چمکتے ہوئے مفادات زبان بندی کا بہترین سبب بنتے ہیں؟ غریب کے بچے کو اخلاقیات کا درس دینے والے، سرمائے اور اپنے ہی نجی مالکان کے سامنے یوں سجدہ ریز کیوں نظر آتے ہیں؟
۴۔ تعلیمی بحران پر 'سوشل میڈیا' کی بزدلانہ خاموشی
ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں41 کمپیوٹر سائنس پروگرامز کو یکمشت بند کر دیا گیا، جو نوجوانوں کے مستقبل اور اس ڈیجیٹل دور میں ملک کی تعلیمی بقا کا گلا گھونٹنے کے مترادف تھا، لیکن جمعیت کی زبان تالو سے باہر تک نہ آئی۔ اس مجرمانہ خاموشی کو مصلحت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح، ایف سی کالج جیسے تاریخی ادارے پر جب بیرونی یا مخصوص انتظامی کنٹرول کے تحت انگریز قابض ہو کر فیصلے مسلط کرتے ہیں، تو وہاں بھی روایتی خاموشی طاری رہتی ہے۔
یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ اب اسلامی جمعیت طلبہ کی سیاست صرف چند مخصوص عمارتوں کے اندرونی لڑائی جھگڑوں، ہاسٹلوں کے قبضوں اور سوشل میڈیا پر گرافکس اور نعروں کی شکل میں "فوٹو سیشن" تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ زمین پر عمل صفر ہے اور ٹویٹر (X) پر انقلاب برپا ہے۔
اگر مقصد واقعی طلبہ کے حقوق کا تحفظ ہے، تو انصاف کا تقاضا ہے کہ معیار ایک ہونا چاہیے۔ سرکاری اداروں میں معمولی بات پر طوفان کھڑا کرنا اور نجی شعبے کے بڑے مگرمچھوں کے سامنے دُم دبا لینا، اگرکھلی منافقت اور بزدلی نہیں تو اور کیا ہے؟
جب تک نجی جامعات کے اس ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام، تعلیمی بحرانوں اور اشرافیہ کے اداروں کے نظریاتی انحراف پر یکساں، بے باک اور لگی لپٹی رکھے بغیر آواز نہیں اٹھائی جائے گی، تب تک "زندہ ہے جمعیت" کا نعرہ ایک کھوکھلا دعویٰ، ایک مضحکہ خیز لطیفہ اور سیاسی عیاری کا بدترین اشتہار ہی سمجھا جائے گا۔



















Address

UET GT Road
Faisalabad
54890

Telephone

+923138123428

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UET Advocacy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to UET Advocacy:

Shortcuts

Share