04/07/2026
یوای ٹی کا تعلیمی وقار اور طلبہ سیاست کی زہریلی روایت
محمد بوٹا
یو ای ٹی (UET) لاہورجیسی عظیم اور تاریخی درس گاہ کا ماضی اس تلخ حقیقت کا گواہ ہے کہ جب بھی طلبہ تحریکیں اپنے علمی و تعلیمی مقصد سے بھٹک کر سیاسی آلہ کار بنیں، تو اس کا خمیازہ صرف اور صرف ادارے اور عام طالب علم کو بھگتنا پڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جمعیت ، پی ایس ایف، کیو ایس ایف اور آئی ایس او کے انتہا پسند عناصر کی جانب سے کی گئی توڑ پھوڑ، تشدد اور غنڈہ گردی نے نہ صرف یونیورسٹی کے پرسکون تعلیمی ماحول کو برباد کیا، بلکہ طلبہ کی ڈگریوں میں تاخیر اور ادارے کے وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
تاہم، اس تباہی کی داستان صرف ان تنظیموں تک محدود نہیں؛ بلکہ یو ای ٹی کے تعلیمی ماحول پر سب سے کاری ضرب "اسلامی جمعیت طلبہ" نے لگائی ہے۔ دینِ اسلام کے مقدس نام کی آڑ میں اس تنظیم نے جس منافقت کا راج قائم کر رکھا تھا، وہ دراصل تعلیمی اداروں میں فکری آمریت کی بدترین مثال ہے۔ دین کے نام پر اخلاقی برتری کا دعویٰ کرنے والوں نے عملی طور پر تعلیمی اداروں کو "جگہ گیری" اور "طاقت کے مظاہرے" کا اکھاڑا بنا دیا تھا۔ اس گروہ نے دین کی آڑ میں طلبہ کی ذہن سازی کے بجائے انہیں ایک ایسی تنگ نظر سوچ میں مقید رکھا جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے گروہی مفادات اور تسلط کا تحفظ تھا۔
آج اگر یہ تحریکیں یا ان کے بکھرے ہوئے عناصر کسی نئے روپ میں دوبارہ ابھرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو یہ خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ایک باشعور طالب علم کے لیے ماضی کے ان تمام "ٹھیکیداروں" کا چہرہ بے نقاب ہونا چاہیے۔ چاہے وہ سیاسی نعروں کے پیچھے چھپے تشدد پسند ہوں یا دین کے نام پر منافقت کا کاروبار کرنے والے، ان سب نے یو ای ٹی کے تعلیمی وقار کو گروہی تعصب کی بھینٹ چڑھایا ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج یو ای ٹی کا وجود ان تمام منفی اثرات اور گروہی سیاست سے الحمدللہ پاک ہے، لیکن یہ اطمینان ہمیں غفلت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی بھی گروہ یا عناصر کی جانب سے ایسی کسی منفی سوچ یا ادارے کے تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کا ارادہ موجود ہے، تو انہیں خبردار رہنا چاہیے۔ یونیورسٹی کسی سیاسی یا مذہبی گروہ کی جاگیر نہیں، بلکہ یہ ایک خالص علمی مرکز ہے۔ جو تنظیمیں یا گروہ آج بھی طاقت، تشدد یا منافقت کی بنیاد پر طلبہ کو اپنے پیچھے چلانا چاہتے ہیں، وہ درحقیقت یو ای ٹی کے روشن مستقبل کے دشمن ہیں۔
ایک باشعور اور پڑھا لکھا طالب علم ہی اس یونیورسٹی کا اصل سرمایہ ہے، نہ کہ وہ گروہ جو تعلیمی اداروں کو اپنی فکری اور سیاسی غلامی کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ اب اس ادارے کو مزید کسی تجربے یا کسی بھی قسم کی گروہی سیاست کی بھینٹ چڑھنے سے بچانا ہر طالب علم کی اولین ذمہ داری ہے، اور اس کا عزم ہی ہمیں کامیابی کی راہ پر گامزن رکھ سکتا ہے۔