Khawaja Rizwan Ahmed

Khawaja Rizwan Ahmed Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Khawaja Rizwan Ahmed, Men's clothes shop, Gilgit.

11/01/2026

انسان کی زبان ہی اس کی نمائندگی کرتی ہے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر ان میں سب سے بڑی اور انمول نعمت "زبان" ہے۔ یہ چھوٹا سا عضو بظاہر تو معمولی دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں یہ انسان کی شخصیت، اس کے اخلاق، تربیت اور کردار کا آئینہ دار ہے۔ انسان کی پہچان اس کے لباس یا چہرے سے نہیں بلکہ زیادہ تر اس کی گفتگو اور الفاظ سے ہوتی ہے۔

زبان انسان کے باطن کا پردہ چاک کر دیتی ہے۔ کسی کے دل میں کتنی ہی نیکی یا برائی کیوں نہ چھپی ہو، وہ اس کی زبان سے ظاہر ہو جاتی ہے۔ میٹھے بولنے والا انسان دوسروں کے دل میں جگہ بنا لیتا ہے جبکہ سخت کلام انسان سے لوگ دور بھاگتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے:
"زبان کے زخم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔"

قرآن و سنت کی روشنی میں زبان کی اہمیت

اسلام نے زبان کے استعمال پر بہت زور دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔" (البقرہ: 83)

نبی کریم ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا:
"جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔" (بخاری و مسلم)

یہ تعلیمات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ زبان انسان کے ایمان، اخلاق اور شخصیت کی اصل پہچان ہے۔ اگر زبان کو بھلائی اور خیر کے کاموں میں استعمال کیا جائے تو یہی زبان جنت کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور اگر یہ غیبت، چغلی، جھوٹ یا گالی میں استعمال ہو تو یہ انسان کو ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے۔

زبان کے اثرات

اچھی زبان: محبت بڑھاتی ہے، دلوں کو جوڑتی ہے، تعلقات مضبوط کرتی ہے اور معاشرے میں بھائی چارہ پیدا کرتی ہے۔

بری زبان: دشمنی پیدا کرتی ہے، رشتے توڑ دیتی ہے، نفرت اور کدورت کو ہوا دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ انسان اپنی زبان سے یا تو عزت پاتا ہے یا ذلت۔

زبان کا درست استعمال

انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنی زبان پر قابو پائے اور ایسے الفاظ استعمال کرے جو دوسروں کو راحت اور سکون دیں۔ گفتگو میں نرمی، شائستگی اور سنجیدگی کو اپنانا ہی اصل خوبی ہے۔ خاموشی کو اختیار کرنا بھی زبان کے آداب میں سے ہے کیونکہ اکثر اوقات خاموشی انسان کو بڑے نقصان سے بچا لیتی ہے۔

---

نتیجہ

انسان کی زبان ہی اس کی اصل نمائندگی ہے۔ یہی زبان اس کے اخلاق کا پتا دیتی ہے، اسی سے اس کی تربیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اسی سے دوسروں کے دل میں اس کے لیے عزت یا نفرت پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زبان کو قابو میں رکھیں، ہمیشہ اچھے اور بامعنی الفاظ استعمال کریں اور اپنی گفتگو کو اپنی شخصیت کا حسن بنائیں۔

11/01/2026

گلگت بلتستان میں اہم انتظامی پیش رفت
خواجہ رضوان احمد
گلگت بلتستان کی سول سروسز میں ایک خوش آئند اور اہم انتظامی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت سیکشن آفیسر خواجہ عابد کو ڈپٹی سیکریٹری (سروسز اینڈ فنانشل) کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا، جو ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور انتظامی صلاحیتوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔
خواجہ عابد کا شمار ان افسران میں ہوتا ہے جو محنت، دیانت داری اور نظم و ضبط کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے سابقہ فرائض کے دوران انتظامی معاملات، فائل ورک، پالیسی نفاذ اور عوامی خدمات کی فراہمی میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ ان کی پیشہ ورانہ سنجیدگی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہی وہ اوصاف ہیں جن کی بنیاد پر انہیں اس اہم اور حساس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔
سروسز اور مالیاتی امور کسی بھی حکومتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اس شعبے میں خواجہ عابد کی تعیناتی کو سول سروسز میں ایک مثبت اور بروقت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے وسیع تجربے، انتظامی فہم اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نظام میں شفافیت، بہتری اور مؤثریت کو فروغ دیں گے۔
خواجہ عابد کی اس نمایاں کامیابی پر اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھی افسران کی جانب سے دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ عوامی حلقوں نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کی قیادت میں انتظامی معاملات مزید بہتر، منظم اور عوام دوست انداز میں آگے بڑھیں گے۔
بلاشبہ، یہ تعیناتی نہ صرف خواجہ عابد کے لیے اعزاز ہے بلکہ گلگت بلتستان کی سول سروسز کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہے، جو مستقبل میں بہتر طرزِ حکمرانی کی نوید دیتی ہے۔

11/01/2026

اخلاق کی اصل پہچان: گھر سے شروع ہونے والی مسکراہٹ
انسان عموماً معاشرے میں اچھا دکھائی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ باہر کے لوگوں سے نرمی، مسکراہٹ اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہے، مگر اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اخلاق کی اصل آزمائش گھر کی چار دیواری کے اندر ہوتی ہے۔ دوسروں پر مہربان ہونے سے پہلے اپنے گھر والوں کے ساتھ مسکرانا سیکھنا دراصل انسان کے کردار کی سب سے بڑی علامت ہے۔
گھر والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہماری کمزوریوں، خامیوں اور ناکامیوں کے باوجود ہمارے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ماں باپ کی بے لوث محبت، بہن بھائیوں کی قربانیاں اور شریکِ حیات کی خاموش برداشت — یہ سب وہ رشتے ہیں جو کسی صلے کے بغیر ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ اگر ہم ان کے ساتھ تلخی، لاپرواہی یا سخت رویہ اختیار کریں اور باہر کی دنیا کے لیے نرم دل بنے رہیں، تو یہ اخلاق نہیں بلکہ محض دکھاوا ہے۔
ایک مسکراہٹ، ایک نرم لہجہ، اور تھوڑا سا وقت گھر والوں کے لیے نکال لینا کسی بڑی قربانی کا تقاضا نہیں کرتا، مگر اس کا اثر گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔ گھر میں محبت اور احترام کا ماحول انسان کی شخصیت کو سنوارتا ہے اور یہی تربیت اسے معاشرے میں بھی بہتر انسان بناتی ہے۔
حقیقی اخلاق وہ نہیں جو صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوں، بلکہ وہ ہیں جو تنہائی میں، گھر میں اور اپنے قریبی رشتوں کے ساتھ ظاہر ہوں۔ جو شخص اپنے اہلِ خانہ کے لیے نرم دل، صابر اور خوش اخلاق ہے، وہی دراصل اچھے اخلاق کا حامل ہے۔
اس لیے اگر ہم واقعی ایک بہتر انسان بننا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز گھر سے کریں۔ اپنے گھر والوں کے لیے مسکرائیں، ان کی بات سنیں، ان کے احساسات کی قدر کریں، کیونکہ وہی ہمارے اخلاق کے اصل حق دار ہیں۔
— خواجہ رضوان احمد

جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کچھ محبتیں پاکیزہ رہ جاتی ہیںزندگی میں ہر محبت کو اظہار کی جگہ نہیں ملتی، اور نہ ہی ہر احساس کو لف...
11/01/2026

جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کچھ محبتیں پاکیزہ رہ جاتی ہیں
زندگی میں ہر محبت کو اظہار کی جگہ نہیں ملتی، اور نہ ہی ہر احساس کو لفظوں کا سہارا نصیب ہوتا ہے۔ کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جو دل کے کسی کونے میں خاموشی سے پلتی رہتی ہیں، نہ زبان تک آتی ہیں اور نہ ہی دنیا کے سامنے آتی ہیں۔ یہی وہ محبتیں ہیں جو جگہ نہ ملنے کی وجہ سے پاکیزہ رہ جاتی ہیں۔
جب محبت کو پانے کی ضد نہ ہو، جب اس میں خود غرضی شامل نہ ہو، تو وہ ایک عبادت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسی محبت میں قربانی ہوتی ہے، صبر ہوتا ہے، اور خاموش دعا ہوتی ہے۔ یہ محبت نہ کسی سے شکوہ کرتی ہے اور نہ کسی سے مطالبہ، بس دل میں رہ کر دل کو بہتر انسان بنا دیتی ہے۔
کچھ رشتے حالات کی دیواروں سے ٹکرا کر وہیں رک جاتے ہیں۔ نہ انکار ہوتا ہے، نہ اقرار۔ مگر ان کی خوشبو ساری زندگی ساتھ رہتی ہے۔ شاید اگر انہیں مکمل ہونے کا موقع مل جاتا تو وہ عام سی کہانی بن جاتے، مگر ادھورے رہ کر وہ ہمیشہ کے لیے خاص ہو جاتے ہیں۔
پاکیزہ محبت وہی ہے جو حدود میں رہے، جو کسی کی عزت، کسی کے سکون اور کسی کے مقدر پر بوجھ نہ بنے۔ ایسی محبتیں وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑتیں بلکہ یاد بن کر دل میں زندہ رہتی ہیں، اور انسان کو احساس دلاتی ہیں کہ ہر چیز کا مل جانا ہی کامیابی نہیں ہوتا۔
واقعی، جگہ نہ ملنے کی وجہ سے کچھ محبتیں پاکیزہ رہ جاتی ہیں، اور شاید یہی ان کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے۔
تحریر:
Khawaja Rizwan Ahmad

عاجزی — انسان کی اصل پہچانانسان اگر اپنی حقیقت کو پہچان لے تو غرور خود بخود اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ عاجزی اختیار کرو او...
02/01/2026

عاجزی — انسان کی اصل پہچان
انسان اگر اپنی حقیقت کو پہچان لے تو غرور خود بخود اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ عاجزی اختیار کرو اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کا گمان دل میں نہ لاؤ، کیونکہ انسان کی اصل نہ طاقت ہے، نہ عہدہ اور نہ ہی دولت۔ وہ نہ کچھ تھا، محض خاک تھا، اور انجامِ کار اسی خاک میں واپس لوٹ جانا ہے۔
یہ دنیا عارضی ہے اور اس میں ملنے والی ہر نعمت آزمائش ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے، وہ دراصل اپنی کمزوری کو چھپا رہا ہوتا ہے۔ اصل بزرگی غرور میں نہیں، بلکہ انکساری، اخلاق اور انسانیت میں ہے۔ عاجزی وہ زیور ہے جو انسان کو دوسروں کے دلوں میں عزت بخشتا ہے، جبکہ تکبر انسان کو تنہا کر دیتا ہے۔
جو لوگ جھکنا جانتے ہیں، وہی درحقیقت بلند ہوتے ہیں۔ عاجزی انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور مخلوق کے لیے باعثِ راحت بناتی ہے۔ اسی میں انسان کی کامیابی، سکون اور حقیقی عظمت پوشیدہ ہے۔
تحریر:
خواجہ رضوان احمد

30/12/2025

کمفرٹ زون — ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ
انسان کے حالات اس لیے نہیں بدلتے کہ وہ اپنا کمفرٹ زون چھوڑنے سے ڈرتا ہے۔ کمفرٹ زون میں رہنا آسان ہوتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں، کیونکہ انسان تکلیف سے زیادہ نامعلوم راستوں سے خوف کھاتا ہے۔
تبدیلی، محنت اور ناکامی کا ڈر انسان کو اسی زندگی کو قبول کرنے پر مجبور کر دیتا ہے جس کا وہ عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ یہ سوچ کر قدم نہیں بڑھاتا کہ اگر ناکام ہو گیا تو کیا ہوگا، حالانکہ اصل ناکامی کوشش نہ کرنا ہے۔
یاد رکھیں، ترقی کبھی بھی آرام کے دائرے میں نہیں ملتی۔ جب تک انسان خوف کی دیوار توڑ کر آگے نہیں بڑھتا، اس کی زندگی میں بہتری صرف ایک خواب ہی رہتی ہے۔ کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو ڈر کے باوجود قدم اٹھاتے ہیں۔
— خواجہ رضوان احمد

07/06/2023

*"❓"*
_یہ بات جس دن اس عوام کی *کھوپڑی 💀 میں چلی گئی پھر رونے دھونے بھی ختم ہو جائیں گے*😆
موبائل لینے، کپڑے جوتے لینے، کے لیئے پیسے ہیں لیکن جہاں بات آئے بزنس کی اپنی زندگی بدلنے کى، وہاں میں بہت غریب گھر کا ہوں، میرے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے.🤣😂

تلخ حقیقت
آج کے زمانے میں اگر کسی نوجوان کو کہا جائے کہ یار فارغ رہنے سے بہتر ہے کہ موبائل فون پر کام کرلو لاکھوں نہیں تو ہزاروں ہی کما لو پر ان کو کیسے سمجھائیں 🤔
فارغ رہنا ہے.

سے نجات مل جائے تو کبھی گھر کے حالات زندگی کے حالات بھی دیکھ لینا دوست کب تک والدین کمائیں گے 🤔 کمپنی میں کام کرکے پرافٹ کما سکے روزانہ کی بنیاد پر۔۔۔۔

*جس کے اندر کام کرنے کا جذبہ اور ہمت نہیں ہوگی نہ تو آپ اسے لاکھ ثبوت دو، ہزار Motivations دو، وہ تب بھی کام نہیں کرے گا.. کیونکہ وہ کام کرنے سے ڈرتا ہے، اس میں ہمت نہیں کام کرنے کی.. یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو یہ تو چاہتے ہیں کہ انکے جیب میں پیسے ہوں لیکن وہ یہ نہیں چاہیتے کہ وہ کام کریں، محنت کریں...*

*ایک کہاوت ہے!*🤗

لوگ بولتے ہیں پیسہ آئے تو میں کچھ کروں لیکن پیسہ کہتا ہے تو کچھ کرے تو بھائی میں آؤں 😁😁💯
خواجہ رضوان احمد 7 جون 2023

31/05/2023

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khawaja Rizwan Ahmed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share