30/06/2022
گذشتہ کچھ دنوں سے نوجوان لڑکیوں اور ادھیڑ عمر یا بوڑھے مرد حضرات کے ساتھ شادی کی خبریں زیر گردش ہیں۔ جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ 16 سے 26 سال کی نوجوان لڑکی کی 50 سے ذائد عمر کے مرد کے ساتھ شادی کسی صورت اطمینان قلب نہیں نہ ہی اولاد کی پیدائش کے لئیے موزوں ہے۔اس بے جوڑ شادی کا ایک معمولی سا فائد یہی ہے کہ نکاح ہوجاتا اور عورت اس مرد کے لئیے حلال ہوجاتی اس کے علاوہ معاشرتی، نفسیاتی اور ازدواجی نقصانات زیادہ ہیں۔ معاشرتی لحاظ سے اس لئیے نقصان دہ 50سال کے بعد انسان کے مرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جسمانی بیماریاں بڑھنے اور طبعی عمر کم ہونے لگ جاتی ہے، اس کے بعد لڑکی بیوگی کا داغ لے کر اپنے میکے واپس آجاتی۔ نفسیاتی نقصان یہ نوجوانی میں مرد یا عورت کے جذبات رومانوی مزاج ہوتے ہیں۔ جوانی میں میاں بیوی ایک دوسرے کے محبوب ہوتے ہیں، لیکن نوجوان لڑکی اور بوڑھے شخص کے درمیان صرف مجبوری کا رشتہ ہوتا پیار محبت کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔ ازدواجی نقصان یہ کہ 40 سے 45 سال کے بعد مرد کے اندر اولاد پیدا کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اگر اولاد ہو بھی جائے تو اس کی وفات کے بعد بچے معاشرے کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اس کے بعد لڑکی کے سسرال میں بھی کوئی نہیں رکھتا اور وہ واپس ماں باپ پہ بوجھ بنتی ہے۔ لہذا کوشش کرنی چاہئیے نوجوان لڑکی کے لئیے نوجوان مرد کا ہی انتخاب کیا جانا چاہئیے تاکہ معاشرے میں جنسی بے راہ روی کا خاتمہ ہو۔