01/06/2026
درودِ ابراہیمی اور تاریخ کا آخری راز
#مقیتہ وسیم
ایک دعا جو ابھی تک آسمانوں میں جاری ہے.......
قرآن کھولیے...اور تاریخ کے دریاؤں میں الٹا سفر شروع کیجیے۔
ایک طرف حضرت ابراہیمؑ ہیں... دوسری طرف ان کی دعا ہے...اور تیسری طرف اللہ کا وعدہ۔
ابراہیمؑ نے عرض کیا:
"اے میرے رب! میری اولاد میں بھی ایسے لوگ پیدا فرما جو انسانیت کی رہنمائی کریں۔"
جواب آیا:
میرا وعدہ ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
یہاں سے ایک عظیم داستان شروع ہوتی ہے۔ ابراہیمؑ کے گھر میں دو نسبتیں تھیں۔
سارہؑ...
اور ہاجرہؑ...
ایک نسل سے انبیاء کا طویل سلسلہ نمودار ہوا۔
موسیٰؑ آئے...
داؤدؑ آئے...
سلیمانؑ آئے...
زکریاؑ آئے...
یحییٰؑ آئے...
اور پھر عیسیٰؑ آئے...
صدیوں تک آسمان کی خبریں اسی شاخ سے زمین پر اترتی رہیں۔
مگر دوسری طرف...
ہاجرہؑ اپنے ننھے اسماعیلؑ کے ساتھ ایک وادی میں چھوڑ دی گئیں۔
ایسی وادی... جہاں نہ کھیتی تھی، نہ درخت، نہ پانی، نہ آبادی۔
بظاہر خاموش۔
مگر اللہ کے منصوبے اکثر خاموشی میں پروان چڑھتے ہیں۔
وہ وادی بعد میں مکہ بنی اور مکہ صرف ایک شہر نہیں تھا۔
وہ ایک امانت تھی... جو وقت کے خزانے میں محفوظ رکھی گئی تھی..... صدیوں تک۔
یہاں تک کہ تاریخ ایک نئے موڑ پر پہنچی۔
پھر اسماعیلؑ کی نسل سے محمد ﷺ تشریف لائے اور یوں ابراہیمؑ کی دعا کا دوسرا باب کھل گیا۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
ہر نماز میں جب ایک مؤمن بیٹھ کر درودِ ابراہیمی پڑھتا ہے تو وہ دراصل تاریخ کے دو عظیم دریاؤں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ... كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ...
غور کیجیے...
"کما صلیت"
یعنی...
جس طرح تو نے ابراہیمؑ اور ان کی آل پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں...
اسی طرح محمد ﷺ اور ان کی امت پر بھی فرما۔
یہ صرف الفاظ نہیں۔ یہ زمین سے آسمان تک بلند ہونے والی ایک مسلسل دعا ہے۔
ایک ایسی دعا... جو چودہ سو سال سے ہر نماز میں دہرائی جا رہی ہے اور شاید اسی لیے تاریخ ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
کیونکہ اللہ کے منصوبے وقت سے بڑے ہوتے ہیں۔
عیسیٰؑ کا ذکر ہو،
مہدی کا ذکر ہو،
یا علم کی وہ وراثت جو انبیاء چھوڑ کر گئے...
ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
انبیاء سونا اور چاندی وراثت میں نہیں چھوڑتے۔
وہ علم چھوڑتے ہیں۔
شعور چھوڑتے ہیں۔
ہدایت چھوڑتے ہیں اور یہی وہ میراث ہے جس کے ذریعے انسان زمین پر اللہ کی نشانیوں کو پہچانتا ہے۔
شاید اسی لیے قرآن صرف ماضی کی کتاب نہیں.... وہ مستقبل کا آئینہ بھی ہے۔
اور درودِ ابراہیمی صرف ایک دعا نہیں...یہ ابراہیمؑ سے محمد ﷺ تک اور محمد ﷺ سے قیامت تک پھیلا ہوا ایک زندہ رشتہ ہے.
جاری ہے...
#قرآن