23/07/2024
کبھی مل تو تجھ کو بتائیں ہم
تجھے اس طرح سے ستائیں ہم
تیرا عشق تجھ سے چھین کے
تجھے مے پلا کے رلائیں ہم
تجھے درد دوں تو نہ سہہ سکے
تجھے دوں زباں تو نہ کہہ سکے
تجھے دوں مکاں تو نہ رہ سکے
تجھے مشکلوں میں گھرا کے میں
کوئی ایسا رستہ نکال دوں
تیرے درد کی میں دوا کروں
کسی غرض کے سوا کروں
تجھے ہر نظر پر عبور دوں
تجھے زندگی کا شعور دوں
کبھی مل بھی جائیں گے غم نہ کر
ہم گر بھی جائیں گے غم نہ کر
تیرے ایک ہونے میں شک نہیں
میری نیتوں کو تو صاف کر
تیری شان میں کوئی کمی نہیں
میرے اس کلام کو تو معاف کر