Islamic Quotes

Islamic Quotes Online clothing, wide range of clothing mens & women with in a country

21/02/2021

Aoa , we are starting our online clothing business for men, women
kindly stay connected for further updates.

*مزاح کیجیے مذاق سے پرہیز کیجیے* *A good sense of humor* is a sign of psychological health. *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* ک...
10/04/2020

*مزاح کیجیے مذاق سے پرہیز کیجیے*
*A good sense of humor* is a sign of psychological health.
*ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے راز* سے انتخاب ۔ *مسکان رومی*
*بھولا محلے کا خاکروب تھا* اور مزاحیہ بھی تھا مگر بھولے کی ایک خاصیت تھی کہ اس کے مزاح میں کبھی کسی کی بے عزتی نہیں ہوٸی ۔ *اپنے مزاح کی وجہ سے لوگ اس سے سلام بھی لیتے حال احوال پوچھ کر ایک دو باتیں بھی کرتے* مگر بھولا کبھی کبھی اپنے پیشے پر طنز کرنے والوں کی وجہ سے دل ہار جاتا ۔ *ایک دن محلے کے ایک شریر آدمی نے اپنے چند دوستوں کے درمیان بیٹھے ہوۓ بھولے پر طنز کر دیا* ۔سنا بھولے تیرا یہ گند آج کل کتنی قیمت کا بکتا ہے ۔ بھولا یوں تو ایسے طنز کے تیر خاموشی سے برداشت کر لیتا مگر اس بار بھولے کا جواب سب کو حیران کر گیا۔ *بھولے نے بڑی معصومیت سے کہا صاب جی چکھ کے ویکھ لو آپ ہی اندازا ہو جاۓ گا کیسی کوالٹی ہے۔*
بھولے کی اس بات سے ان صاحب کے سب دوست مسکرا دٸیے اور *اپنے دوست کو کہنے لگے جا اوۓ بھولے نے تے تیرے علاج کر دیتا* ۔یہ چھوٹا سا واقعہ ہمیں مزاح اور مذاق میں واضح فرق سمجھا دیتا ہے *انسان کو اپنی اوقات کے مطابق رہنا چاہیے اسلام چونکہ مکمل ضابطہ حیات ہے مکمل طور پر مذاق کی ممانعت ہے اور مزاح کی اجأزت خوبصورت اصولوں کے ساتھ ہے* ۔پہلے یہ سمجھ لیں کہ *مذاق کا معنی* ہے پھاڑنا
جس کے لیے ہم اپنی عمومی زبان میں دل توڑنا کہتے ہیں
آپ ﷺ کی گفتگو (قول فعل ) سے کبھی کوٸی رنجیدہ خاطر نہیں ہوا یعنی دل نہیں دکھا
ویسے بھی رحمة للعالمین کی شان مبارکہ ہے کہ آپ خوشیاں تقسیم فرماتے اور لوگوں کے غم دور فرماتے ۔ *ایک مومن کو بھی ایسا ہی ہونا چاہیے ۔*
ہمارے ہاں جو مذاق کیا جاتا ہے *جس سے عمومی طور پر دوسرے انسان کوشرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے*
*مزاح وہ شستہ شاٸستہ قول اور فعل ہے جس سے ہر ایک کا دل خوشی سے دوچار ہو سننے والے اور جس کے بارے کہی جا رہی ہے کوٸی رنجیدہ خاطر نہ ہو۔* اب ذرا قرآن مجید سے اس سلسلہ میں رہنماٸی لی جاۓ
*جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا بے شک اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے انہوں نے کہا کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔* موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔
*قرآن کے مطابق مذاق کرنا جاہلوں کا کام ھے۔ البتہ مزاح اور چیز ھے۔* مزاح کا مطلب کوئی نقطہ افروز بات کرنا ۔ کہ سننے والے کو سوچنے کے بعد اس کی سمجھ آئے۔۔یا بات کرنے والے کے سمجھانے پر اس کو سمجھ آئے ۔ *جناب انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لیے اونٹ مانگا،* تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں! میں تم کو سواری کے لیے اونٹ کا بچہ دوں گا، اس شخص نے عرض کیا کہ میں اونٹنی کے بچےکا کیا کروں گا؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: اونٹ بھی تو اونٹنی ہی کے بچے ہوتے ہیں‘‘۔ *آپ ﷺ کا یہ مزاح سب کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا اور کوٸی پریشان بھی نہیں ہوا* ۔ہمارے ہاں سب سے بری روایت ہے کہ کچھ دوست مذاق *مذاق میں کسی کی توہین کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں سوری یار مذاق کیا ہے* ایسے ناصرف ایک شخصیت کا وقار مجروح ہوتا ہے بلکہ تعلق میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو جاتا ہے ۔ یہی وہ جملے ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر فاصلے پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اور اخلاص میں کمی واقع ہوتے ہوتے تعلق اختتام پذیز ہو جاتے ہیں۔ *مزاح سے تعلق پھلتے پھولتے ہیں مسکراہٹیں بکھرتی ہیں اور ماحول خوشگوار رہتا ہے اخلاص الفت محبت اور قربت میں مثبت اضافہ ہوتا ہے ۔دوستو ں اور پیار کرنے والوں میں اضافہ ہوتا ہے* ہاں اگر آپ پھر بھی خود کو تیز زبان کا سمجھتے ہیں تو *یاد رکھیں کہیں نہ کہیں بھولا ضرور موجود ہے جو اچانک کچھ ایسا بولے گا جو آپ کے لیے طنعہ بن جاۓ گا اور آپ اپنے دوستوں کے اس جملے سے چڑ کھاتے کھاتے دوست کھو دیں گے* ۔ اگر آپ بہترین بول نہیں بول سکتے تو خاموشی دنیا کی سب سے بہترین زبان ہے۔ *کچھ بیمار ذہنیت کے لوگ ہمیشہ دوسروں پر طنز کے تیر چلاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے بھی علاج ہے آپ ان کو کبھی رسپانس نہ کریں آپ کی خاموشی ہی بہت بڑا ہے۔* ویسے بھی جو ذہنی بیمار ہوں ان سے الجھنا *اس پتھر کی مانند ہے جو کیچڑ میں مارا جاۓ تو چھینٹے خود پر بھی گرتے ہیں ۔* ہمارے پیج کا لنک دستیاب ہے ...https://www.facebook.com/Dr.M.AzamRazaTabassum/
*ڈاکٹر صاحب کی تحریریں .واٹس ایپ پہ حاصل کرنے کے لیے .ہمیں اپنا نام .شہر کا نام اور جاب لکھ کر اس نمبر پر میسج کریں .* 03317640164.
شکریہ .ٹیم نالج فارلرن.

*ہم غریب کیوں رہتے ہیں*  *Poverty* isn't *Solved* With *Donations* . *ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے...
08/04/2020

*ہم غریب کیوں رہتے ہیں*
*Poverty* isn't *Solved* With *Donations* .
*ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم* کی کتاب *کامیاب زندگی کے راز* سے انتخاب۔ *مسکان رومی*
*ٹی وی کا ریموٹ* ہاتھ لگے تو چینلز بدلنے پر ۔ *لاٸبریری کے میز پر پڑے اخبارات* کے صفحات پلٹ پلٹ کر ۔ *ہوٹلز* اور *چوکوں چوہراہوں* پر مجمعوں میں ۔ یہ خبریں آپ نے سنی ہوں گی میں تو تھک گیا ۔ *آج ایک شخص نے اپنا ایک گردہ بیچ دیا* ۔ آج ایک شخص نے خود کشی کر لی ۔ *آج ایک شخص نے خود کو آگ لگا لی* ۔آج ایک باپ نے اپنے بچوں کو زہر دے دیا ۔ *آج ایک آدمی نے ہسپتال کی بلڈنگ سے چھلانگ لگا لی ۔* میرا دل کرتا ہے *میں ان خبروں کو سن کر ہاۓ ہاۓ کروں سینہ پیٹوں بال نوچوں* ۔مگر کس کا حاکم وقت کا *یا* اس نظام کی کالی بھیڑوں کا ۔ *یا* خوشحالی کے دنوں میں عیاشی کرنے والے غربا کا ۔ *یا* وقت کی مہلت کو ضاٸع کرنے والے بھکاری پر جس نے اچھے وقت میں کوٸی ہنر نہیں سیکھا۔ *یا* اس طالب علم کا جو ماں باپ کی دولت ضاٸع کر رہا ہے *یا* قسمت کو الزام دینے والے کو ۔کس کو الزام دوں ۔ *یہاں تو غربت عام کرنے اور سفید پوش کو غریب ترین بنانے میں ہم سب ہی شامل ہیں ۔* کوٸی اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتا تو کوٸی کام کرتا ہی نہیں ۔ *ہاں میں نے اب تک اتنا سیکھ لیا ہے کہ جب کسی ملک کا معاشی نظام ٹھیک نہ ہو تو وہاں لوگ سقراط کی طرح سچ بولنے کی سزا میں لوگ زہر کے پیالے پی نہیں مرتے بلکہ وہاں بھوک کی آگ نہ مٹنے اور مٹانے کے اسباب نہ ہونے کی وجہ سے خود کشیاں کرتے ہیں۔* کچھ حالات اور دوسروں کا قصور بھی ہے غریب بنانے میں مگر کچھ اپنا حصہ بھی اس جرم میں شامل ہے ۔ *2014 کے ایک طالب علم کی کال آٸی ۔حال حوال پوچھ کر کاروبار زندگی پوچھا تو کہنے لگا* سر پریشان ہوں نظام زندگی نہیں چل رہا ۔وجہ سر پڑھاٸی چھوڑ دی کیوں بس دل نہیں کرتا تھا ۔ *لیں جی اب دل* بھی غربت میں شامل ہے ۔ *ہر غریب حالات کا مارا نہیں یہ سچ ہے کچھ اپنے پاوں پر خود بھی کلہاڑی مارتے ہیں* ۔ دوسروں کو الزام دے کر غریب بننا بھی غربت کی ایک آسان قسم ہے اور اپنی سستیاں کاہلیاں کام چوریوں پر قابو پر کر غربت کے خ*ل کو توڑنا بھی ایک بہادری ہے۔ *خدا کسی کو غریب نہ پیدا کرے ۔ میں نے غربت کے بہت سے رنگ دیکھے ہیں۔ فٹ پاتھ کی غربت سب سے بے نیاز ہوا کرتی ہے اور اس سے زیادہ ظالم غربت جب روٹی سے زیادہ نشے کی لت لگ جاۓ ۔لیکن سب سے زیادہ رولا دینے والی وہ غربت ہے جب کوٸی باپ یا ماں اپنی اولاد کے لیے بھیک مانگے یقین جانیے *‏ غربت سے بڑی کوئی مصیبت نہیں،* غربت بھوک کا سبب بنتی ہے اور *بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے*
دوسرے اورآسان لفظوں میں لکھوں تو بھوکے کا کوٸی مذہب نہیں ہوتا۔بھوکے کی مسجد مندر کلیسا روٹی ہوا کرتی ہے
*کبھی کبھی یہ پیٹ جب بہت دنوں سے خالی ہو تو روٹی ہی بھگوان خدا اور مسیحا نظر آتے ہیں*
پھر اسی بھوک کو مٹانے کے لیےانسان انسانیت کے درجے سے گر بھی جاتا ہے اور لڑ بھڑ بھی جاتا ہے *حدود قیود کے سارے لفظ اس کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں*
ہاں اسی بھوک کے مٹنے کو *اگر وہ خالق کی بارگاہ میں جھکے تو اس کا گڑ گڑانا اور سجدے اسے قاسم بنا سکتے ہیں ۔* غربت اور کم رزقی دراصل انسان کو انسان بنانے کے لئے بڑی کیمیا ہے *جوتے کا تسمہ بھی مانگنا چاہیے مگر اس کے لیے غریب کی پرورش اخلاقیات کے امیر ترین ماحول میں ہونا ضروری ہے* ورنہ بھوک جس قسم کی بھی ہو اس کے خاتمہ کے لئے یہ خاک کا پتلا کسی بھی حد سے گزر جاتا ہے *حتیٰ کہ درندگی کی حد سے بھی* .....!!!!.**مجموعی طور پر غربت ہر انسان کا انفرادی مسٸلہ ہے جو اس کو ختم کرنا چاہتا ہے وہ کرلیتا مگر کوشش شرط ہے جو کوشش نہیں کرتا وہ غریب ہی رہتا ہے *بل گیٹس نے جو کہا کہ غریب پیدا ہونا جرم نہیں غریب مرنا جرم ہے ۔* میں تو اتفاق کرتا ہوں مگر ہمارے ہاں غربت کی جنگ بھی ایمانداری سے نہیں لڑی جا رہی ۔ *یاد رکھیے اپنی زندگی آپ نے خود سنوارنی ہے شاید اس جنگ میں اس لڑاٸی میں آپ بہت اکیلے بھی ہوں مگر محنت کا ہتھیار سمجھداری سے اٹھا کر چلیں ۔* اللہ ظالم نہیں محنت کا اجر دے گا ۔ نوکر بننے سے زیادہ توجہ ہنر سیکھنے اور ہنر مندی آزمانے پر دیں ۔ نوکر ایک لاکھ بھی تنخواہ لیتا ہو وہ نوکر ہے ۔ کامیابی آپ کے قدم چومے گی ان شاء اللہ ، مگر امیر کسے کہتے ہیں بس جان لیجیے جو اپنی زندگی کا گلہ شکایت کیے بنا بانٹنا جانتا ہو ۔ کوٸی بھی کام حقیر نہیں کوٸی بھی پیشہ بے عزت نہیں *اس معاشرے میں ب ایک دوسرے کے محتاج ہیں لہذا لوگ کیا کہیں گے کیسا لگے گا بھول جاٸیے اور جی لگا کر جینے کی امید لے کر درست سمت میں محنت کیجیے ۔* کماٸیے بانٹیے اور دعا لیجیے ۔سب فانی ہے .کوشش کیجیے مانگنے والا ہاتھ بانٹنے والا بنا دیں۔
*ڈاکٹر محمد اعظم رضا* کی کتاب *الفاظ کی دھنک* سے انتخاب۔ *مسکان رومی۔* گلوبل ہینڈز پاکستان
https://www.facebook.com/TheGlobalHands/

Address

Islamabad
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Quotes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share