05/06/2026
مادہ پرست معاشرہ
یہ 91 سالہ امریکی خاتون ہیلن ہیں۔ ہتھکڑیوں میں جکڑی ہوئی۔ عدالت سے جیل کی طرف روانہ۔ ہیلن کا جرم صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنے شوہر کی جان بچانے کے لیے دوا چوری کر لی۔ 65 سال کی رفاقت کے بعد جب اس کے شوہر کو دل کے عارضے کے لیے مہنگی دوا درکار ہوئی اور انشورنس ختم ہونے کے باعث وہ دوا ان کی پہنچ سے باہر ہوگئی تو ایک ضعیف خاتون کو قانون شکنی اور اپنے شوہر کی موت کے درمیان انتخاب کرنا پڑا۔
یہ واقعہ مغربی تہذیب کے اس المیے کو آشکار کرتا ہے جس میں انسان کی جان سے زیادہ اہمیت دولت، منافع اور کاروبار کو حاصل ہے۔ اسلام نے بیمار کی خبرگیری، محتاج کی مدد اور جان بچانے کو عظیم نیکی قرار دیا، جبکہ سرمایہ دارانہ نظام نے علاج کو ایک ایسی تجارت بنا دیا ہے جہاں غریب انسان کی زندگی اس کی جیب کی حیثیت سے طے ہوتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ہیلن نے دوا کیوں چوری کی، بلکہ سوال یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ کیوں وجود میں آیا جہاں ایک 91 سالہ خاتون کو اپنے شوہر کی جان بچانے کے لیے چور بننا پڑا؟ اگر ایک بیمار انسان صرف اس لیے علاج سے محروم ہو جائے کہ اس کے پاس پیسے نہیں، تو یہ فرد کی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ جب معاشرے خدا کی ہدایت سے دور ہو کر مادہ پرستی کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں تو انسان کی جان، عزت اور ضروریات بھی منافع کی ترازو میں تولی جانے لگتی ہیں۔