27/11/2022
آج کا مسلمان ایسا بزدل اور ڈرپوک ہے کہ تلوار کے نام سے بھی اسے ڈر لگتا ہے۔ تلوار تو بڑی چیز ہے اگر کوئی اس پر غلیل کا غلہ چھوڑ دے یا کہیں پٹاخے کی آواز سن لے تو گویا اس کی جان نکلی جا رہی ہے۔ اس شاہین کو انگریز ملعون نے ایسا بزدل بنا دیا کہ جہاد اور قتال کے نام سے اسے وحشت ہونے لگتی ہے؛ تلوار اور اسلحہ کا نام سن کر بدکنے (بھاگنے) لگتا ہے۔ اس کی بزدلی عمل سے ترقی کرکے عقیدہ تک سرایت کر گئی ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ اسلحہ اٹھانا اور کافروں کو ٹھکانے لگانا دین و ایمان کے خلاف ہے۔
کیا عجیب بات ہے جس حکم سے قرآن کے تیس پارے اور حدیث کا ذخیرہ بھرا پڑا ہے، انبیاء کرام علیہم الصلوٰت والسلام اور صحابہ کرام رضی اللّٰه تعالیٰ عنہم کی زندگیاں جس مہم میں بسر ہوئیں وہ آج کے مسلمان کو اچھا نہیں لگتا۔ اس کام سے اس کے دین و ایمان پر حرف آتا ہے۔ اسلحہ کو دہشت گردی کی علامت سمجھ لیا ہے۔ بس آج کے مسلمان کا کام یہی رہ گیا ہے کہ وہ کافروں کے سامنے بکری بنا رہے، ان کے ہاتھوں ذبح ہوتا رہے۔ کوئی اس کی گردن پر چُھری رکھ دے تو یہ چپکا پڑا رہے گا، ہلنے کا نام نہ لے گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ چھری چلاتے ہوئے کافر کو ذرا سی بھی تکلیف پہنچے۔
ملعون انگریز نے آج کے مسلمان کا ذہن ایسا مسخ کردیا کہ یہ اسلحہ کے نام سے ڈرتا ہے۔ اس سے دُور بھاگتا ہے کہ اسلحہ اٹھانا شریفوں کا کام نہیں یہ تو دہشت گردوں اور بے دینوں کا کام ہے۔ افسوس کہ جو کام دین کی ترقی کا ذریعہ تھا، جس کی برکت سے دین پوری دنیا پر غالب آیا … آج کل کے مسلمانوں کی نظر میں وہ بے دینی کی علامت بن گیا۔
❖ مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللّٰه
📚 خطبات الرشید، جلد 6
📄 باب : عیسائیت پسند مسلمان