23/12/2022
مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید سے تین ملاقاتیں
پہلی ملاقات:
ڈریم ورلڈ ریزورٹ میں ایک میٹنگ میں ملاقات ہوئی جہاں میرے ذمہ کچھ انتظامی عمور تھے جب میں نے انھیں استقبال کے وقت سلام کیا تو انتہائی شفقت سے نام پوچھا اور پاس بٹھالیا پھر ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے بیٹا اکثر بزرگوں نے آپ نوجوانوں کو ہاتھ چومنے پر لگا دیا ہے لیکن آپ بڑوں کے لئے بھاگ دوڑ کےکام کررہے ہو یہ کرتے رہو اور سیکھتے رہو میٹنگ کے اختتام پر جاتے ہوئے جب میں نے اپنے پانچ سالہ بیٹے کو ان سے ملوانا چاہا تو وہ گاڑی سے اتر کر بچے سے ملے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کو دعائیں دیں۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنی بڑی شخصیت کا مالک انسان کیوں پہلی ملاقات میں ایک انجان نوجوان کو اتنی اہمیت دے رہا ہے ان کے اس اعلیٰ اخلاق نے پہلی ملاقات میں ہی میرے دل میں ان کی محبت بھردی۔
دوسری ملاقات :
اس بار ایک میٹنگ کے سلسلے میں ان کے مدرسے جانا ہوا وہی محبت بھرے انداز میں استقبال۔ اس ملاقات میں کئ چیزیں پر انھوں نے تفصیلی گفتگو کی فرمانے لگے جب میں امریکہ گیا تو دو کنٹینروں میں اپنی ساری کتابیں ساتھ لے گیا۔ بہت عرصہ وہاں رہا کئ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ ایک جگہ مسجد کی ضرورت تھی تو ایک زمین کا سودا کیا اللہ نے تین دنوں میں پیسوں کا انتظام کردیا آج وہاں ایک فعال مسجد و مدرسہ ہے۔ شروع سے بڑا کام کرنے کی نیت کرو ان شاءاللہ اللہ آپ سے بھر پور کام لیں گے۔
تیسری ملاقات:
اس ملاقات کی جب میں نے درخواست کی تو مجھے کہا بیٹا میرا سفر ہے میں اگلے ہفتے واپس آونگا تو آپ رابطہ کرلینا جب وہ واپس آئے تو خود ہی رابطہ کرلیا کہ میں آگیا ہوں آپ آجائیں (اپنی مصروفیات میں چھوٹی سی بات کو یاد رکھنا اور خود رابطہ کرنا ان کے اعلیٰ ظرف اور منظم شخصیت کا ثبوت ہے)
اس بار ایک عصری تعلیمی ادارے کے سربراہ کو ان سے ملوانے کا موقع ملا یہ ملاقات بھی ان کے مدرسے میں ہوئی اور اس ملاقات میں حضرت نے اپنے ایک بڑے خواب کی تفصیلات بتائیں کہ اگر ہم عصری اور دینی تعلیم کے فرق کو ختم کر کے ایسے افراد پیدا کریں جو دونوں شعبوں میں قابل ہوں تو تمام اداروں میں بہتری آسکتی ہے اور رشوت، جھوٹ، دھوکہ دہی اور کئ معاشرتی برائیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ فرمانے لگے اب آپ لوگ کمر باندھ لیں کام کا وقت آگیا ہے ہمیں اس کام کے لئے آپ جیسے عصری تعلیم سے وابسطہ لوگوں کی ضرورت ہے۔
اس کے علاؤہ فرمانے لگے دنیا میں جگہ جگہ دین کا کام ہو رہا ہے بس اس کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ سیاسی حالات و واقعات اصل میں ہمیں ہمارے اصل کام یعنی دین کی دعوت و تبلیغ سے دور کر تے ہیں ہم ان میں پڑنا نہیں چاہتے۔ اس تیسری ملاقات میں ان کے ایک اور عمل نے ان کا گرویدہ بنا لیا اصل میں ہمارے بعد ان کی ایک اور مشہور سیاسی جماعت کے سربراہ سے ملاقات تھی وہ صاحب کچھ وقت پہلے آگئے تھے مگر ڈاکٹر عادل صاحب نے ہم سے طے شدہ وقت پوری توجہ سے ہم کو دیا اور وہ لیڈر پیچھے بیٹھے رہے، ایک لمحہ کے لئے ہمیں یہ محسوس نہیں ہوا کہ اس کمرے میں حضرت اور ہمارا سوا کوئی موجود ہے۔
الحمدللہ اللہ نے مجھے کئ زبردست کام کرنے والوں سے ملاقات کا موقع بخشا ہے لیکن ایسی طلسمی شخصیت کسی کی نہیں دیکھی کہ پہلی ملاقات میں ہی اپنے کردار سے اپنا دیوانہ بنادے۔
چوتھی ملاقات:
ان سے چوتھی ملاقات اتوار کے دن ایک میٹنگ میں ہونی تھی میں رات کو اس میٹنگ کی تیاری ہی کررہا تھا کہ اچانک ان کی شہادت کی خبر آئی کچھ وقت دل افسردہ ہوا مگر پھر ان کی زندگی اور موت پر رشک آنے لگا کہ ساری زندگی اللہ کے دین کی دعوت کام کرکے خیر سمیٹی اور آخر عمر میں شہید کا اعزاز بھی پالیا۔
دعاؤں کا طلبگار: عمیر ملک آمان
#بڑوں کی باتیں
#امیدوں کا کارواں
#حکم آذاں