10/04/2022
یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ اسلامی اقدار اور اصول میں ہم ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے والے اور ان سے روگردانی کرنے والے نہیں ہیں الحمدللہ اس کے علاوہ سیاسی حالات اور واقعات بدلتے رہیں گے ، آج ایک پارٹی وجماعت کی حکومت ہے کل کسی اور جماعت کی حکومت ہوگی ، ہمارے سیاست دان آج کسی کے مخالفت میں کھڑے ہوں گے کل کو ملکی مفادات کی خاطر اسی مخالف پارٹی کے ساتھ ملکر حکومت کر رہے ہوں گے ، کیونکہ یہ ملک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت کا یہی حسن ہے ۔ اس لیے سیاست کو سیاست ہی تک محدود رکھیں ، سیاست کو اپنے رشتہ داریوں میں ، اپنے باہمی تعلقات اور دوستی میں دخل انداز نہ ہونے دیں ۔ سیاست اور اپنے سیاسی قائدین کی محبت میں اسی طرح سیاسی مخالف کی مخالفت میں اتنا آگے نہ بڑھیں کہ کل کلاں ہمارے قائدین انہی سیاسی مخالفین سے بغلگیر ہوں اور یہاں ہم اپنی رشتہ داریاں اور دوستیاں کھو چکے ہوں ۔ جیسے سیاسی لوگوں کے اندر ملکی و ذاتی مفادات کی خاطر رویوں میں لچک ہے ، برداشت ہے ، تحمل ہے ایسے ہی ہمیں بھی اپنے سیاسی مخالف دوست سے ، سیاسی مخالف رشتہ دار سے اپنی رائے میں ، اپنے رویہ میں لچک اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ تاکہ یہ نظام بھی چلے اور ہماری دوستیاں اور رشتہ داریاں بھی بحال ہو ۔
گالم گلوچ اور بدتمیزی کی سیاسی گفتگو الحمدللہ نہ کبھی کی ہے اور نہ ہی آئندہ اللہ تعالی اس کی توفیق دے ۔ ہاں گپ شپ اور چھوٹے موٹے چٹکلے اور لطیفے تو چلتے رہتے ہیں لیکن اس میں بھی اگر کسی بھائی یا بہن کی دل آزاری ہوئی ہو تو بندہ ناچیز دل سے معذرت خواہ ہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو راہ راست دیکھائے ، اللہ تعالی ہم سب کو ایک اور پھر سے آپس میں شیروشکر بنائے ، اللہ تعالی اس ملک اور اس ملک کے باشندوں پر خصوصی رحم وکرم فرمائے ۔ آمین یارب
آپ کا دوست اور بھائی