Elite stitch fashion

Elite stitch fashion For orders & inquiries
WhatsApp: +923061415630 Day time news (DTN) History of subcontinent and history of subcontinent sultan

Elite Stitch Fashion
Premium Quality Trendy Dresses
Stylish & Comfortable Outfits for Every Occasion
Our goal is to provide modern designs that make you look stylish and feel confident.

✨ Elite Stitch Fashion ✨Welcome to Elite Stitch Fashion — jahan aapko milte hain premium quality stitched dresses aur la...
07/03/2026

✨ Elite Stitch Fashion ✨
Welcome to Elite Stitch Fashion — jahan aapko milte hain premium quality stitched dresses aur latest fashion designs.
👗 Stylish Long Maxi
👚 Trendy Tops
🌸 Elegant Ladies Collection
Har dress carefully stitch ki jati hai taake aapko mile style, comfort aur premium look.
📦 Order karne ke liye inbox karein ya WhatsApp karein:
📞 0306-1415630

کرسمس: 29.63 ارب کی ڈکیتی!!کرسمس کے موقع پر جب پورا جرمنی خوشیوں اور تقریبات میں مشغول تھا، نامعلوم چوروں نے اس موقع کو ...
06/01/2026

کرسمس: 29.63 ارب کی ڈکیتی!!
کرسمس کے موقع پر جب پورا جرمنی خوشیوں اور تقریبات میں مشغول تھا، نامعلوم چوروں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ایک ایسی واردات کی جو جرمنی کی تاریخ کی ایک بڑی بینک ڈکیتی قرار پائی۔
یہ واقعہ جرمن شہر گیلزنکیرشن (Gelsenkirchen) میں پیش آیا، جہاں ڈاکوؤں نے فلمی انداز میں بینک کے ساتھ واقع پارکنگ گیراج سے ایک خفیہ سرنگ کھودی اور زیرِ زمین موجود اسپارکاس بینک (Sparkasse) کے والٹ تک رسائی حاصل کر لی۔ چور نہایت خاموشی اور مہارت سے سیکڑوں سیف ڈپازٹ بکس توڑ کر نقد رقم، سونا اور قیمتی اشیاء لے اڑے۔
پولیس اور بینک حکام کے مطابق لوٹے گئے مال کی مالیت نوے ملین یورو بتائی جا رہی ہے۔ جو تقریباً 29,630,000,000 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔ واردات کا انکشاف تعطیلات کے بعد اس وقت ہوا جب والٹ میں نقب اور تباہ شدہ لاکرز دیکھے گئے۔
جرمن میڈیا نے اس ڈکیتی کو “او شنز الیون طرز کی واردات” قرار دیا ہے، جب کہ پولیس نے اسے ملک کی بڑی بینک ڈکیتیوں میں شمار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ خوشیوں کے تہوار میں ہونے والی اس خاموش واردات نے جرمنی کے سیکورٹی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

04/01/2026

امریکہ نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی، جس میں صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا۔ �

اس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، کئی ممالک نے اسے خودمختاری کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کی پامالی قرار دیا ہے۔ �

اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل اس پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے کہ یہ اقدام عالمی امن اور بین الاقوامی حقوق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ �

یو این سیکیورٹی کونسل نے اس معاملے پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ بین الاقوامی ردعمل طے کیا جائے۔ �

🌐 عالمی ردعمل
کئی ممالک، بشمول چین، فرانس، ایران اور لاطینی امریکی ممالک نے امریکہ کی کارروائی پر شدید تنقید کی ہے اور اسے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ �

کچھ ممالک نے بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا ہے، جبکہ چند نے وینزویلا کے موجودہ سیاسی بحران کے حل پر زور دیا ہے۔ �

🔥 2. یمن اور خطے میں تازہ صورتحال
یمن میں سعودی عرب کی فضائی کارروائیاں اور مختلف گروہوں کے درمیان لڑائی جاری ہے، جس سے ملک کی صورت حال اور بدتر ہو گئی ہے (بین الاقوامی میڈیا رپورٹوں میں جاری تنازع کی روشنی میں)۔ (یہ خبر تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق بین الاقوامی میڈیا اور تنازعات کی سیاق و سباق پر مبنی ہے) �

🇸🇩 سوڈان… ایک خاموش چیخ، ایک بھولا ہوا المیہ 💔دنیا کے نقشے پر ایک اور انسانی تباہی جاری ہے — سوڈان (Sudan)!شمالی دارفور ...
03/11/2025

🇸🇩 سوڈان… ایک خاموش چیخ، ایک بھولا ہوا المیہ 💔

دنیا کے نقشے پر ایک اور انسانی تباہی جاری ہے — سوڈان (Sudan)!
شمالی دارفور کے شہر El Fasher پر Rapid Support Forces (RSF) کے قبضے کے بعد وہاں کی زمین خون اور آنسوؤں سے تر ہو چکی ہے۔
ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں، درجنوں بستیاں جلا دی گئی ہیں، اور لاکھوں بے گھر ہو کر خیموں یا کھلے آسمان تلے پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دو بڑے علاقے، Darfur اور Kordofan, اب قحط (Famine Phase 5) کی حالت میں ہیں۔
یہ وہ مرحلہ ہے جب لوگ صرف بھوک سے مر جاتے ہیں۔
بچوں کے پاس خوراک نہیں، اسپتال ملبے میں بدل چکے ہیں، اور امدادی تنظیمیں لڑائی کی وجہ سے پہنچ نہیں پا رہیں۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ کہیں یہاں جنگی جرائم اور نسلی قتل عام تو نہیں ہو رہا۔
مگر دنیا خاموش ہے…
بڑی طاقتیں اپنے مفادات میں الجھی ہوئی ہیں، جبکہ انسانیت تڑپ رہی ہے۔

سوڈان کے لوگ بھوک، خوف اور موت کے سائے میں جی رہے ہیں۔
ہم کچھ نہیں کر سکتے، مگر دعا کر سکتے ہیں —
امن کے لیے، انصاف کے لیے، انسانیت کے لیے۔ 🤲

🕊️

📢 نیوز ہیڈلائن:"اوریکل کے بانی لیری ایلیسن دنیا کے امیر ترین شخص، ایلون مسک کو پیچھے چھوڑ دیا"📰 نیوز اپڈیٹ:ارب پتیوں کی ...
11/09/2025

📢 نیوز ہیڈلائن:

"اوریکل کے بانی لیری ایلیسن دنیا کے امیر ترین شخص، ایلون مسک کو پیچھے چھوڑ دیا"

📰 نیوز اپڈیٹ:

ارب پتیوں کی دوڑ میں نیا موڑ، اوریکل کے بانی لیری ایلیسن نے ریکارڈ 101 ارب ڈالر کے اضافے کے ساتھ ایلون مسک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اوریکل کے شیئرز میں تاریخی 39 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ کمپنی کی مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اوریکل کو AI کی دوڑ میں ایک نئی عالمی طاقت بنا رہی ہے۔

19/05/2025

صدر ٹرمپ تین ٹریلین ڈالرز کی اگراہی کر کے واپس امریکہ روانہ!!

جی ہاں، یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی اگراہی ہے. اتنی بڑی آگراہی سکندر اعظم، امیر تیمور، چنگیز و ہلاکو خان اپنی تمام تر ماردھاڑ کے باوجود نہ کرسکے تھے جو ٹرمپ نے پیار پیار میں کر دکھایا.

‏سعودیہ عرب 720 ارب ڈالر
قطر 1200 ارب ڈالر
یو اے ای 1400 ارب ڈالر

یعنی ان عرب ممالک نے کُل ملاکر امریکہ سے 3320 ارب ڈالر انویسٹمنٹ کے معاہدے کئیے ہیں۔

پچھلے سات دن میں، مودی کی پشت میں شرلی چھوڑنے کے علاوہ ٹرمپ نے سعودیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دوروں میں تقریباً تین ٹریلین ڈالرز کے باہمی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں. جیسے کہ عرض کیا تھا کہ اب امریکہ کو عظیم بنا نے کا رستہ عرب کے ریگزاروں سے ہو کر جاتا ہے.

اس کا آدھا بھی سچ ہو جائے تو اگلے پچاس برس تک؛ امریکہ دنیا کے سینے پر ایسے ہی مونگ دلتا رہے گا.

باقی سب اپنی جگہ مگر آرٹ آف ڈیل کے مصنف صدر ٹرمپ نے اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا بیوپاری ثابت کردکھایا.

🇵🇰❤️

07/05/2025

جب پہلی بار انسان نے ایٹم بم کا دھماکہ کیا تو ایسا لگا جیسے زمین نے اپنے ہی وجود کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔ مگر انسان کی جستجو وہیں نہیں رکی۔ جلد ہی انسان نے ایٹمی طاقت کا ایک ایسا روپ دریافت کر لیا جو عام ایٹم بم سے کئی گنا زیادہ ہولناک تھا - ہائیڈروجن بم اسے بعض اوقات تھرمونیوکلئیر بم بھی کہا جاتا ہے، اور اگر سادہ الفاظ میں بیان کریں تو یہ وہ ہتھیار ہے جو سورج اور ستاروں کی توانائی کو زمین پر اتارنے کی کوشش ہے۔

ہائیڈروجن بم کا اصول بالکل مختلف ہے۔ عام ایٹم بم میں بھاری ایٹم جیسے یورینیم یا پلوٹونیم کو توڑ کر توانائی حاصل کی جاتی ہے، مگر ہائیڈروجن بم میں ہلکے عناصر کو آپس میں جوڑ کر ناقابل تصور توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ یہ عمل نیوکلیئر فیوژن کہلاتا ہے، وہی عمل جو سورج میں کروڑوں سالوں سے جاری ہے اور جس کی بدولت زمین پر روشنی اور زندگی قائم ہے۔ ہائیڈروجن بم میں چھوٹے ایٹم - جیسے ڈیوٹیریم اور ٹرائٹیریم - ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک نیا عنصر پیدا کرتے ہیں اور اس عمل میں جو توانائی خارج ہوتی ہے وہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ٹن روایتی دھماکہ خیز مواد کے برابر ہو سکتی ہے

مگر اس بم کو بنانے کا عمل کوئی آسان کام نہیں تھا۔ فیزیکل طور پر، ہائیڈروجن بم دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے ایک عام ایٹمی بم کا دھماکہ کیا جاتا ہے تاکہ اتنی زیادہ گرمی اور دباؤ پیدا ہو جو فیوژن عمل شروع کر سکے۔ پھر یہ شدید حالات ہلکے ایٹموں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ آپس میں جڑ کر ایک تباہ کن دھماکہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ ہائیڈروجن بم عام ایٹمی بم کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر عام ایٹم بم کسی شہر کو تباہ کر سکتا ہے تو ہائیڈروجن بم پورے ملک کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دنیا میں ہائیڈروجن بم بنانے کی دوڑ دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد شروع ہوئی۔ امریکہ نے 1952 میں پہلا کامیاب ہائیڈروجن بم تجربہ کیا، جسے آئیوی" مائیک" کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ مارشل آئی لینڈز کے ایک دور دراز جزیرے پر کیا گیا تھا اور اس کا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورا جزیرہ ہی نقشے سے مٹ گیا۔ سوویت یونین نے 1953 میں اپنا جواب دیا، اور 1961 کا دھماکہ کیا - ایک ایسا Tsar Bomba" میں انہوں نے دھماکہ جس کی شدت آج تک انسانیت کی تاریخ کا سب سے بڑا نیوکلیئر دھماکہ ہے۔ اس دھماکے کا بادل ساٹھ کلومیٹر کی بلندی تک اٹھا اور اس کی روشنی ہزاروں کلومیٹر دور سے دیکھی گئی

برطانیہ، فرانس اور چین نے بھی جلد ہی ہائیڈروجن بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ بعد میں بھارت نے 1998 میں اپنے پوکھران ٹیسٹ میں ایک تھرمونیوکلئیر ڈیوائس کا تجربہ کیا حالانکہ اس پر دنیا بھر میں کچھ شبہات کا اظہار بھی کیا گیا۔ پاکستان نے اسی سال اپنے کامیاب ایٹمی تجربات کیے، مگر اب تک کوئی سرکاری طور پر یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پاکستان کے پاس مکمل ہائیڈروجن بم ہے۔ شمالی کوریا نے 2016 میں اعلان کیا کہ اس نے ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے، مگر بہت سے ماہرین اب بھی اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ہائیڈروجن بم صرف ایک ہتھیار نہیں، یہ ایک فلسفہ ہے: طاقت کی انتہا، تباہی کی معراج۔ یہ اتنا مہلک ہے کہ اس کے استعمال کے بعد زمین پر کئی برسوں تک نیوکلیئر ونٹر آ سکتا ہے ایک ایسا دور جب آسمان دھوئیں سے ڈھک جائے گا، سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچے گی، درجہ حرارت گر جائے گا اور زندگی کا بیشتر حصہ فنا ہو جائے گا۔ اس بم کی تباہی کا عالم یہ ہے کہ اگر چند درجن ہائیڈروجن بم پھٹ جائیں تو انسانی تہذیب کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

شاید اسی خوف نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے معاہدے کریں۔ مگر ہائیڈروجن بم کی موجودگی اب بھی اس دنیا پر ایک ایسا سیاہ سایہ ہے جو کبھی بھی حرکت میں آ سکتا ہے، اگر انسان نے ہوش سے کام نہ لیا۔ آج جب ہم ستاروں کی کھوج میں ہیں مریخ پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھتے ہیں تو یہ ہتھیار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم نے اپنے ہی سیارے کو تباہ کرنے کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

شاید یہی ہائیڈروجن بم کی سب سے بڑی کہانی ہے . طاقت

کی معراج اور فنا کا دہانہ۔

13/12/2024

09/09/2024
18/11/2023

دریائے شیوک ( موت کا دریا ) لداخ ، انڈیا سے نکلتا ہے اور بلتستان کے ضلع گانچھے سے بہتا ہوا دریائے سندھ میں گرتا ہے۔ اس کی لمبائی 550 کلومیٹر ہے۔
یہ دریا سیاچن گلیشیر کیساتھ واقع ریمو گلیشیر سے نکلتا ہے اور اپنے رنگ یعنی کہ نیلے پانی کا دریا سے پہچانا جاتا ہے ، اس دریا میں دنیا کی سب سے لذیذ ترین پیلے رنگ کی ٹراؤٹ مچھلی پائی جاتی ہے اور یہ دریا خپلو کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا ہے اس دریا کے کنارے بیٹھ کر آپ اترتی شام اور طلوع آفتاب کے انتہائی منفرد اور خوبصورت نظارے دیکھ سکتے ہیں اور کمنٹس سیکشن میں آپکو اس حوالے سےمزید تصاویر دیکھنے کو مل جائیں گی جو میرے استاد محترم جناب سید مہدی بخاری نے لی ہیں۔

Sojhal Malik

Address

Khanewal

Telephone

+923106364033

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Elite stitch fashion posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Elite stitch fashion:

Share