Desidelight

Desidelight Hi
It's mee

31/08/2026

کراچی کا موسم بھی آج کل عجیب ہی ڈرامہ کر رہا ہے۔ 😂🌧️
روز آسمان پر بادل ایسے آتے ہیں جیسے بس اب تو بارش پکی ہے… ہم بھی فوراً خوش ہو کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگتے ہیں، بچوں کو بتاتے ہیں کہ شاید آج بارش ہوگی، دل میں سوچتے ہیں کہ آج تو خوب بھیگیں گے، بچے کھیلیں گے، کودیں گے… 🌧️😂
پھر بادل آتے ہیں، پورا ماحول بناتے ہیں، ہوا چلتی ہے، آسمان کالا سا ہوتا ہے… اور تھوڑی دیر بعد بادل ایسے غائب جیسے کبھی آئے ہی نہیں تھے۔ 😭😂
کراچی والو! یہ بادل ہمیں صرف امید دینے آتے ہیں کیا؟
بارش نہیں کرنی تو کم از کم بادل بھیجنا تو بند کرو، روز روز دل توڑ دیتے ہو۔ 😂😭
جون گزر گیا، جولائی گزر گیا، اگست بھی ختم ہونے کو ہے… لیکن کراچی میں بارش ابھی تک ایسے غائب ہے جیسے اسے کسی نے چھٹی دے دی ہو۔ 😩
اب تو واقعی دل چاہتا ہے ایک دن ایسی بارش ہو کہ ہم بھی کہیں،
“بس کرو بھائی! بہت ہوگئی!” 😂🌧️
بچے بھی بارش کے انتظار میں ہیں، ہم بھی بارش کے انتظار میں ہیں… بس کسی طرح آسمان والوں کو ہماری درخواست پہنچ جائے۔ 🥹❤️
اللہ کرے اب کی بار بادل صرف شکل دکھانے نہ آئیں بلکہ بارش بھی ساتھ لے کر آئیں۔ 🤲🏻🌧️
دعا کرو یار… کراچی میں ایسی بارش ہو کہ سڑکیں، گلیاں، چھتیں، بچے… سب خوش ہو جائیں۔ 😂❤️
یا اللہ! کراچی والوں پر رحمت کی خوبصورت بارش برسا دے۔ آمین۔ 🤲🏻🌧️❤️

جب کبھی زیادہ محنت کرنے کا دل نہ کرے تو انسان سادہ سا چکن پلاؤ بنا لیتا ہے۔ 😋❤️بنانے میں بھی بالکل آسان اور گھر والوں کو...
31/08/2026

جب کبھی زیادہ محنت کرنے کا دل نہ کرے تو انسان سادہ سا چکن پلاؤ بنا لیتا ہے۔ 😋❤️
بنانے میں بھی بالکل آسان اور گھر والوں کو بھی بہت پسند آتا ہے۔
سب سے پہلے چکن میں پیاز اور کچھ ثابت مصالحے ڈال کر اس کی یخنی نکال لیں۔ پھر دوسری پیاز اور تھوڑے سے آلو لے کر انہیں سنہری کر لیں۔ اس میں اُبلا ہوا چکن ڈالیں، تھوڑے سے مصالحے شامل کریں اور چکن کی یخنی کا پانی ڈال کر چاول شامل کر دیں۔
بس پھر کیا، تھوڑی دیر بعد خوشبودار اور مزے دار چکن پلاؤ تیار۔ 😍🍗
سادہ سا کھانا، لیکن سب شوق سے کھا لیں تو دل خوش ہو جاتا ہے۔ ❤️

میری بیٹی، میری ننھی سی دنیا ❤️🥹پتہ ہی نہیں چلا کہ میری ننھی سی گڑیا کب اتنی بڑی ہو گئی۔ کل تک جو میری گود میں سمٹ کر سو...
31/08/2026

میری بیٹی، میری ننھی سی دنیا ❤️🥹
پتہ ہی نہیں چلا کہ میری ننھی سی گڑیا کب اتنی بڑی ہو گئی۔ کل تک جو میری گود میں سمٹ کر سویا کرتی تھی، آج اپنے ننھے ننھے قدموں سے پورے گھر میں چلتی پھرتی ہے۔ 🥹❤️
ابھی تو اس نے چلنا سیکھا ہے۔ کبھی دو قدم چلتی ہے، کبھی لڑکھڑا کر بیٹھ جاتی ہے، پھر خود ہی اٹھتی ہے اور دوبارہ چلنے لگتی ہے۔ اسے یوں اپنے قدموں پر چلتے دیکھ کر دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ 🥺❤️
میری بیٹی بہت پیاری ہے، مگر ذرا سی غصے والی بھی ہے۔ 😄❤️ اپنی کوئی بات منوانی ہو تو ننھا سا چہرہ بنا کر ایسے دیکھتی ہے جیسے اس سے بڑی کوئی شکایت دنیا میں ہو ہی نہیں۔ 😂 پھر اچانک ایک پیاری سی مسکراہٹ دیتی ہے اور میری ساری تھکن کہیں دور چلی جاتی ہے۔
کبھی اس کی شرارتیں مجھے ہنساتی ہیں، کبھی اس کی معصومیت آنکھیں نم کر دیتی ہے۔
ماں بن کر سمجھ آیا کہ محبت صرف کسی کو چاہنے کا نام نہیں، بلکہ محبت تو وہ احساس ہے جس میں ایک ننھی سی جان ہماری پوری دنیا بن جاتی ہے۔ ❤️
میری بیٹی، تم ابھی بہت چھوٹی ہو۔ تمہیں کیا خبر کہ تمہاری ایک مسکراہٹ تمہاری ماں کی کتنی پریشانیاں بھلا دیتی ہے۔ تمہارے ننھے ننھے قدم صرف گھر میں نہیں پڑ رہے، بلکہ میرے دل پر محبت کے نقش چھوڑ رہے ہیں۔ 🥹❤️
اللہ میری اس ننھی سی گڑیا کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے، اس کی ہر مسکراہٹ سلامت رکھے، اس کے نصیب میں بے شمار خوشیاں لکھے اور اسے ہمیشہ اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔ آمین۔ 🤲🏻❤️
میری بیٹی، میری جان، میری ننھی سی دنیا…
تم ہو تو میری دنیا مکمل ہے۔ ❤️

جیسا کہ میں نے اپنی ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ شادی سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی۔۔امی کا ہاتھ بٹا دیتی تھی ۔۔۔سن سنا کے ...
19/08/2026

جیسا کہ میں نے اپنی ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ شادی سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی۔۔امی کا ہاتھ بٹا دیتی تھی ۔۔۔
سن سنا کے الٹی سیدھی کوکنگ کی ٹرائی ضرور کرتی تھی لیکن ذمہ داری سے کبھی کام نہیں کیا تھا۔۔ زبردستی کوئی نہیں تھی ۔۔
کیونکہ میرے ابو امی کوکہہ دیتے تھے کہ یہ بے شک نہ کرےکام اس کو کچھ نہ کہا کرو بیٹیوں کے جب سر پر پڑتی ہے تو وہ سب کچھ ہی کر لیتی ہیں ۔۔۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرا بھائی دوستوں کے ساتھ باہر سے کھانا کھا کے آیا تو میں نے ویسے ہی اسے پوچھا کہ کیا آرڈر کیا تھا اس نے کہا فرائیڈ رائس، منچورین وغیرہ وغیرہ۔۔
میرے بھائی مجھے بدھو بہت بناتے تھے۔۔
میں نے اس سے پوچھا کہ فرائیڈ رائس کون سے ہوتے ہیں تو اس نے مجھے کہا جو چاول تل کے کھاتے ہیں ان کو فرائیڈ رائس کہتے ہیں۔۔
بس یہ سننا تھا مجھے شوق چڑھا کہ میں نے بھی فرائیڈ رائس بنانے ہیں ۔۔
اگلے دن میں نے کچے چاول لیے ان کو تھوڑی دیر پانی میں بھگویا۔۔
بھگونے کے بعد ان کا پانی نکالا اور ان کو ایک برتن میں رکھا ۔۔۔ان کے اوپر بیسن، نمک، مرچ، زیرہ ،قسوری،میتھی ،گرم مصالہ یہ سارے مصالحے ڈالے اور ان کو مکس کیا۔۔
اور پھر گرم ائل سے بھری کڑاہی میں چاول ڈال دیے ۔۔۔ایسے جیسے پکوڑے تلتے ہیں۔۔
اب مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ چاولوں کو میں نے کڑاہی سے باہر نکالنا کیسے ہے۔۔
ایک طرف یہ پریشانی اور دوسری طرف میری امی کی اذانیں۔۔
"بندہ کسے نوں پچھ لیندا۔۔
چاولاں نو کون تل دا۔۔۔ سادی ہانڈی روٹی تینوں آندی نہیں ۔۔چلی تو فرائیڈ رائس بنان۔۔
۔ آئل دا بیڑا غرق کر دتا۔۔جنی دیر تک تیرا پیو تینوں کم نہیں کہے گا تینو کم نہیں آنے میں جینا مرضی کہہ دو اں۔۔آئل خراب کر دتا بیڑا غرق کر دیتا"
کیونکہ ہم مڈل کلاس لوگوں کے لیے آئل بہت قیمتی چیز ہے۔۔ اس کا ضائع ہونا ہم افورڈ نہیں کر سکتے۔۔
اس سب میں ابو کہی جائیں کہ کرے گی تو سیکھے گی کچھ نہیں ہوتا چلو چھوڑو بس کرو۔۔
پر امی اپنی اذانیں پوری کر کے ہی رکی۔۔😂😂
خیر میں نے جیسے تیسے کڑائی میں سے وہ چاول نکال کر پلیٹ میں رکھے اور سوچوں کہ ان کو کھانا ہے یا گھونٹ بھر کے پینا ہے۔۔
یہ تصویر بھی ان چاولوں سے کچھ ملتی جلتی ہے ۔۔۔
میری بدقسمتی کہ اوپر سے میری پھپو جو اب میری ساس ہیں ۔۔میرے کزن جو میرے شوہر ہیں ۔
اور میری بڑی کزن جو اب میری بڑی نند ہے یہ تینوں ہمارے گھر آگئے۔۔😔😔
۔امی کو تو کوئی بندہ چاہیے تھا ۔۔
جس سے وہ آئل کا دکھ شیئر کر سکیں۔۔
کیونکہ ابو تو سن نہیں تھے رہے ۔۔صرف سمجھا رہے تھے کہ کوئی بات نہیں۔۔۔چھوڑ دو غصہ۔۔
میری پھپھو کو دیکھ کر امی تو شروع ۔۔۔یہ دیکھیں اس نے آئل کا بیڑا غرق کر دیا اور باپ نے اس کو ٹوکا نہیں کچھ کہا نہیں ۔۔آگے سے اس کے کارنامے پر دانت نکالی جا رہے ہیں باپ بیٹی۔۔۔😠😠😠
بھائی گھر آیا اور ابو نے اس کی کلاس لی کہ تم نے فرائیڈ رائس کو نمکین چاول کی بجائے تلے ہوئے چاول کیوں کہا ۔۔۔😂😂😂
خیر میرے فرائیڈ رائس کا کافی مذاق بنا۔۔
کافی لوگوں نے اس کی زیارت کی لیکن چکھنے کا حوصلہ نہیں کیا کسی نے بھی۔۔
آخر کار ان کو کھانے کا شرف پرندوں کو حاصل ہوا۔۔۔😂😂😂
پتہ نہیں وہ پرندے زندہ رہے یا فرائیڈ رائس کھا کےہارٹ اٹیک سے چل بسے 🫣🫣🫣🫣

13/08/2026

Meri Darkan

13/08/2026

یہ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ کس بات کی آزادی، کس چیز کی آزادی ہم منائیں، ہم تو اس ملک میں آزاد نہیں ہیں، ملک میں ایسا ہوا ویسا ہوا، تو یہ سب چیزیں ملک میں تو نہیں ہوئیں، یہ سب چیزیں تو ملک میں رہنے والے انسانوں نے کی ہیں، آپ لوگوں نے کی ہیں، آپ لوگ ہو سو خراب کرنے والے۔ اس ملک کو بنانے کا تو کتنے لوگوں نے خواب دیکھا ہے، کتنے لوگوں کی قربانیاں دے کے، کتنی ماؤں نے اپنے اولادیں کھو کر اپنی ملک بنایا ہے، تو کیوں نہ منائیں ہم اس کی آزادی؟ ہم تو خوش ہیں اور آپ کو بھی خوش ہونا چاہیے۔ باقی یہ جو مسئلے مسائل ہیں، یہ آپ لوگوں کی، اس ملک کے رہنے والوں کے بنائے ہوئے ہیں۔ آپ لوگ چاہو تو اپنے ملک کو اچھا کر سکتے ہو، یہ آپ لوگوں پر ہے، ملک کے اوپر نہیں ہے۔ اس ملک کا خواب دیکھنے والوں نے قربانیاں دی ہیں۔ اس ملک کے اوپر قربان ہونے والوں نے قربانیاں دی ہیں۔ اس ملک کے لیے لوگوں نے بہت جد و جہد کی ہے۔ کتنی جانیں گئیں ہیں، کتنی لڑائیاں ہوئی ہیں۔ تو ہم کیوں نہ ان لوگوں کی لڑائیوں کی، ان کی خوشی کی، ان کا خواب کی، ان سب چیزوں کی خوشی منائیں؟ کیوں نہ منائیں؟ ہم منائیں گے، ہم آزاد ہیں۔ یہ ملک ہمیں بہت ساری قربانیوں سے ملا ہے،
azadi Mubarak 💗

Main aap sab se ek sawal poochna chahti hoon… aakhir Karachi mein hi aisa kyun ho raha hai?Do din pehle sirf 18 mahine k...
11/08/2026

Main aap sab se ek sawal poochna chahti hoon… aakhir Karachi mein hi aisa kyun ho raha hai?

Do din pehle sirf 18 mahine ki ek masoom bachi ke saath jo zulm hua, us ne dil hila kar rakh diya. Aur us se pehle Meer Raza ka case… tashaddud, acid attack, goli, aur phir qatl. In waqiat ke baad logon ne awaaz uthai, protests huay, social media par campaigns chalain, aur police par pressure bana to investigation dobara shuru hui.

Lekin mera sawal yeh hai ke aakhir Karachi hi kyun? Hum itni baar kyun sunte hain ke Karachi mein r**e hua, Karachi mein murder hua? Pakistan ke aur bhi shehar hain. Wahan bhi masail hote hain, lekin is tarah ke waqiat baar baar Karachi se hi kyun samne aa rahe hain?

Aur hamari youth itni be-hiss kyun hoti ja rahi hai? Hum kisi ke dard ko apna dard kyun nahi samajhte? Kisi ke liye awaaz uthana itna mushkil kyun ho gaya hai?

Sab se zyada takleef is baat ki hai ke woh bachi sirf 18 mahine ki thi… sirf 18 mahine ki. Mera apna beta bhi 18 mahine ka hai. Main yeh soch kar hi kaanp uthti hoon ke ek 17 saal ke larke ne us masoom bachi mein aakhir kya dekha hoga? Aur ab interviews mein yeh bhi kaha ja raha hai ke shayad ek se zyada afraad is jurm mein shamil thay. Agar yeh sach hai, to yeh insaniyat ke liye aur bhi zyada sharmnaak baat hai.

Ek aur baat jo mujhe samajh nahi aati… hum apne bachon ko itna unsupervised kyun chhor dete hain? Bachi ki walida ne bataya ke woh larka un ke ghar aata jata tha kyun ke us ke walidain nahi thay. Lekin sawal yeh hai ke hum kisi bhi shakhs ko apne ghar aur apne bachon tak itni aasani se rasai kyun dete hain?

Aaj ke daur mein, jab humein pata hai ke hum kis tarah ke mahaul mein reh rahe hain, humein aur zyada hoshiyar hone ki zarurat hai. Humein yeh bhi dekhne ko mila hai ke kai waqiat mein bachiyan apne hi qareebi rishtedaron se mehfooz nahi rahi. Yeh haqeeqat bohat takleef deh hai, lekin is se aankhen band karne se masla khatam nahi hoga.

Main kisi ko judge nahi kar rahi. Main sirf itna kehna chahti hoon ke agar mumkin ho, apne chhote bachon ko kisi ke bharose na chhoren. Na relatives ke, na neighbours ke, na kisi aur ke. Agar majboori ho to sirf un logon par bharosa karein jin par aap ko mukammal aitmaad ho, aur phir bhi bachon ki hifazat aur supervision ko kabhi nazarandaz na karein.

Career zaroori hai, lekin hamare bachon ki safety us se kahin zyada zaroori hai. Agar hum ek bachay ko is duniya mein laate hain, to us ki hifazat hamari sab se bari zimmedari hai.

Khuda ke liye apne bachon ki hifazat karein, un par nazar rakhein, aur jab bhi kisi mazloom ke saath zulm ho, us ke liye awaaz zaroor uthayein. Aaj kisi aur ki bachi hai… kal Khuda na kare kisi ki bhi ho sakti hai.

10/08/2026

میں نے اپنے مردہ بھائی کی انگوٹھے کاغذات پر لگوائے تھے اور پھر اپنے بھائی کے حصے کا سب کچھ بھی اپنے نام کروا لیا تھا مجھے پتہ تھا کہ میرا بھائی مر چکا ہے اب اگر میری بھابھی اور بھتیجی چاہیں بھی تو مجھ سے جائیداد سے حصہ نہیں لے پائیں گی اگر ان کے اپنے نام پر جائیداد ہوتی تو بھی میں ان کو اپنے جیتے جی قبضہ کبھی نہیں دیتا وہ میرے قبضے میں رہتی ہاں مگر اس کے لیے مجھے قانونی مشکلات اور کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا لہذا میں نے ان قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے پاکستانی قوانین میں موجود سقموں کا فائدہ اٹھایا حیرت انگیز طور پر مجھے رہنمائی فراہم کرنے والے لوگ بھی پاکستانی قانون پر کاربند تھے اور حلف دے کر ائے تھے کہ وہ کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کریں گے مگر وہ خود اس غیر قانون کام کو قانونی طریقے سے کرنے کے لیے میری رہنمائی کر رہے تھے اور اس کے بدلے میں انہوں نے مجھ سے ایک معقول معاوضہ لیا تھا اپنی طرف سے میں نے ہر ممکن تسلی کر لی تھی کہ اگر کل کلاں کو میری بھابی کورٹ کچہری بھی چلی جاتی تو اس کو اب اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد میں سے پھوٹی کوڑی نہیں ملنی تھی
یہ سب کچھ میں نے اپنے بھائی کی تدفین سے پہلے کیا تھا اور مجھے یہ سب کچھ کرنا ہی تھا میں نے یہ فیصلہ اپنے بھائی کی بیماری کے دوران ہی کر لیا تھا کیونکہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ میں ان کی موت کے بعد ان کے حصے میں انے والا سب کچھ ان کے بیٹی کے حوالے کر دوں گا اپنے بھائی کے سامنے میں نے حامی بھر لی تھی مگر جب میں نے ساری جائیداد کا اندازہ لگایا اور حساب لگایا تو نے حیران رہ گیا کہ اتنی جائیداد کی ضرورت میری بھابی اور بھتیجی کو بالکل بھی نہیں تھی اور اگر ہوتی بھی تو میں ان کو کبھی نہ دیتا لہذا بھائی کو غسل دینے سے پہلے میں نے ان کے انگوٹھے وغیرہ لگوا لیے پھر ان کے انگوٹھوں کو دھو کر صاف کر دیا تاکہ کل کو کوئی گواہ یہ گواہی نہ دے سکے کہ جب میرے بھائی کو غسل دیا گیا تو ان کے انگوٹھوں پہ سیاہی لگی ہوئی تھی یہ کام ہے مجھے ایک قانون دان نے ہی بتایا تھا کہ کوئی ثبوت باقی نہیں چھوڑنا

خیر بھائی کی موت کے بعد جب اہستہ اہستہ میں اپنی بھابی اور بھتیجی سے دور ہوتا گیا اور ان کے گھر میں غربت اتی گئی تو انہوں نے مجھ سے جائیداد سے حصہ مانگنا شروع کر دیا میں نے پہلے تین چار سال ان کے ساتھ رویہ اچھا رکھا تاکہ ابھی تازہ تازہ کام ہے اور وہ عدالت نہ چلی جائے پھر میں اہستہ اہستہ رویہ بدلنا شروع کیا اگلے چار پانچ سالوں میں میں ان سے مکمل طور پر قطع تعلق ہو گیا اب جب اور کوئی صورت نہ رہی تو میری بات بھی نے مجھ سے اپنے حصہ مانگ لیا میں ایک بار پھر ان کو ٹالنے لگا میری کوشش تھی کہ جب تک یہ معاملہ خاموشی سے رہ سکتا ہے تب تک خاموشی سے رہے جب اور کوئی راہ نہ رہی تو تب اپنی بھابی کو جواب دے دوں گا مگر اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ اب خاموش رہنا بےکار تھا کیونکہ جب میری بھابھی خود مجھ سے اپنا حق مانگ مانگ کر تھک گئی تو اس نے عزیزوں رشتہ داروں کو کہنا شروع کر دیا تھا اور میرے عزیز رشتہ دار مجھے سمجھانے لگے تھے تب میں نے اپنے بھابھی کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بھائی اپنے جیتے جی اپنے علاج معالجے کے نام پر مجھ سے پیسے لیتا رہا اور اس کے بدلے میں اپنا سب کچھ میرے نام کر گیا تھا یہاں تک کہ میں نے اپنی بھابی پر گھٹیا اور بدکردار ہونے کا الزام لگا دیا اور کہا کہ میرا بھائی اسی صدمے سے مرا ہے
اب جب میری بھابھی کو جائیداد کے ساتھ ساتھ اپنی عزت جاتی ہوئی نظر ائی تو وہ خاموش ہو گئی وہ اپنی بیٹی کو لے کر اپنے میکے چلی گئی اس کے بھائیوں نے اسے رہنے کو گھر دیا اور کھانے پینے کی بھی ذمہ داری اٹھا لی لیکن پھر اس کی بیٹی کسی مہلک میں بیماری میں مبتلا ہو گئی اس کا علاج کروا پانا اس کے بھائیوں کے بس کی بات نہیں تھی تب اس کے گھر کی نوبت یہ تھی کہ اس کے بھائی اس کو گھر کے راشن کے لیے جو پیسے دیتے تھے وہ ان پیسوں سے بھی اپنی بیٹی کے لیے دوا خرید لیتی تھی اس کے بھائیوں نے اسے ہاتھ جوڑ کر کہا تھا کہ اس کا علاج چھوڑ دو اس نے ہر حال میں مر جانا ہے تم ایسا کرو کہ جو پیسے تمہیں راشن کے لیے دیے جاتے ہیں ان سے اپنا راشن خریدو اپنا پیٹ تو بھرو
مگر ایک ماں کے لیے کہاں ممکن ہے کہ اس کی بیٹی اس کی نظروں کے سامنے مر رہی ہو اور وہ اپنی اس مرتی ہوئی بیٹی کے سرہانے بیٹھ کر کھانا کھا رہی ہو لہذا بھائیوں کو کہنے کے باوجود بھی وہ بچی کا علاج کروانے سے باز نہیں اتی تھی وہ تین کی بجائے ایک وقت روٹی کھا لیتی بلکہ پورا پورا دن فاقہ کر لیتی لیکن اپنے بچی کو ہر ہفتے ڈاکٹر کے پاس لے جاتی تھی کئی بار ایسا ہوتا کہ اس کے پاس صرف اتنی ہی رقم ہوتی تھی کہ وہ اپنی بچی کا چیک اپ کروا سکتی تھی ڈاکٹر اس کے لیے جو نس کا لکھ کر دیتا تھا وہ خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے اور کئی بار اس کے پاس ڈاکٹر کی فیس بھی نہیں ہوتی تھی تو اپنی بچی کو تسلی دیتی تھی کہ تمہیں اگلے ہفتے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں گی جب بچی کا مناسب علاج نہ ہوا تو اس کا مرض بڑھتا گیا یہاں تک کہ اس کو سانس لینے میں دشواری رہنے لگی وہ کھانستی تو پتہ نہیں کتنی دیر کھانستی رہتی بلکہ کھانستے ہوئے بے ہوش ہو جایا کرتی تھی تب اپنی بیٹی کو اس حال میں لے کر میری بھابھی میرے گھر اخری بار ائی تھی مجھے اپنی بیٹی کی حالت دکھائی اور ہاتھ جوڑ کر کہا کہ تم اسے اپنے رشتہ دار نہ سمجھو صرف ایک مسلمان یتیم بچی سمجھ لو اور اس کا علاج کروا دو تم ہمیں ہماری جائیداد میں سے بالکل بھی حصہ نہ دو ہم تمہیں اپنے حق اس اس جہاں معاف کرتے ہیں لیکن صرف میری بچی کا علاج کروا دو اس کی جان بچ جائے مگر تب مجھ میں انا تھی اکڑ تھی مجھے پتہ تھا کہ یہ لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے تو میں نے ان کو دھکے دیتے ہوئے گھر سے نکالا اور کہا کون سی جائیداد کیسی جائیداد یہ میرا گھر ہے میری محنت کی کمائی ہوئی دولت ہے یہ کوئی فلاحی ادارہ نہیں ہے اگر اپ نے اپنا علاج کروانا ہے تو کسی فلاحی ادارے سے رابطہ کریں

میری بھابھی اخری بار ذلیل و رسوا ہو کر میری دہلیز سے گئی تو اس کے بعد کبھی پلٹ کر نہیں آئی پھر ایک عرصے بعد مجھے پتہ چلا کہ جس روز میں نے ان دونوں ماں بیٹی کو دھکے دے کر اپنے گھر سے نکالا تھا اس سے اگلے دن ہی میری بھتیجی کا انتقال ہو گیا تھا اس کے بعد پلٹ کر میرے خلاف نہ تو کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی کی گئی نہ ہی مجھ سے حق مانگا گیا اور میں مطمئن ہو گیا مجھے نہیں پتا کہ میری بھابھی کہاں گئی اس کا کیا بنا لیکن وہ جائیداد جو میں نے ظلم کر کے حاصل کی تھی بلکہ یوں سمجھ لیں اپنی بھتیجی کا قتل تک کر دیا تھا کیونکہ اگر میں چاہتا تو اس کا علاج ہو سکتا تھا اس کی جان بچ سکتی تھی اس کی جو علامات تھیں وہ یوں لگتا تھا جیسے ٹی بی بگڑ چکا ہے بہرحال اس کی جان چلی گئی اور میں نے اس کا علاج نہیں کروایا اس کے بعد مکافات عمل شروع ہوا

میں نے اپنی جائیداد کی تین حصے کیے اپنی بیٹی کو اپنے بیٹوں کے برابر جائیداد دی اور میری بیٹی نے وہ جائیداد کے کر محبت کی شادی کی اور اس کے بعد جائیداد اپنے شوہر کے حوالے کر دی شوہر نے وہ جائیداد اپنے نام منتقل کروانے کے بعد میری بیٹی کو طلاق دے دی اور میری بیٹی بالکل پاگل ہو گئی میرا ایک بیٹا جو نشے پر لگ گیا اس نے اپنا سب کچھ بیچ کر نشے پر لگا دیا اور اجاڑ دیا میرا دوسرا بیٹا جو صحت مند تھا وہ بیمار ہوا تو میں نے اس کا علاج معالجہ شروع کرایا اس کے نام پر موجود جائیداد کو بیچ کر میں اس کا علاج کرواتا رہا مگر وہ صحت یاب نہ ہوا یہاں تک کہ اج میں نے اپنا گھر بیچ دیا ہے وہ گھر جس میں سے ادھا میرے بھائی کا تھا اور ادھا میرا تھا وہ گھر جس کو اپنے نام منتقل کرنے کے لیے تب میں نے اپنے مردہ بھائی کے انگوٹھے لگوائے تھے اج وہ گھر بک گیا تھا
میری بھتیجی تو مر گئی تھی اس کی ماں شاید وہ صدمہ سہہ کر دوبارہ صدمے سے نکل ائی ہوگی یا پھر شاید وہ بھی مر گئی ہوگی مگر میں ہر روز صدموں سے مرتا ہوں میری اولاد تباہ و برباد ہو چکی ہے وہ ساری جائیداد جو میں نے ظلم سے حاصل کی تھی وہ ضائع ہو چکی ہے اج میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے بس مجھے اب اس چیز کا حساب دینا ہے کہ جو ظلم میں نے اپنے بھابی اور یتیم بھتیجی کے ساتھ کیا تھا
یقین کریں لوگ میرے حالات دیکھ کر اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور میں واقعی لوگوں کے لیے عبرت بن چکا ہوں میں اس تحریر میں اپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپ لوگ کبھی بھی کسی کا حق ظلم سے حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں ہر مستحق کو اس کا حق دیں اگر اپ کسی کا حق دبا کر بیٹھیں گے تو وہ کسی کا جو اپ نے دبایا ہوگا اپ کا اپنا حق بھی ساتھ لے کر ڈوب جائے گا میرے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوا ہے

اختتام
برائے مہربانی تحریر پڑھنے کے بعد شیئر ضرور کر دیں تاکہ مزید لوگ بھی سبق حاصل کر سکیں

Coppied

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Desidelight posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share