20/01/2026
پچھلے چار دنوں سے میرے دماغ میں بہت کچھ چل رہا ہے بہت کچھ یاد آرہا ھے جس کا اظہار میں لکھ کے کر رہی ہوں
گل پلازہ کا واقعہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ بہت سی زندگیوں ہزاروں خاندانوں اور کروڑوں جوانیوں کو روندنے والا ہے
پندرہ سال پہلے ایسا ہی واقعہ بولٹن مارکیٹ میں ہوا تھا جس نے اسی طرح ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کو تبدیل کر دیا تھا اور پیچھے کی طرف دھکیل دیا تھا
یہ اگ صرف دکانوں کو نہیں لگتی بلکہ لوگوں کی جوانیوں کو کھا جاتی ہے، لوگوں کے بچوں کے ارمانوں کو کھا جاتی ہے، لوگوں
کے احساسات، ان کا کیریئر، ان کے جذ بات سب کھا جاتی ہے
اس بات کا نہ صرف میرے پاس تجربہ ہے بلکہ یہ ایک خواب کی طرح ہوتا ہے کہ جب تک انسان دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہوتا ہے اور انکھ کھلتی ہے تو زندگی کا ایک سفر ہی تمام ہو چکا ہوتا ہے
جوان بوڑھا ہو چکا ہوتا ہے، بچہ جوان ہو چکا ہوتا ہے اور بوڑھے شاید حالات کے صحیح ہونے کا انتظار کرتے کرتے اپنی زندگی کا سفر ہی تمام کر دیتے ہوں گے۔
یہ اگ نہ صرف دکاندار بلکہ ان کے ساتھ کرنے کا کام کرنے والے لڑکے اور جو دکاندار کرائے پہ ہیں ان کے اونرز سب کےخاندانوں کو ہی روند دیتی ہے
جو اٹھ اٹھ ،دس دس، 20 20 ،30 30، سال سے لوگ اپنے بچے کی طرح دکانوں کو پالتے ہیں، ان سے محبت کرتے ہیں اور ایک سیکنڈ میں اس کو اپنے ہی انکھوں سے جلتا ہوا دیکھ لیتے ہیں وہ وقت وہ لمحہ انسان کی انکھ میں قید ہو کے رہ جاتا ہے اور وہ اسی لمحے کو جیتا چلا جاتا ہے 16 سال پہلے بولٹن مارکیٹ میں
ایسا ہی ہوا تھا
کاش ہمارے حکمرانوں تک یہ جذبات پہنچ جائیں کاش ائندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہو کاش کسی ماں باپ سے اپنے بچوں کے لیے دیکھے گئے خواب نہ چھینے کاش جن بچوں نے بہت بہت اگے جانا ہو کیریئر بنانا ہو اور وہ نہ ہو سکے کاش ائندہ ایسا نہ ہو کاش ہمارے ادارے غفلت کا شکار نہ ہوں
یہ سانحہ اس لیے بھی زیادہ المناک ہے کہ اس میں انسانی بہت سی جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں اور ان جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے وقت کے ساتھ ساتھ چاہے بچہ جوان ہو کے اور جوان بوڑھا ہو کے سیٹل ہو ہی جاتا ہے لیکن جو چلا گیا وہ واپس نہیں اتا. اللہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور اپنے پاس سے ان کے نقصان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے ..امین