19/01/2026
چالاک آگ
تحریر ندیم مرزا
19 جنوری 2026
(نوٹ: مصنف کا آگ کی اس کہانی سے متفق ھونا ضروری نہیں ھے)
گل پلازہ میں لگنے والی آگ انتہائی چالاک تھی اس آگ کی کہانی آپ اس کی زبانی سنیں
آگ کی کہانی خود آگ کی زبانی
میں نے گل پلازہ میں لگنے کیلئے انتہائی موزوں وقت کا انتخاب کیا تاکہ میں تیزی سے پھیل سکوں اور کوئی مجھے بجھا نہ پائے اور میں گل پلازہ کو بھسم کر کے پونے دو ایکڑ کے پرائم لوکیشن کے خالی پلاٹ میں تبدیل کرنے اور نزدیک میں بننے والے پلازہ کو آباد کروانے یعنی بکوانے کے اپنے مشن میں کامیاب ھو سکوں
مجھے معلوم تھا کہ گل پلازہ کے اخراج کے راستے رات دس بجے بند ھو جاتے ھیں اس لئے میں نے رات 10:10 بجے کے وقت کا انتخاب کیا
میں نے ویک اینڈ یعنی ھفتے کا دن کا انتخاب کیا کیونکہ
مجھے پتہ تھا کہ اس دن تمام سرکاری افسران ویک اینڈ منا رھے ھوتے ھیں یا اپنے گاؤں گئے ھوئے ھوتے ھیں
پلازہ میں دیر تک رش ھو گا اور مجھے زیادہ انسانی جانیں نگلنے میں آسانی ھو جائے گی
شہر میں معمول سے زیادہ ٹریفک ھو گا اس لئے مجھے بجھانے والے تاخیر سے پہنچیں گے
میں بہت چالاک ھوں مجھے پتہ تھا کہ منیر کراچی شہر میں نہیں اسلام آباد میں ھیں اس لئے وہ بروقت مجھے بجھانے کی کارروائیوں کی نگرانی نہیں کر سکیں گے اور مجھے پھیلنے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی میں وزیر اعلی سندھ اور منیر کراچی کی خصوصی طور پر شکر گذار ھوں کہ اسلام آباد کا فلائیٹ ٹائم پونے دو گھنٹے کا ھے لیکن مئیر تیئس گھنٹوں کے اور وزیر اعلیٰ انیس گھنٹے کے بعد میرا مشن مکمل ھونے کے بعد آئے
ھاں بے اختیار گورنر بیچارہ چھ سات گھنٹے کے بعد پہنچ گیا تھا لیکن اس وقت تک میرا کام ھو چکا تھآ یہ تینوں فوٹو سیشن کروانے اور حجت تمام کر کے خانہ پری کرنے آئے تھے بیشتر سیاسی پارٹیوں کی قیادت نے تو اس خانہ پری کی بھی کوشش نہیں کی جس پر میں بہت خوش ھوں کہ مستقبل میں اپنا کام کھل کر کر سکتی ھوں
مجھے یہ بھی پتا تھا کہ مئیر نے کراچی میں واٹر ھائنڈرینٹ کے معاہدوں کی تجدید نہیں کی ھے اور انہیں بتدریج بند کرنے کا اعلان کر دیا ھے اس لئے اس کو بجھانے کیلئے بروقت واٹر ٹینکرز نہیں آ سکیں گے
میں اپنی کیا کیا چالاکیاں آپ کو بتاؤں مجھے معلوم تھآ کہ حکومت سندھ کی طرف سے 2021 میں منگوانے گئے 52 فائر ٹینڈر ابھی پوری طرح سے فعال نہیں ھیں اور جو فعال ھیں بھی ان میں اکثر میں ڈیزل ھی نہیں ھے، وہ خراب ھیں یا دور دراز علاقوں میں موجود ھیں اس لئے وہ مجھے بجھانے بروقت نہیں پہنچ پائیں گے اس لئے مجھے بجھانے صرف بائیس فائر ٹینڈر آئے مجھے پتہ تھا کہ کل 5 میں سے 3 اسنارکلز بھی خراب ھیں اور فائر بریگیڈ کے زیادہ تر فائر فائٹر شفارش پر بھرتی غیر تربیت یافتہ لوگ ھیں اور کے پاس ان کے فائر پروف لباس ماسک اور دیگر سامان بھی نہیں ھے مجھے پتہ تھا کہ سفارش پر بھرتی فائر بریگیڈ کے افسران فائر ٹینڈروں اور اسنارکل کی مرمت فائر فائٹنگ کٹ اور ڈیزل کے پیسے کھا جاتے ھیں اس لئے یہ لنگڑی لولی فائر بریگیڈ ٹیم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ وزیر اعلٰی اور وزراء ویک اینڈ میں مصروف ھونگے اور وہ بروقت آرمی نیوی ائیر فورس سول ایوی ایشن کے پی ٹی سے اضافی فائر ٹینڈر بھجنے کی درخواست بھی نہیں کر سکیں گے اور اپنی اپنی پارٹیاں اور نیندیں پوری کر کے دوسرے دن پہنچیں گے اور مجھے کھل کر لگنے کا پورا موقع مل جائے گا اور میں گل پلازہ کو جلا کر بھسم کر دوں گی
اس پہلے میں کراچی کے مختلف شاپنگ مالز فیکٹریوں اور عمارتوں کو جلا چکی ھوں اور آئندہ بھی جلاتی رھوں گی کیونکہ جب تک کراچی میں بھٹو زندہ ھے کوئی میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا میں اسی طرح جگہ جگہ لگتی رھوں گی تباھی پھیلاتی رھوں گی انسانی جانیں لیتی رھوں گی
میں آپ کو بتاتی چلوں کہ میں کراچی والوں کی خدمت کیلئے ھر وقت تیار ھوں میری قیمت چکا کر آپ مجھے کہیں بھی لگوا سکتے ھیں چاھے وہ ماسیوں کی جھگیاں ھوں، سرکاری ریکارڈ ھوں، پلازہ، فیکٹری، شاپنگ مالز، بنگلے، کالونیاں سب کیلئے میرے لگنے کے الگ الگ دام ھیں دام کی گارنٹی اپ کی ھو گی کام کی گارنٹی میری ھوگی
آخر میں ایک راز کی بات اور بتاتی چلوں کہ اپ میرے پاس جدید ترین کیمیکل آ گئے ھیں جن کی مدد سے جب میں لگتی ھوں تو کسی کا باپ بھی مجھے بجھا نہیں سکتا کیونکہ یہ ابھی تک پانی سے آگ بجھاتے ھیں ان کے پاس مجھے بجھانے والا کیمکل ھی وافر مقدار میں موجود نہیں کیونکہ اس کیمکل کے پیسے بھی یہ کھا جاتے ھیں
دلوں میں لگانے والی آگوں کی کہانی میں پھر کبھی آپ کو سناؤں گی