17/01/2026
مفتی عبدالرحیم صاحب کے خلاف مہم کیوں چلائی جا رہی؟
عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے کچھ عرصے سے جامعتہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم صاحب کے خلاف جمعیت علما اسلام فضل الرحمن گروپ کے احباب بڑے زور شور سے مہم چلا رہے ہیں، جہاں کسی نے مفتی صاحب کے بارے میں کوئی مثبت پوسٹ کی، وہاں جمعیت کے یہ جتھے دیوانہ وار پہنچ جاتے ہیں اور (معذرت کے ساتھ ) غیر معمولی حد تک مشتعل اور جارحانہ انداز میں حملے کرتے ہیں ، بدزبانی کی انتہا کر دیتے ہیں اور کئی افراد تو ننگی گالیوں تک اتر آتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے بیشتر پروفائل کو دیکھنے سے پتہ چلے گا کہ یہ مدرسے سے درس نظامی کا فارغ التحصیل ہے اور کسی نہ کسی مسجد میں خطیب ، امام ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ دین کی تعلیم کا عملی اثر ان کے طرزِ گفتگو میں دکھائی نہیں دیتا۔
ویسے جس کسی نے شیخ الحدیث مولانا منظور مینگل کی گفتگو سنی ہو تو وہ کانوں کو ہاتھ لگا لے گا کہ ایسے لوگ اگر قرآن وحدیث کی تعلیم دیں گے توشاگردوں پر کیا تباہ کن اثر پڑے گا۔ ایسی گفتگو دیکھ کر آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ دینی تعلیم کا اصل مقصد کہیں پس منظر میں تو نہیں چلا گیا۔
قرآن وحدیث اور سیرت مبارکہ کوپڑھنے والا شخص کیسے کسی دوسرے پر یوں منہ پھاڑ کر تہمت لگا سکتا ہے؟وہ بے بنیاد زہریلے حملے کرے، بہتان تراشی کرے اور غیر اخلاقی، نچلے درجے کے ذاتی بازاری حملے کو اپنا شعار بنا لے ؟ یہ تو ممکن ہی نہیں سوائے اس کے خدانخواستہ دلوں پر مہر لگ چکی ہو، قلب زنگ آلود ہو کر حد درجہ سخت اور بے حس ہوچکا ہو۔
بہت سوں نے "حضرت شیخ الحدیث مولانا منظور مینگل حفظہ " کی وہ ویڈیو دیکھی ہوگی جس میں وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ مزا لیتے ہوئے "بھینس کپڑا کھا رہی ہے" جیسی عامیانہ بازاری اصطلاحوں کے ذریعے فوجی وردی میں ملبوس مفتی عبدالرحیم صاحب کی اپنے گھر کے ایک بچے کے ساتھ بنوائی ایک تصویر پر طنز کر رہے تھے ۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ جس کسی نے پتلون پہنی خواہ وہ فوجی یونیفارم ہی کی کیوں نہ ہو، اس نے گناہ کبیرہ کر ڈالا، ایسی فحاشی کر ڈالی جس سے باجماعت نماز میں پیچھے کھڑے شخص کی نماز حرام ہوگئی۔
میرے حساب سے یہ انتہائی سطحی، غیر سنجیدہ اور علمی معیار سے گری ہوئی بات ہے جس کی کسی عالم دین سے توقع ہرگز نہیں رکھی جا سکتی۔یہ طرزِ عمل افسوسناک اور علمی روایت کے سراسر منافی ہے۔
٭٭٭
میں بڑے غور سےمفتی عبدالرحیم صاحب کے مدرسہ جامعتہ الرشید سے تعلق رکھنے والوں کی پوسٹیں اور ان پر جمعیت والوں کے کئے گئے کمنٹس اور پھر مفتی صاحب کی مخالفت میں کی گئی پوسٹیں دیکھتا رہا ہوں ۔
پوری دیانت داری سے عرض کر رہا ہوں کہ اس معاملے میں انتہائی درجے کی زیادتی جمعیت علما اسلام والے کر رہے ہیں۔ مفتی عبدالرحیم صاحب نے کبھی مولانا فضل الرحمن کے بارے میں کوئی سخت بات نہیں کی، کوئی ذاتی حملہ نہیں کیا، کوئی طنز نہیں کیا۔ میری ان سے تین چار ملاقاتیں ہیں، ایک تفصیلی انٹرویو کیا۔ لاہور میں صحافیوں کے ساتھ بھی ایک نشست ہوئی جس میں بہت کچھ آف دا ریکارڈ بھی کہا گیا، مگر وہاں بھی مفتی صاحب نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا۔
اس کے برعکس مولانا فضل الرحمن اپنی روایتی اور مشہور شگفگی، حلم وبرداشت اور میچورٹی کے برعکس کئی بار نہایت سخت الفاظ میں جامعتہ الرشید پر حملے کر چکے ہیں۔ ایک سے زیادہ بار انہوں نے بازاری الفاظ بھی استعمال کئے۔ مدرسے کو کوٹھا کہنا، علما کو خواجہ سرا کہنا جیسے ناشائستہ اور نامناسب الفاظ ۔ کبھی وہ جامعتہ الرشید کو ڈمی مدرسہ کہتے ہیں کبھی غزالی یونیورسٹی کو ڈمی یونیورسٹی ۔ کبھی وہ نہایت متکبرانہ اور تفاخرانہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نے یہ پگڑیاں پہنائی ہیں، سرپر چادریں بھی ہم نے پہنائی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور مفتی عبدالرحیم صاحب کی درس نظامی سے فراغت کا سال کم وبیش ایک ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ چھ آٹھ ماہ کا فرق ہوگا۔ پھر مولانا فضل الرحمن نوجوانی ہی سے سیاست کی طرف لپکے اور اس میں مشغول ہوگئے، کبھی کسی مدرسے میں پڑھانے کی زحمت نہیں فرمائی۔ مفتی عبدالرحیم صاحب نے چالیس سال مدارس میں پڑھایا۔ مدارس کی داخلی دنیا میں درس نظامی کرنا عام بات ہے، مدارس میں پڑھانے والوں کو البتہ زیادہ توقیر اور اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ میرا مقصد ہرگز ہرگز مولانا فضل الرحمن کے علمی رتبے کو کم کرنا نہیں۔ وہ صاحب علم آدمی ہیں، محترم ہیں، طویل عرصے سے سیاست کر رہے ہیں، کئی امور پر انہوں نے اچھا مضبوط موقف بھی لیا ہے۔ ہم مولانا فضل الرحمن کی بعض سیاسی آرا، حکمت عملی یا طرز سیاست کے ناقد ضرور ہیں، مگر مولانا کا ذاتی اور شخصی طور پر احترام ہے۔ البتہ مولانا کی یہ روش نامناسب ہے کہ وہ کسی اختلاف پر اپنے ہم عصر علما اور دیوبند مکتب فکر میں ایک بڑے مدرسے کے یوں درپے ہوجائیں۔
بہترین طریقہ یہ تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمن جامعتہ الرشید کو ڈمی مدرسہ سمجھتے ہیں، ان کےمدرسہ بورڈ کو غیر اہم اور بے وقعت تصور کرتے ہیں تو اسے بالکل نظرانداز کر دیں۔ کسی غیر اہم اور معمولی چیز پر کون اپنی پریس کانفرنس میں کئی منٹ صرف کر کے طنز کرتا ہے ؟مولانا کو نجانے کس بات پر اتنی فرسٹریشن ، غصہ اور کڑواہٹ ہے؟ جامعتہ الرشید کو اپنا الگ مدرسہ بورڈ مجمعہ العلوم الاسلامیہ بنائے ہوئے کئی سال ہوگئے، اب تو دس نئے مدرسہ بورڈ بن چکے ہیں جس میں دیوبند مکتب فکر کے مزید مدرسہ بورڈ بھی شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو مگر جامعتہ الرشید اور مفتی عبدالرحیم صآحب ہی پر غصہ ہے۔ نجانے کیوں ؟
٭٭٭
اب آ جائیں جمعیت علما اسلام کے کارکنوں کے رویے پر۔ میرا تو اپنا پرانا تجربہ ہے کہ دینی مدارس کے بہت سے فارغ التحصیل لوگ اکثر دوسروں سے زیادہ جذباتی اور مغلوب الغضب ہیں۔ ان میں سے بعض کا شائد ایکسپوژر زیادہ نہیں، دنیا دیکھی نہ علمی دنیا سے یہ واقف ہے۔ انہیں شائد اندازہ ہی نہیں کہ علمی اختلاف کیا ہوتا ہے اور اس میں علمی شائستگی کیسے برتی جاتی ہے؟ ان میں سے بہت سوں کی تربیت شائد فرقہ ورانہ ماحول میں ہوئی ہے، جو ان سے اختلاف کرتا ہے، وہ مخالف ہے، دشمن ہےیوں وہ گمراہ ہے، باطل ہے، دجالی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگلے مرحلے پر خیر سے یہ دین ہی سے نکال باہر کرتے ہیں، اعلانیہ نہ کہیں تو دل میں ضرور یہی سمجھتے ہیں۔
یہ کہنا لازم ہے کہ سب ایسے نہیں۔ میرے فیس بک فرینڈز میں سے کئی جے یوآئی کے ہیں، بعض تو مقامی سطح پر ذمہ داران بھی ہیں، ان کا رویہ شائستہ اور باوقار رہتا ہے۔ خاص کر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایسے کئی لوگ ہیں۔ مولانا خالد ولید سیفی جیسے جو اختلاف کرتے ہیں، ڈٹ کر کرتے ہیں مگر دلیل سے بات کرتے اور شائستگی برتتے ہیں اور اختلافات کو ذاتی تعلق پر حاوی نہیں آنے دیتے۔ ایسے کئی اور احباب بھی ہیں۔ بہت سے مزید بھی ہوں گے ، ظاہر ہے ہر کوئی تو سوشل میڈیا پر نہیں۔
اس بار کراچی کتاب میلہ میں کوہستان یا اسی سائیڈ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد ملے جن میں سے ایک تو جے یوآئی کے ضلعی امیر بھی تھے، خندہ پیشانی سے یہ ملے اور شائستگی سے کہا کہ آپ سے اختلاف ہےمگر آپ کو شوق سے پڑھتے ہیں۔ ہم نے بھی ان سے معانقہ کیا اور کسی دل آزاری والی تحریر پر معذرت چاہی۔
یہ کہنا البتہ ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر باقاعدہ جمعیت کے جتھے موجود ہیں جو بدزبانی کی انتہا کر دیتے ہیں، افسوس کہ انہیں یہاں پر کوئی سمجھانے والا بھی نہیں۔ کبھی کبھار جماعت اسلامی سے وابستہ لوگ بھی میری کسی پوسٹ پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں، خاص کر سابقین جمعیت، مگر وہاں پر کوئی نہ کوئی جماعت کا سینئر یا نظم میں سے کوئی انہیں آ کر ٹوک دیتا اور اصلاح کرتا ہے، یہ سمجھاتا ہے کہ ذاتی حملہ نہ کریں، شائستگی سے اختلاف کریں۔ یہ بات مان کر بہت بار ایسے حملہ آور اپنا کمنٹ ڈیلیٹ بھی کر دیتے، پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ افسوس کہ میں نے جمعیت علما اسلام کے حملوں میں ایسا کوئی نہیں دیکھا۔ شائد ہر کوئی ڈرتا ہے کہ کہیں یہ ہماری پگڑی کے درپے نہ ہوجائیں۔
ایک بار پھر واضح کر دوں کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اختلاف نہ کریں۔ ضرور کریں، ہزار بار کریں مگر بدتمیزی نہ کریں،گھٹیا ذاتی حملے نہ کریں جیسا کہ مفتی عبدالرحیم صاحب پر آج کل ہو رہے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مولانا عبدالودود یا مولانا انجینئر عثمان یا مولانا سفیان لاہوری یا جامعتہ الرشید کے کسی دیگر ہمدرد کی پوسٹ پر صاحب پوسٹ کو انتہائی فحش، ناقابلِ بیان اور اخلاق سے عاری گالیاں دے تو اس گھٹیا اور اخلاق سے عاری رویے کا کون دفاع کر سکتا ہے؟
اور اگر اس پوسٹ پر سو ڈیڑھ سو دیگر کمنٹ کرنے والے وابستگان جمعیت خاموش رہیں تب اسے کیا کہا جائے گا؟ یہی نہیں بلکہ جو زیادہ بدزبانی کرتا ہے، مفتی صاحب پر دل کھول کر تہمتیں لگائے، گھٹیا طنز کرے تو اس کی پوسٹ پر اسے خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ واہ کیا بات ہے، کمال کر دیا حضرت وغیرہ جیسے جملوں سے نوازا جاتا ہے۔ اس سب پر افسوس ہوتا ہے ۔
کیا یہی تربیت ہے جمعیت علما اسلام کی ؟ مجھے یقین ہے کہ جناب مفتی محمود صاحب جیسا عظیم عالم اگر آج زندہ ہوتا تو ایسے لوگوں کو فوری پارٹی سے نکال باہر کرتا۔
٭٭٭
میرا ارادہ ہے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب کے حوالے سے ایک اور پوسٹ بھی کروں گا جس میں اپنے انٹرایکشن کے حوالے سے کچھ لکھوں گا۔ سردست مختصر اتنا ہی کہ آخر مفتی عبدالرحیم صاحب کا قصور کیا ہے کہ جمعیت والے ان کے درپے ہوگئے ہیں ؟
کیا یہ قصور کہ مفتی عبدالرحیم صاحب نے جامعتہ الرشید کو وفاق المدارس سے الگ کر ایک الگ مدرسہ بورڈ بنایا ؟ اس لئے کہ ان کا اپنے مدرسے کے حوالے سے وژن مختلف تھا تو انہوں نے الگ مدرسہ بورڈ بنایا۔ اس میں مگر وفاق المدارس کا کیا نقصان ہوا ؟ وفاق والے اور مولانا فضل الرحمن تو یہ سمجھتے اور اعلانیہ کہتے ہیں کہ جامعتہ الرشید کے مدرسہ بورڈ کی حیثیت ہی کچھ نہیں ۔ تو پھر اسے نظرانداز کر دیں ناں ، دشمن نمبر ون کیوں بنا رکھا ہے؟
کیا مفتی عبدالرحیم صاحب کا یہ قصور ہے کہ انہوں نے بڑی جرات ، مضبوطی اور استقامت کے ساتھ خوارج کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ وہ اپنی جان کی پروا کئے بغیر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف بات کر رہے ہیں، انہیں خوارج قرار دے رہے ہیں۔ کیا جمعیت والوں یا مولانا فضل الرحمن کے نزدیک یہ مفتی صاحب کا جرم عظیم ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کھل کر یہ بات کہنے کی اخلاقی جرات پیدا کریں۔
کیا مفتی عبدالرحیم صاحب کا یہ قصور ہے کہ وہ خوارج کو سپورٹ کرنے والوں یا ان کی مذمت سے گریز کرنے والوں کو کھل کر خوارج کا سہولت کار کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ غلط بات کہی گئی ؟ کیا خوارج کو سپورٹ کرنے والوں، ان کی اعلانیہ مذمت نہ کرنے والوں کے لئے یہی حکم نہیں بنتا ؟
کیا مفتی عبدالرحیم صاحب کا یہ قصور ہے کہ وہ مکمل طور پر غیر سیاسی ہیں ۔ وہ سیاست سےالگ رہتے اور اس میں فریق بننے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ تعلیم وتدریس پر مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ یا ملک کو درپیش دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ کیا یہ جرم ہے ؟کیا ہر دیوبندی عالم کے لئے یہ فرض عین ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن یا جمعیت علما اسلام کی سیاست کا طرف دار، حامی یا آلہ کار بنے اور ایسا نہ کرنے والوں کو سرے سے جماعت اہل سنت یا دیوبندیت سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی جائے ۔
کیا مفتی عبدالرحیم صاحب کا یہ جرم ہے کہ وہ ملک کو درپیش سلامتی کے خطرات اور دہشت گردی کے عفریت کےخدشے کے پیش نظر پاک فوج کو سپورٹ کر رہے ہیں، وہ ڈی جی آئی ایس پی آر سےتعلق رکھتے اور دہشت گردوں سے لڑنے والی پاک افواج کو دعائیں دیتے ہیں؟ کیا یہ جرم ہے ؟کیا دہشت گردوں کے خلاف اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف ہم سب پاک افواج کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے ؟
٭٭٭
میرا مفت اور مخلصانہ مشورہ ہے کہ جناب مولانا فضل الرحمن اور ان کے مقلدین ، حامیوں اور کارکنوں کو کسی بہتر اور واضح بیانئے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ وہ یہ تو بتائیں اور سمجھائیں کہ آخر انہیں کس بات پر غصہ ہے؟ ان کا اختلاف کس پہلو اور کس نکتہ پر ہے ؟
مزید یہ کہ مولانا کو چاہیے کہ وہ اپنے حامیوں، مقلدین، اپنے کارکنوں اور ساتھیوں کے ساتھ اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو بنیادی اخلاقی تربیت ضرور دیں۔ انہیں بتائیں کہ گالی دینا اسلام میں گناہ ہے، کسی مخالف تک کو گالی دینے کی اجازت نہیں۔ یہ بھی کہ تہمت لگانا، بہتان تراشنا بھی گناہ کبیرہ ہیں اور تہمت پر تو شرعی حد بھی جاری ہوسکتی ہے۔ یہ باتیں اگر مولانا اپنے خطبات میں پانچ فیصد بھی شامل کر لیں تو جمعیت کے حامیوں، کارکنوں کی اچھی تربیت ہوسکتی ہے۔ وما علینا الاالبلاغ
(عامر خاکوانی، سترہ جنوری، 2026)
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
***iAbdulRaheem