JTR Alumnai Sargodha

JTR Alumnai Sargodha Learn Islam ❣️

17/02/2026
مفتی عبدالرحیم صاحب کے خلاف مہم کیوں چلائی جا رہی؟ عامر خاکوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے کچھ عرصے سے جامعتہ الر...
17/01/2026

مفتی عبدالرحیم صاحب کے خلاف مہم کیوں چلائی جا رہی؟
عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے کچھ عرصے سے جامعتہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم صاحب کے خلاف جمعیت علما اسلام فضل الرحمن گروپ کے احباب بڑے زور شور سے مہم چلا رہے ہیں، جہاں کسی نے مفتی صاحب کے بارے میں کوئی مثبت پوسٹ کی، وہاں جمعیت کے یہ جتھے دیوانہ وار پہنچ جاتے ہیں اور (معذرت کے ساتھ ) غیر معمولی حد تک مشتعل اور جارحانہ انداز میں حملے کرتے ہیں ، بدزبانی کی انتہا کر دیتے ہیں اور کئی افراد تو ننگی گالیوں تک اتر آتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے بیشتر پروفائل کو دیکھنے سے پتہ چلے گا کہ یہ مدرسے سے درس نظامی کا فارغ التحصیل ہے اور کسی نہ کسی مسجد میں خطیب ، امام ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ دین کی تعلیم کا عملی اثر ان کے طرزِ گفتگو میں دکھائی نہیں دیتا۔
ویسے جس کسی نے شیخ الحدیث مولانا منظور مینگل کی گفتگو سنی ہو تو وہ کانوں کو ہاتھ لگا لے گا کہ ایسے لوگ اگر قرآن وحدیث کی تعلیم دیں گے توشاگردوں پر کیا تباہ کن اثر پڑے گا۔ ایسی گفتگو دیکھ کر آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ دینی تعلیم کا اصل مقصد کہیں پس منظر میں تو نہیں چلا گیا۔
قرآن وحدیث اور سیرت مبارکہ کوپڑھنے والا شخص کیسے کسی دوسرے پر یوں منہ پھاڑ کر تہمت لگا سکتا ہے؟وہ بے بنیاد زہریلے حملے کرے، بہتان تراشی کرے اور غیر اخلاقی، نچلے درجے کے ذاتی بازاری حملے کو اپنا شعار بنا لے ؟ یہ تو ممکن ہی نہیں سوائے اس کے خدانخواستہ دلوں پر مہر لگ چکی ہو، قلب زنگ آلود ہو کر حد درجہ سخت اور بے حس ہوچکا ہو۔
بہت سوں نے "حضرت شیخ الحدیث مولانا منظور مینگل حفظہ " کی وہ ویڈیو دیکھی ہوگی جس میں وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ مزا لیتے ہوئے "بھینس کپڑا کھا رہی ہے" جیسی عامیانہ بازاری اصطلاحوں کے ذریعے فوجی وردی میں ملبوس مفتی عبدالرحیم صاحب کی اپنے گھر کے ایک بچے کے ساتھ بنوائی ایک تصویر پر طنز کر رہے تھے ۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ جس کسی نے پتلون پہنی خواہ وہ فوجی یونیفارم ہی کی کیوں نہ ہو، اس نے گناہ کبیرہ کر ڈالا، ایسی فحاشی کر ڈالی جس سے باجماعت نماز میں پیچھے کھڑے شخص کی نماز حرام ہوگئی۔
میرے حساب سے یہ انتہائی سطحی، غیر سنجیدہ اور علمی معیار سے گری ہوئی بات ہے جس کی کسی عالم دین سے توقع ہرگز نہیں رکھی جا سکتی۔یہ طرزِ عمل افسوسناک اور علمی روایت کے سراسر منافی ہے۔
٭٭٭
میں بڑے غور سےمفتی عبدالرحیم صاحب کے مدرسہ جامعتہ الرشید سے تعلق رکھنے والوں کی پوسٹیں اور ان پر جمعیت والوں کے کئے گئے کمنٹس اور پھر مفتی صاحب کی مخالفت میں کی گئی پوسٹیں دیکھتا رہا ہوں ۔
پوری دیانت داری سے عرض کر رہا ہوں کہ اس معاملے میں انتہائی درجے کی زیادتی جمعیت علما اسلام والے کر رہے ہیں۔ مفتی عبدالرحیم صاحب نے کبھی مولانا فضل الرحمن کے بارے میں کوئی سخت بات نہیں کی، کوئی ذاتی حملہ نہیں کیا، کوئی طنز نہیں کیا۔ میری ان سے تین چار ملاقاتیں ہیں، ایک تفصیلی انٹرویو کیا۔ لاہور میں صحافیوں کے ساتھ بھی ایک نشست ہوئی جس میں بہت کچھ آف دا ریکارڈ بھی کہا گیا، مگر وہاں بھی مفتی صاحب نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف کچھ بھی نہیں کہا۔
اس کے برعکس مولانا فضل الرحمن اپنی روایتی اور مشہور شگفگی، حلم وبرداشت اور میچورٹی کے برعکس کئی بار نہایت سخت الفاظ میں جامعتہ الرشید پر حملے کر چکے ہیں۔ ایک سے زیادہ بار انہوں نے بازاری الفاظ بھی استعمال کئے۔ مدرسے کو کوٹھا کہنا، علما کو خواجہ سرا کہنا جیسے ناشائستہ اور نامناسب الفاظ ۔ کبھی وہ جامعتہ الرشید کو ڈمی مدرسہ کہتے ہیں کبھی غزالی یونیورسٹی کو ڈمی یونیورسٹی ۔ کبھی وہ نہایت متکبرانہ اور تفاخرانہ انداز میں کہتے ہیں کہ ہم نے یہ پگڑیاں پہنائی ہیں، سرپر چادریں بھی ہم نے پہنائی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور مفتی عبدالرحیم صاحب کی درس نظامی سے فراغت کا سال کم وبیش ایک ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ چھ آٹھ ماہ کا فرق ہوگا۔ پھر مولانا فضل الرحمن نوجوانی ہی سے سیاست کی طرف لپکے اور اس میں مشغول ہوگئے، کبھی کسی مدرسے میں پڑھانے کی زحمت نہیں فرمائی۔ مفتی عبدالرحیم صاحب نے چالیس سال مدارس میں پڑھایا۔ مدارس کی داخلی دنیا میں درس نظامی کرنا عام بات ہے، مدارس میں پڑھانے والوں کو البتہ زیادہ توقیر اور اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ میرا مقصد ہرگز ہرگز مولانا فضل الرحمن کے علمی رتبے کو کم کرنا نہیں۔ وہ صاحب علم آدمی ہیں، محترم ہیں، طویل عرصے سے سیاست کر رہے ہیں، کئی امور پر انہوں نے اچھا مضبوط موقف بھی لیا ہے۔ ہم مولانا فضل الرحمن کی بعض سیاسی آرا، حکمت عملی یا طرز سیاست کے ناقد ضرور ہیں، مگر مولانا کا ذاتی اور شخصی طور پر احترام ہے۔ البتہ مولانا کی یہ روش نامناسب ہے کہ وہ کسی اختلاف پر اپنے ہم عصر علما اور دیوبند مکتب فکر میں ایک بڑے مدرسے کے یوں درپے ہوجائیں۔
بہترین طریقہ یہ تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمن جامعتہ الرشید کو ڈمی مدرسہ سمجھتے ہیں، ان کےمدرسہ بورڈ کو غیر اہم اور بے وقعت تصور کرتے ہیں تو اسے بالکل نظرانداز کر دیں۔ کسی غیر اہم اور معمولی چیز پر کون اپنی پریس کانفرنس میں کئی منٹ صرف کر کے طنز کرتا ہے ؟مولانا کو نجانے کس بات پر اتنی فرسٹریشن ، غصہ اور کڑواہٹ ہے؟ جامعتہ الرشید کو اپنا الگ مدرسہ بورڈ مجمعہ العلوم الاسلامیہ بنائے ہوئے کئی سال ہوگئے، اب تو دس نئے مدرسہ بورڈ بن چکے ہیں جس میں دیوبند مکتب فکر کے مزید مدرسہ بورڈ بھی شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو مگر جامعتہ الرشید اور مفتی عبدالرحیم صآحب ہی پر غصہ ہے۔ نجانے کیوں ؟
٭٭٭
اب آ جائیں جمعیت علما اسلام کے کارکنوں کے رویے پر۔ میرا تو اپنا پرانا تجربہ ہے کہ دینی مدارس کے بہت سے فارغ التحصیل لوگ اکثر دوسروں سے زیادہ جذباتی اور مغلوب الغضب ہیں۔ ان میں سے بعض کا شائد ایکسپوژر زیادہ نہیں، دنیا دیکھی نہ علمی دنیا سے یہ واقف ہے۔ انہیں شائد اندازہ ہی نہیں کہ علمی اختلاف کیا ہوتا ہے اور اس میں علمی شائستگی کیسے برتی جاتی ہے؟ ان میں سے بہت سوں کی تربیت شائد فرقہ ورانہ ماحول میں ہوئی ہے، جو ان سے اختلاف کرتا ہے، وہ مخالف ہے، دشمن ہےیوں وہ گمراہ ہے، باطل ہے، دجالی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگلے مرحلے پر خیر سے یہ دین ہی سے نکال باہر کرتے ہیں، اعلانیہ نہ کہیں تو دل میں ضرور یہی سمجھتے ہیں۔
یہ کہنا لازم ہے کہ سب ایسے نہیں۔ میرے فیس بک فرینڈز میں سے کئی جے یوآئی کے ہیں، بعض تو مقامی سطح پر ذمہ داران بھی ہیں، ان کا رویہ شائستہ اور باوقار رہتا ہے۔ خاص کر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایسے کئی لوگ ہیں۔ مولانا خالد ولید سیفی جیسے جو اختلاف کرتے ہیں، ڈٹ کر کرتے ہیں مگر دلیل سے بات کرتے اور شائستگی برتتے ہیں اور اختلافات کو ذاتی تعلق پر حاوی نہیں آنے دیتے۔ ایسے کئی اور احباب بھی ہیں۔ بہت سے مزید بھی ہوں گے ، ظاہر ہے ہر کوئی تو سوشل میڈیا پر نہیں۔
اس بار کراچی کتاب میلہ میں کوہستان یا اسی سائیڈ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد ملے جن میں سے ایک تو جے یوآئی کے ضلعی امیر بھی تھے، خندہ پیشانی سے یہ ملے اور شائستگی سے کہا کہ آپ سے اختلاف ہےمگر آپ کو شوق سے پڑھتے ہیں۔ ہم نے بھی ان سے معانقہ کیا اور کسی دل آزاری والی تحریر پر معذرت چاہی۔
یہ کہنا البتہ ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر باقاعدہ جمعیت کے جتھے موجود ہیں جو بدزبانی کی انتہا کر دیتے ہیں، افسوس کہ انہیں یہاں پر کوئی سمجھانے والا بھی نہیں۔ کبھی کبھار جماعت اسلامی سے وابستہ لوگ بھی میری کسی پوسٹ پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں، خاص کر سابقین جمعیت، مگر وہاں پر کوئی نہ کوئی جماعت کا سینئر یا نظم میں سے کوئی انہیں آ کر ٹوک دیتا اور اصلاح کرتا ہے، یہ سمجھاتا ہے کہ ذاتی حملہ نہ کریں، شائستگی سے اختلاف کریں۔ یہ بات مان کر بہت بار ایسے حملہ آور اپنا کمنٹ ڈیلیٹ بھی کر دیتے، پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ افسوس کہ میں نے جمعیت علما اسلام کے حملوں میں ایسا کوئی نہیں دیکھا۔ شائد ہر کوئی ڈرتا ہے کہ کہیں یہ ہماری پگڑی کے درپے نہ ہوجائیں۔
ایک بار پھر واضح کر دوں کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اختلاف نہ کریں۔ ضرور کریں، ہزار بار کریں مگر بدتمیزی نہ کریں،گھٹیا ذاتی حملے نہ کریں جیسا کہ مفتی عبدالرحیم صاحب پر آج کل ہو رہے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مولانا عبدالودود یا مولانا انجینئر عثمان یا مولانا سفیان لاہوری یا جامعتہ الرشید کے کسی دیگر ہمدرد کی پوسٹ پر صاحب پوسٹ کو انتہائی فحش، ناقابلِ بیان اور اخلاق سے عاری گالیاں دے تو اس گھٹیا اور اخلاق سے عاری رویے کا کون دفاع کر سکتا ہے؟
اور اگر اس پوسٹ پر سو ڈیڑھ سو دیگر کمنٹ کرنے والے وابستگان جمعیت خاموش رہیں تب اسے کیا کہا جائے گا؟ یہی نہیں بلکہ جو زیادہ بدزبانی کرتا ہے، مفتی صاحب پر دل کھول کر تہمتیں لگائے، گھٹیا طنز کرے تو اس کی پوسٹ پر اسے خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ واہ کیا بات ہے، کمال کر دیا حضرت وغیرہ جیسے جملوں سے نوازا جاتا ہے۔ اس سب پر افسوس ہوتا ہے ۔
کیا یہی تربیت ہے جمعیت علما اسلام کی ؟ مجھے یقین ہے کہ جناب مفتی محمود صاحب جیسا عظیم عالم اگر آج زندہ ہوتا تو ایسے لوگوں کو فوری پارٹی سے نکال باہر کرتا۔
٭٭٭
میرا ارادہ ہے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب کے حوالے سے ایک اور پوسٹ بھی کروں گا جس میں اپنے انٹرایکشن کے حوالے سے کچھ لکھوں گا۔ سردست مختصر اتنا ہی کہ آخر مفتی عبدالرحیم صاحب کا قصور کیا ہے کہ جمعیت والے ان کے درپے ہوگئے ہیں ؟
کیا یہ قصور کہ مفتی عبدالرحیم صاحب نے جامعتہ الرشید کو وفاق المدارس سے الگ کر ایک الگ مدرسہ بورڈ بنایا ؟ اس لئے کہ ان کا اپنے مدرسے کے حوالے سے وژن مختلف تھا تو انہوں نے الگ مدرسہ بورڈ بنایا۔ اس میں مگر وفاق المدارس کا کیا نقصان ہوا ؟ وفاق والے اور مولانا فضل الرحمن تو یہ سمجھتے اور اعلانیہ کہتے ہیں کہ جامعتہ الرشید کے مدرسہ بورڈ کی حیثیت ہی کچھ نہیں ۔ تو پھر اسے نظرانداز کر دیں ناں ، دشمن نمبر ون کیوں بنا رکھا ہے؟
کیا مفتی عبدالرحیم صاحب کا یہ قصور ہے کہ انہوں نے بڑی جرات ، مضبوطی اور استقامت کے ساتھ خوارج کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ وہ اپنی جان کی پروا کئے بغیر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف بات کر رہے ہیں، انہیں خوارج قرار دے رہے ہیں۔ کیا جمعیت والوں یا مولانا فضل الرحمن کے نزدیک یہ مفتی صاحب کا جرم عظیم ہے ؟ اگر ایسا ہے تو کھل کر یہ بات کہنے کی اخلاقی جرات پیدا کریں۔
کیا مفتی عبدالرحیم صاحب کا یہ قصور ہے کہ وہ خوارج کو سپورٹ کرنے والوں یا ان کی مذمت سے گریز کرنے والوں کو کھل کر خوارج کا سہولت کار کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ غلط بات کہی گئی ؟ کیا خوارج کو سپورٹ کرنے والوں، ان کی اعلانیہ مذمت نہ کرنے والوں کے لئے یہی حکم نہیں بنتا ؟
کیا مفتی عبدالرحیم صاحب کا یہ قصور ہے کہ وہ مکمل طور پر غیر سیاسی ہیں ۔ وہ سیاست سےالگ رہتے اور اس میں فریق بننے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ تعلیم وتدریس پر مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ یا ملک کو درپیش دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ کیا یہ جرم ہے ؟کیا ہر دیوبندی عالم کے لئے یہ فرض عین ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن یا جمعیت علما اسلام کی سیاست کا طرف دار، حامی یا آلہ کار بنے اور ایسا نہ کرنے والوں کو سرے سے جماعت اہل سنت یا دیوبندیت سے نکال باہر کرنے کی دھمکی دی جائے ۔
کیا مفتی عبدالرحیم صاحب کا یہ جرم ہے کہ وہ ملک کو درپیش سلامتی کے خطرات اور دہشت گردی کے عفریت کےخدشے کے پیش نظر پاک فوج کو سپورٹ کر رہے ہیں، وہ ڈی جی آئی ایس پی آر سےتعلق رکھتے اور دہشت گردوں سے لڑنے والی پاک افواج کو دعائیں دیتے ہیں؟ کیا یہ جرم ہے ؟کیا دہشت گردوں کے خلاف اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف ہم سب پاک افواج کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے ؟
٭٭٭
میرا مفت اور مخلصانہ مشورہ ہے کہ جناب مولانا فضل الرحمن اور ان کے مقلدین ، حامیوں اور کارکنوں کو کسی بہتر اور واضح بیانئے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ وہ یہ تو بتائیں اور سمجھائیں کہ آخر انہیں کس بات پر غصہ ہے؟ ان کا اختلاف کس پہلو اور کس نکتہ پر ہے ؟
مزید یہ کہ مولانا کو چاہیے کہ وہ اپنے حامیوں، مقلدین، اپنے کارکنوں اور ساتھیوں کے ساتھ اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو بنیادی اخلاقی تربیت ضرور دیں۔ انہیں بتائیں کہ گالی دینا اسلام میں گناہ ہے، کسی مخالف تک کو گالی دینے کی اجازت نہیں۔ یہ بھی کہ تہمت لگانا، بہتان تراشنا بھی گناہ کبیرہ ہیں اور تہمت پر تو شرعی حد بھی جاری ہوسکتی ہے۔ یہ باتیں اگر مولانا اپنے خطبات میں پانچ فیصد بھی شامل کر لیں تو جمعیت کے حامیوں، کارکنوں کی اچھی تربیت ہوسکتی ہے۔ وما علینا الاالبلاغ
(عامر خاکوانی، سترہ جنوری، 2026)
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔











***iAbdulRaheem

سرپرستی اور قیادت دو الگ ذمہ داریاں ہیں، جنہیں خلط ملط کرنا فکری کمزوری ہے۔سرپرست وہ ہوتا ہے جو کسی کام کی اخلاقی، علمی ...
15/01/2026

سرپرستی اور قیادت دو الگ ذمہ داریاں ہیں، جنہیں خلط ملط کرنا فکری کمزوری ہے۔
سرپرست وہ ہوتا ہے جو کسی کام کی اخلاقی، علمی یا روحانی نگرانی کرے، رہنمائی دے اور اپنے وقار و اعتماد سے اس کو تقویت بخشے، مگر عملی فیصلے اور انتظامی امور اس کے ذمے نہیں ہوتے۔
جبکہ قائد وہ ہوتا ہے جو عملی طور پر ٹیم کی رہنمائی کرے، فیصلے کرے، نمائندگی کرے اور ذمہ داری اٹھائے۔
دینی و ملی اداروں میں یہ ترتیب ہمیشہ سے رہی ہے کہ بڑے اکابر سرپرستی فرماتے ہیں اور متحرک، انتظامی صلاحیت رکھنے والے حضرات قیادت کرتے ہیں۔
لہٰذا اگر پیغامِ امن کمیٹی کی سرپرستی حضرت استاد صاحب نے فرمائی اور اس کی عملی قیادت مولانا طاہر اشرفی صاحب نے کی، تو اس میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ یہ ایک متوازن اور مہذب تنظیمی ڈھانچے کی علامت ہے۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب سرپرستی کو قیادت سمجھ لیا جائے یا قیادت کو سرپرستی سے ٹکرانے کی کوشش کی جائے، حالانکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل ہیں، مقابل نہیں۔
یہی فہمِ صحیح ہے، اور یہی فتنہ سے بچاؤ کا راستہ

طلحہ خالد 💐

اسلام میں عالم کا منصب تلوار نہیں، امانت ہے؛ اور امانت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حق بات کہے، خواہ وہ کسی کے ذوق کے مطابق ہو ی...
14/01/2026

اسلام میں عالم کا منصب تلوار نہیں، امانت ہے؛ اور امانت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حق بات کہے، خواہ وہ کسی کے ذوق کے مطابق ہو یا نہ ہو۔
یہ طعنہ کہ “علما کا منصب امت کو جوڑنا ہے، کاٹنا نہیں” ایک حد تک درست ہے، مگر نصف سچ ہمیشہ پورا فتنہ بن جاتا ہے۔
قرآن نے جہاں وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ کا حکم دیا، وہیں وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ کی سخت تنبیہ بھی کی۔
امت کو جوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ باطل کے ساتھ خاموش مصالحت کر لی جائے، اور فتنہ کے نام پر حق پر پردہ ڈال دیا جائے۔
حضرت علیؓ کا قول تاریخ کا آئینہ ہے:
“حق کو اشخاص سے نہیں، اشخاص کو حق سے پہچانو۔”
جو شخص خوارج کے فتنہ کو فتنہ کہے، وہ امت کو توڑ نہیں رہا بلکہ خونِ مسلم کی حفاظت کر رہا ہے۔
یہ کہنا کہ “سیاسی معاملات میں بولنا علماء کا کام نہیں” دراصل تاریخِ اسلام سے ناواقفیت ہے۔
امام احمدؒ، امام ابن تیمیہؒ، شاہ ولی اللہؒ، شیخ الہندؒ — سب نے اپنے اپنے دور میں ریاستی و اجتماعی فتنوں پر کلام کیا، مگر کسی نے انہیں “امت شکن” نہیں کہا، کیونکہ وہ شریعت کی عینک سے بولتے تھے، خواہ بات تلخ ہی کیوں نہ ہو۔
جہاں تک افغانستان یا کسی گروہ کے بارے میں تنبیہ کا تعلق ہے، تو شریعت جذبات نہیں دیکھتی، افعال دیکھتی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
“فتنہ سویا ہوا ہوتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے جو اسے جگائے۔”
جو فتنے کو بے نقاب کرے، وہ فتنہ پرور نہیں بلکہ فتنہ شکن ہوتا ہے۔
امت کی وحدت کا سب سے بڑا دشمن وہ خاموشی ہے جو ظلم پر اختیار کی جائے،
اور سب سے بڑی خدمت وہ صداقت ہے جو حکمت، دلیل اور دردِ امت کے ساتھ کہی جائے۔
اختلاف اگر شریعت کی حدود میں ہو تو رحمت ہے،
اور تنقید اگر کردار کشی میں بدل جائے تو وہ خود ایک فتنہ بن جاتی ہے۔
علماء کو جوڑنے کی ذمہ داری ضرور ہے،
مگر باطل کو باطل کہے بغیر جوڑنا، دراصل امت کو دھوکے میں جوڑنا ہے —
اور شریعت ایسے جوڑ کو قبول نہیں کرتی۔

طلحہ خالد ⭐
***iAbdulRaheem

13/01/2026

* جی ایچ کیو میں 13 جنوری 2026 کو این پی اے سی کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات، قومی بیانیے کے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی۔

* پاک افواج سے غیر متزلزل یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار۔
* فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں۔ این پی اے سی

* قومی سلامتی کے امور میں یکسوئی اور بیانیے پر اتفاقِ رائے وقت کی ضرورت۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

* فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی پر جامع گفتگو ہوئی اور مشترکہ مؤقف مزید مضبوط ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

* کشمیر اور غزہ پر اصولی مؤقف کی توثیق، مظلوموں کی حمایت کو پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

* منبر و محراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی برابری کے پیغام کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کا اعلان ۔ این پی اے سی

* نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق۔ این پی اے سی

* دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کیلئے عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

* ریاستی بیانیے کی ترویج کیلئے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی و رہنمائی نشستیں بڑھانے کی تجویز ۔ این پی اے سی

* ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیش رفت کی توقع ظاہر کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

09/01/2026
09/01/2026
اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی حفاظت — شریعت و تاریخ کی روشنی میںحضرت استاذِ محترم کا یہ جملہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ا...
07/01/2026

اسلام کے نام پر بننے والے ملک کی حفاظت — شریعت و تاریخ کی روشنی میں
حضرت استاذِ محترم کا یہ جملہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک پورے فکری، شرعی اور تاریخی شعور کا خلاصہ ہے کہ "جو ملک اسلام کے نام پر بنا، اسے اسلام کے نام پر تباہ مت کریں"۔ یہ بات آج اس وقت اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے جب ختمِ نبوت ﷺ جیسی مقدس تقاریب میں، جن کا مقصد ایمان کی تجدید اور عقیدے کا تحفظ ہونا چاہیے، بعض حلقوں کی طرف سے ریاستِ پاکستان اور اس کے دفاعی اداروں کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، اور خوارجی فکر کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا جا رہا ہے۔

شریعت کی روشنی میں ریاست اور نظمِ اجتماعی
اسلام فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا دین ہے۔ شریعت نے ہمیشہ نظمِ اجتماعی کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں فتنہ سے بچنے کا حکم دیتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ فتنہ قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔ فقہائے امت نے لکھا ہے کہ اگر کسی عمل سے معاشرے میں فسادِ عام، خونریزی اور بدامنی پیدا ہو تو وہ عمل نیکی نہیں رہتا، چاہے اس پر کتنے ہی مقدس نام کیوں نہ رکھ دیے جائیں۔
خوارج کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ یہ وہ گروہ تھا جو عبادت، تقویٰ اور نعروں میں سب سے آگے تھا، مگر ریاست، نظم اور اجتماعی فیصلوں کے خلاف خروج کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں امت کے لیے سب سے خطرناک فتنہ قرار دیا۔ حضرت علیؓ جیسے جلیل القدر خلیفہ کے خلاف تلوار اٹھانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خوارجی فکر کا اصل مسئلہ حکمران نہیں بلکہ نظمِ اجتماعی ہی ہوتا ہے۔

ختمِ نبوت ﷺ اور اس کا اصل پیغام
ختمِ نبوت ﷺ کا عقیدہ اسلام کی بنیاد ہے، اور اس پر جان قربان کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ مگر یہ بھی ایک شرعی حقیقت ہے کہ ہر حق بات کا ایک صحیح موقع اور ایک صحیح طریقہ ہوتا ہے۔ ختمِ نبوت ﷺ کی تقاریب کو اگر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت، بغاوت یا انتشار کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ عقیدے کی خدمت نہیں بلکہ اس کے تقدس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب دینی شعائر کو سیاسی یا خوارجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو نہ دین محفوظ رہا اور نہ دنیا۔ علماءِ حق نے ہمیشہ ایسے فتنوں سے امت کو خبردار کیا ہے اور صبر، حکمت اور اصلاح کے اصولی راستے کی طرف رہنمائی کی ہے۔

پاکستان: ایک شرعی و تاریخی امانت
پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے، جو اسلام کے نام پر حاصل کی گئی۔ یہ ملک لاکھوں قربانیوں کے بعد وجود میں آیا، تاکہ مسلمان یہاں اپنے دین پر آزادی سے عمل کر سکیں۔ شریعت کی رو سے ایسی ریاست کی حفاظت اجتماعی فرض ہے۔
پاک فوج اس ریاست کے دفاع کی ذمہ دار ہے۔ اس کے خلاف منبر و محراب سے نفرت پھیلانا دراصل ملک کے دفاع کو کمزور کرنا ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ جب دفاع کمزور ہو جائے تو سب سے پہلے مسجد، مدرسہ اور منبر ہی غیر محفوظ ہوتے ہیں۔
علماء اور مذہبی جماعتوں سے دردمندانہ اپیل
علماء امت کا ضمیر ہوتے ہیں۔ ان کے الفاظ قوم کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اس لیے علماء اور مذہبی جماعتوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ:
اختلاف کو اصلاح کے دائرے میں رکھیں، فتنہ کے دائرے میں نہ لے جائیں۔
ختمِ نبوت ﷺ جیسے مقدس عنوانات کو خوارجی بیانیے سے پاک رکھیں۔
ریاستِ پاکستان کے نقصانات کا سوچیں، دشمنوں کے بیانیے کو تقویت نہ دیں۔

***iAbdulRaheem

حضرت استادِ محترم کا یہ فرمان کہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف باقاعدہ تشکیلات قائم کی جا چکی ہیں، جن میں ٹی ٹی پی اور ب...
07/01/2026

حضرت استادِ محترم کا یہ فرمان کہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف باقاعدہ تشکیلات قائم کی جا چکی ہیں، جن میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ عملی معاونت کر رہے ہیں، محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ شریعت اور تاریخ کے آئینے میں ایک سنگین خطرے کی نشاندہی ہے۔ اسلام فتنہ، فساد اور خفیہ سازشوں کا دین نہیں، بلکہ امن، نظم اور ذمہ داری کا دین ہے۔ کسی مسلمان ملک کے خلاف مسلح منصوبہ بندی، چاہے دینی نعروں میں لپٹی ہو، شریعت کی رو سے خروج اور فساد کے زمرے میں آتی ہے۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب دین کو ریاست کے خلاف ہتھیار بنایا گیا تو اس کا نتیجہ خوارج کی صورت میں ظاہر ہوا—جذبہ بہت تھا، مگر بصیرت نہ تھی، اور انجام امت کی تباہی نکلا۔ آج بھی یہی روش دہرائی جا رہی ہے؛ تکفیر، تشدد اور ’’جہاد‘‘ کے نام پر مسلمانوں ہی کا خون بہایا جا رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیم واضح ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
پاکستان کی سرزمین، اس کے عوام اور اس کا دفاع کمزور کرنا دراصل امت کو کمزور کرنا ہے۔ اختلاف اور اصلاح کا راستہ دلیل، نصیحت اور حکمت ہے، نہ کہ بندوق اور تشکیلات۔ اس نازک وقت میں علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ فتنہ اور شریعت کے نام پر ہونے والے فساد کے درمیان واضح لکیر کھینچیں، کیونکہ جہاں دین کے نام پر فساد ہو، وہاں خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے

***iAbdulRaheem

05/01/2026
03/01/2026

🌷کابل کی تشکیلات پاکستان کی طرف ⚡

کابل کی نئی تشکیلات کو اگر صرف نعروں اور دعوؤں کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ تاریخ کے ساتھ بددیانتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اقتدار کی تبدیلی ہمیشہ خیر کی ضمانت نہیں ہوتی، خاص طور پر اُس وقت جب فیصلے بند کمروں میں ہوں اور ان کی توجیہ کھلے منبروں سے کروائی جائے۔ ماضی گواہ ہے کہ ہر دور میں طاقت ور قوتوں نے سب سے پہلے دین کے مقدس نام کو استعمال کیا، اور اس کے لیے سب سے آسان راستہ اہلِ علم کے چہروں کو آگے کرنا سمجھا۔
افغانستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں کہ “اسلامی نظام” کے نام پر عوام کو مطمئن کیا جا رہا ہو۔ خوارج نے بھی قرآن کے نعرے بلند کیے تھے، مگر حضرت علیؓ نے واضح کر دیا تھا کہ حق کا کلمہ اگر باطل مقصد کے لیے استعمال ہو تو وہ بھی گمراہی بن جاتا ہے۔ آج کابل کی نئی تشکیلات میں یہی خطرہ سر اٹھا رہا ہے کہ اسلامی الفاظ تو موجود ہیں، مگر فیصلوں کی شفافیت، عدل کی ضمانت اور انسانی جان کی حرمت سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
ایسے نازک مرحلے پر اصل امتحان علماء کا ہوتا ہے۔ عالم کا کام یہ نہیں کہ وہ ہر ابھرتی طاقت کے لیے شرعی جواز تیار کرے، بلکہ اس کا فرض یہ ہے کہ اقتدار کو شریعت کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔ جو عالم سوال اٹھانے کے بجائے صرف تائید پر اکتفا کرے، وہ نادان نہیں بلکہ تاریخ کے سامنے جواب دہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ جب عالم خاموش ہو جائے یا استعمال ہو جائے تو نقصان صرف ایک دور کا نہیں، نسلوں کا ہوتا ہے۔
پاکستانی علماء کے لیے یہ وقت خاص طور پر کڑا ہے۔ بغیر تحقیق ہر پالیسی کو “اسلامی” کہہ دینا نہ فقہ ہے، نہ دیانت، بلکہ سہولت کاری ہے۔ شریعت ہمیں اندھی بیعت نہیں سکھاتی، بلکہ عدل، توازن اور انجام پر نظر رکھنا سکھاتی ہے۔ اگر کسی نظام میں ظلم پر سوال کی گنجائش نہ ہو، اختلاف کو دبایا جائے اور فیصلے عوام سے چھپائے جائیں، تو اسے اسلامی کہنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔
اسی فکری دھند میں استاذِ محترم کی بروقت حکمت اور بصیرت ایک واضح روشنی بن کر سامنے آئی۔ جب بہت سے لوگ جذبات کے سیلاب میں بہہ رہے تھے، استاذ صاحب نے نہ تو نعروں سے مرعوب ہو کر بات کی اور نہ ہی مصلحت کی خاموشی اختیار کی۔ انہوں نے معاملے کو تاریخ کے تسلسل، شریعت کے اصول اور مستقبل کے نتائج—تینوں کے تناظر میں رکھ کر دیکھا اور امت کو وقت پر متنبہ کیا کہ ہر اسلامی نام رکھنے والی حکومت لازماً اسلامی نہیں ہوتی۔
استاذ صاحب کی رہنمائی کا امتیاز یہی تھا کہ انہوں نے اقتدار کے بجائے اصول کا ساتھ دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی نظام عدل پر قائم ہو تو اس کی تائید دین ہے، اور اگر وہ ظلم، ابہام اور جبر کی طرف جائے تو اس پر سوال اٹھانا بغاوت نہیں بلکہ شریعت کی خدمت ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو بصیرت اور جذبات، قیادت اور سہولت کاری، اور عالمِ حق اور عالمِ دربار کے درمیان کھینچ دیتا ہے۔
آخر میں تاریخ اور شریعت دونوں کا فیصلہ ایک ہی ہے: دین نعروں سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ عدل سے۔ اور وہ علماء جو وقت پر سچ بولنے کی جرأت رکھتے ہیں، وہ وقتی تنقید کا نشانہ تو بن سکتے ہیں، مگر تاریخ میں وہی سرخرو ٹھہرتے ہیں۔ ایسے ہی لمحات میں امت کو استاذِ محترم جیسے اہلِ بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے، جو شور میں نہیں، اصول میں بولتے ہیں۔

***iAbdulRaheem JTR Alumnai Sargodha M***i Abdul Raheem Facebook for Creators

Address

Karachi
05444

Telephone

03039238199

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JTR Alumnai Sargodha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share