10/07/2023
چڑھائیں دل پر خماری آنکھیں تمہاری آنکھیں
خدا نے کیسی سنواری آنکھیں تمہاری آنکھیں
یہ میرے دل کو بڑی مہارت سے چیرتی ہیں
جو دل ہے لکڑی تو آری آنکھیں تمہاری آنکھیں
نظر کے خنجر ہیں اٹھ کے جھکنا یہ جھک کے اٹھنا
بنی ہیں کیونکر شکاری آنکھیں تمہاری آنکھیں
کہیں ذرا سی ٹھہر ہی جائیں تو ان میں اتروں
مگر مسلسل ہیں جاری آنکھیں تمہاری آنکھیں
مجھے یقیں ہے مکر رہے ہو صحیح بولو
جھپک کے کچھ تو پکاری آنکھیں تمہاری آنکھیں
ہیں ان میں شعلے جو میرے دل کو جلا رہے ہیں
بنیں ہیں نوری سے ناری آنکھیں تمہاری آنکھیں
تمہی ہو جو ان کو پل دو پل میں ہلا رہے ہو
مجھے تو لگتیں ہیں بھاری آنکھیں تمہاری آنکھیں
اگرچہ ان میں حیاء ہے لیکن نہیں ہے پردہ
سو اب نہیں ہیں کنواری آنکھیں تمہاری آنکھیں
نظر پہ تنقید اپنی جا ہے مگر اے حورم
حسین اعلی ہیں پیاری آنکھیں تمہاری آنکھیں
مرے ہزاروں ہیں ان پہ بھی اور ہزاروں ڈوبے
مگر نہیں ہیں ہماری آنکھیں تمہاری آنکھیں
تیرے خیالوں میں ڈوبا رہتا ہوں یار شاید
جبھی تو لگتیں ہیں ساری آنکھیں تمہاری آنکھیں
ہیں دل میں میرے مگر نہیں زور ان پہ میرا
کراچی دل اور لیاری آنکھیں تمہاری آنکھیں
سنو رقیبوں نے بھی ہے حمزہ پہ دل کو وارا
مگر نہیں اس سے ہاری آنکھیں تمہاری آنکھیں
حمزہ خان