REET RIWAJ

REET RIWAJ Shopping

چڑھائیں دل پر خماری آنکھیں تمہاری آنکھیںخدا نے کیسی سنواری آنکھیں تمہاری آنکھیںیہ میرے دل کو بڑی مہارت سے چیرتی ہیںجو دل...
10/07/2023

چڑھائیں دل پر خماری آنکھیں تمہاری آنکھیں
خدا نے کیسی سنواری آنکھیں تمہاری آنکھیں

یہ میرے دل کو بڑی مہارت سے چیرتی ہیں
جو دل ہے لکڑی تو آری آنکھیں تمہاری آنکھیں

نظر کے خنجر ہیں اٹھ کے جھکنا یہ جھک کے اٹھنا
بنی ہیں کیونکر شکاری آنکھیں تمہاری آنکھیں

کہیں ذرا سی ٹھہر ہی جائیں تو ان میں اتروں
مگر مسلسل ہیں جاری آنکھیں تمہاری آنکھیں

مجھے یقیں ہے مکر رہے ہو صحیح بولو
جھپک کے کچھ تو پکاری آنکھیں تمہاری آنکھیں

ہیں ان میں شعلے جو میرے دل کو جلا رہے ہیں
بنیں ہیں نوری سے ناری آنکھیں تمہاری آنکھیں

تمہی ہو جو ان کو پل دو پل میں ہلا رہے ہو
مجھے تو لگتیں ہیں بھاری آنکھیں تمہاری آنکھیں

اگرچہ ان میں حیاء ہے لیکن نہیں ہے پردہ
سو اب نہیں ہیں کنواری آنکھیں تمہاری آنکھیں

نظر پہ تنقید اپنی جا ہے مگر اے حورم
حسین اعلی ہیں پیاری آنکھیں تمہاری آنکھیں

مرے ہزاروں ہیں ان پہ بھی اور ہزاروں ڈوبے
مگر نہیں ہیں ہماری آنکھیں تمہاری آنکھیں

تیرے خیالوں میں ڈوبا رہتا ہوں یار شاید
جبھی تو لگتیں ہیں ساری آنکھیں تمہاری آنکھیں

ہیں دل میں میرے مگر نہیں زور ان پہ میرا
کراچی دل اور لیاری آنکھیں تمہاری آنکھیں

سنو رقیبوں نے بھی ہے حمزہ پہ دل کو وارا
مگر نہیں اس سے ہاری آنکھیں تمہاری آنکھیں

حمزہ خان

شعر کے قافیے میں رہ گیا ہوںآگ ہوں اور دئے میں رہ گیا ہوںڈر رہا ہوں اب اپنی صورت سےحسن ہوں آئینے میں رہ گیا ہوںہر کسی نے ...
26/06/2023

شعر کے قافیے میں رہ گیا ہوں
آگ ہوں اور دئے میں رہ گیا ہوں

ڈر رہا ہوں اب اپنی صورت سے
حسن ہوں آئینے میں رہ گیا ہوں

ہر کسی نے پکارا ہے مجھ کو
یار کے رتجگے میں رہ گیا ہوں

اب عمارت میری علامت ہے
عشق ہوں آگرے میں رہ گیا ہوں

سب قریبی بچا لئے لیکن
خود اسی حادثے میں رہ گیا ہوں

میں کھلاڑی ہوں گیم پب جی کا
چھوٹے سے دائرے میں رہ گیا ہوں

حمزہ ہنس کر گزارتا تھا کبھی
اب تو شکوے گلے میں رہ گیا ہوں

حمزہ خان

آنکهوں میں جهانکتے اسے اک پل نہیں ہوااور پوچهتا ہے مجھ سے تو پاگل نہیں ہوا؟آتا ہے ڈبانے یہ وسیب اور بلوچ کوپینے کا مگر ا...
25/08/2022

آنکهوں میں جهانکتے اسے اک پل نہیں ہوا
اور پوچهتا ہے مجھ سے تو پاگل نہیں ہوا؟

آتا ہے ڈبانے یہ وسیب اور بلوچ کو
پینے کا مگر اس جگہ پہ جل نہیں ہوا

عورت کو بهاگنا پڑا چادر لئے بنا
یارو یہ مسئلہ ابهی تک حل نہیں ہوا

"یہ بهی تو ہے عطاء" تیری رحمت سے جہاں میں
مولا میرا یقین کبهی شل نہیں ہوا

حمزہ خان


#وسیب #بلوچستان #سیلاب #مُردار_خور_حکمران

ہاتھ ہیں خالی بدن دهرتی کے اندر دفن ہےقابل عبرت ہے یہ منظر سکندر کیلئےدو حرف حاکم پہ جس نے اس پہ آنکهیں موند لیںبهول بیٹ...
22/08/2022

ہاتھ ہیں خالی بدن دهرتی کے اندر دفن ہے
قابل عبرت ہے یہ منظر سکندر کیلئے

دو حرف حاکم پہ جس نے اس پہ آنکهیں موند لیں
بهول بیٹها ہے ہمیں وہ صرف ڈالر کیلئے

حمزہ خان

#وسیب #بلوچستان #سیلاب #مُردار_خور_حکمران

انور مسعود کہتے ہیں' مجھ سے کسی نے انٹرویو میں پوچها' آپ کی کوئی خواہش ہے؟میں نے کہا'جی.کہنے لگے' کیا خواہش ہے؟میں نے کہ...
01/08/2022

انور مسعود کہتے ہیں' مجھ سے کسی نے انٹرویو میں پوچها' آپ کی کوئی خواہش ہے؟
میں نے کہا'
جی.
کہنے لگے' کیا خواہش ہے؟
میں نے کہا: کوئی گورا (انگریز) ہو اور اس کے ہاتھ میں ایک فارم پکڑا ہو اور وہ میرے پاس آئے اور درخواست کرے کہ مجهے فارم پر کردیجئے' تو میری دو سو سال کی تهکن اتر جائے گی
احباب یقین کیجئے' اس تصویر میں اسلامی لباس کی عظمت کو دیکھ کر ایسا ہی سکون ملا ہے-
از
حمزہ خان

نظمزماں تم مکاں تم نہاں تم عیاں تم میں دیکهوں جہاں تممحبت عداوت حکومت ولایتشجر تم سحر تم ثمر تم قمر تم ہو آٹهوں پہر تموف...
24/07/2022

نظم
زماں تم مکاں تم نہاں تم عیاں تم میں دیکهوں جہاں تم
محبت عداوت حکومت ولایت
شجر تم سحر تم ثمر تم قمر تم ہو آٹهوں پہر تم
وفا تم حیا تم بقا تم عطا تم
سبهی تم نہیں بس میری جاں خدا تم
بسے ہو سجے ہو ملے ہو کهلے ہو
چمن میں پهبن میں سمن میں وطن میں
ہو آواز_جاں تم ہو روح_اذاں تم
سکندر قلندر ہو گہرے سمندر
سبهی کچھ ملا ہے مجهے تیرے اندر
عزیزم خلیلم تمہی میرے ہمدم
غزل تم رباعی قلم تم بحر تم
ازل تم خدائی قسم تم سحر تم
ہو غالب کی غزلوں سی یا سوز_میری
ہو سودا کی چاہت یا مومن کی پیری
حبیبی حبیبی او میرے قریبی
ارم تم ستم ردهم تم ہو سم تم
کبهی تو ملو یوں کہ بیٹهے ہوں ہم تم
یہ ہے میری خواہش ہو ساون میں بارش
مجهے تو بلائے بٹهائے پهر آئے وہ چائے
ہے یہ میری رائے تو گائے
میرے شعر مجھ کو سروں میں سنائے
تو کچھ ایسے چهائے
جوں آواز_نصرت سے سانسوں میں تهرکٹ
وہ سا سا_ سا رے رے_رے گا گا_ما گا پا_دا نی دا_رے گا ما
دهنک دهن دهنک دهن دهنا دهن دهنک دهن
وہ تاتهیا تاتهیا کرکے مچلنا
وہ پیروں سے تیرے سروں کا نکلنا
ہے یہ بهی زیادہ کہیں سب یہ کم ہے
محبت ہے بستر عجب یہ ستم ہے
محبت بہت آگے جانے لگی ہے
حیا مجھ کو ان سب سے آنے لگی ہے
یہ اشعار لکھ کر بتایا ہے اتنا
نہ سمجهو ہوں لکهتا سمجهتا ہوں جتنا
محبت عداوت میں سب جانتا ہوں
مگر اپنے رب کا غضب جانتا ہوں
ہدف یہ صدف مجھ کو دے گا مگر میں
نجف سے حذف ہوں نہ چهوڑوں یہ گر میں
حسینہ خزینہ نگینہ یہ دے گا
سفینہ کبهی نہ مدینہ یہ دے گا
میں عشق_مجازی کا قائل بهی ہوں پر
میں عشق_حجازی کا فاعل بهی ہوں سر
محبت کی خاطر بنا ہے زمانہ
اسے بس شریعت کے اندر نبهانا
محبت کا پهر اک سمندر بنے گا
تو چاہت کا پهر اک قلندر بنے گا
حمزہ خان

عکس_دنیاحصہ دومسورج نکلنے کو ہے سب سونے کی تیاریوں میں مگن ہیں مگر ارحم اداس بیٹها ہے کیونکہ اس کی ہونے والی بیوی جہیز ک...
30/05/2022

عکس_دنیا
حصہ دوم
سورج نکلنے کو ہے سب سونے کی تیاریوں میں مگن ہیں
مگر ارحم اداس بیٹها ہے کیونکہ اس کی ہونے والی بیوی جہیز کا بہت سارا سامان لے کر آرہی ہے
ارحم اداس اسلئے ہے کیونکہ اس کی ماں نے اسے کہا ہے کہ تمہارے ابا کہہ رہے ہیں "دنیا کیا کہے گی کہ بہو اتنا جہیز لے آئی اور ان لوگوں نے سب کچھ رکھ لیا"
ہم اس بدنامی کے ساتھ کیسے جئیں گے سوچتے سوچتے آدها دن گزر گیا ارحم نے سوچا کہ رات کو اٹھ کر فیصلہ کروں گا اور بیگم کے گهر والوں کو سمجهاوں گا ابهی دن بہت ہوچکا ہے لہذا سوگیا
رات کے پچهلے پہر ماں نے جگایا اور کہا کہ بیٹا اٹھ جا چاندنی سر پہ آگئی ہے
ارحم آنکھیں ملتا ہوا اٹها اور جاکر ہاتھ منہ دهو کر ماں کے پاس آیا جو کچن میں ناشتہ بنارہی تهی اور کہنے لگا
امی: ہم نازیہ کے گهر والوں کو جہیز دینے سے منع کردیتے ہیں
(نازیہ جو ارحم کی ہونے والے بیوی ہے)
ارحم کی ماں: بیٹا میں کہہ چکی ہوں مگر وہ بات سننے کو تیار ہی نہیں کہتے ہیں جہیز تو آپ کو لینا ہوگا ہم اس پہ کوئی بات نہیں سننا چاہتے ہم نے جہیز بنا رکها ہے اور ہم امیر لوگ ہیں ہم سامان کی وجہ سے ہی تو شادی کررہے ہیں کہ کہیں یہ کم ہو اور ہماری مشکلات حل ہوں
ارحم: لیکن امی اگر جہیز لے لیا تو دنیا ہمیں لعنتی کہے گی
ماں: بیٹا ہم کیا کریں اسی وجہ سے تمہارے ابا دو دن سے کهانا نہیں کهارہے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے رشتہ نہیں کرنا ایسے گهر میں جو جہیز کے بغیر بیٹی رخصت کرنے کی اہلیت نہیں رکهتے مگر تمہاری ضد کے آگے چپ ہیں
وہ تو کہتے ہیں کہ میرا دوست ہے رفیق اس کی ایک بیٹی ہے مجهے یقین ہے کہ وہ ہمیں جہیز نہیں دے گا بهلے وہ بہت امیر ہے مگر میری عزت کرتا ہے اور جہیز دے کر وہ یہ عزت کم نہیں کرے گا
ارحم: امی ایک مرتبہ اور نازیہ کے گهر والوں سے کہہ کر دیکھ لیں اگر وہ نہیں مانتے تو جیسا آپ کہیں گے ویسا کرنے کو تیار ہوں
امی: میرا پیارا بیٹا ماں باپ کی عزت کا خیال رکهتا ہے
ارحم: کمرے میں داخل ہوتے ہی پهوٹ پهوٹ کر روتا ہے اور دعا کرتا ہے یااللہ کسی بیٹے کا مقدر ایسا نہ ہو
والسلام
از
حمزہ خان
جاری ہے......

مقطع کے بغیر ایک غزلتڑپ کے راز تیری یاد نے دکهائے الگجدا ہوئے ہم الگ اور تلملائے الگفحش یوں کہہ کے کیا عشق نوجوانوں نےنب...
28/05/2022

مقطع کے بغیر ایک غزل

تڑپ کے راز تیری یاد نے دکهائے الگ
جدا ہوئے ہم الگ اور تلملائے الگ

فحش یوں کہہ کے کیا عشق نوجوانوں نے
نبهانے والا ہو ایسا کہ جو نبهائے الگ

جدائی بنتی نہیں سوچ نہ ملنے پہ کہ اب
یوں اختلاف ہیں ہر سانس کی ہے رائے الگ

میں ایک چسکی بهی لینے نہیں دوں گا تجھ کو
ہے عشق تجھ سے مگر رکھ دے میری چائے الگ

غریب تها تجهے لڑنے کی کیا ضرورت تهی
گلے کٹائے الگ اور سر جهکائے الگ

جدائی کیا ہے یہ ہم عشق والے جانتے ہیں
ہمارے جسم الگ ہیں ہمارے سائے الگ

اسے جو دیکها تو مدہوش ہوگیا سر میں
بہت سے راگ بهی نصرت نے گنگنائے الگ

تیرے بغیر بہت خوش تها میں یہ کہتے ہوئے
اک اشک نکلے میرے ہونٹ کپکپائے الگ

سزائے عشق ہے جس کو سماج عشق کہے
ہو ایسی بیوی جو کهانا کبهی نہ کهائے الگ

بلاحجاب ملے ہم مگر وہ پهر نہ ملا
گنہ کئے سو الگ اپنے دل دکهائے الگ

چمک دمک ہو کشش ہو حیا ہو مستی بهی
نگاہ ایسی کہ سب کو نظر جو آئے الگ

قدیم لگتا ہے میں مسکرا بهی دوں چاہے
کمال اف میں بهی ہے اسکی اور ہائے الگ

حمزہ خان

Address

Lahore

Telephone

+923204862234

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when REET RIWAJ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share