04/07/2024
شادی سے پہلے
“پاپا میں کسی کی غلامی نہیں کر سکتی ۔"
"کوئی کسی کی غلامی نہیں کرتا میری بچی ۔ سب اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہیں ۔ جو کام عورتوں کے لیئے مشکل ہیں وہ مرد کرتے ہیں اور جو مردوں کے لیئے مشکل ہیں وہ عورتیں ۔ یونہی مل جل کر گزارا ہوتا ہے ۔"
شادی کے بعد
"میں کھانا گرم نہیں کروں گی ۔"
"تو اپنے باپ کے گھر واپس چلی جاؤ ۔ میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہوں تمہاری ضروریات پوری کرنے کے لیئے ۔ تم میری ضرورت پوری نہیں کر سکتی تو مجھے تمہاری ضرورت نہیں ۔"
طلاق کے بعد (اسلام آباد کی سڑکوں پر بینر اٹھائے )
کھانا خود گرم کر لو
میرا جسم میری مرضی
دوپٹے کا اتنا خیال ہے تو آنکھوں پر باندھ لو
باپ کے مرنے کے بعد
"دیکھو میری بہن ۔ میں اب فیملی والا ہوں ۔ میری بیوی تمہیں اور برداشت نہیں کر سکتی ۔ تم اپنا بندوبست کہیں اور کر لو ۔"
نوکری کی تلاش میں
"ہمارے پاس ایک فی میل ریسپشنسٹ کی جگہ خالی ہے ۔ آپ ماشاء اللہ خوبصورت ہیں ۔ وہاں کام کر سکتی ہیں ۔"
ڈھلتی عمر
"بی بی ۔ ہم معذرت خواہ ہیں ۔ آپ کے کام میں اب پہلے جیسی تندہی نہیں ۔ آپ کہیں اور نوکری ڈھونڈیں ۔ ہمیں اب آپ کی ضرورت نہیں ۔"
ظالم بڑھاپا
"محترمہ ۔ آپ کی اتنی عمر ہو گئی ہے ۔ اب میں آپ کو کیا نوکری دوں ۔ اب تو آپ کو آرام سے اپنے بچوں کی کمائی کھانی چاہیئے ۔"
"میرے بچے نہیں ہیں ۔ کوئی نہیں ہے میرا ۔"
"اوہ ۔ چلیں میں کچھ کرتا ہوں آپ کے لیئے ۔ میرا بیس لوگوں کا اسٹاف ہے ۔ کیا آپ ان سب کے لیئے کھانا پکا سکتی ہیں ؟ میں آپ کو بیس ہزار روپے ماہانہ دوں گا ؟"
"بیس ہزار ؟"
"میں جانتا ہوں کہ ان بیس ہزار میں آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوتی ۔ مگر میں مجبور ہوں ۔ اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں میرے پاس ۔"
"ٹھیک ہے ۔ مجھے منظور ہے ۔" اس کی آنکھوں سے آنسو زار زار بہہ رہے تھے اور سوچ رہی تھی کہ کاش جوانی میں ہی کھانا گرم کر دیتی۔