16/05/2026
حضرت عمر فاروق کے دورِ حکومت کی چمک دمک صرف فتوحات تک محدود نہیں تھی، بلکہ انہوں نے معاشرے کے ہر شعبے میں دور رس تبدیلیاں متعارف کروائیں:باقاعدہ فوج (عساکر) کا قیام: فوجیوں کے ناموں کا اندراج کرنے، ان کی تنخواہیں مقرر کرنے اور ملک کے مختلف حصوں میں باقاعدہ فوجی چھاؤنیاں (جیسے کوفہ اور بصرہ) بنانے کا آغاز کیا۔غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ: ذمیوں (غیر مسلم شہریوں) کی جان، مال اور عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ دیا گیا۔ ان پر جزیہ ان کی مالی حیثیت کے مطابق لگایا گیا، اور بوڑھے، معذور یا غریب غیر مسلموں کا جزیہ معاف کر کے بیت المال سے ان کے وظائف مقرر کیے گئے۔مفت تعلیم کا نظام: بچوں کی تعلیم کے لیے مساجد میں اساتذہ مقرر کیے اور ان کی تنخواہیں بیت المال سے ادا کی گئیں۔ قرآن پاک کی تعلیم کو عام اور لازمی قرار دیا۔پوسٹل سسٹم (محکمہ ڈاک): سلطنت کے دور دراز علاقوں تک سرکاری احکامات اور اطلاعات تیزی سے پہنچانے کے لیے گھوڑوں اور قاصدوں پر مشتمل ایک منظم نظامِ بريد (پوسٹل سروس) قائم کیا۔مادرِ وطن کے بچوں کا وظیفہ: پہلے صرف ان بچوں کا وظیفہ مقرر تھا جن کا دودھ چھڑا دیا جاتا تھا۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ اس سے مائیں بچوں کا دودھ جلدی چھڑاتی ہیں، تو آپ نے پیدائش کے دن سے ہی ہر بچے کا وظیفہ مقرر کر دیا۔احتساب کا سخت نظام (دیوانِ محاسبہ): گورنروں اور سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کا تقرری کے وقت حساب لیا جاتا اور ان کے طرزِ زندگی پر سخت نظر رکھی جاتی تاکہ کوئی بدعنوانی یا تکبر کا مظاہرہ نہ کر سکے۔