Mindro developer edu form

Mindro developer edu form if someone points out your mistakes by happy that one who'is interested۔in your betterment۔۔۔

01/01/2023

پاکستان نیوی میں بطور سیلر (میرین) میں نئے سال کے بیچ میں شمولیت اختیار کریں۔
پاکستانی شہریت کے حامل مردوں کے لئے پاک میرین میں اعلٰی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینے کے مواقع
تعلیمی قابلیت : میٹرک
عمر کی حد : 17 سے 21 سال
قد کم از کم : 5 فٹ 6 انچ
مزید معلومات کے لیے دیئے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://www.ilmkidunya.com/jobs/pakistan-navy

01/01/2023

آج کا استاد متاثر کیوں نہیں کرتا؟
(قاسم علی شاہ)
”ہارت ساسونیان “ معروف انگریزی اخبار ”کیلیفورنیا کورئیر“ کا پبلشر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ تصنیف اور صحافت کے میدان میں بھی اپنے جوہر دکھا رہا ہے۔ 1968ء کی بات ہے جب یہ نویں پاس کرکے میٹرک میں پہنچا تو اس کے گھریلو حالات بڑے خراب ہوگئے۔ وہ اسکول کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں رہا جس کی وجہ سے اسے اسکول سے نکال دیا گیا۔ اس کے والد کی ٹائروں کی دکان تھی۔”ہارت“ اگلے دن وہاں پہنچا اور ٹائر مرمت کرنے میں لگ گیا۔ ایک دن کسی خیرخواہ کی نظر اس پر پڑی، اس کو بہت افسوس ہوا کہ ایک قابل بچہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہے۔ خیر خواہ نے اپنے ذرائع سے اس کے لیے مفت ٹیوشن کا بندوبست کیا۔ اگلے دن ہارت ساسونیان وہاں پہنچا اور مفت ٹیوشن کی بات کی تو ادارے کے پرنسپل نے بڑے روکھے پن سے انکار کردیا۔ شرمندگی اور پریشانی کے عالم میں وہ واپس آیا اورایک بار پھر والد کی دکان پر کام کرنے لگا۔ مگر قدرت کے رنگ دیکھیے کہ ابھی دو دن بھی نہیں گزرے تھے جب اس کو اسکول کی طرف سے واپسی کا پیغام ملا۔ وہ اسکول پہنچا تویہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کی اسکول فیس ادا ہوچکی تھی۔ اس نے انتظامیہ سے معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن اس کو بتایا گیا کہ تمھارا محسن گمنام رہنا چاہتا ہے۔ وہ ٹک کربیٹھنے والا نہیں تھا۔ اس نے کسی نہ کسی طرح اپنے اس محسن کو ڈھونڈ نکالا۔ اس پر یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ یہ مہربانی اس کی انگلش ٹیچر ”اولیویا بالین“ نے کی ہے۔ اس کو بتایا گیا کہ جب تعلیمی سال شروع ہوا اور ٹیچر نے اس کی کرسی خالی دیکھی تو اس سے رہا نہ گیا۔ پیریڈ مکمل کر لینے کے بعد وہ پرنسپل کے پاس گئی اور بولی:”ہارت کی جتنی فیس بنتی ہے وہ میری تنخواہ سے کاٹ دیں او ر اس کو داخلہ دے دیں۔ “ٹیچر کی کرم نوازی نے اس کو سہارا دیا، اس نے تعلیم مکمل کی اور پھر امریکہ چلا گیا۔ 40 سال بعد وہ لبنان واپس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خطیر رقم تھی جو وہ لبنان کے اسکولوں کے لیے لایا تھا۔ وہ اپنے اسکول بھی گیا اور پرنسپل کو کئی لاکھ کا عطیہ دیتے ہوئے عرض کیا: ”سر! کسی طالبعلم کو فیس نہ ہونے کی وجہ سے سکول سے مت نکالیے، نہ معلوم کون سا بچہ کل کا ایک قابل ڈاکٹر، ایک اچھا سفارت کاریا ایک درددل ارب پتی بن جائے۔“ وہ اپنی انگریزی ٹیچر سے ملنے بھی گیا اور پُر نم آنکھوں کے ساتھ اس کا شکریہ ادا کیا۔ ہارت کہتا ہے کہ اگریہ عظیم عورت مجھ پر اس مشکل وقت میں احسان نہ کرتی اور میری ڈوبتی ناؤ کو سہارا نہ دیتی تو آج میرے ہاتھ میں دو ماسٹر ڈگریاں نہ ہوتیں، میں ایک کامیاب صحافی، مصنف اور ”کیلیفورنیا کورئیر“ جیسے معروف اخبارکا پبلشر نہ ہوتا بلکہ بیروت میں اپنے والد کی دکان پر ٹائر ٹھیک کر رہا ہوتا۔

انسان کا اچھا یا برا کوئی بھی عمل فائدے سے خالی نہیں ہوتا۔ ہمارا ایک غلط قدم کسی کو برباد کر سکتا ہے اور ایک اچھا فیصلہ کسی کی بھی زندگی بنا سکتا ہے۔ انسانیت سازی میں جتنا بڑا کردار ایک استاد کا ہے اتنا کسی اور فرد کا نہیں۔ وہ معزز طبقہ ہے جس کے ہاتھ میں نئی نسل کا خمیر ہوتا ہے اور اس سے وہ جو بھی شکل بنائے، معاشرہ بھی ویسا ہی بنتا ہے۔

امریکی صدر بارک اوباما نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز ٹیچنگ سے کیا تھا۔وہ کہتاہے: ”اپنے اساتذہ پر انویسٹ کرو، تمھاری نسل کامیاب ہوجائے گی۔“ اسی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نئی نسل کی تربیت کا انحصار اساتذہ کی تربیت پر ہے۔اگر استاد تربیت یافتہ اور قابل ہے تو وہ نسل بھی ایسی بناکر دے گاجس پر قوم کوفخر ہولیکن اگر استاد ناہل اور قابلیت سے خالی ہو تو پھر وہ نئی نسل کے لیے تعمیر نہیں تخریب کا باعث بنے گا۔

بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ آج جس طرح ہمارا نظام تعلیم زبوں حالی کا شکار ہے ایسے ہی تدریس کا شعبہ بھی بہت کمزور ہے۔سسٹم موجود ہے، وزارت بھی ہے، مراعات اور تنخواہیں بھی مل رہی ہیں لیکن نتیجہ وہ نہیں مل رہاجس کی قوم کو ضرورت ہے۔امام ابوحنیفہ ؒ سے کسی نے پوچھا کہ استاد کیسا ہوتاہے؟ انھوں نے جواب دیا:”استادکوتب دیکھو جب وہ دوسروں کے بچوں کو پڑھارہاہو اگر تو تمھیں یوں لگے کہ جس محبت اور لگن سے وہ اپنے شاگردوں کو پڑھارہا ہے وہ اس کے ذاتی بچے ہیں، تو وہ اچھا استاد ہے۔اگر اس سے ہٹ کر کچھ کررہاہے تو وہ اچھا استاد نہیں ہے۔“

آج کے زمانے میں ”اچھااستاد“ نہ ہونے کے برابر ہے۔جبکہ ماضی پرنظردوڑائیں تو اس خطے میں ایسے باکمال اساتذہ بھی گزرے ہیں جنھوں نے وسائل نہ ہونے کے باوجود کئی نسلوں کی شاندارتربیت کی۔ان کے پاس ڈگری نہیں تھی،اعلیٰ تعلیم نہیں تھی لیکن شوق تھا، جذبہ تھا، خلوص تھا اور سکھانے کاگُر انھیں آتا تھا جس کی بدولت انھوں نے اپنے شاگردوں کو اخلاقی،علمی اور فکری اعتبار سے مثالی بنالیاتھا۔ ہم آج بھی ان اساتذہ کے نام لیواہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں۔دوسری طرف آج کے اساتذہ اپنے اندر اپنے منصب کے مطابق خوبیاں پیدا کرنے میں ناکام رہے، پھرہمارے معاشرتی رویے نے بھی انھیں مایوس کیا۔ ہم نے انھیں وہ عزت نہیں دی جس کے یہ حقدار تھے جس کی وجہ سے رفتہ رفتہ تدریس کا شعبہ تنزلی کا شکار ہوتاچلاگیا۔

اس مسئلے کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن نے ایک مکالماتی نشست کا اہتمام کیا جس کا مقصد اس بات پر غور و خوض کرنا تھا کہ پاکستان میں تدریسی شعبے میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کو کیسے درست کیا جائے تاکہ نئی نسل کی بہترین تربیت کی جاسکے۔اس میٹنگ میں شعبہ تعلیم کی سرکردہ شخصیات اور ماہرین کو دعوت دی گئی کہ وہ تشریف لاکراس اہم موضوع پر اپنے خیالات کااظہار کریں۔چنانچہ مقررہ تاریخ پر کئی سارے خواتین و حضرات نے اس مکالماتی نشست میں شرکت کی اور اپنے تجربات کی روشنی میں اس بحث کو مفید تر بنایا۔
آج کی تحریر میں ہم اس نشست کے اہم نکات آپ کے سامنے پیش کریں گے۔

1۔زمانے کی ترقیاں اور آج کا استاد
آج کا زمانہ جہاں ہر چیز میں ترقی کرگیا ہے وہیں تعلیم اور تدریس کے میدان میں بھی شاندارترقیاں ہوئی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں تدریس کے انداز اور ٹرینڈز بدل چکے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم آج بھی پرانے طریقوں کواپنائے ہوئے ہیں اور رٹہ سسٹم کو بڑھاوادے رہے ہیں۔آج کے استاد کویہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ نئے زمانے کے نئے ٹرینڈز کے مطابق خود کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔”ریسرچ بیسڈ“ ان تمام نئی تکنیک کو سیکھنا اور پھر ان کے مطابق اپنی تدریسی ذمہ داریاں انجام دینی چاہییں، اس سے نہ صرف طلبہ کی بہترین تربیت ہوگی بلکہ اساتذہ کا وقت اور توانائی بھی بچ جائے گی۔

2۔عمومی کمزوریاں
آج کے اساتذہ میں کئی ساری عمومی کمزوریاں پائی جارہی ہیں جن کی وجہ سے نتائج متاثر ہورہے ہیں۔آج کااستاد ان”جدید تدریسی طریقہ کار“سے نابلد ہے جن کی بدولت ٹیچنگ کو موثر بنایاجاسکتاہے۔آج کا استاد پوری کلاس کوایک ہی فرد سمجھ کر پڑھارہاہے حالانکہ کلاس میں ہر بچہ مختلف شخصیت کا مالک ہے اور اس کو پڑھانے کے لیے اس کی شخصیت کی سطح پر آنا ضروری ہے۔آج کااستاد خودشناس نہیں ہے اور اس طاقت سے بے خبر ہے جو اس کے اندر موجو دہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو بھی خودشناس نہیں بناپارہا۔آج کے استادکی کمیونیکیشن اسکلزاور پریزنٹیشن اسکلز کمزور ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ اس کے پڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتے۔آج کااستاد باڈی لینگویج کے اصولوں سے بھی ناواقف ہے۔آج کے استاد میں شخصیت سازی کافقدان ہے اور اسی وجہ سے وہ نئی نسل کی شخصیت سازی بھی نہیں کرپارہا۔ آج کے استادکا لباس بھی متاثر کن نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ باوقار نہیں لگ رہا اور اپنی ذات سے کسی کو متاثر نہیں کررہا،حالانکہ استاد کامطلب ہی یہ ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو متاثر کرے۔ولیم آرتھر کہتاہے: ”معمولی استاد بناتاہے۔اچھا استاد سمجھاتاہے۔اعلیٰ استاد ظاہر کرتاہے جبکہ عظیم استاد متاثر کرتاہے۔“

3۔اساتذہ کی تقرری(Hiring)
یونیورسٹی سطح پر جب اساتذہ کی تقرری ہوتی ہے تو وہاں ایک ہی چیز پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور وہ ہے پبلی کیشن۔حالانکہ ایک ریسرچر اورٹیچر میں بڑا فرق ہوتاہے لیکن بدقسمتی سے یہاں تدریسی قابلیت سے زیادہ ا س بات کو دیکھاجاتاہے کہ امیدوار نے ریسرچ کتنی کی ہے۔جس کانقصان یہ ہوتاہے کہ ایسافرد جب کلاس روم میں آتاہے تو اس کو پڑھانا نہیں آتا اور نتیجہ طلبہ اور والدین کو بھگتنا پڑتاہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ کو پڑھانے کے لیے ریسرچر کی نہیں بلکہ ٹیچر کی تقرر ی کی جائے اور ریسرچر کے لیے الگ آسامی بنادی جائے۔اسی طرح اسکول لیول پر ہائرنگ کرتے وقت اساتذہ کی کمیونیکیشن اسکلز اور پریزنٹیشن اسکلز کو بھی دیکھنا چاہیے۔

4۔ٹیچنگ ٹریننگ
آج سے کچھ عرصہ قبل کسی بھی استاد کو ٹریننگ کے بغیر نوکری نہیں ملتی تھی لیکن پھر یہ چیز ختم ہوتی چلی گئی،اور آج یہ عالم ہے کہ اساتذہ کی ایک کثیرتعداد ایسی ہے جو بغیر کسی پروفیشنل تربیت کے بچوں کو پڑھارہی ہے، حالانکہ ٹریننگ کے بغیرکسی بھی استاد کی کارکردگی معیاری نہیں ہوسکتی۔نشست کے شرکا نے اس با ت پر زور دیاکہ پرائیوٹ اور پبلک سیکٹر میں ایسے ادارے بنانے چاہییں جو اساتذہ کو تربیت دیں اور صرف ایک دفعہ تربیت دے کر اساتذہ کو آزاد نہ چھوڑیں بلکہ سال، چھ مہینے کے وقفے سے انھیں دوبارہ تربیت دیں اور ٹریننگ کی بنیاد پر ہی ان کو ترقی دی جائے۔ان ٹریننگ پروگرامز میں ان کی پرسنالٹی ڈیویلپمنٹ کی جائے، باڈی لینگویج، لباس، بول چال،شائستگی، صبر و تحمل،مسائل کا حل، سمجھانے کا انداز، طلبہ کو موٹیویٹ کرنے،ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو باہر لانے اورانھیں انسپائر کرنے کی تربیت دی جائے۔

5۔حقوق و فرائض
شرکا میں سے جن حضرات نے ٹیچرز کو ٹریننگ دی تھی ان کا کہنا تھا:”ٹریننگ کے دوران اساتذہ کا رویہ افسوسناک ہوتا تھا۔وہ موضوع کے متعلق سوالات کم جبکہ اپنی نوکری کی شکایات زیادہ کرتے نظر آتے تھے۔“مانا کہ آج کا استاد کئی سارے مسائل کا شکار ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی بنسبت آج کے اساتذہ کو زیادہ مراعات اور تنخواہیں مل رہی ہیں۔ان کے پاس سہولیات کی بھی فراوانی ہے لیکن کیا وہ اپنے فرائض بھی احسن انداز میں پورے کررہے ہیں؟
یہ ایک لمحہ فکریہ ہے جس پر آج کے استاد کو سوچناچاہیے۔

6۔تین بنیادی چیزیں
معلومات، قابلیت اور رویہ، وہ تین بنیادی چیزیں ہیں جو کسی بھی استاد کے لیے بہت ضروری ہیں۔ایک ٹیچر کو اپنے مضمون پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ اضافی چیزوں کاعلم بھی ہوناچاہیے اورپھراپنے علم کے مطابق اس کے پاس قابلیت بھی ہونی چاہیے تاکہ وہ عملی طورپر اس کام کو انجام دے سکے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کا رویہ بھی ایسا ہوناچاہیے جواس کی شایان شان ہو۔رویہ ایک بنیادی چیز ہے۔اگر کسی استاد کا رویہ ٹھیک نہیں اور وہ اپنے رویے سے ٹیچر لگ ہی نہیں رہا تواس کامطلب یہ ہے کہ وہ دل سے ٹیچنگ نہیں کررہا۔ایسے میں وہ طلبہ کی تربیت بھی درست سمت میں نہیں کرسکتا۔

7۔ٹیچنگ لائسنس
ٹریفک قوانین کااحترام کرتے ہوئے اگر ایک ڈرائیور آلٹو کار بھی بغیر لائسنس کے نہیں چلاسکتاتو بغیرلائسنس کے ایک استاد کو بھی نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری نہیں دی جانی چاہیے۔لائسنس لازمی ہونے کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس شعبے میں غیر تربیت یافتہ شخص نہیں آسکے گا۔ہماراالمیہ یہ بھی ہے یہاں جو کچھ نہیں بن پاتا وہ ٹیچر بن جاتاہے۔حادثاتی ٹیچرز کی فراوانی میں تربیت کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہے اور اب ہم صرف نمبروں کی دوڑ میں لگ چکے ہیں۔لائسنس یافتہ ٹیچر کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ شخص تدریسی میدان کے لیے درکار تربیت حاصل کرچکا ہے اور ہم پورے اعتماد کے ساتھ اس کو نسلوں کی تربیت کی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔

09/11/2022
9th November is the day of the greatest philosopher and to remember the life and legacy of Allama Muhammad Iqbal: Poet, ...
09/11/2022

9th November is the day of the greatest philosopher and to remember the life and legacy of Allama Muhammad Iqbal: Poet, Philosopher, and Scholar. Happy Iqbal day!

04/11/2022
Me with sweet cousin Ahmad
04/11/2022

Me with sweet cousin Ahmad

03/11/2022

لاہور: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ((PEF)) کے نئے تشکیل شدہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا 80 واں اجلاس صدر دفتر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتفاق رائے سے محمد عامر عنایت شاہانی ایم پی اے پنجاب اسمبلی کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کا نیا چیئرپرسن منتخب کر لیا گیا۔

منیجنگ ڈائریکٹر منظر جاوید علی نے تمام بورڈ ممبران کو پی ای ایف دفتر آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ بورڈ ممبران کے تجربے اور دانش سے صوبے کے متوسط طبقات میں تعلیم کے نور کو پھیلانے میں نمایاں مدد ملے گی۔ اجلاس کے دوران دیگر اہم ایجنڈوں پر بھی سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے بورڈ ممبران نے کثرت رائے سے چولستان کی 172 سائٹس پر نئے سکول قائم کرنے کی منظوری دے دی۔ جن میں سے 63 موبائل سکول جبکہ 109 کمیونٹی سکول کھولے جائیں گے۔

اجلاس کے دوران نومنتخب چیئرپرسن نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن تعلیمی میدان میں پبلک پرائیویٹ شراکت کا بہترین ماڈل ہے۔ ہمیں اس ماڈل کو مل جل کر ترقی کی بلندیوں تک لے کر جا نا ہے اور بورڈ ممبران کی رائے سے پیف سکولوں کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چولستان کے علاقوں کی طرح تھل (بھکر) میں بھی نئے سکول قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں پر موجود متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔

اجلاس میں بورڈ ممبران ایم پی اے ثانیہ کامران، عاصمہ وزیری (ماہر تعلیم)، شاہ ویز ندیم (Philanthropist)، فریدہ چشتی (ماہر تعلیم)، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے نوید شہزاد مرزا (ایڈیشنل سیکرٹریER)، فنانس ڈیپارٹمنٹ سے سدرہ یونس (ایڈیشنل فنانس سیکرٹری، ایجوکیشن اینڈ یوتھ افئیرز)، یونیورسٹی آف ایجوکیشن سے انتظار حسین بٹ (ڈائریکٹر STEM)، پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ سے حسن فاروق (اسسٹنٹ چیف ایجوکیشن)، لیٹریسی اینڈ نان فارمل بیسک ایجوکیشن سے اویس نواز (ڈپٹی سیکرٹری ایم اینڈ ای)، سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ سے شاہین محبوب (ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن) نے شرکت کی جبکہ ڈاکٹر باسط خان (آئی ٹی ایکسپرٹ)، ڈاکٹر سعید شفقت (ماہر تعلیم) اور ڈاکٹر اعظم چوہدری (ماہر تعلیم) آن لائن شریک ہوئے۔

اجلاس میں زبید الحسن (ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر آپریشن)، ثمینہ نواز (ڈائریکٹر ایچ آر اینڈ ایڈمن)، محمد یوسف (ڈائریکٹر فنانس)، قاسم نصیر (ایڈیشنل ڈائریکٹر ایچ آر اینڈ ایڈمن) اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔

25/01/2021

Character is Destiny...
Play games and earn money..
Work on wepsites and earn dollers.

Me trying to start the page,With the holy name of Allah.Who is the most Merciful and Beneficiant also Rehmaaan and Rahee...
02/06/2020

Me trying to start the page,
With the holy name of Allah.
Who is the most Merciful and Beneficiant also Rehmaaan and Raheeem...

Address

162 Hilal Park Amir Road Opp. Pso Pump Shad Bagh, Lahore
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mindro developer edu form posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mindro developer edu form:

Share

Category