07/04/2026
خدا کے لیے کوئی ہمیں بچا لو...!
لڑکی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرتی رہی ،کوئی بچانے نہ آیا ، ظالموں نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو مسجد میں قتل کردیا...!
جہلم کے گاؤں للہ کے رحمان اور سنیعہ کی افسوسناک سچی کہانی ۔۔۔۔۔۔ رحمان اور سنیعہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے ، رحمان نے اپنی والدہ کو رشتے کے لیے سنیعہ کے گھر بھیجا ۔سنیعہ کے والدین خوشی سے راضی تھے لیکن سنیعہ کا بھائی اس رشتے کا مخالف بن کر سامنے آیا اس نے اعلان کیا اگر رحمان کو رشتہ دیا تو میں دونوں کو جان سے مار دونگا ۔۔۔ چند ماہ گزرے اورسنیعہ کے کہیں اور رشتے کی بات چلنے لگی تو رحمان اور سنیعہ نے گھر سے بھاگ کر راولپنڈی میں کورٹ میرج کر لی اور وہیں رہنے لگے رحمان محنت مزدوری کرکے اپنا اور سنیعہ کا پیٹ پالنے لگا ۔ کاش یہ معاملہ یہیں ختم ہو جاتا مگر بدقسمتی سے سنیعہ کے والدین چاہتے تھے کہ انکی بیٹی صلح صفائی سے واپس آجائے اور گاؤں میں رشتہ داروں کے ساتھ بسے۔ وہ اپنی بیٹی کو معاف کرنا چاہتے تھے انکا اپنی بیٹی کے ساتھ رابطہ رہا ۔ رحمان چند ماہ تو واپسی کے لیے تیار نہ ہوا لیکن سنیعہ کی منت سماجت اور سمجھانے پر وہ بھی گاؤں واپسی پر راضی ہو گیا طے ہوا کہ سنیعہ اور رحمان قران مجید لیکر سنیعہ کے چچا کے گھر آجائیں وہاں خاندان کے بڑے انہیں معاف کرکے سینے سے لگا لیں گے ۔ بدقسمت جوڑا واپس آگیا ۔ حیران کن طور پر صلح صفائی ہو گئی ، سنیعہ کے خاندان والوں نے رحمان کے والدین کی موجودگی میں قران مجید پر حلف دے کر کہا کہ وہ انہیں معاف کرتے ہیں اور اس رشتے پر خوش ہیں ۔ لیکن اس صلح کے بعد رحمان اور سنیعہ کو اسکے چچا کے گھر میں نظر بند کردیا گیا کہ بدنامی ہو گی فی الحال بس گھر پر رہو کہیں باہر نہیں جانا ۔ کئی ہفتے ایسے گزرے تو سنیعہ نے منت سماجت کی کہ اسے رحمان کے گھر جانے دیا جائے ۔ لیکن سنیعہ کا بھائی زعفران رحمان پر اپنی بہن کو طلاق دینے کا مطالبہ کرنے لگا ایک روز انکے درمیان جھگڑا ہوا اور جب سنیعہ اور رحمان کو لگا کہ اب انہیں مار دیا جائے گا تو وہ بھاگ کر سامنے مسجد میں چلے گئے مگر زعفران اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ انکے پیچھے مسجد میں پہنچ گیا اور مسجد سے باہر آنے کو کہا ، سنیعہ نے اس دوران مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر لوگوں کی منت سماجت کی کہ انہیں انکا بھائی مارنے لگا ہے خدا کے لیے کوئی آئے اور انہیں بچا لے ، پولیس چوکی بھی قریب