11/09/2022
اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھئے
دودن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھئے
بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم
قسطوں میں خودکشی کا مزہ ہم سے پوچھئے
آغاز عاشقی کا مزہ آپ جانئے
انجام عاشقی کا مزہ ہم سے پوچھئے
وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہے
آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھئے
ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح
ہنسئے مگر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھئے
ہم توبہ کرکے مرگئے بے موت اے خمار
توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھئے
خمار بارہ بنکوی